آمنہ مفتی کا کالم: ’فیر ساڈے جیہا وی نہیں لبھنا‘

- مصنف, آمنہ مفتی
- عہدہ, مصنفہ و کالم نگار
ایک تحریک جو کالعدم تھی، اب شاید کالعدم نہ رہے کیونکہ ہمارے خیال میں وہ اب کالعدم نہیں رہی۔ کالعدم رہنے اور نہ رہنے کے درمیان دو خبریں نظر آتی ہیں جنھیں میں من و عن لکھ رہی ہوں۔
’ذرائع کے مطابق تحریک لبیک پر پابندی کے لیے وفاقی کابینہ سے منظوری سرکولیشن سمری کے ذریعے لی گئی ہے اور انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت تحریک لبیک پر پابندی عائد کرنے کی منظوری دی گئی۔‘
’ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ نے سمری انسداد دہشتگردی ایکٹ کے رول 11 بی کے تحت تیار کی، انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 کی شق 11 بی وفاقی حکومت کو کسی تنظیم کو کالعدم قرار دینے کا اختیار دیتی ہے۔‘
دوسری خبر
’سمری میں کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت نے تحریک لبیک کے نام سے کالعدم کا لفظ ہٹانے کی سفارش کی ہے۔‘
’سمری کے مطابق ٹی ایل پی نے آئندہ پرتشدد احتجاج نہ ہونے کی یقین دہانی کروائی ہے۔‘
پہلی خبر رواں سال اپریل کی اور دوسری ابھی اسی نومبر کی ہے۔ دونوں خبروں کا تجزیہ کیا جائے تو لگتا ہے دونوں خبروں کو لکھنے والا ایک ہی شخص ہے۔
ظاہر ہے سات آٹھ ماہ کے اس عرصے میں لکھنے والے تو تبدیل نہیں ہوتے ہاں خبر کا متن ضرور 360 ڈگری گھوم گیا۔ وہ سیانے جو وزیراعظم کے یو ٹرن پر ناک بھوں چڑھاتے تھے اب دم بخود بیٹھے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کو بیٹھے رہنا چاہیے۔ آخر ہم کب تک ایک کے بعد ایک تحریک کو کالعدم قرار دیتے رہیں گے؟ اس طرح تو جلد ہی بات پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ( ن) تک بھی پہنچ جائے گی۔
اب ان جماعتوں کو کالعدم کروانے سے بہتر ہے کہ اس رواج کو ہی ختم کر دیا جائے، کسی کو بھی کالعدم قرار نہ دیا جائے۔ تحریک لبیک کے بعد امید ہے دیگر کالعدم تحریکوں سے بھی معاہدے کر کے ان کو مرکزی دھارے میں لایا جائے گا۔ ہائے یہ بے چارہ مرکزی دھارا!
جینیاتی انجینیئرنگ کے بارے میں سنا تھا کہ اپنی مرضی کے جینز ڈال کے اپنی مرضی کی نوع تیار کی جاتی ہے۔ سیاست کے میدان میں بھی انجینیئرنگ کی اصطلاح نئی نہیں ہے۔
فطرت کے اپنے طور طریقے ہوتے ہیں لیکن انسان سدا کا ڈیڑھ ہوشیار ہے۔ فطرت سے زیادہ سیانا بنتا ہے۔ سیاست کی بھی ایک فطری حرکیات ہوتی ہیں۔
ہم نے ہمیشہ یہی دیکھا کہ بڑی سیاسی جماعتیں کسی نظریے پر کھڑی ہوتی ہیں۔ ان میں پہلی طاقت نظریے کی اور دوسری عوام کی ہوتی ہے۔
جب یہ جماعتیں قائم ہو جاتی ہیں تو فنڈ دینے والے اور کرسیوں کے لالچی بھی چلے آتے ہیں لیکن فطری سیاسی جماعت، نظریے پر قائم ہوتی ہے۔
ان جماعتوں کے علاوہ چھوٹی چھوٹی جماعتیں الگ سے بنتی رہتی ہیں۔ یہ جماعتیں عموماً ایسے نظریوں پر کھڑی ہوتی ہیں جو عوام کی کثیر تعداد کو متاثر نہیں کرتے۔
آمنہ مفتی کے دیگر کالم پڑھیے
ان جماعتوں کو گئے وقتوں میں پریشر گروپ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا تو بہت ہنسی آتی تھی کہ یہ بے چارے کاہے پہ اور کیسا رعب ڈال سکتے ہیں۔ عموماً پریشر گروپ انتخابات میں بھی حصہ نہیں لیتے۔
پھر ہوا یوں کہ پریشر گروپس کو سیاست میں اہم جماعتوں کے سامنے لایا گیا اور خدا کی قدرت کہ یہ انجینیئرنگ بالکل کامیاب رہی اور ایک ہائبرڈ جمہوریت بنی۔
اگر آپ کو باغبانی سے شغف ہو تو آپ نے دیکھا ہو گا کہ ہائبرڈ پودے ایک بار پھل دے کر ختم ہو جاتے ہیں۔ اگلی فصل حاصل کرنے کے لیے نئے بیج بونا پڑتے ہیں۔
ہائبرڈ پودے بانجھ ہوتے ہیں۔ ہائبرڈ نظام بھی بانجھ ہوتے ہیں۔ گو ہائبرڈ پودوں کی طرح فصل بڑی بھرپور ہوتی ہے اور ساری ایک جیسی، ایک سے قد کاٹھ ایک سی وضع قطع۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگلے موسم کے لیے نئے پودے لگانے ہوتے ہیں۔ کالعدم کی نرسریوں میں پنپنے والے یہ پودے یوں لگتا ہے کہ اگلے موسم میں پچھلے بانجھ ہائبرڈ نظام کی جگہ لیں گے ،گو ابھی کچھ وقت باقی ہے اور اس وقت تک یہ ہائبرڈ نظام خوب پھل پھول دے گا۔
ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ قدرت سے چھیڑ چھاڑ کے نتائج اچھے نہیں ہوتے۔ انسان بھی ایک جانور ہے۔ اس کے معاشرتی معاملات فطری رفتار سے چلتے رہیں تو بہتر ہو گا۔ سائنس کی زیادہ مداخلت سے سب کچھ بگڑ بھی سکتا ہے۔
مزید یہ کہ سائنس لڑانے کے لیے علم کا ہونا ضروری ہے۔ اناڑی لوگ بعض اوقات بڑے بھیانک تجربے کر بیٹھتے ہیں۔
’فرینکنسٹائن‘ نامی ناول میں ایک اناڑی ڈاکٹر شاید ہمارے آج کے ہائبرڈ پودوں کی طرح ہائبرڈ انسان بنانے چلا تھا۔
بن تو گیا مگر ایسا بھیانک کہ اس کا خالق ہی اس سے خائف تھا اور اب یہ تخلیق اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی تھی۔
بات یہ ہے کہ چھیڑ دو تو دور نکل جاتی ہے۔ کہاں فرینکنسٹائن اور کہاں کالعدم تحریکیں؟ لکھنے والے خبطی ہوتے ہیں دور کی کوڑی لانے کے چکر میں رہتے ہیں۔
حالانکہ بات سیدھی سی ہے کہ اب کے انتخابات میں عین ممکن ہے کہ باقی سب کے ساتھ کچھ کالعدم تحریکیں بھی شامل ہوں گی تب آپ کو تحریک انصاف کی حکومت یاد آئے گی اور خادم رضوی مرحوم کا فقرہ بھی یاد آئے گا،’پترو! فیر ساڈے جیہا وی نئیں لبھنا۔‘












