پاکستانی پارلیمان کا مشترکہ اجلاس: انتخابی اصلاحات کا بل منظور، اپوزیشن کا الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے متنازع قانون کو عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

،تصویر کا ذریعہAFP
اسلام آباد میں پاکستان کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کے اعتراضات اور واک آؤٹ کے باوجود انتخابات میں رائے شماری کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے استعمال کا ترمیمی بل منظور کر لیا گیا ہے۔
اس بل کے تحت 2017 کے الیکشن ایکٹ میں دو ترامیم تجویز کی گئی ہیں جو کہ ووٹنگ کے لیے الیکٹرانک مشینوں کے استعمال اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے ووٹنگ کا حق دینے سے متعلق ہیں۔
اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ پاکستان میں آئندہ عام انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے ہوں گے جبکہ 90 لاکھ اوورسیز (بیرون ملک مقیم) پاکستانیوں کو بذریعہ انٹرنیٹ ووٹ ڈالنے کا حق ملے گا۔
یہ بل پیش کرنے کی تحریک کے حق میں 221 ارکانِ اسمبلی نے ووٹ دیا جبکہ اس کی مخالفت میں 203 ووٹ آئے جس کے بعد بل کی شق وار منظوری دی گئی۔
اس بل کی منظوری کے بعد اپوزیشن کے ارکانِ اسمبلی ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ قائدِ حزب اختلاف شہباز شریف نے اسے 'پارلیمان کی تاریخ کا سیاہ دن' قرار دیا 'جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے' جبکہ پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو نے قوانین کی منظوری کو سپریم کورٹ سمیت ہر فورم پر چیلنج کرنے کی بات کی ہے۔
مشترکہ اجلاس کے دوران ایک قانونی تنازع یہ بھی کھڑا ہوا کہ حکومتی بل پاس کرانے کے لیے ایوان میں اس وقت موجود اراکین کی اکثریت ہی درکار ہے یا پھر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ممبران کی تعداد ملا کر اکثریت درکار ہو گی۔
مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان کا کہنا تھا کہ اس وقت ایوان میں جتنے لوگ موجود ہیں، ان کے ووٹوں سے ہی فیصلہ ہو جائے گا جب کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے رولز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا مشترکہ اجلاس میں ترمیم کی منظوری کے لیے دونوں ایوانوں میں اکثریت درکار ہے اور اگر حکومت کے پاس 222 ووٹ نہ ہوں تو قانون منظور نہیں ہو سکتا۔
اس بات پر سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ اس معاملے میں آئین کو دیکھا جاتا ہے نہ کہ رولز کو اور انہوں نے قانون سازی کے معاملے پر گنتی جاری رکھنے کا حکم دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کا احوال
پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے ایجنڈے کے مطابق اس اجلاس میں دو درجن سے زیادہ بل منظوری کے لیے پیش کیے گئے جن میں الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے علاوہ کلبھوشن یادیو اور عالمی عدالت انصاف سے متعلق بل، اینٹی ریپ بل 2021 اور سٹیٹ بینک آف پاکستان بینکنگ سروسز کارپورشن ترمیمی بل بھی شامل ہیں۔
مشترکہ اجلاس نے عالمی عدالت انصاف (جائزہ اور نظرثانی) بل 2021 بھی منظور کیا۔ یہ بل وزیر قانون فروغ نسیم نے پیش کیا جس میں مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن کے معاملے میں جائزے اور نظرثانی کا حق دیا گیا ہے تاکہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کو قانونی حیثیت دی جائے۔
خیال رہے کہ مارچ 2016 میں کلبھوشن کو بلوچستان سے پاکستان میں مبینہ طور پر دہشت گردی پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ عالمی عدالت نے پاکستان کو حکم دیا تھا کہ وہ ملزم کو قونصلر تک رسائی دے اور ان کی سزایے موت پر نظرِ ثانی کرے۔
مگر اجلاس میں ان مجوزہ بلوں میں سب زیادہ متنازع انتخابی اصلاحات کا معاملہ تھا جس پر حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان ایک واضح خلیج نظر آئی۔
قائدِ حزب اختلاف شہباز شریف نے اس اجلاس سے خطاب میں مشترکہ اجلاس کو موخر کر کے انتخابی اصلاحات پر مکمل مشاورت کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر حکومت الیکٹرانک ووٹنگ کا قانون منظور کروا لیتی ہے تو وہ آج سے ہی آئندہ الیکشن کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPPP
مشترکہ اجلاس کا آغاز بدھ کو ایک گھنٹے کی تاخیر سے ہوا تو سپیکر قومی اسمبلی نے بابر اعوان کو آئٹم ٹو یعنی الیکشن ترمیمی بل کے تحت الیکٹرانک ووٹنگ کا بل منظوری کے لیے پیش کرنے کی دعوت دی تو بابر اعوان نے جواب دیا کہ اپوزیشن اس معاملے پر آپ سے بات کرنا چاہتی ہے اس لیے اسے فی الحال موخر کر دیا جائے۔
اس کے بعد اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ پارلیمان کی روایات کی دھجیاں اڑا کر قانون بلڈوز کروانا غلط بات ہے۔ ’حکومت کا مشاورت کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ گزشتہ اجلاس کو موخر کرنے کا مقصد ووٹ پورے کرنا اور اتحادی پارٹیوں کو منانے کے لیے وقت حاصل کرنا تھا۔‘ شہباز شریف نے کہا کہ وہ اپوزیشن اراکین کو داد دیتے ہیں کہ وہ حکومتی دباؤ میں نہیں آئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’سوچ بہت محدود ہے کہ بلز کو بلڈوز کیا جائے لیکن انھیں عوام سے ووٹ ملنا مشکل ہے اسی لیے مشین کے ذریعے کسی طریقے سے سلیکٹڈ حکومت کو طول دینا چاہتے ہیں۔‘
انھوں نے ای وی ایم کو ’ایول اینڈ وشیئس مشین‘ قرار دے دیا اور کہا کہ ’حکومت کی نیت میں فتور ہے اس لیے کالے قوانین پاس کرانا چاہتے ہیں۔ اس کا کیا مقصد ہے؟ کچھ ایسا ہو جائے کہ عوام کے پاس نا جانا پڑے اور ای وی ایم ان کا مقصد پورا کر دے۔‘
شہباز شریف نے کہا کہ جو ادارہ شفاف الیکشن کرانے کا ذمہ دار ہے ان کے اعتراضات کے باوجود حکومت الیکشن قوانین میں تبدیلی کرنا چاہتی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
قائدِ حزبِ اختلاف نے سپیکر اسمبلی سے کہا کہ وہ اس ایوان کے نگران ہیں اور اگر انھوں نے ان بلز کو بلڈوز ہونے دیا تو تاریخ اور عوام انھیں معاف نہیں کرے گی۔ اس پر اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ’میں کوئی کام آئین اور قوانین کے خلاف نہیں کروں گا۔‘
شہباز شریف نے اپنی تقریر کے اختتام پر حکومتی بینچوں میں موجود ’باضمیر‘ اراکین سے درخواست کی کہ وہ ان کا ساتھ دیں اور اس قانون کو دفن کر دیں۔
’کالا قانون نہیں لانا چاہتے بلکہ ماضی کی کالک دھونا چاہتے ہیں‘
وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قائد حزب اختلاف کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’آج ایسی تاریخی قانون سازی ہو گی جو ماضی کی غلطیاں دور کر کہ مستقبل میں شفاف الیکشن کی بنیاد رکھے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ حکومت ’کوئی کالا قانون نہیں لانا چاہتی بلکہ ماضی کی کالک دھونا چاہتی ہے‘۔
وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے عجلت میں یہ اجلاس اپوزیشن پر مسلط نہیں کیا۔ ’گیارہ تاریخ کو اس اجلاس کی تاریخ رکھی گئی جسے موخر کیا گیا۔ صرف اس لیے کہ ہمارے چند ساتھیوں کے سوالات تھے جنھیں دور کرنے کے لیے اجلاس کو موخر کیا گیا اور ان کو قائل کرنے کے بعد دوبارہ اجلاس بلایا گیا۔
خیال رہے کہ حکومت نے اس سے قبل اپنے اتحادیوں، بالخصوص مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے انتخابی اصلاحات کے بل پر تحفظات کے بعد گذشتہ ہفتے طلب کیا گیا پارلیمان کا مشترکہ اجلاس ملتوی کر دیا تھا۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ای وی ایم ایک ’ایول وشیئس مشین نہیں بلکہ یہ مشین ان ایول ڈیزائنز کو دفن کر دے گی جو آج تک الیکشن کو متنازع بناتی رہے ہیں‘۔
’آپ کی کوشش ہے کہ الیکشن کمیشن کے اختیارات چھین کر نادرا کو دے دیے جائیں‘
شاہ محمود قریشی کے جواب کے بعد سپیکر نے جب چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کو تقریر کی دعوت دی تو انھوں نے سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’کرنا آپ نے وہی ہے جو آپ کرنا چاہتے ہیں لیکن اس ایوان سے جھوٹ نہ کہا جائے۔‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ ن لیگ نے اپنے دور میں الیکشن پر ایسی قانون سازی کی تھی جس پر اس وقت کی تمام اپوزیشن جماعتیں بشمول تحریک انصاف بھی متفق تھیں۔
’اگر آپ ہمارے ساتھ مل کر قانون سازی کرتے تو اگلے الیکشن متنازع نہیں ہوتے اور یہ وزیر اعظم عمران خان کی کامیابی ہوتی لیکن جب آپ الیکشن کمیشن اور اپوزیشن کے اعتراضات کے باوجود ووٹنگ مشین کا قانون پاس کروانے کی کوشش کریں گے تو ہم آج سے اگلے الیکشن کو نہ ماننے کا اعلان کرتے ہیں۔‘
بلاول نے کہا کہ ’ہم الیکشن کمیشن کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور جب تک ان کے اعتراضات رہیں گے ہمارے بھی اعتراضات رہیں گے۔ آپ کی کوشش ہے کہ الیکشن کمیشن کے اختیارات چھین کر نادرا کو دے دیے جائیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ حکومت یکطرفہ، زبردستی، اپنے طریقے کی قانون سازی کرنا چاہتی ہے اور ’اگر حکومت نے یہ قانون پاس کر بھی لیا تو ہم عدالت جائیں گے۔ ہم نے آئین بنایا ہے اور ہم اس آئین کی پامالی کو عدالت میں چیلنج بھی کریں گے اور شکست بھی دیں گے۔‘
بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ووٹنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’ہم بھی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق اور نمائندگی کا حق دینا چاہتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں جیسے آزاد کشمیر میں نمائندے بیرون ملک کشمیریوں کو نمائندگی دیتے ہیں ہم بھی ویسا ہی طریقہ اپنا لیں۔۔۔ایسے نہیں ہو سکتا کہ ووٹ پیرس میں ڈلے اور نتیجہ ملتان کا بدل جائے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اپوزیشن اس ایوان کو استعمال کر کے سٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے تحت لے جانے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’سٹیٹ بینک کو پارلیمان اور عدالت کو جواب دہ ہونا چاہیے اور آپ کی قانون سازی کی مطابق سٹیٹ بینک نہ تو ایوان کو جواب دہ ہو گا نہ ہی عدالت کو بلکہ ایوان سے بالاتر ہو گا۔ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے کہ آپ پارلیمان کے ہاتھ باندھ دیں۔ ہم اس کو بھی عدالت میں چیلنج کریں گے‘۔
یہ بھی پڑھیے
خیال رہے کہ مجوزہ بل میں دی گئی تجاویز کے مطابق گورنر سٹیٹ بینک کو صرف کوئی عدالت سنگین مس کنڈکٹ کی صورت میں ہٹا سکے گی اور سٹیٹ بینک کے گورنر، ڈپٹی گورنرز، بورڈ آف ڈائریکٹرز کے خلاف کوئی حکومتی ادارہ سرکاری ذمہ داریوں کے سلسلے میں کسی قسم کی تحقیقات صرف تبھی کر سکے گا جب سٹیٹ بینک کا بورڈ خود اس کی منظوری دے۔
اس ترمیم سے خیال یہ کیا جا رہا ہے کہ سٹیٹ بینک کا گورنر پاکستان کے کسی بھی ادارے کو جوابدہ نہیں ہو سکے گا۔ مجوزہ قانون کے تحت سٹیٹ بینک کے گورنر سمیت متعدد اعلیٰ حکام کی مدتِ ملازمت میں بھی تبدیلی کی جا رہی ہے۔
اسی طرح مانیٹری اینڈ فسکل کوارڈینیشن بورڈ کو ختم کر کے صرف سٹیٹ بینک کے گورنر اور ملک کے وزیرِ خزانہ کے درمیان مشاورت کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس سے حکومت کے پاس سٹیٹ بینک پر اثرانداز ہونے کے طریقے کم ہو جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
حال ہی میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ماہر معیشت ڈاکٹر قیصر بنگالی نے ان ترامیم کو منفی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ خود مختاری کے نام پر ملکی معیشت کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت سٹیٹ بینک کے قانون میں ترامیم کر کے اسے خود مختار بنا کر معیشت کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ قیصر بنگالی کا کہنا تھا کہ ان ترامیم کے بعد حکومت کا کردار ختم ہو جائے گا اور سٹیٹ بینک بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو قرض ادا کرے گا۔
انھوں نے کہا کہ قانون میں ترمیم کے مطابق جب سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر میں کمی ہو گی تو حکومت کو اسے ہر صورت میں پیسے ادا کرنا پڑیں گے جس کے لیے اسے غیر ملکی قرضہ حاصل کرنا پڑے گا یعنی قرض کو ادا کرنے کے لیے مزید نیا قرض لینا پڑے گا۔
مشترکہ اجلاس میں شرکت کے لیے وزیراعظم عمران خان اور ان کی جماعت کے اراکینِ اسمبلی کے علاوہ حکومت کی اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن کی جماعتوں کے رہنما اور ارکان پارلیمنٹ میں موجود تھے۔
پارلیمان پہنچنے پر میڈیا کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’کھلاڑی جب بھی میدان میں اترتا ہے تو وہ ہر صورتحال کے لیے تیار ہوتا ہے۔‘
مگر قانون کی منظوری کے بعد انھوں نے مشترکہ اجلاس سے خطاب نہیں کیا تھا۔
اپوزیشن کے الزامات کے جواب میں فواد چوہدری نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ حکومت نے اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی۔۔۔ اپوزیشن کو آج پارلیمنٹ میں اہم شکست ہوئی جو انھیں طویل عرصے تک یاد رہے گی۔‘
’حزب اختلاف کے منفی رویے کی وجہ سے قانون سازی کے لیے مشترکہ اجلاس بلایا گیا۔۔۔ آئندہ الیکشن میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں استعمال ہوں گی۔‘











