تحریک لبیک کا نام کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا گیا، ’معاہدے پر 50 فیصد عملدرآمد‘ کے بعد وزیرآباد میں جاری دھرنا ختم

،تصویر کا ذریعہTLP
حکومتِ پاکستان کی جانب سے مذہبی و سیاسی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان کا نام کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکالے جانے کے بعد تنظیم نے وزیرآباد میں جاری دھرنا ختم کر کے واپس لاہور کا رخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان کی وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد وزارت داخلہ نے اتوار کی شب تحریکِ لبیک پاکستان کا نام کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پیر کے روز دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ تنظیم کی چودہ رکنی مجلس شوریٰ کے ارکان نے متفقہ فیصلے کے بعد کیا جبکہ دھرنا ختم کرنے کا اعلان انجینیئر حفیظ اللہ علوی کی قیادت میں تین رکنی کمیٹی کے ارکان نے دھرنے کے مقام پر جا کر کیا۔
مرکزی شوریٰ کے ارکان نے وزیرآباد میں دھرنے پر بیٹھے کارکنوں سے کہا کہ ’ تحریک لبیک 50 فیصد معاہدہ پورا ہونے پر وزیر آباد دھرنا واپس مسجد رحمت اللعالمین منتقل کر رہی ہے۔‘
دھرنے کے خاتمے کے اعلان کے بعد وہاں موجود کارکنوں نے سامان سمیٹنا شروع کر دیا ہے۔خفیہ اداروں کی رپورٹس کی روشنی میں اس وقت تین ہزار کے لگ بھگ افراد اس دھرنے میں موجود ہیں۔
شوری کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’تحریک کے نام سے کالعدم ہٹ چکا، فورتھ شیڈول ختم اور فرانسیسی سفیر کی بےدخلی کے لیے کمیٹی کے قیام پر کام شروع ہو چکا ہے۔‘
تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکالنے سے متعلق حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ اس اقدام سے جماعت کو قومی دھارے میں لانے میں مدد ملے گی جبکہ اس جماعت کا کہنا ہے کہ حکومت کا تحریک لبیک کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کا اقدام اپنی جگہ لیکن جب تک جماعت کے کارکنوں کا نام فورتھ شیڈول سے عملی طور پر نہیں نکالے جاتے اور ان کے بینک اکاؤنٹس بحال نہیں کیے جاتے اس وقت تک ان کے تحفظات دور نہیں ہوں گے۔
تحریکِ لبیک غیر کالعدم
تحریکِ لبیک کو رواں برس 15 اپریل کو حکومتِ پنجاب کی سفارش پر کالعدم قرار دیا گیا تھا جس کے خلاف تنظیم کی جانب سے 29 اپریل کو وزارتِ داخلہ سے رجوع کیا گیا تھا تاہم وزارت کی جانب سے قائم کی گئی جائزہ کمیٹی اور پھر وفاقی کابینہ نے اس فیصلے کو جائز قرار دیا تھا۔
تاہم سنیچر کو وفاقی کابینہ کو بھیجی جانے والی سمری میں کہا گیا تھا کہ تحریکِ لبیک کو غیر کالعدم قرار دینے کا فیصلہ وسیع تر قومی مفاد اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے کہ مستقبل میں ایسے (تحریکِ لبیک کے احتجاج) واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔
حکومت کی طرف سے تحریک لبیک کو کالعدم جماعتوں کی فہرست سے نکالنے سے متعلق جو نوٹیفکیشن جاری کیا گیا اس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اس جماعت نے ملکی آئین اور قانون کی پاسداری کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں اس طرح کے احتجاجی مظاہرے نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے اس لیے پنجاب حکومت کی سفارش پر اس تنظیم کا نام کالعدم جماعتوں کی فہرست سے نکلا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہInterior Ministry
خیال رہے کہ وفاقی حکومت کی طرف سے تحریک لبیک کا نام کالعدم جماعتوں کی فہرست سے نکالنے کے حوالے سے ایک نوٹیفکیشن جاری تو کر دیا ہے تاہم دہشت گردی سے نمٹنے کے قومی ادارے یعنی نیکٹا کی ویب سائٹ پر ابھی تک تحریک لبیک پاکستان کا ابھی تک کالعدم جماعتوں کی فہرست میں موجود ہے اور کالعدم جماعتوں میں یہ جماعت 79ویں نمبر پر موجود ہے۔
تحریکِ لبیک کو کالعدم فہرست سے نکالنے میں ’جلدبازی‘
دہشت گردی سے نمٹنے کے قومی ادارے میں تعینات ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بی بی سی کو تبایا کہ ایسی کوئی بھی جماعت جو کہ پرتشدد ہو اور اس کا نام کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل ہو تو اس کو نکالنے کے لیے ایک طریقہ کار موجود ہے۔
انھوں نے کہا کہ جن علاقوں میں کالعدم جماعت یا تنظیم متحرک ہو تو ان علاقوں میں موجود پولیس ، انٹیلیجنس بیورو اور فوج کے خفیہ اداروں کے اہلکار اس جماعت یا تنظیم کے متحرک کارکنوں کے حوالے سے الگ الگ رپورٹس متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو بجھواتے ہیں جس کے بعد متعلقہ شہر کا ڈپٹی کمشنر ان رپورٹس کی روشنی میں اپنی رائے قائم کرنے کے بعد ہوم ڈیپارٹمنٹ کو رپورٹ بجھواتے ہیں اور اس رپورٹ کے ساتھ سویلین اور فوج کے خفیہ اداروں کی رپورٹس بھی شامل ہوتی ہیں۔
پولیس افسر جو کہ خود کالعدم تنظیوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں میں شامل رہے ہیں، کا کہنا تھا کہ خفیہ اداروں کی طرف سے کسی بھی کالعدم جماعت کے کارکنوں کے بارے میں رپورٹ عمومی نوعیت کی نہیں ہوتی بلکہ ایک ایک کارکن کی گزشتہ تین سے چار ماہ کے دوران حرکات وسکنات کا جائزہ لے کر رپورٹ تیار کی جاتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہوم ڈیپارٹمنٹ کو رپورٹس شہر کے ڈپٹی کمشنر بھجواتے ہیں اور اگر کسی تنظیم کا نام کالعدم جماعتوں کی فہرست سے نکالنا ہو تو اس بارے میں جو رپورٹ ہوم ڈیپارٹمنٹ کو بھجوائی جاتی ہے اس کا تجزیہ کرنے کے لیے یہ رپورٹ ٹیکٹا کو بھی بھجوائی جاتی ہے جس کا تجزیہ کرنے کے بعد کسی جماعت کا نام کالعدم جماعتوں کی فہرست سے نکالنےیا برقرار رکھنے کے بارے میں وفاقی حکومت کو رائے دی جاتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر اس سارے عمل میں تیز رفتاری سے بھی کام کیا جائے تو کم از کم دو سے تین ماہ درکار ہوتے ہیں۔ پولیس افسر کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک کے معاملے میں ایسا کچھ نہیں کیا گیا اور اس جماعت کو کالعدم جماعتوں کی فہرست سے نکالنے کے بارے میں اتنا کچھ اتنی جلد بازی میں کیا گیا ہے کہ خدشہ ہے کہ اس کا نقصان ملک کو ہو گا۔
یہ بھی پڑھیے
سعد رضوی کی گرفتاری کا پس منظر
وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ ہفتے تحریک لبیک کے ساتھ کیے گئے خفیہ معاہدے کے تحت تحریک لبیک پاکستان پر پابندیاں ختم کرنے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے اس کے تحت تنظیم کو غیر کالعدم قرار دینے کے علاوہ اس کے رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی بھی شامل ہے۔
معاہدے کے بعد تنظیم کے کچھ رہنماؤں اور درجنوں کارکنوں کی رہائی عمل میں بھی آئی ہے تاہم تنظیم کے امیر سعد رضوی تاحال نظربند ہیں۔ تحریک لبیک کے سربراہ کو خدشہ نقص امن کے تحت نظر بند نہیں کیا گیا بلکہ ان کی نظربندی انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت عمل میں لائی گئی تھی۔
لاہور ہائی کورٹ نے سعد رضوی کی نظربندی کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا تاہم پنجاب حکومت نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا جس نے نظربندی کے خاتمے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے یہ معاملہ دوبارہ لاہور ہائی کورٹ کو بھیج دیا تھا اور ساتھ یہ حکم بھی جاری کیا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کا ڈویژن بینچ اس معاملے کو دیکھے۔
سعد رضوی پر الزام تھا کہ انھوں نے اپنی جماعت کے کارکنان کو حکومت کے خلاف مظاہروں پر اکسایا جس کے دوران پرتشدد کارروائیوں میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔
سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد تحریکِ لبیک کی جانب سے ملک کے متعدد شہروں میں پرتشدد احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جس کے دوران کم از کم چار پولیس اہلکار ہلاک جبکہ سینکڑوں اہلکار اور کارکن زخمی ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہARIF ALI
حکومت نے 16 نومبر 2020 کو اسلام آباد میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے کے ساتھ دھرنا دینے والی تحریک لبیک پاکستان کے سابق سربراہ خادم حسین رضوی سے چار نکاتی معاہدہ کیا تھا جس کے تحت حکومت کو دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمان سے قانون سازی کے بعد فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنا تھا۔
اس معاہدے پر عمل نہ ہونے کے بعد فروری 2021 میں مذکورہ جماعت اور حکومت کے درمیان ایک اور معاہدہ ہوا جس کے تحت حکومت کو 20 اپریل تک فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے وعدے پر عمل کرنے کی مہلت دی گئی تھی۔
سعد رضوی کون ہیں؟
خادم رضوی کی وفات کے بعد ان کی جماعت کی 18 رکنی شوریٰ نے گذشتہ برس ان کے بیٹے سعد رضوی کو تحریک لبیک کا نیا سربراہ مقرر کیا تھا جس کا اعلان جماعت کے مرکزی نائب امیر سید ظہیر الحسن شاہ نے جنازے کے موقع پر کیا تھا۔
لاہور میں خادم رضوی کے جنازے کے موقع پر ان کے بیٹے سعد رضوی نے خطاب میں اپنے والد کا مشن جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔
سعد رضوی لاہور میں اپنے والد کے مدرسہ جامعہ ابوذر غفاری میں درس نظامی کے طالبعلم ہیں۔ درس نظامی ایم اے کے برابر مدرسے کی تعلیم کو کہا جاتا ہے۔






