بلوچستان: ہرنائی اور مستونگ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں کم ازکم 15 افراد ہلاک

بلوچستان

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

بلوچستان کے دو مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں کم ازکم 15 افراد مارے گئے ہیں۔ سرکاری حکام کے مطابق مارے جانے والے افراد کا تعلق مختلف عسکریت پسند تنظیموں سے تھا جو فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے تاہم آزاد ذرائع سے تاحال ان افراد کی فائرنگ کے تبادلے میں ہلاکت اور کسی عسکریت پسند تنظیم سے تعلق کی تصدیق نہیں ہوئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سے چھ افراد ہرنائی جبکہ نو کوئٹہ سے متصل ضلع مستونگ میں مارے گئے ہیں۔

مستونگ میں مارے جانے والے نو افراد کے بارے میں یہ بتایا گیا کہ یہ لوگ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی)کی کارروائی میں مارے گئے ہیں۔

سی ٹی ڈی کی جانب سے میڈیا کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق اسپلنجی کے پہاڑی علاقے روشی میں بی ایل اے سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کے کیمپ کی موجودگی کی اطلاع تھی۔

’یہ کیمپ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں عسکریت پسندی کی کارروائیوں کے لیے لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ اس کیمپ میں دوسری تنظیموں کے عسکریت پسندوں کو بھی پناہ فراہم کی جاتی تھی۔‘

سی ٹی ڈی کے مطابق جب کارروائی کرنے والی ٹیم اس علاقے میں پہنچی تو کیمپ کو گھیرے میں لیکر وہاں موجود عسکریت پسندوں کو ہتھیار ڈالنے کے لیے کہا گیا مگرعسکریت پسندوں نے اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا جبکہ سی ٹی ڈی کی ٹیم نے احتیاطی تدابیر اختیار کی۔

سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ ’جب فائرنگ کا سلسلہ رک گیا تو وہاں نو عسکریت پسند ہلاک پائے گئے جن کا تعلق تین کالعدم عسکریت پسند تنظیموں بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ اور یونائیٹڈ بلوچ آرمی سے تھا، جن کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔‘

مارے جانے والے افراد کی لاشوں کو شناخت کے لیے سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے۔

ہسپتال کی پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض نے بتایا کہ مرنے والے تمام افراد کی موت گولیاں لگنے کی وجہ سے ہوئی اور زیادہ تر کو گولیاں سر میں لگی ہیں۔

پولیس سرجن کا کہنا تھا کہ تمام لاشیں قابل شناخت ہیں لیکن ان کے لواحقین میں سے تاحال کوئی بھی شناخت کے لیے نہیں آیا۔

سی ٹی ڈی کے مطابق کیمپ سے نو کلاشنکوف اور دیگر دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا جبکہ گروپ کے دیگر عسکریت پسندوں کی گرفتاری کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سی ٹی ڈی نے اس کارروائی کو بلوچستان کے لیے بہت بڑی کامیابی قرار دیا۔

دوسری کارروائی کوئٹہ کے مشرق میں واقع ضلع ہرنائی میں کی گئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایف سی نارتھ نے یہ کارروائی زمبرو بٹ کے علاقے میں خفیہ اداروں کی اطلاع پر کی جس میں سکیورٹی فورسز کی جوابی فائرنگ سے چھ عسکریت پسند موقع پر مارے گئے۔

رواں سال سی ٹی ڈی کی کارروائیوں میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں

رواں سال بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے جن میں 45 سے زائد افراد مارے گئے۔

بلوچستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

23 اکتوبر کو مستونگ اور ہرنائی میں دو کارروائیوں میں 15 افراد کی ہلاکت سے قبل زیادہ تر ہلاکتیں اگست کے مہینے میں ہوئی تھیں۔

رواں سال اگست کے مہینے میں کاﺅنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ کی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 23 افراد مارے گئے، جن کا تعلق کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیموں سے بتایا گیا تھا۔

اگست میں سی ٹی ڈی کی جانب سے میڈیا کو ان کارروائیوں کے بارے میں جو معلومات فراہم کی گئی تھیں ان کے مطابق یہ تمام افراد 10 اگست سے 30 اگست کے درمیان مارے گئے جو کہ سی ٹی ڈی کے قیام کے بعد 20 دن کے دوران ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد تھی۔

اگرچہ سی ٹی ڈی نے کہا تھا کہ مارے جانے والے عسکریت پسند تھے اور وہ مقابلوں میں مارے گئے لیکن لاپتہ افراد کے رشتہ داروں اور ان کی تنظیم نے بعض مارے جانے والے افراد کے حوالے سے سی ٹی ڈی کے اس دعوے کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان میں سے بعض ایسے لوگ تھے جن کو پہلے ہی جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔

ایران سے متصل ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ لورالائی میں سی ٹی ڈی نے جن سات افراد کو فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ان میں ان کا بھائی بھی شامل تھا جن کو سنہ 2018میں کراچی کے علاقے ملیر سے لاپتہ کیا گیا جبکہ ایک اور فرد کو زیرو پوائنٹ گوادر سے سنہ 2017 میں اٹھایا گیا تھا۔

بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے اگست اور اس سے قبل ہونے والے واقعات کے بارے میں بتایا کہ سی ٹی ڈی نے پانچ مختلف واقعات میں کالعدم تنظیموں کے 27 افرادکو مارنے کا دعویٰ کیا تھا جن میں سے 14 افراد کی شناخت ہوئی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ ان افراد کے رشتہ داروں نے تنظیم کو شکایت کی تھی کہ یہ 14 افراد پہلے سے لاپتہ تھے اور ان کو مبینہ طور پر جعلی مقابلوں میں مارا گیا۔

تاہم بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے ماضی کے واقعات میں لوگوں کی ماورائے آئین و قانون ہلاکتوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اگر کسی کو کوئی شکایت ہے تو ریاست، اس کے قوانین اور عدالتیں ہیں۔

’اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو وہ قانونی راستہ اختیار کر کے عدالتوں سے رجوع کرے۔‘

وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ ہمارے ملک کے سکیورٹی کے ادارے ذمہ دار ہیں اور وہ آئین اور قانون کے پابند ہیں۔