آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹرین ڈرائیور گیا دہی لینے: ’گھر بچانے کے لیے ٹرین روکنا کوئی اتنا ایشو نہیں'
'یہ پاکستان ریلوے کا ڈرائیور۔ یہ چیک کریں جی۔ ٹرین (راستے کے) بیچ میں روک کر، آپ ان کا سویگ (یعنی سٹائل) دیکھیں، ٹرین بیچ میں روک کر دہی لینے اترے ہیں۔۔۔ یہ جناب جی جا رہے ہیں اب۔ یہ گھر سے دہی لینے نکلے ہیں۔'
سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پاکستان ریلوے کی ایک ٹرین بیچ راستےمیں اپنی منزل سے دور رُکی ہوئی ہے۔
ہاتھ میں دہی یا دودھ سے بھرا پلاسٹک بیگ پکڑے ایک شخص، جو بظاہر ریل گاڑی کا ڈرائیور ہے، اس میں داخل ہوتا ہے جس کے بعد یہ ٹرین اپنی منزل کی جانب واپس دوبارہ گامزن ہو جاتی ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ واقعہ لاہور کے علاقے کاہنہ کاچھا ریلوے سٹیشن کے قریب پیش آیا جہاں ڈرائیور نے انجن نمبر 5217 کی ٹرین روک کر اسسٹنٹ ڈرائیور کو بازار سے دہی لینے بھیج دیا۔
اس واقعے پر ایکشن لیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے ریلوے اعظم سواتی نے متعلقہ ٹرین ڈرائیورز محمد شہزاد اور افتخار حسین کو معطل کر دیا ہے۔
اعظم سواتی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 'مستقبل میں ایسے واقعات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ قومی اثاثوں کو اپنے ذاتی فائدوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔'
بی بی سی نے معطل ہونے والے ڈرائیورز سے رابطہ کر کے ان کا موقف جاننے کی کوشش کی ہے تاہم وہ ردعمل دینے کے لیے دستیاب نہیں تھے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے وزارت ریلوے کے ترجمان سید اعجاز الحسن شاہ نے بتایا کہ 'جب آپ (پٹری کے بیچ و بیچ) ٹرین روک دیں تو یہ سیفٹی ایشو بن جاتا ہے۔ سیفٹی ہماری ترجیح ہے۔ کوئی ایسی چیز قابل برداشت نہیں، جس سے تحفظ پر سمجھوتہ ہو۔'
انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان میں ایسے واقعات غیر معمولی نہیں اور اکثر ان کا جائزہ نہیں لیا جاتا ہے۔
'گھر بچانے کے لیے ٹرین روکنا کوئی اتنا ایشو نہیں'
اس واقعے کی خبر اور ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے اور لوگ اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔ اگرچہ ابھی تک اس واقعے پر خود معطل ہونے والے ڈرائیور نے کچھ نہیں کہاں مگر پھر بھی سوشل میڈیا پر ہاتھ بٹانے والے تو ہر وقت دستیاب ہوتے ہیں، جو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر معاملہ ہے کیا؟
دوسرا مرحلہ یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ پھر کسی کی خوب خبر لینی ہے یا اس کی جانب سے صفائیاں پیش کرنی ہیں۔ یہ ڈرائیور اس حوالے سے خوش قسمت ہے کہ اس کی ٹرین رک جانے اور نوکری چلی جانے کے باوجود اس کی طرف سے صفائیاں دینے والوں کی ایک اچھی خاصی تعداد آن لائن دستیاب ہے۔
مگر پھر بھی وہ کہتے ہیں ناں کہ جاگتے رہنا۔۔۔ جی ہاں جاگتے رہنا ضروری ہے اور سوشل میڈیا کا جائزہ لینا اس سے بھی کہیں ضروری ہے۔
کچھ افراد نے سوشل میڈیا پر مزاحیہ ردعمل دیا ہے اور ٹرین ڈرائیور سے ہمدردی دکھائی ہے۔ جیسے مریم نامی صارف کی قیاس آرائی ہے کہ 'بیچارہ! بیوی نے کال کی ہوگی۔'
ایک دوسرے صارف نے لکھا کہ 'بندے کی ترجیحات واضح ہیں۔ ٹرین کے مسافر تو خود ہی دل میں دو گالیاں دے کر ٹھنڈے ہوجائیں گے۔ گھر جا کر بیوی کے طعنے کیسے سنے؟'
ایڈم نے لکھا کہ 'پس ثابت ہوا۔ گھر بچانے کے لیے ٹرین روکنا کوئی اتنا ایشو نہیں۔'
اپنے ٹویٹ میں بنتِ فضل کریم نے یہ پیشگوئی کی کہ ڈرائیور کی 'بیوی نے کہا ہوگا آتے ہوئے دہی لیتے آنا نہیں تو گھر نہ آنا۔'
مگر بعض لوگوں نے اس پر سنجیدہ تبصرے کیے اور اسے ایک ایسی مثال کے طور پر پیش کیا کہ ملک میں ریلوے کا نظام بحران کا شکار ہے۔
ایک صارف نے ٹوئٹر پر وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کیا کہ غیر پیشہ ورانہ اور کرپٹ سرکاری ملازمین کو فارغ کیا جانا چاہیے۔ 'سرکاری ملازمین کے لیے سرکار کے محکمے ایک مذاق ہیں۔'
مگر بعض صارفین نے ٹرین کے سفر پر اپنے ساتھ پیش آنے والے عجیب و غریب واقعات بھی شیئر کیے۔
مثلاً ایک صارف نے بتایا کہ ایک بار ریل کے سفر کے دوران ٹرین کے مینجیر نے ویران علاقے میں ٹرین روک دی تاکہ انٹرنیٹ ٹھیک سے کام کرے اور پاکستان کا کرکٹ میچ ان کے لیپ ٹاپ پر دیکھا جاسکے۔
مگر بہت سے لوگوں کے ذہن میں فہد علی کا سوال گردش کر رہا ہے کہ 'یہ کیسا ڈرائیور تھا یار جو ٹرین روک کر دہی لینے چلا گیا؟'
اس کا جواب مسعود مرزا نے دیا کہ 'دہی کا بھی اپنا ہی خمار ہوتا ہے۔'