ناظم جوکھیو کیس: ملزم رکنِ سندھ اسمبلی جام اویس عدالت میں پیش، ریمانڈ میں توسیع

،تصویر کا ذریعہ@AsadSol13260604
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی کے علاقے ملیر میں نوجوان ناظم جوکھیو کے مبینہ قتل کے مقدمے میں نامزد رکنِ صوبائی اسمبلی سندھ جام اویس کے جسمانی ریمانڈ میں عدالت نے تین روز کی توسیع کر دی ہے۔
اس کے علاوہ عدالت نے پولیس سے آئندہ سماعت پر تفتیش اور دیگر دو مفرور ملزمان کی گرفتاری سے متعلق پیش رفت پر رپورٹ بھی طلب کی ہے۔
مقتول ناظم جوکھیو نے ملیر میمن گوٹھ میں غیر ملکیوں کو شکار سے روکنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی تھی جس کے بعد اُن کی تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی تھی۔
مقتول کے ورثا نے ناظم کے مبینہ قتل کے الزام میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکنِ سندھ اسمبلی جام اویس گہرام کو مقدمے میں نامزد کیا تھا۔
اس سے قبل جمعے کی صبح کراچی کی مقامی عدالت نے اس مقدمے کے ملزم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی جام اویس گہرام جوکھیو کو تین روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا۔
دریں اثنا اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر کی سربراہی میں آٹھ رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنا دی گئی ہے۔
ڈی آئی جی ایسٹ زون کے مطابق اس تحقیقاتی ٹیم کے قیام کا مقصد مقدمے کی منصفانہ اور شفاف تحقیقات ہیں۔
ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر کا کہنا ہے کہ مبینہ تشدد سے ہلاک ہونے والے نوجوان ناظم کے بھائی کے بیان کی روشنی میں تحقیقات کی جا رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی نے اس بارے میں رکن سندھ اسمبلی جام اویس اور جام کریم سے ٹیلیفون پر رابطے کی کوشش کی اور انھیں تحریری سوالات بھی بھیجے گئے لیکن ان کا کوئی جواب نہیں آیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہSocial Media
ناظم جوکھیو کی ہلاکت کیسے ہوئی؟
نوجوان ناظم جوکھیو کے لواحقین نے الزام عائد کیا تھا کہ ناظم نے چند غیر ملکی شکاریوں کو اپنے علاقے میں تلور کے شکار سے روکا تھا اور ان کی ویڈیو بنائی تھی جس کے بعد انھیں مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس سے وہ ہلاک ہو گئے۔
مبینہ تشدد سے ہلاک ہونے والے نوجوان ناظم الدین کے بھائی افضل احمد جوکھیو نے ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ سالار گوٹھ ضلع ملیر کے رہائشی ہیں اور گذشتہ روز کچھ غیر ملکی شہری تلور کے شکار کے سلسلے میں ان کے گاؤں آئے جس پر انھوں نے اور ان کے بھائی ناظم نے ان غیر ملکی شہریوں کو گاؤں میں شکار کرنے سے روکا اور ان کی ویڈیو بنائی جس کے بعد وہ غیر ملکی وہاں سے چلے گئے۔
درخواست گزار نے پولیس ایف آئی آر میں کہا ہے کہ رات کو گیارہ بجے انھیں اور ان کے بھائی ناظم کو پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی جام اویس عرف گہرام نے طلب کیا جب وہ وہاں پہنچے تو جام اویس نے اپنے لوگوں کے ساتھ مل کر ان کے بھائی پر ڈنڈوں تشدد کر کے اسے ہلاک کر دیا۔
ایف آئی آر میں ڈیوٹی پر موجود پولیس افسر یونس بٹ نے کہا کہ انھیں معراج نامی شخص نے ٹیلیفون پر اطلاع دی کہ جام گوٹھ میں جام ہاؤس کے باہر ایک تشدد زدہ لاش موجود ہے جسے چھیپا ایمبولینس کے ذریعے جناح ہسپتال منتقل کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہSindh Police
’جام اویس نے فیصلے کے لیے بلایا‘
واضح رہے کہ ایف آئی آر سے قبل میمن گوٹھ پولیس کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ میمن گوٹھ میں دو گروہوں میں تصادم ہوا ہے جس کے نتیجے میں ناظم جوکھیو نامی شخص ڈنڈے لگنے سے ہلاک ہو گیا ہے۔
جناح ہسپتال میں ناظم جوکھیو کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ اُن کے جسم پر مبینہ تشدد کے نشانات موجود پائے گئے جبکہ ابتدائی رپورٹ میں بھی اس کی تصدیق کی گئی تاہم کہا گیا کہ موت کی حتمی وجہ کا تعین کیمیائی تجزیاتی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
ناظم جوکھیو کے بھائی افضل نے صحافیوں کو بتایا کہ ’کارو جبل کے علاقے میں غیر ملکی شہری شکار کے لیے آتے ہیں۔ ناظم جوکھیو نے گذشتہ روز غیر ملکی شہری کی گاڑی کو روک کر ویڈیو بنائی تھی جس میں وہ غیر ملکی شہریوں کو مبینہ طور پر تلور کا غیر قانونی شکار کرنے سے منع کر رہے تھے اور سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو وائرل ہونے بعد جام گہرام نے ان سے بات کی اور کہا کہ تمہارے بھائی کو کیا مرچ لگی ہے میں نے کہا کہ غلطی ہوگئی ہے اس نے کہا کہ اس کو میرے پاس پیش کرو۔‘
افضل جوکھیو نے الزام عائد کیا ہے کہ رات کو جام اویس کے پرسنل سیکریٹری نے ان سے کہا کہ جام اویس نے بلایا ہے کہ آؤ فیصلہ کرو۔ ہم وہاں پہنچے تو جام اویس نے اپنے محافظوں سے میرے بھائی پر تشدد کیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جس پر میں نے کہا کہ سائیں آپ یہ کیا کر رہے ہیں ہم تمہارے ہیں آپ ہمارے ہیں، تلور کی اہمیت ہے یا انسان کی۔ اس نے رات کے تین بجے کہا کہ تمہارے ماموں اور تم صبح آنا فیصلہ کریں گے اور صبح کو جب ہم وہاں پہنچے تو ہمیں بتایا گیا کہ میرا بھائی مر چکا ہے اور ہمیں اس کی لاش بھی نہیں دی گئی۔‘
یہ بھی پڑھیے
ناظم جوکھیو کی ویڈیو میں کیا تھا؟
ناظم جوکھیو کی جانب سے بنائی جانے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ ایک گاڑی کے پاس موجود ہیں جس کی نمبر پلیٹ پر دبئی تحریر ہے اور ناظم کہہ رہے ہیں کہ ’یہ عرب لوگ ہیں یہ ہمارا راستہ بلاک کیے ہوئے ہیں اور دھمکیاں دے رہے ہیں جب میں نے ان سے پوچھا کہ یہاں کیا کر رہے ہو؟ تو اس نے ہمارے ساتھ بد معاشی کی اور پولیس کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔‘
اسی ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران کیپ پہنے ایک شخص گاڑی کی فرنٹ سیٹ سے اترتا ہے اور ہاتھ مار کر موبائل گرا دیتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ@SaifSamejo
اس ویڈیو کے بعد ناظم جوکھیو نے اپنے گھر میں ایک اور ویڈیو بیان ریکارڈ کیا جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ’شام چار بجے میں نے ایک لائیو ویڈیو چلائی جس میں عرب تھا یا ان کا کوئی آدمی تھا جو دھمکیاں دے رہا تھا اور مجھے سے موبائل بھی چھین لیا اور تشدد کے بعد اس نے موبائل واپس کر دیا۔‘
ناظم بتا رہے ہیں کہ انھوں نے پولیس مددگار کے نمبر 15 پر کال بھی کی لیکن پولیس نہیں آئی اور یہ لوگ فرار ہوگئے، اس کے بعد وہ تھانے پر درخواست دینے بھی گئے جس کے بعد سے انھیں فون پر دھمکی آمیز کالیں آ رہی ہیں اور کچھ لوگ بھی آئے ہیں کہ اس ویڈیو کو ڈیلیٹ کرو ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔
وہ ویڈیو کے آخر میں کہتے ہیں کہ اگر انھیں کچھ بھی ہوا تو اس کے ذمہ دار وہ ہی لوگ ہوں گے جو مجھے پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
یاد رہے کہ موسم سرما میں سائبرین پردیسی پرندوں کے شکار کے لیے خلیجی ممالک کے خاندان خصوصی اجازت نامے حاصل کرتے ہیں، اس شکار کے دوران اس سے قبل بھی متعدد بار ناخوشگوار واقعات پیش آچکے ہیں۔










