آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
خادم رضوی سے سعد رضوی تک: تحریک لبیک کے پُرتشدد دھرنوں اور ’کامیاب‘ معاہدوں کے چھ سال
- مصنف, جعفر رضوی
- عہدہ, صحافی، لندن
’سچی بات تو یہ ہے کہ نہ تو حکومت اور نہ ہی ریاست انتہا پسندی سے مکمل طور پر لڑنے کے لیے اتنی تیار ہے جتنی ہونی چاہیے تھی۔ ٹی ایل پی (تحریک لّبیک پاکستان) کے کیس میں ہم نے دیکھا کہ ریاست کو کیسے پیچھے ہٹنا پڑا اور یہ اس بم کی نشاندہی کرتا ہے جو ٹِک ٹِک بج رہا رہا ہے۔۔۔ جو ریاست قانون کا نفاذ نہیں کر سکتی، اُس کے وجود پر سوال کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس صورت میں آپ خانہ جنگی کی طرف بڑھتے جائیں گے۔۔۔‘
تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی کی کوٹ لکھپت جیل سے رہائی کے چند گھنٹوں بعد پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا یہ بیان پاکستان کے قریباً تمام ہی ٹی وی چینلز کی شہ سرخی (ہیڈ لائن) تھا۔
فواد چوہدری نے ان خیالات کا اظہار جمعرات (کل) کی شام پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیش سٹڈیز کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا تھا۔
سعد رضوی کو 12 اپریل 2021 کو لوگوں کو احتجاج اور پُرتشدّد مظاہروں پر اکسانے جیسے الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا۔ ان کی رہائی 31 اکتوبر کو حکومتِ پاکستان اور ٹی ایل پی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں عمل میں آئی ہے۔
نہ تو یہ تحریک لبیک کا پہلا احتجاج تھا اور نہ ہی حکومتِ پاکستان کا اس تنظیم سے یہ پہلا معاہدہ۔
اپنی چھ برس کی سیاسی عمر میں مختلف مطالبات منوانے کے لیے تحریک لبیک سات مرتبہ اسی نوعیت کے احتجاج منظم کر چکی ہے۔ ہر مرتبہ ان احتجاجوں نے پُرتشدد شکل اختیار کی اور ان کا اختتام ہر بار حکومتِ وقت سے کسی نہ کسی معاہدے پر ہوا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ہر مرتبہ ایسے معاہدوں کے لیے فوج یا اس کے خفیہ اداروں کو کھلی یا درپردہ مداخلت کرنا پڑی اور ہر بار حکومت وقت اپنے موقف سے پیچھے ہٹتی یا دباؤ میں آتی ہوئی محسوس ہوئی اور بظاہر ہر بار تحریک لبیک اپنے ’مطالبات‘ منوانے میں کامیاب دکھائی دی۔
تاہم اس مرتبہ مختلف یہ ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی حکومتی ترجمان یا وزیر نے اپنی پسپائی کو ایسے تسلیم کیا ہے جیسے فواد چوہدری نے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سوال یہ ہے کہ اس ’نومولود‘ تحریک نے اتنی سی مُدّت میں اتنی بڑی عوامی طاقت کیسے حاصل کر لی اور ملک کی اس پانچویں اور پنجاب کی تیسری بڑی سیاسی قوت سمجھی جانے والی اس تحریک کی بے مثال مقبولیت کا راز کیا ہے؟
تحریک لبیک کے اس تیز رفتار سفر کی یہ کہانی آپ تک پہنچانے کے لیے ہماری مدد کئی سینیئر صحافیوں، تجزیہ نگاروں، سینیئر پولیس حکام، خفیہ اداروں کے حکام اور خود اس تحریک کے بانی اراکین اور موجودہ عہدیداروں نے بھی کی ہے۔ بیشتر افراد نے اپنی شناخت خفیہ رکھنے کی درخواست پر تفصیلات فراہم کی ہیں۔
خادم رضوی: ابتدا کب اور کس ماحول میں ہوئی؟
تحریک لبیک پاکستان کی بنیاد اس کے بانی امیر مولانا خادم حسین رضوی نے یکم اگست 2015 کو رکھی۔
خادم رضوی کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ 22 مئی 1966 کو پنجاب کے شمالی ضلع اٹک کے علاقے پنڈی گھیپ میں حاجی لعل خان کے گھرانے میں پیدا ہوئے جو مذہب کے طرف جھکاؤ رکھتے تھے اور اُن کے ایک بھائی امیر حسین پاکستانی فوج کے (جونیئر کمیشنڈ) افسر تھے۔
سُنی بریلوی فرقے کے پیشوا امام احمد رضا خان بریلوی کے مقلد خادم رضوی نے حفظِ قرآن و تجوید کی تعلیم جہلم اور دینہ کے مدارس سے حاصل کی اور پھر لاہور کی ’جامعہ نظامیہ‘ سے ’شیخ الحدیث‘ کی سند حاصل کی۔
سنہ 2009 میں خادم رضوی راولپنڈی سے لاہور تک سفر کے دوران ایک حادثے کا شکار ہوئے جس کے نتیجے میں ٹانگوں میں چوٹ کی وجہ سے وہ چلنے سے معذور ہو گئے۔
کچھ ذرائع کا موقف ہے کہ وہ خود گاڑی چلاتے ہوئے گجرانوالہ کے قریب نیند کا غلبہ ہو جانے کی وجہ سے اس حادثے کا شکار ہوئے، جبکہ بعض ذرائع کے مطابق گاڑی ڈرائیور چلا رہا تھا۔
قریباً 10 برس قبل ایک واقعے نے نہ صرف خادم رضوی کی زندگی بدل کر رکھ دی بلکہ تحریک لبیک کے قیام کی وجہ بھی بن گیا۔
یہ چار جنوری 2011 کی صبح تھی جب پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے (اس وقت کے) گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو ان ہی کی حفاظت پر مامور پنجاب پولیس کے ایک اہلکار ملک ممتاز حسین قادری نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قتل کر دیا۔
گورنر تاثیر اسلام آباد میں ’کوہسار مارکیٹ‘ میں واقع ایک ریسٹورینٹ سے نکلے ہی تھے کہ ممتاز قادری نے خودکار ہتھیار سے ان پر 27 گولیاں چلا دیں۔
ممتاز قادری کے اعتراف جرم کے بعد انھیں پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ اس سزا کے خلاف ہائی کورٹ، سپریم کورٹ اور اس وقت کے صدر پاکستان کو کی گئی اپیلیں مسترد ہوئیں۔
جہاں ایک طرف ممتاز قادری کو بچانے کے لیے تمام دستیاب قانونی ذرائع کا استعمال کیا جا رہا تھا وہیں مذہبی فرقہ وارانہ اور دیگر تنظیموں اور شخصیات نے ممتاز قادری کو رہا کروانے اور اُن کو دی جانے والی پھانسی کی سزا کالعدم قرار دلوانے کے لیے احتجاجی تحریک کا آغاز کر دیا۔
اس تنظیموں اور شخصیات میں سرفہرست ’تحریکِ لبِیک یا رسول اللّہ العالمی‘ اور سیاسی جماعت ’تحریک لبیک اسلام‘ کے سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی اور مولانا خادم حسین شامل تھے۔
ملک میں مسلمانوں کے سب سے بڑے فرقے یعنی ’بریلوی‘ سُنی مسلک سے تعلق رکھنے والے مذہبی حلقوں کے اس احتجاج کے تحت خصوصاً پنجاب بھر میں جلسے جلوس اور مظاہرے ہونے لگے جن میں ممتاز قادری کی حمایت، سلمان تاثیر کی مخالفت اور عدالتی فیصلوں پر ناپسندیدگی کا بھرپور اظہار دیکھنے میں آیا۔
جنوری 2016 میں خادم رضوی نے بھی ممتاز قادری کی رہائی کے لیے لاہور میں واقع علّامہ اقبال کے مزار پر احتجاجی اجتماع اور مظاہرہ منظم کیا۔
تب خادم رضوی بطور ’خطیب جمعہ‘ حکومتِ پنجاب کے محکمۂ اوقاف (مساجد و مزارات سمیت کئی مسلکی امور سے متعلق ادارہ) سے منسلک تھے اور لاہور میں داتا دربار کے قریب واقع 'پیر مکّی مسجد' سے وابستہ تھے۔
خادم رضوی اُردو، پنجابی، عربی و فارسی جیسی زبانیں بولتے تھے اور اپنے انداز و افکار کی روشنی میں 'شعلہ بیاں مقرر' سمجھے جاتے تھے۔
اُن کی شعلہ بیانی، جوشیلہ اور عوامی انداز اور بیباک خطابات ان کے معتقدین کو بہت بھاتا تھا۔
خطاب کرتے ہوئے وہ عموماً امام احمد رضا خان بریلوی، علّامہ محمد اقبال کے اردو اشعاراور فارسی شعرا ’حافظ‘ اور ’رومی‘ کے بھڑکا دینے والے کلام پڑھا کرتے تھے۔
ممتاز قادری کی حمایت میں جاری احتجاجی مہم کے دوران مذہبی سوچ رکھنے والی اکثریت کو وہ اپنی انھی خصوصیات سے متاثر کرنے میں بہت کامیاب رہے۔
وہ اکثر اوقات (ریاستِ) پاکستان کو مشورہ دیتے تھے کہ ’بم (جوہری) نکال کر (اُن کے خیال میں اسلام دشمنوں کے خلاف) استعمال کرو۔‘
ان کا یہی اندازِ خطابت تیزی سے مقبول ہوا اور وہ روایتی (مین سٹریم کنوینشنل) میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی زبردست شہرت پانے لگے۔
تب پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ’خادم حسین رضوی اپنے سے اونچے عہدے رکھنے والوں کے سامنے مغرور اور ماتحتوں کے سامنے بدتمیز ہیں۔‘
بالآخر ریاستی اداروں اور سرکاری حُکام کے کان بھی کھڑے ہوئے اور ہلکی پھلکی تنبیہ کے بعد بھی جب وہ اپنی سوچ و خیالات کا پرچار کرنے سے باز نہیں رہے تو انھیں محکمۂ اوقاف کی ’سرکاری‘ ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔
مگر بظاہر اس کارروائی سے انھیں اپنی سوچ و فکر کا پرچار زیادہ عوامی و مؤثر انداز میں کرنے کے مواقع میسر آئے۔
انھوں نے ممتاز قادری اور توہینِ رسالت کے قوانین کے سخت نفاذ کے حق میں ملک بھر میں احتجاجی اجتماعات، مظاہرے اور دورے شروع کر دیے جن سے انھیں بھرپور عوامی مقبولیت اور پذیرائی ملتی چلی گئی۔
’تحریک لبیک یا رسول اللّہ‘ کا قیام
بالآخر یکم اگست 2015 کو کراچی کے نشتر پارک میں ایک عوامی اجتماع کے دوران انھوں نے 'تحریک لبیک یا رسول اللّہ' کے قیام کا اعلان کر دیا۔
اس اجتماع میں 75 افراد نے مولانا خادم حسین رضوی کو امیر تسلیم کرتے ہوئے ان کے ہاتھ پر 'بیعت' کی۔
خادم رضوی کی تحریک لبیک سمیت تمام مذہبی و فرقہ وارانہ جماعتوں کے مسلسل اور شدید احتجاج کے باوجود بالآخر پیر 29 فروری 2016 کو اڈیالہ جیل میں گورنر تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو پھانسی دے دی گئی۔
اگلے ہی روز یعنی یکم مارچ 2016 کو راولپنڈی کے لیاقت نیشنل پارک میں ممتاز قادری کی نماز جنازہ منعقد ہوئی تو اتنی بڑی تعداد میں عوامی شرکت ہوئی جس نے ریاست کے 'بڑوں' کے ساتھ ساتھ قومی و بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو بھی حیرت زدہ کر کے رکھ دیا۔
پاکستانی ذرائع ابلاغ میں اس تدفین کو براہ راست نشر کرنے یا اس سے متعلق خبریں دکھانے پر پابندی رہی مگر بین الاقوامی نشریاتی اداروں اور عالمی میڈیا میں اس تدفین کو نمایاں جگہ ملی۔
عالمی ذرائع ابلاغ اور نشریاتی اداروں کے مطابق بھی نمازِ جنازہ اور تدفین میں ایک لاکھ (یا زائد) افراد شریک رہے۔
پہلا بڑا احتجاج
ممتاز قادری کی تدفین کا عمل مکمل ہوتے ہی ملک بھر کے مختلف شہروں میں اس پھانسی کے خلاف احتجاج شروع ہوا اور کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور میں اجتماعات و مظاہرے ہوئے جن میں خادم رضوی کی تحریک پیش پیش رہی۔
خادم رضوی نے اسلام آباد کے ڈی چوک میں ایک دھرنا دیا جو پُرتشدد ہوگیا۔
پولیس رپورٹس کے مطابق اس احتجاج کی وجہ سے اسلام آباد ایکسپریس وے بند رہی اور فیض آباد کے پل کو بند کر کے گاڑیوں پر پتھراؤ کیا گیا، اس تشدد آمیز احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات ملک کے دیگرحصّوں میں بھی رونما ہوئے۔
لبیک کے اس پہلے پرتشدد احتجاج پر بات کرتے ہوئے ایک تجزیہ کار نے کہا 'اس چار روزہ دھرنے کا اختتام تب ہوا جب بریلوی مسلک ہی کی سیاسی جماعت، جمیعت العلمائے اسلام کے رہنما اویس نورانی نے خادم رضوی اور حکومت کے درمیان سمجھوتے کے لیے ثالث کا کردار ادا کیا۔'
انھوں نے دعویٰ کیا کہ 'بعض حلقے اس ثالثی میں پاکستان کی ریاست کے کچھ اداروں کو بھی شریک ٹھہراتے ہیں۔'
27 مارچ 2016 کو ممتاز قادری کے چہلم کے موقع پر بھی راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ہی لوگ جمع ہوئے اور ایک بار پھر پُرتشدّد احتجاجی واقعات رونما ہوئے۔
پولیس رپورٹس کے مطابق ایک بس اڈّے کو نذرِ آتش کردیا گیا اور دارالحکومت کی اہم شاہراہیں ٹریفک کے لیے بند کردی گئیں حتّیٰ کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فوج کو طلب کر لیا گیا۔
اس تمام عرصے میں بھی خادم رضوی کی تحریک لبیک اُن کے سخت گیر موقف اور کٹّر رجحانات اور مستقل جاری رہنے والی شعلہ بیانی کی بنیاد پر مسلسل عوامی پذیرائی حاصل کرتی رہی۔
اب وہ خود کو 'رسول اللّہ کی ناموس کا پہرے دار' کہنے لگے تھے اور ملک کے اندر اور باہر ہونے والی کسی بھی ایسی پیشرفت پر کھل کر اظہار خیال کرنے لگے تھے جس کا تعلق کسی بھی طرح اُن کے کٹّر نظریات یا اُن کے حامیوں کے فرقہ وارانہ اور مذہبی عقائد سے ہو۔
اور پھر وہ وقت آیا جس نے خادم رضوی کی سیاسی طاقت درج ہوئی۔ یہ تحریک لّبیک کے سب سے مشہور 'فیض آباد دھرنے' کا موقع تھا۔
فیض آباد دھرنہ
اکتوبر 2017 کے اوائل یعنی مسلم لیگ (ن) کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے دور میں الیکشن ایکٹ 2017 میں ترامیم کے معاملے پر ایک پارلیمانی تنازع پیدا ہوگیا۔
اُن میں سے ایک شق انتخابی امیدواروں کے ختمِ نبوّت پر یقین رکھنے کے حلف نامے سے متعلق تھی۔
متنازع ترامیم کے تحت جب بعض الفاظ کے ردو بدل کا معاملہ سامنے آیا تو حکومت نے اسے غلطی سے تعبیر کیا جبکہ حزب اختلاف نے سیاسی موقع غنیمت جان کر معاملے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔
اگرچہ حزب اختلاف کی نشاندہی پر حکومت نے ترامیم کے مسوّدے و متن کو پرانے الفاظ میں ہی بحال کر دیا مگر خادم رضوی اور اُن کی 'تحریک لّبیک یا رسول اللّہ' نے اسے ایک 'بڑی سازش کا حصّہ' قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت نے اس شق کا متن جان بوجھ کر بدلنے کی کوشش کی اور اس کے ذمہ دار (اس وقت کے) وزیر قانون زاہد حامد ہیں۔
خادم رضوی اور اُن کی تحریک نے وزیر قانون کے استعفے کا مطالبہ کر دیا اور دھمکی دی کہ اگر مطالبہ نہ مانا گیا تو وہ اسلام آباد میں دھرنا دے دیں گے۔
مطالبہ پورا نہ ہونے پر تحریک لّبیک نے اس دھمکی کو عملی جامہ پہنایا اور آٹھ نومبر 2017 کو خادم رضوی کے حامی مظاہرین نے اسلام آباد کو راولپنڈی سے ملانے والی شاہراہ بند کر دی اور ٹریفک معطل ہونے سے ایک نومولود بچّے کی جان چلی گئی۔
ایک تجزیہ کار کے مطابق 'نو نومبر کو خادم رضوی کو اس کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا مگر اُن کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہو سکی۔ یا کسی نے کرنے نہیں دی۔'
واقعات کے مطابق 15 نومبر کو مظاہرین نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی کہ اُن کا مطالبہ منظور کیا جائے۔
16 نومبر کو وزیر قانون نے قومی اسمبلی میں بل پیش کیا جس کے تحت الیکشن ایکٹ میں متنازع ہو جانے والی ترامیم کو ختم کر کے پرانی شکل میں بحال کر دیا گیا اور خود وزیر قانون کو بھی اس موقع پر ختمِ نبوّت کے اپنے عقیدے کا اظہار کرنا پڑا۔
اس کے بعد اگرچہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے مظاہرین کو دھرنا ختم کرنے کا حکم دیا مگر اس عدالتی حکم کی بھی تعمیل نہ ہو سکی۔
20 نومبر کو دھرنا ختم کروانے کے لیے حکومت کے وزرا اور مظاہرین کے وفد کے مذاکرات بھی ہوئے مگر وہ بھی بے نتیجہ ہی رہے۔
21 نومبر 2017 کو ملک کی سب سے بڑی عدالت نے از خود نوٹس لیتے ہوئے حکومت سے دھرنا ختم کروانے کے سلسلے میں وضاحت طلب کر لی۔
اُدھر حزب اختلاف نے دباؤ ڈالا کہ حکومت مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فوج طلب کرے مگر 22 نومبر کو خادم رضوی کا کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ فوج دھرنا ختم کروانے نہیں آئے گی کیوں کہ وہ اور اُن کے حامی فوج ہی کا موقف مضبوط کرنے کے لیے تو احتجاج کررہے ہیں، اُن کا کہنا تھا کہ 'فوج ناموس رسالت پر نہ کبھی پیچھے ہٹی ہے نہ قیامت تک ہٹے گی۔'
خادم رضوی کی اس پُریقین لہجے پر بعض حلقوں نے ذرائع ابلاغ اور سیاسی نشستوں میں دبے دبے لہجے میں شبہات ظاہر کیے اور ذرائع ابلاغ کی نشریات میں بھی سیاسی شخصیات نے اشاروں کنایوں میں تشویش ظاہر کی کہ فرقہ وارانہ گروہوں کے مشتعل مظاہرین کو کسی ایسی قوت کی جانب کوئی مدد یا تعاون حاصل ہے جو ملک میں سیاسی عمل اور جمہوری نظام کا تسلسل اور استحکام نہیں چاہتے۔
مگر تحریک کی مجلس شوریٰ کے رکن پیر عنایت الحق نے مجھے اس کا جواب سوال ہی کے انداز میں دیا۔ 'اگر یہ الزام صحیح ہے کہ ہمارا کوئی تعلق ان حلقوں سے ہوتا تو کیا ہم آئے دن اپنے کارکنوں کی لاشیں اٹھانے سڑکوں پر آتے ؟ ہمارا تو سب سے بڑا جرم ہی یہی ہے کہ ہم اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نہیں ہیں۔ اگر ہوتے تو قومی اسمبلی میں اکثریت بھی ہوتی، ساری وزارتیں بھی ہوتیں کراچی کا ضمنی انتخاب ہم جیتے ہوئے تھے، وہ بھی نہیں ہرایا جاتا اتنے ووٹ تو عمران خان ساری زندگی نہیں لے سکے جتنے ہم نے پہلی بار انتخاب میں حصّہ لے کر لیے۔ سب ہوتا ہمارے پاس۔ یہ الزام سراسر جھوٹ کا پلندہ ہے۔'
پیر عنایت کا موقف اپنی جگہ مگر 22 نومبر 2017 کی اسی شب فوج طلب کیے جانے کے سیاسی حلقوں کے مطالبات اور چہ مگوئیوں کے تناظر میں فوج کے ترجمان اور شعبۂ تعلقات عامّہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ جنرل آصف غفور کا موقف سامنے آیا کہ بہتر ہوگا کہ اس معاملے کا پُر امن حل نکل آئے 'لیکن حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی فوج اس پر عملدرآمد کی پابند ہے۔'
یہ بھی پڑھیے
بالآخر 25 نومبر 2017 کو حکومت نے پولیس کے ذریعے دھرنا ختم کروانے کی کوشش کی اور اس دوران ہونے والی جھڑپوں میں دونوں جانب سے جانی نقصان کی اطلاعات آنے لگیں۔
کراچی اور لاہور میں کئی افراد کی ہلاکت کی اطلاعات آئیں اور ملک بھر خصوصاً پنجاب بھر میں مسلم لیگ نون کے رہنماؤں اور کارکنان کے گھروں پر بھی ہجوم حملے کرتے رہے۔
ملک کے بڑے حصّے میں انٹرنیٹ کی سہولت بند کردی گئی سرکاری احکامات کے تحت ٹی وی چینلز کی نشریات روک دی گئیں اور کئی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔
ایک خاتون تجزیہ کار کے مطابق 'مگر جیت ہمیشہ کی طرح خادم رضوی اور تحریک لّبیک ہی کی ہوئی۔ ان کے مطالبے پر ملک کے وفاقی وزیرِ قانون زاہد حامد کو استعفیٰ دینا پڑا۔'
خادم رضوی کی یہ سیاسی فتح اور ان کی سیاسی طاقت تب درج ہوئی جب کشیدگی اور ہلاکتوں سمیت تمام جانی و مالی نقصان کے بعد بالآخر 27 نومبر کو 'فوجی قیادت کی مداخلت سے ہی فریقین کو پھر مذاکرات کی میز پر بٹھایا گیا اور ایک چھ نکاتی معاہدہ عمل میں آیا۔'
'اس معاہدے کے تحت وزیر قانون زاہد حامد نے استعفی دیا ، حکومت نے تحریک لّبیک کے گرفتار کارکنوں کو بڑی تعداد کو رہا کر دیا، متنازع بن جانے والے قانون کے مسودے کا متن بحال کر دیا گیا اور تب بھی یہی لگا کہ تحریک لّبیک کے مطالبات کے آگے حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے۔'
تحریک لبیک، سنی تحریک اور دیگر کے ساتھ ہونے والے حکومت کے اس معاہدے میں سرکاری اور تحریری طور پر تسلیم کیا گیا کہ فوج نے اس معاہدے میں مرکزی کردار ادا کیا اور معاہدے میں جس پر جنرل فیض حمید کے بھی دستخط تھے یہ تحریر تھا کہ یہ جنرل باجوہ اور اُن کے نمائندے کی خصوصی کوشش سے طے پایا۔
جب ٹی وی چینلز کی نشریات بحال ہوگئیں تو نیم فوجی ادارے رینجرز کے (اس وقت کے) ڈائریکٹر جنرل اظہر نوید حیات مظاہرین کو پیسے بانٹے ہوئے بھی دکھائی دیے۔
ایک تجزیہ کار کے مطابق 'پھر یہ تاثّر ابھرا اور الزامات سامنے آئے کہ ٹی ایل پی (تحریک لّبیک) کو درونِ خانہ ریاست کے بعض اداروں کی مدد حمایت یا سرپرستی بھی حاصل تھی۔ اور اس سب کا ہدف ایک خاص سیاسی جماعت تھی۔'
مگر تحریک لّبیک کے رہنما پیر عنایت الحق شاہ اس الزام کے جواب میں کہا کہ 'سیاسی مقاصد کے لیے پیسوں کا لین دین چوری چھپے ہوتا ہے، سرعام پیسے نہیں دیے جاتے۔'
'یہ ہمارے خلاف سازش تھی۔ سرعام پانچ یا سات بندوں کو پیسے دیے گئے۔ اس وقت وہاں موجود ہمارے رہنما انجینئیر علوی نے اُن افسر سے کہا بھی آپ یوں ہمارے کارکنوں کو پیسے نہ دیں، یہ بات بھی اُسی ویڈیو کلپ (فوٹیج) میں موجود ہے۔ تو اس پر اُن افسر نے کہا بھی کہ نہیں۔۔۔ نہیں ۔۔۔یہ ہمارے بھی بچّے ہیں اِن کے پاس تو جوتے تک نہیں ہم انہیں پیسے دیں گے۔ اس کے علاوہ اگر ہماری تحریک (لّبیک) پر کسی لین دین کا الزام ہے تو ہمیں بھی بتائیں۔ وہ تو ایک سازش تھی ہمیں بدنام کرنے کی۔'
پیسوں کی تقسیم کی ویڈیو فوٹیج سامنے آنے پر ایک بار پھر تحریک اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کسی درپردہ تعلق یا ساز باز کے شکوک ابھرے اور فوج کا تحریک اور حکومت کے درمیان ہونے والے ہر معاہدے کا 'ضامن' بن جانے پر سیاسی و سماجی حلقوں اور ذرائع ابلاغ نے سوال اٹھائے۔
اس الزام کو جب میں نے تحریک لّبیک کے رہنما پیر عنایت الحق شاہ کے سامنے رکھا تو انھوں نے میرے سوال کا جواب دینے کی بجائے مجھ سے سوال ہی کر لیا۔ 'اچھّا آپ بتائیں کہ پاکستان پر کس کی حکومت ہے؟'
'جب اس ملک کے وزیر داخلہ یہ کہیں کہ میرے بس میں تو کچھ بھی نہیں ہے میری تو اوقات ہی نہیں ہے اور ایک اجلاس میں موجود 'کسی اور' کی جانب اشارہ کر کے (اس ملک کا وزیرِ داخلہ) کہے کہ جو کچھ کرنا ہے انھوں نے کرنا ہے۔۔۔ جب گورنر پنجاب مجھے یہ کہہ کر وہیں اجلاس میں 'کسی اور' کی موجودگی کا احساس دلوائیں کہ جو کچھ کرنا ہے، انھوں نے کرنا ہے اور جب پاکستان کے وفاقی وزیر مذہبی امور کہیں کہ جو کچھ کرنا ہے ان کو کرنا ہے اور وہاں بھی 'کوئی اور' موجود ہو تو پھر آپ مجھے بتائیں؟' پیر عنایت نے پھر سوال کیا۔
بہرحال ٹی ایل پی کے مظاہرین میں ڈی جی رینجرز کی جانب سے پیسوں کی تقسیم جیسے ان معاملات پر آگے چل کر عدالتی کارروائی میں پاکستان سپریم کورٹ کے جسٹس فائز عیسیٰ کے فیصلے کی گونج کئی برس تک سنائی دیتی رہی اور آج بھی سنّی جاتی ہے جس میں فوج اور اس کے خفیہ اداروں اور دیگر خفیہ اداروں کو واضح اور نام لے کر تنبیہ کی گئی کہ وہ اپنے دائرہ کار اور آئینی کردار تک محدود رہیں تجاوز نہ کریں۔
عدالت نے حیرت ظاہر کی کہ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل فیض حمید نے کیسے (کس حیثیت میں) معاہدہ کر لیا۔
فیصلے میں فوج کے ترجمان کی بھی سرزنش کی گئی کہ انھوں نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئی 'سیاسی معاملات پر رائے زنی' کی۔
عدالت نے مسلح افواج کے سربراہان کو ہدایت کی کہ وہ اُن اہلکاروں کے خلاف کارروائی کریں جنھوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی سیاسی جماعت یا گروہ کی حمایت کی۔
ایک سیاسی رہنما کے مطابق 'مگر بیس روزہ احتجاج کی یہ لہر ہی دراصل خادم رضوی کے لیے شہرت و مقبولیت کا وہ 'سنہرا' موقع ثابت ہوئی جس نے انھیں عوامی پذیرائی کے ساتھ ساتھ 'بھرپور رہنما' کی شکل میں میدان سیاست میں ایک الگ مقام عطا کیا۔ پھر وہ اُن رہنماؤں میں شمار ہونے لگے جو کسی وفاقی وزیر کا استعفیٰ لے سکتے ہیں۔'
تحریک لبیک پاکستان کا قیام
سیاسی رہنما کے مطابق 'خادم رضوی نے اس احتجاج سے ملنے والی تمام ایسی طاقت، شہرت و مقبولیت کا یہ 'سنہری موقع' غنیمت جانا اور بالآخر 2017 میں اس فرقہ وارانہ تحریک کو باقاعدہ ایک سیاسی جماعت کی شکل دینی چاہی۔'
تحریک لّبیک کے رہنما پیر عنایت الحق نے مجھے بتایا کہ 'جب تحریک لّبیک یا رسول اللّہ کے اسی نام کو الیکشن کمیشن نے رجسٹر کرنے سے انکار کر دیا تو ہم نے سوچ بچار کے بعد اپنی سیاسی جماعت کو تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کا نام دیا اور الیکشن کمیشن آف پاکستان میں اس کا اندراج (رجسٹریشن) بھی ہوگیا۔'
الیکشن کمیشن نے اس جماعت کو کرین کا انتخابی نشان بھی جاری کر دیا۔
تحریک لبیک کی پارلیمانی کامیابی
ستمبر 2017 میں جب (سابق) وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا اور اس بنیاد پر نواز شریف کے حلقۂ انتخاب این اے 120 (شیخو پورہ) کے ضمنی انتخاب منعقد ہوئے تب تک تحریک لّبیک باقاعدہ سرکاری طور پر باقاعدہ سیاسی جماعت (رجسٹر) نہیں تھی مگر پھر بھی تحریک لّبیک نے اس ضمنی انتخاب میں حصّہ لیا۔
تحریک کے حمایت یافتہ آزاد امّیدوار شیخ اظہر حسین رضوی نے 7130 ووٹ لے کر سیاسی حلقوں اور ریاستی حُکّام کو حیرت زدہ کر دیا۔
الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق 26 اکتوبر 2017 کو جب پشاور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے چار پر ضمنی انتخاب ہوا تو تحریک لّبیک کے حمایت یافتہ امیدوار نے 9935 ووٹ حاصل کیے۔
پاکستان میں شدّت پسندی اور مذہب سے جڑی عسکریت پسندی اور انتہا پسند فرقہ وارانہ عزائم کے بارے میں تحقیق کرنے والے ایک ادارے کے سربراہ اور معروف محقّق عامر رانا کہتے ہیں کہ 'ایسا نہیں ہے کہ تحریک صرف ایک صوبے (پنجاب) تک محدود تھی۔۔۔ بلوچستان کے کوئٹہ، خضدار اور مکران جیسے علاقوں میں بھی ان کا سیاسی وجود قائم ہو چکا تھا۔'
قریباً 10 ماہ بعد پاکستان میں 2018 کے عام انتخابات 25 جولائی کو منعقد ہوئے اور تحریک لّبیک نے ان میں بھی بطور سیاسی جماعت شرکت کی اور مجموعی طور پر 22 لاکھ کے لگ بھگ ووٹ حاصل کر کے ملک کی پانچویں اور پنجاب کی تیسری بڑی سیاسی قوّت بن کر ابھری۔
تحریک لّبیک اور خادم رضوی جو پنجاب میں بہت مقبول و فعال اور متحرک تھے حیرت انگیز طور پر پنجاب سے تو قومی یا صوبائی اسمبلی کی تو کوئی نشست نہ جیت سکے مگر ان کی جماعت نے عام انتخابات میں سندھ کی صوبائی اسمبلی کی دو براہ راست اور ایک مخصوص نشست سمیت تین نشستیں حاصل کر لیں۔
دوسرا بڑا احتجاج
تحریک لبیک نے دوسرا اہم احتجاج اپریل 2018 میں اس وقت کیا جب اس کے حامی مظاہرین نے پنجاب بھر کی اہم شاہراہیں یہ کہتے ہوئے بند کر دیں کہ حکومت 2017 کے معاہدے کے مطالبات پر عملدرآمد کرے۔
اس دوران بھی بدامنی، کشیدگی ، اشتعال انگیزی اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات ہوئے جن میں کئی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات آتی رہیں۔
تیسرا بڑا احتجاج
ادھر آٹھ اکتوبر 2018 کو (اس وقت کے) چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار، جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس مظہر عالم پر مشتمل ایک بنچ نے آسیہ بی بی کیا کا فیصلہ معاملے کی حساسیت کے پیشِ نظر پہلے تو محفوظ کر لیا لیکن 31 اکتوبر کو 56 صفحات پر مبنی سپریم کورٹ کے فیصلے میں حکم دیا گیا کہ آسیہ بی بی کو فی الفور رہا کر دیا جائے۔
اِس فیصلے نے ایک بار پھر ایسے تشدد آمیز احتجاج کی چنگاری بھڑکا دی جس میں بھی خادم رضوی اورتحریک لّبیک پیش پیش تھے۔
دیگر تمام دینی و مذہبی جماعتوں اور بعض فرقہ وارانہ گروہوں کے ساتھ ساتھ تحریک لّبیک نے بھی فیصلہ قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اپنے حامیوں کو سڑکوں پر احتجاج کی ہدایت کر دی۔
ایک تجزیہ کار کے مطابق 'تحریک لّبیک پاکستان کے ایک بانی رکن محمد افضل قادری نے تو سپریم کورٹ میں آسیہ بی بی کے مقدمے کی سماعت کرنے والے تینوں ججز کے لیے ہی سزائے موت کا مطالبہ کیا اور انھیں 'موت کا حقدار' قرار دیتے ہوئے ان کے عملے (محافظین یا ڈرائیورز وغیرہ) کو 'اُکسایا' کہ جس کو بھی موقع ملے وہ ان ججز کو موت کے گھاٹ اتار دیں۔'
مگر مجھ سے گفتگو میں ٹی ایل پی رہنما پیر عنایت الحق شاہ زور دیتے رہے کہ 'تحریک لّبیک ایک پر امن جماعت ہے۔'
اس موقع پر صرف کراچی میں 32 مختلف مقدمات پر دھرنا دیا گیا۔ وفاقی و صوبائی دارالحکومت اگلے کئی دنوں تک تحریک لّبیک کے ڈنڈا بردار مظاہرین کے زیرِ قبضہ رہے۔
تمام اہم اور بڑی شاہراہیں اور موٹر ویز پر ٹریفک معطل رہا، موبائیل فون نیٹ ورک بند اور انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی۔ تمام مسیحی تعلیمی و مذہبی ادارے بھی غیر معینہ مُّدت تک کے لیے بند کر دیے گئے۔
آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک کی زندگی کو شدید خطرات لاحق رہے حتّیٰ کے 3 نومبر کو انھیں ہالینڈ بھیج دیا گیا۔
تب تحریک لّبیک پاکستان کے مرکزی ترجمان اعجاز اشرفی کا کہنا تھا کہ اُن کے دو مطالبات ہیں اوّل سپریم کورٹ کے تینوں ججز استعفیٰ دیں اور دوئم عدالت کا فیصلہ واپس لیا جائے۔
وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں تو اس دفعہ بھی 'سخت لہجہ'اختیار کیا مگر ان ہی کی حکومت کے وزرا مسلسل خادم رضوی سے ملاقاتیں و مذاکرات بھی کرتے رہے۔
لیکن جب خادم رضوی نے مؤقف اختیار کیا کہ مذاکرات کے دوران آئی ایس آئی کے ایک افسر نے انھیں 'گولیوں سے بھون دینے کی دھمکی دی ہے' تو بات چیت 'ناکام' ہوگئی۔
ادھر فوج کے ترجمان کا موقف سرکاری ٹی وی پر یہ بتایا گیا کہ پہلے قانونی تقاضے پورے کیے جائیں (یعنی) حکومت اپنے تمام آپشنز استعمال کرے امن و امان قائم کرنے یا مظاہرین کو منتشر کرنے اور احتجاج پر قابو پانے کے لیے پہلے پولیس اور رینجرز کو استعمال کر لے پھر فوج طلب کرنے پر غور کیا جائے۔
جنرل آصف غفور نے کہا کہ 'اگر حکومت فوج طلب کرتی ہے تو آرمی چیف اپنا مشورہ دیں گے لیکن ہماری خواہش ہے کہ پہلے قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔'
ایک تجزیہ کار کے مطابق 'بالآخر قریباً تین ہفتوں کی ہیجان خیز احتجاجی مہم کے بعد فوج ہی کی درپردہ مداخلت سے ان پانچ نکات پر حکومت اور تحریک لّبیک پاکستان کی درمیان پھر معاہدہ طے پایا کہ آسیہ بی بی کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کی جائے گی اور حکومت آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلے پر عدالت میں دائر کی جانے والے نظر ثانی کی درخواست کی مخالفت نہیں کرے گی اور تحریک کے تمام گرفتار کارکنوں کو رہا کیا جائے گا۔'
اس معاہدے کے بعد خادم رضوی نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا اور ان کے اعلان کے بعد ہی ملک بھر کے حالات معمول پر واپس آ سکے۔
'یعنی ایک بار پھر ثابت ہوا کہ خادم حسین رضوی کی مرضی و منظوری سے ہی تمام بازار، تجارتی سرگرمیاں اور بند ہو جانے والے دفاتر و تعلیمی ادارے کھول دیے گئے۔ آپ کو اندازہ ہو رہا ہوگا کہ اگر 'کوئی' چاہے تو آہستہ آہستہ سیاسی طاقت کیسے ملتی جاتی ہے۔'
آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک نے اس معاہدے کو تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے تنقید کی کہ عمران خان حکومت ملک کی سب سے بڑی عدالت کا فیصلہ نافذ کرنے میں بھی ناکام رہی۔
بہرحال سپریم کورٹ نے 29 جنوری 2019 کو نظر ثانی کی درخواست نمٹانے ہوئے آسیہ بی بی کی رہائی کا فیصلہ برقرار رکھا اور کہا کہ آسیہ بی بی کی جان کو پاکستان میں خطرہ ہے اور وہ چاہیں تو ملک سے جاسکتی ہیں جس پر ایک بار پھر مگر قدرے کم سطح کا تشدد آمیز احتجاج دیکھنے میں آیا۔
اس صورتحال کے دو اثرات مرتّب ہوئے۔ اوّلاً خادم رضوی پاکستان میں طاقتور ترین مذہبی رہنماؤں میں شمار ہونے لگے اور دوئم اب اُن کو عالمی سطح پر شہرت ملنے لگی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں بھی انہیں ایک سخت گیر طاقتور مذہبی رہنما کے طور پر پہچانا جانے لگا۔
ایک تجزیہ کار کے مطابق 'جب تحریک لّبیک نے دھمکی دی کہ آسیہ بی بی کو ملک سے باہر لے جانے کی ہر کوشش ناکام بنا دی جائے گی تو حکومت پاکستان نے آسیہ بی بی کو کئی ماہ تک ایک نامعلوم محفوظ مقام پر رکھا اور بالآخر انھیں بڑی رازداری اور خاموشی سے کینیڈا روانہ کر دیا گیا۔ 2020 میں آسیہ بی بی نے فرانس میں سیاسی پناہ حاصل کر لی۔'
راتوں رات خادم رضوی کے یوں اتنے طاقتور رہنما بن جانے پر محقّق عامررانا کہتے ہیں کہ یہ دیکھتے ہی دیکھتے یا اچانک نہیں ہوا۔
'چالیس برس سے جاری افغان جنگ کے تناظر میں ریاست نے ایک مخصوص ماحول پیدا کیا۔ صرف وہ مدرسے جن کا اندراج (رجسٹریشن) سرکاری طور پر کروایا جا چکا ہے اُن کی تعداد 35000 سے زیادہ ہے۔ مدرسہ صرف ایک اکائی نہیں ہوتا۔ اُس کے ساتھ مسجد بھی ہوتی ہے خیراتی ادارے بھی ہوتے ہیں اور یہ سب مل کر ایک مخصوص ماحول پیدا کر سکتے ہیں اور پاکستان میں یہ ماحول پیدا ہوا۔'
وہ مزید کہتے ہیں کہ 'پہلے یہ سب ایک طرف (مراد جہادی حلقے) ہوا پھر جب ادھر سے معاملات نمٹ گئے تو ضرورت پڑی کہ نرم خُو (سافٹ) اسلام کی حوصلہ افزائی کرو تو سوچ سمجھ کر شروع کیا گیا۔ مگر اب ریاست کے پاس متبادل بیانیہ بھی نہیں ہے اور اس کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہو رہی ہے کیونکہ مائنڈ سیٹ (سوچ کا انداز) ایک ہی ہے اور یہ (تحریک لّبیک) اب تک ریاست کے دشمن بھی نہیں ہیں۔'
تحریک لّبیک کی مجلس شوریٰ کے رکن پیر عنایت الحق شاہ کے مطابق 2018 میں ہی ایک اور بڑے احتجاج کی کوشش تب ہوئی جب ہالینڈ کے رکن پارلیمان اور اسلام مخالف رہنما سمجھے والے والے گیریٹ وآئلڈرز کی جانب سے ہالینڈ میں پیغمبر اسلام کے خاکوں کی نمائش کا اعلان کیا گیا۔
پیر عنایت نے کہا کہ 'مگر جب ہماری مرکزی قیادت اپنے حامیوں کے ساتھ اس معاملے پر بھی احتجاج کی غرض سے اسلام آباد پہنچی تو وزیر خارجہ شاہ محمود نے بتایا کہ ہالینڈ کے سفیر نے انھیں مطلع کیا ہے کہ توہین آمیز خاکوں کی نمائش کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے۔ لہٰذا یہ احتجاج ملتوی کردی گیا۔'
نومبر 2018 میں جب تحریک نے اپنے اعلان کے مطابق پہلا 'یومِ شہداء ناموسِِ رسالت' منانے اور آسیہ بی بی کے معاملے پر ہونے والے 'معاہدے پر عملدرآمد کے لیے دباؤ ڈالنے کی غرض سے' اسلام آباد کا رخ کرنا چاہا تو 23 نومبر 2018 کو عمران خان حکومت نے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد خادم رضوی کو ان کے 50 کے لگ بھگ ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا۔
'اس گرفتاری پر بھی احتجاج پھوٹ پڑا اور صورتحال مخدوش ہوگئی۔ ان پر اور ان کے ساتھیوں پیر افضل قادری ، پیر عنایت الحق شاہ اور فاروق الحسن دہشت گردی اور غدّاری کے مقدمات قائم تو ہوئے مگر جلد ہی انھیں رہا بھی کر دیا گیا۔'
ایک اور احتجاج
16 نومبر 2020 میں فرانس میں پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر خادم رضوی نے اپنی تنظیم سمیت ایک مرتبہ پھر احتجاج کے لیے اسلام آباد کا رخ کیا۔
اس بار بھی احتجاج نے تشدد کا راستہ اپنایا اور درجنوں پولیس اہلکار مشتعل ڈنڈا بردار مظاہرین کے ہاتھوں زخمی ہوئے۔
پولیس رپورٹس کے مطابق دارالحکومت جانے والے تمام راستے اور شاہراہوں کی بندش کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی حرکت میں آئے اور مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس استعمال کی گئی۔
کئی مقامات پر فساد کے بعد بالآخر پھر ایک ہی روز بعد یعنی پیر 17 نومبر کو عمران خان حکومت اور تحریک لّبیک کے درمیان پھر 'اچانک' ہی ایک اور معاہدہ ہو جانے کی خبریں آئیں اور اس مرتبہ معاہدے پر حکومت کی جانب سے وزیر مذہبی امور نور الحق قادری اور سیکریٹری داخلہ بریگیڈئیر اعجاز شاہ سمیت کئی حکام نے دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت حکومت نے وعدہ کیا کہ وہ دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمان سے قانون سازی کے بعد فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرے گی فرانس میں پاکستانی سفیر تعینات نہیں جائے گا اور ملک میں تمام فرانسیسی مصنوعات کا سرکاری سطح پر بائیکاٹ کیا جائے گا ، تمام گرفتار مظاہرین کو رہا کیا جائے گا اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔
مولانا خادم حسین کی وفات
اس معاہدے کے دو ہی دن بعد یعنی جمعرات 19 نومبر 2020 کی شام تحریک لّبیک کے بانی امیر مولانا خادم حسین رضوی ایک ہنگامہ خیز اور شہرت و تنازعات سے بھرپور زندگی گزار کر محض چند روزہ معمولی بیماری کے بعد 54 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے۔
شیخ زید ہسپتال کے ریکارڈ کے مطابق جمعرات کی شب 8 جب کر 48 منٹ پر جب انھیں ہسپتال لایا گیا تو وہ زندہ نہیں تھے۔ اُن کی نمازِ جنازہ 21 نومبر کی صبح 10 بجے مینارِ پاکستان لاہور میں ادا کی گئی جس میں بلا مبالغہ لاکھوں افراد نے شرکت کی۔
انھیں لاہور کی 'مسجدِ رحمت اللعالمین' کے 'مدرسۂ ابوذر غفّاری' کے احاطے میں دفن کیا گیا اور 21 نومبر 2020 کو ان کے صاحبزادے سعد حسین رضوی کو ان کا جانشین اور تحریک کا دوسرا امیر مقرر کر دیا گیا۔
سعد رضوی اپنے والد کے مدرسے ابوذر غفاری میں درس نظامی (ایم اے کے مساوی مذہبی تعلیم) کے طالبعلم رہے۔
سعد رضوی بھی احتجاج کے راستے پر
اپنے والد اور پیشرو خادم رضوی کی طرح سعد حسین رضوی نے بھی احتجاج کا راستہ ہی اپنایا۔
نئی قیادت نے جنوری 2021 میں حکومت کو تنبیہ کی کہ اگر فرانسیسی سفیر کی بیدخلی کے معاہدے پر 17 فروری تک عملدرآمد نہ ہوا تو تحریک سڑکوں پر احتجاج کرے گی۔
اس دھمکی پر ایک بار پھر حکومت اور تحریک لّبیک کے نئے امیر کے درمیان معاہدہ پر دستخط کیے گئے۔
اس نئے معاہدے کے تحت یہ طے ہوا کہ نہ صرف حکومت کو فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے لیے 20 اپریل 2021 تک پارلیمان سے رجوع کرے گی بلکہ فورتھ شیڈول (نقل و حرکت سے حُکّام کو آگاہ رکھنے والے کڑے قوانین) میں شامل کیے جانے والے تحریک لّبیک کے تمام اراکین کے نام بھی فہرست سے خارج کر دیے جائیں گے۔
'لیکن پھر ایک اچانک فیصلے کے تحت 12 اپریل 2021 کو سعد رضوی کو حراست میں لے کر اُن پر انسداد دہشت گردی قانون کے تحت مقدمہ قائم کر دیا گیا۔'
اور رضوی کی گرفتاری سے تحریک لّبیک کے کارکنوں اور حامیوں میں زبردست بے چینی پھیل گئی۔
ایک بار پھر لاہور ، کراچی اور اسلام جیسے شہروں سمیت کئی شہروں میں دھرنے دیے گئے۔ سڑکیں، شاہراہیں اور راستے بند کر دیے گئے ٹریفک معطل ہوگیا۔ احتجاج کا دائرہ سندھ اور بلوچستان تک پھیل گیا اور خضدار میں ایک ہلاکت کے بعد صورتحال اور کشیدہ ہوگئی۔ ملک بھر میں عوام شدید پریشانی کا شکار دکھائی دیے۔
اس بار احتجاج پر قابو پانے کی کوششوں میں دو پولیس اہلکاروں سمیت پانچ افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔
جیل حُکّام اور تحریک لّبیک کے رہنماؤں دونوں ہی نے دعویٰ کیا کہ سعد رضوی اور رہنماؤں کو 20 اپریل تک رہا کر دیا جائے مگر ایسا نہیں ہو سکا۔
تحریک لّبیک کالعدم قرار
تحریک لّبیک کے رجوع کرنے پر لاہور ہائی کورٹ کے جائزہ بورڈ نے بھی کہا کہ سعد رضوی کو حراست میں رکھے جانے کا کوئی جواز نہیں بنتا پھر بھی حکومت ان کی حراست کی مُدّت 90 روز کے لیے بڑھا دی گئی اور 14 اپریل کو موجودہ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے تحریک لّبیک پاکستان کو 'عسکریت پسند جماعت' قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کردی یعنی 'کالعدم' قرار دے دیا۔ تحریک لّبیک کے تمام مالی اثاثے منجمد کر کے سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی گئی۔
لیکن چند ہی روز میں اسی حکومت نے جس نے تحریک لّبیک پر پابندی لگا کر اُسے کالعدم قرار دیا ، پھر اسی تحریک سے نہ صرف مذاکرات کیے بلکہ معاہدے کی پاسداری کے طور پر 20 اپریل کو فرانسیس سفیر کی ملک بدری سے متعلق قرارداد بھی پارلیمان میں پیش کر دی۔
لیکن تب بھی کوٹ لکھپت جیل میں قید سعد رضوی کو رہا نہ کیا گیا بلکہ 9 اکتوبر کو حکومت نے سعد رضوی کو رہا کیے جانے کے بارے میں لاہور ہائی کورٹ کے احکامات پر سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔
تحریک لّبیک نے دھمکی کہ اگر سعد رضوی 21 اکتوبر تک رہا نہ کیے گئے تو پھر دھرنا دیا جائے گا۔
سعد رضوی کی حراست کے خلاف بالآخر تحریک کے مشتعل کارکن 20 اکتوبر 2021 کو سڑکوں پر نکل آئے اور ملک کے بیشتر شہر ایک بار پھر حکومت اور تحریک کی اس 'پنجہ آزمائی' میں میدان کارزار بن گئے۔
اس بار لاہور کی ملتان روڈ سے شروع ہونے والی دو ہفتوں کی اس احتجاجی مہم میں چھ پولیس اہلکار ہلاک ہوئے درجنوں افراد زخمی ہوئے اور کروڑوں روپے کی املاک کو اور کروڑوں ڈالرز کے کاروبار کو نقصان ہوا۔ جبکہ لاہور میں منظم و مشتعل مطاہرین نے پولیس کے ضلعی افسر ایس پی سمیت 16 اہلکاروں کو یرغمال بنالیا۔
اس سوال پر کہ پولیس مشتعل مظاہرین پر قابو پانے کی بھرپور کوشش کرتی کیوں دکھائی نہیں دیتی ایک صوبے کے سابق آئی جی نے کہا کہ 'پولیس افسر حکومت کے حکم پر گولی چلائے مظاہرین کی ہلاکت ہو جائے تو انکوائری (تحقیات) بھگتے، نہ چلائے اور پولیس اہلکار شہید ہو جائیں تو انکوائری بھگتے! پھر کیا ہوتا ہے؟ حکومتِ وقت تو سیاسی مصلحت سے کام لے کر دوسرے دن یا دوسرے ہفتے مذاکرات بھی کر لیتی ہے معاہدہ بھی۔ اس بار بھی 6 پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ اور آپ نے کیا کیا؟ معاہدے و معافی کا وعدہ! شہید بھی پولیس ہوئی اور 4 نومبر کو تادیبی کارروائی کا سامنا بھی پولیس کو کرنا پڑا اور بطور سزا پورے پنجاب میں تبادلے بھی پولیس افسروں کے ہوئے۔'
اب جس معاہدے کے تحت سعد رضوی کو رہا کیا گیا ہے اس کو طے کرنے والی کمیٹی کے رکن اور پاکستان کی رویت ہلال کی سرکاری کمیٹی کے سابق سربراہ مفتی منیب نے 31 اکتوبر کو حکومت کی طرف سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں فریقین نے معاہدہ ہوجانے کا اعلان کیا لیکن اُس کی شرائط یا تفصیلات آج تک دونوں جانب سے ہی ظاہر نہیں کی گئیں۔
اور اب 18 نومبر کو پاکستانی کے وفاقی وزیر اطلاعات فوّاد چوہدری کا یہ موقف سامنے آیا کہ 'حکومت اور ریاست انتہا پسندی سے مکمل طور پر لڑنے کے لیے تیار نہیں۔ ٹی ایل پی (تحریک لّبیک پاکستان) کے کیس میں ریاست کو پیچھے ہٹنا پڑا۔'