حکومت کا تحریکِ لبیک سے معاہدے کا اعلان، ’تفصیلات سامنے آنے تک لانگ مارچ جاری رہے گا‘

کالعدم تحریک لبیک پاکستان اور وفاقی حکومت کے مابین تحریکِ لبیک کی لانگ مارچ کے حوالے سے بنائی گئی کمیٹی کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان معاہدہ طے پا چکا ہے تاہم معاہدے کی تفصیلات ابھی ظاہر نہیں کی گئیں۔

اتوار کی دوپہر مفتی منیب نے ایک پریس کانفرنس میں معاہدے کا اعلان کیا تاہم اس معاہدے کی تفصیلات و شرائط کے بارے میں آگاہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کی شرائط ’مناسب وقت پر سامنے آ جائیں گی۔‘

حکومت کی جانب سے تحریکِ لبیک کے ساتھ مذاکرات کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے اراکین وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، پارلیمانی وزیر علی محمد خان اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر بھی اس موقعے پر موجود تھے۔

دھرنے کے ختم ہونے کے حوالے سے مفتی منیب کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے اثرات جلد سب کے سامنے آجائیں گے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ قومی سلامتی کے اجلاس نے مذاکرات کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا اور اسی مینڈیٹ کو ذہن میں رکھتے ہوئے مذاکرات کیے گئے۔

مذاکرات ختم ہونے کے بعد فلاحی تنظیم سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے سربراہ مولانا بشیر احمد کو ایک سیل بند لفافے میں مبینہ طور پر معاہدے کی کاپی لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔

اطلاعات ہیں کہ مذاکراتی ٹیم معاہدے کی یہ کاپی لے کر وزیر آباد جا رہی ہے۔

دوسری طرف وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی علامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ تصادم ملک اور اس کے عوام کے مفاد میں نہیں تھا، اور یہ کہ تمام اختلافات کو پُرامن طریقے سے حل ہونا چاہیے۔

’دھرنے فوری طور پر ختم نہیں ہوگا‘

وزیر آباد میں ٹی ایل پی کے دھرنے میں موجود صحافی آصف بٹ کے مطابق دھرنے میں سپیکر پر اعلانات ہوئے ہیں کہ جب تک مرکزی قیادت کی طرف سے حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی تفصیلات نہیں بتائی جاتیں اور دھرنا ختم کرنے کا حکم جاری نہیں کیا جاتا، اس وقت تک لانگ مارچ ختم نہیں ہو گا۔

یاد رہے کہ کالعدم تحریکِ لبیک پاکستان لاہور سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جانب ایک لانگ مارچ کر رہی تھی، اور ان کے اہم مطالبات میں ملک سے فرانسیسی صدر کی ملک بدری اور تنظیم کے سربراہ سعد رضوی کی رہائی تھے۔ اتوار کی صبح تک کالعدم تحریک لبیک پاکستان کا قافلہ وزیر آباد میں موجود تھا۔ نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وزیرآباد میں موجود تحریک لبیک کے کارکنان کی تعداد کئی ہزار ہے۔

مفتی منیب نے بتایا کہ جو معاہدہ قرار پایا اس میں جماعت کے امیر حافظ سعد رضوی کی بھی تائید و حمایت حاصل ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ کسی کی فتح یا شکست نہیں ہے یہ انسانی جان کی حرمت کی فتح ہے۔

اس سے قبل تحریک لبیک کے ایک ترجمان امجد رضوی نے بتایا تھا کہ حکومت اور ان کی جماعت کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں حکومت نے ان کے مطالبات پر لچک دکھائی ہے جس میں فرانسیسی سفیر کا معاملہ بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اس کے علاوہ تحریک لبیک کی مجلس شوریٰ کے رکن پیر عنایت الحق شاہ کے مطابق مذاکرات میں حکومت کو تجویز دی گئی تھی کہ فرانسیسی سفیر کی بے دخلی کے بارے میں قومی اسمبلی کی جو کمیٹی بنائی ہے ان کے نام سامنے لائے جائیں اور یہ کمیٹی اس بارے میں جو بھی فیصلہ کرے گی وہ ان کی جماعت کو منظور ہوگا۔

امجد رضوی کے مطابق ان کی جماعت اور حکومتی نمائندوں کے درمیان مذاکرات راولپنڈی میں ہوئے تاہم انھوں نے اس مقام کا ذکر نہیں کیا جہاں پر یہ مذاکرات ہوئے ہیں۔

اس سے قبل کالعدم تنظیم نے اپنے پریس ریلیز میں بتایا کہ تحریکِ لبیک کے قائدین نے جماعت کے سربراہ سعد رضوی کی قیادت میں یہ ملاقات کی تاہم حکومتی وزیر نے اس کی تصدیق نہیں کی تھی۔

’پولیس اور ٹی ایل پی کارکنان دل کے قریب ہیں‘

وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی علامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ ٹی ایل پی کے کارکنان اور پولیس اہلکار دونوں پاکستانی ہونے کی حیثیت سے اُن کے دل کے قریب ہیں۔

خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وہ لاہور کے میو ہسپتال میں تحریکِ لبیک کے مظاہروں کے دوران زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان علما کونسل کی جانب سے تحریکِ لبیک کے معاملے کو مذاکرات کے ذریعے مستقل بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کیا فیصلہ ہوا تھا؟

جمعے کے روز پاکستان کی قومی سلامتی کی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ فرانسیسی سفیر کی بے دخلی کے معاہدے پر عملدرآمد سمیت متعدد مطالبات کی تکمیل کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے والی کالعدم مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان سے آئین و قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے مذاکرات کیے جائیں گے اور قانون کی عملداری میں خلل ڈالنے والوں کو مزید کوئی رعایت نہیں ملے گی۔

پنجاب کی صوبائی حکومت کی درخواست پر رینجرز کو دو ماہ کے لیے صوبے میں تعینات کیا گیا تھا اور انھیں انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ پانچ کے تحت پولیسنگ کے اختیارات بھی دیے گئے تھے۔

سڑکوں پر رکاوٹیں اور راستے بند

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق کالعدم جماعت تحریک لبیک پاکستان کے لانگ مارچ کو اسلام آباد کی طرف آنے سے روکنے کے لیے جتنے حفاظتی اقدامات پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی طرف سے کیے گئے تھے اتنے اس جماعت کے ماضی میں کیے گئے دھرنوں کے دوران نظر نہیں آئے۔

کارکنوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے دریائے جہلم کے پل پر ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے پل کی اطراف لگی ہوئی دیواروں کو متعدد جگہوں سے توڑ کر وہاں کنٹینرز کھڑے کیے تھے۔ نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جو کنٹینرز خالی تھے ان میں نہ صرف مٹی بھری گئی بلکہ ان کے اردگرد لوہے کے سریے لگا کر انھیں پل کے سریوں کے ساتھ ویلڈ کیا گیا تاکہ انھیں اپنی جگہ سے آسانی سے ہٹایا نہ جا سکے۔

اسلام آباد اور لاہور کے درمیان جی ٹی روڈ پر سب سے بڑا پل دریائے جہلم کا پل ہے جس کے دونوں اطراف یہی عمل دہرایا گیا۔ اس کے علاوہ پل کے اوپر ہر 20 فٹ کے فاصلے پر بلاک رکھ کر ان کنٹینرز کو اس میں فکس کر کے اس پر پلستر بھی کیا گیا۔ مندرہ سے جہلم تک متعدد پلوں کی دیواروں کو توڑ کر وہاں پر کنٹینرز لگائے گئے تھے۔

بعض مقامات پر لانگ مارچ کے شرکا کو روکنے کے لیے نہ صرف سڑکوں کو توڑ کر وہاں 15 سے 20 فٹ تک گہری خندقیں کھودی گئی ہیں۔ یہ خندقیں لاہور سے اسلام آباد کی طرف آتے ہوئے دریائے چناب کے پل سے پہلے وزیرآباد بائی پاس کے قریب کھودی گئیں۔

وفاقی انتظامیہ کے مطابق اسلام آباد و راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد چوک کو چاروں جانب کنٹینرز لگا پر مکمل طور پر بند کر دیا گیا جبکہ راولپنڈی کی اہم شاہراہ مری روڈ پر بھی کنٹینرز لگا دیے گئے تھے۔