تحریک لبیک کا نام کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کا عمل مکمل

سعد رضوی

،تصویر کا ذریعہLMC Media

،تصویر کا کیپشنتحریکِ لبیک کو رواں برس 15 اپریل کو حکومتِ پنجاب کی سفارش پر کالعدم قرار دیا گیا تھا

پاکستان کی وزارتِ داخلہ کے مطابق تحریکِ لبیک پاکستان کا نام کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کے ارکان کو سمری بھیج دی گئی ہے۔

وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ سمری سنیچر کی شام بھیجی گئی ہے اور کابینہ کی منظوری کے بعد جماعت کا نام اس فہرست سے خارج کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا جائے گا۔

اہلکار کے مطابق وفاقی کابینہ سے اس معاملے کی منظوری کے لیے سرکولیشن سمری ارسال کی گئی ہے۔ سرکولیشن سمری میں عموماً اہم معاملات کی منظوری کے لیے کابینہ کے ارکان سے براہِ راست رابطہ کیا جاتا ہے اور 24 گھنٹے میں اگر ان کی جانب سے جواب موصول نہ ہو تو وہ سمری منظور تصور کی جاتی ہے۔

وزارتِ داخلہ کی جانب سے تحریک لبیک کا نام کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کی سمری وفاقی کابینہ کو بھیجنے کا فیصلہ صوبہ پنجاب کی کابینہ کی جانب سے سفارش کے بعد کیا گیا۔

تحریکِ لبیک کو رواں برس 15 اپریل کو حکومتِ پنجاب کی سفارش پر کالعدم قرار دیا گیا تھا جس کے خلاف تنظیم کی جانب سے 29 اپریل کو وزارتِ داخلہ سے رجوع کیا گیا تھا تاہم وزارت کی جانب سے قائم کی گئی جائزہ کمیٹی اور پھر وفاقی کابینہ نے اس فیصلے کو جائز قرار دیا تھا۔

تاہم اب وفاقی کابینہ کو بھیجی جانے والی سمری میں کہا گیا ہے کہ تحریکِ لبیک کو غیر کالعدم قرار دینے کا فیصلہ وسیع تر قومی مفاد اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے کہ مستقبل میں ایسے (تحریکِ لبیک کے احتجاج) واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔

وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ ہفتے تحریک لبیک کے ساتھ کیے گئے خفیہ معاہدے کے تحت تحریک لبیک پاکستان پر پابندیاں ختم کرنے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے اس کے تحت تنظیم کو غیر کالعدم قرار دینے کے علاوہ اس کے کارکنوں کی رہائی بھی شامل ہے۔

سنیچر کو لاہور میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ٹی ایل پی کے متعدد رہنماؤں کے خلاف درج مقدمات میں ان کی ضمانت بھی منظور کی ہے۔

عدالت نے ان رہنماؤں کو ایک، ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

اس سے قبل جمعے کو تحریکِ لبیک کے ایسے درجنوں کارکنوں کی رہائی عمل میں آئی تھی جن کے نام فورتھ شیڈول میں شامل تھے۔ اس کے علاوہ تحریک کے اہم رہنماؤں کو بھی رہا کر دیا گیا تھا۔

جمعرات کو تحریکِ لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی کی رہائی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست عدالت نے واپس لیے جانے کی بنیاد پر نمٹا دی تھی۔ سعد رضوی کو رواں برس اپریل میں حراست میں لیا گیا تھا اور وہ تاحال نظربند ہیں۔

لاہور

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جمعرات کو لاہور ہائی کورٹ میں سعد رضوی کے چچا کے وکیل برہان معظم نے بتایا کہ ان کی ’درخواست غیر مؤثر ہو چکی ہے۔‘

یاد رہے کہ اس سے قبل عدالت نے اس درخواست کے قابل سماعت ہونے کے بارے میں دلائل طلب کیے تھے تاہم سعد رضوی کے وکیل میاں پرویز نے یہ کہہ کر عدالت سے مہلت مانگی تھی کہ اس حوالے سے حکومت کے ساتھ معاملات طے ہو رہے ہیں۔

تاہم پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل احمد اویس کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ کے سامنے کالعدم جماعت تحریک لبیک کے سربراہ علامہ سعد حسین رضوی کے چچا کی طرف سے درخواست واپس لینے کے باوجود تحریک لبیک کے سربراہ رہا نہیں ہوں گے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ اس درخواست کے واپس لینے کے بعد دو ہفتے قبل سپریم کورٹ کا وہ فیصلہ حتمی تصور ہوگا جس میں عدالت نے علامہ سعد رضوی کی رہائی سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بینچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کو دوبارہ لاہور ہائی کورٹ کو بھیج دیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں عدالت نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن ڈبل ون ای اور ٹرپل ون ای کو قانون کے مطابق دیکھنے کا حکم دیا ہے۔

پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کے کسی بھی بینچ کے سامنے جب یہ معاملہ آئے گا تو عدالت عالیہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی سماعت کرے گا۔

ایک سوال کے جواب میں احمد اویس کا کہنا تھا کہ اگر ڈپٹی کمشنر چاہے بھی تو وہ علامہ سعد رضوی کی نظربندی کے احکامات واپس نہیں لے سکتے۔

انھوں نے کہا کہ اتنا بڑا فیصلہ ڈپٹی کمشنر اکیلے نہیں کرسکتا اور اس حوالے سے انھیں سپریم کورٹ کی ڈائریکشن کو دیکھنا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ تحریک لبیک کی قیادت کے ساتھ لاہور میں ہونے والے مذاکرات کے دوران صوبائی حکومت نے ان پر واضح کیا تھا کہ عدالتوں میں اس جماعت کی لیڈرشپ کے خلاف درج مقدمات کے حوالے سے حکومت اپنا وہی موقف اپنائے گی جو قانون کے مطابق ہوگا۔

پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ علامہ سعد رضوی کی نظربندی سے متعلق فیڈرل ریویو بورڈ کا اجلاس رواں ہفتے لاہور میں ہورہا ہے۔ سپریم کورٹ کے جج جسٹس مقبول باقر فیڈرل ریویو بورڈ کے سربراہ ہیں جبکہ لاہور ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کا ایک ایک جج اس بورڈ کے رکن ہیں۔

کراچی میں تحریک لبیک کا احتجاج

،تصویر کا ذریعہReuters

فیڈرل ریویو بورڈ کا گزشتہ اجلاس لاہور میں ٹی ایل پی کے ہنگاموں کی وجہ سے ملتوی کردیا گیا تھا۔

تحریکِ لبیک کے بڑے مطالبات میں سے ایک ان کے امیر سعد رضوی کی رہائی رہا ہے جو رواں برس اپریل سے حراست میں ہیں۔ تحریک لبیک کے سربراہ کو خدشہ نقص امن کے تحت نظر بند نہیں کیا گیا بلکہ ان کی نظربندی انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔

خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے سعد رضوی کی نظربندی کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا تاہم پنجاب حکومت نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا جس نے نظربندی کے خاتمے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے یہ معاملہ دوبارہ لاہور ہائی کورٹ کو بھیج دیا تھا اور ساتھ یہ حکم بھی جاری کیا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کا ڈویژن بینچ اس معاملے کو دیکھے۔

سعد رضوی کی گرفتاری کا پس منظر

خیال رہے کہ پیغمبرِ اسلام کے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر فرانسیسی سفیر کو 20 اپریل تک ملک بدر نہ کیے جانے کی صورت میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی دھمکی دینے والے تحریکِ لبیک کے امیر سعد رضوی کو اپریل کے وسط میں لاہور پولیس نے حراست میں لیا تھا اور وہ تاحال نظربند ہیں۔

سعد رضوی پر الزام تھا کہ انھوں نے اپنی جماعت کے کارکنان کو حکومت کے خلاف مظاہروں پر اکسایا جس کے دوران پرتشدد کارروائیوں میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔

سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد تحریکِ لبیک کی جانب سے ملک کے متعدد شہروں میں پرتشدد احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جس کے دوران کم از کم چار پولیس اہلکار ہلاک جبکہ سینکڑوں اہلکار اور کارکن زخمی ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

حکومت نے 16 نومبر 2020 کو اسلام آباد میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے کے ساتھ دھرنا دینے والی تحریک لبیک پاکستان کے سابق سربراہ خادم حسین رضوی سے چار نکاتی معاہدہ کیا تھا جس کے تحت حکومت کو دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمان سے قانون سازی کے بعد فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنا تھا۔

اس معاہدے پر عمل نہ ہونے کے بعد فروری 2021 میں مذکورہ جماعت اور حکومت کے درمیان ایک اور معاہدہ ہوا جس کے تحت حکومت کو 20 اپریل تک فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے وعدے پر عمل کرنے کی مہلت دی گئی تھی۔

سعد رضوی

،تصویر کا ذریعہARIF ALI

سعد رضوی کون ہیں؟

خادم رضوی کی وفات کے بعد ان کی جماعت کی 18 رکنی شوریٰ نے گذشتہ برس ان کے بیٹے سعد رضوی کو تحریک لبیک کا نیا سربراہ مقرر کیا تھا جس کا اعلان جماعت کے مرکزی نائب امیر سید ظہیر الحسن شاہ نے جنازے کے موقع پر کیا تھا۔

لاہور میں خادم رضوی کے جنازے کے موقع پر ان کے بیٹے سعد رضوی نے خطاب میں اپنے والد کا مشن جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔

سعد رضوی لاہور میں اپنے والد کے مدرسہ جامعہ ابوذر غفاری میں درس نظامی کے طالبعلم ہیں۔ درس نظامی ایم اے کے برابر مدرسے کی تعلیم کو کہا جاتا ہے۔

ان کے قریبی دوستوں کے مطابق سعد کا کالجز اور یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات سے گہرا رابطہ ہے۔

وہ شاعری سے خصوصی شغف رکھتے ہیں اور سب سے اہم یہ کہ وہ جدید دور میں سوشل میڈیا کی اہمیت سے بھی خوب واقف ہیں اور فیس بک اور ٹوئٹر پر اپنے ذاتی اکاؤنٹس چلاتے ہیں۔