فواد چوہدری، اعظم سواتی شوکاز نوٹس کیس کی سماعت: الیکشن کمیشن کی وزیر اطلاعات کو تحریری معافی نامہ جمع کروانے کی ہدایت

عدالت

،تصویر کا ذریعہEPA

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) سے معذرت کرتے ہوئے استدعا کی ہے کہ چونکہ وہ کاغذی کارروائی میں نہیں پڑنا چاہتے اس لیے ای سی پی کی جانب سے انھیں جاری کردہ نوٹس واپس لیا جائے۔

یاد رہے کہ دو ماہ قبل وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کو اپوزیشن کا 'ترجمان' اور 'آلہ کار' قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ 'چیف الیکشن کمشنر اگر سیاست کرنا چاہتے ہیں تو میں انھیں دعوت دیتا ہوں وہ عہدہ چھوڑیں اور الیکشن لڑیں۔'

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے فواد چوہدری کی جانب سے الیکشن کمیشن پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ان سے اس ضمن میں ثبوت مانگنے کا فیصلہ کیا تھا اور انھیں شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔

منگل کے روز اس کیس کی ای سی پی میں ہونے والی سماعت کے موقع پر فواد چوہدری نے معذرت کر لی جس پر الیکشن کمیشن نے انھیں اپنی معذرت تحریری طور پر پیش کرنے کا حکم دیا۔

الیکشن کمیشن نے انھیں تحریری معافی نامہ جمع کروانے کا حکم دیا جس پر فواد چوہدری نے کہا کہ وہ معافی نامہ جمع کروا دیں گے۔

الیکشن کمیشن

سماعت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا وہ خود بھی ایک وکیل ہیں اور حکومت کے ترجمان بھی۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے کسی کو گالی نہیں دی۔

الیکشن کمیشن کا دو رکنی بنچ نثار درانی کی سربراہی میں فواد چوہدری اور وفاقی وزیر برائے ریلوے اعظم سواتی کی جانب الیکشن کمیشن کے خلاف سنگین الزامات کیس کی سماعت کررہا تھا۔

ادھر دوسری جانب وفاقی وزیر اعظم سواتی سماعت میں خود تو پیش نہیں ہوئے تاہم ان کے وکیل نے بینچ کو بتایا کہ اعظم سواتی سینیٹ میں ہیں اس لیے الیکشن کمیشن میں پیش نہیں ہو سکتے۔

الیکشن کمیشن نے سنگین الزامات کیس کی سماعت تین دسمبر تک ملتوی کر دی ہے۔

وزرا نے الیکشن کمیشن پر کیا الزامات لگائے تھے؟

ای سی پی

الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت کے درمیان اختلاف کی سب سے بڑی وجہ آئندہ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے استعمال کا معاملہ ہے۔

وفاقی حکومت الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کے حق میں ہے اور اس کے لیے حکومت نے بجٹ میں رقم بھی مختص کر رکھی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جبکہ الیکشن کمیشن نے عام انتخابات میں اس ووٹنگ مشین کے استعمال پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ای وی ایم کے استعمال سے بھی الیکشن شفاف ہونے کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی کیونکہ اس مشین کے سافٹ وئیر میں کسی بھی وقت تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔

الیکشن کمیشن نے اس ضمن میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے بارے میں 37 اعتراضات پر مبنی نوٹ سینیٹ میں پارلیمانی امور کی قائمہ کمیٹی کو بھجوایا تھا۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے ریلوے اعظم سواتی نے الیکشن کمیشن پر پیسے لینے اور غیر شفاف انتخابات کروانے کے الزامات بھی لگائے تھے۔ وفاقی وزیر نے یہاں تک کہا تھا کہ ایسے ادارے کو آگ لگا دینی چاہیے۔

ای سی پی ذرائع کے مطابق مذکورہ وفاقی وزیر نے ایوان صدر میں ہونے والی ایک تقریب میں بھی الیکشن کمیشن کے حکام کی موجودگی میں ای سی پی پر اسی طرح کے سنگین الزامات لگائے تھے۔

ان واقعات کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ جن افراد نے اس ادارے پر الزامات عائد کیے ہیں وہ ثبوت پیش کریں۔