صادق آباد کا اندھڑ گینگ: رحیم یار خان میں باپ اور چار بیٹوں سمیت نو افراد کا قاتل اور پولیس کے نظام کو چیلنج کرنے والا سفاک گینگ

اندھڑ
    • مصنف, عمردراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو

دوپہر کا وقت تھا جب پانچ موٹر سائیکلوں پر سوار درجن بھر افراد صادق آباد کے ایک پیٹرول سٹیشن پر آ کر رُکے، انھوں نے کندھوں پر بندوقیں لٹکا رکھی تھیں۔

مسلح افراد کو دیکھ کر پیٹرول پمپ کے دفتر میں بیٹھے چند لوگوں نے چھپنے کی کوشش کی جبکہ باقی افراد یہ جاننے کے لیے باہر نکلے کہ معاملہ کیا ہے۔

کچھ ہی دیر میں یہ مسلح افراد دفتر میں داخل ہوئے۔ دفتر میں موجود لوگوں اور مسلح افراد کے درمیان چند لمحوں کے لیے بات چیت بھی ہوئی۔ اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس موقع پر ایک شخص نے مسلح افراد میں سے ایک کے پاؤں پکڑے اور ہاتھ جوڑ کر معافی بھی مانگی۔

مگر پھر اچانک ہی مسلح افراد نے فائرنگ شروع کر دی۔ وہ تمام افراد جو دفتر میں موجود تھے ان کے نشانے پر آئے۔ اُن میں سے کوئی زندہ نہیں بچا۔ مسلح افراد موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر آگے بڑھ گئے اور پولیس کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے پیٹرول پمپ کے ساتھ ہی واقع دو دکانوں کے باہر رُک دوبارہ فائرنگ بھی کی۔

یہ تمام کارروائی مکمل کر کے مسلح افراد فرار ہو گئے۔

بعدازاں معلوم ہوا کہ مجموعی طور پر نو افراد ان مسلح افراد کی بھینٹ چڑھے اور قتل ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک ہی گھر کے پانچ افراد شامل تھے یعنی ایک باپ غلام نبی اندھڑ اور اُن کے چار بیٹے۔ اس کے علاوہ غلام نبی کا پانچواں بیٹا اس واقعے میں زخمی بھی ہوا۔ غلام بنی اس پیٹرول پمپ کے مالک تھے۔

پیٹرول پمپ پر پیش آنے والے اس اندوہناک واقعے کا منظر وہاں نصب سی سی ٹی وی کیمروں میں محفوظ ہو گیا تھا اور بعد میں سوشل میڈیا پر اس کی ویڈیوز گردش کرتی رہیں۔ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا تھا کہ جس انداز سے مرنے والے مسلح افراد سے بات چیت کر رہے تھے اس سے بظاہر یوں لگتا ہے کہ وہ پہلے ہی ایک دوسرے کو جانتے تھے۔

یہ پیٹرول پمپ صوبہ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل صادق آباد کے موضع دعوالہ میں ماہی چوک کے علاقے میں تھا۔ یہاں سے پولیس کی ایک چوکی زیادہ دور نہیں تھی، تاہم پولیس ڈاکوؤں کو روکنے یا واردات کے فوری بعد گرفتار کرنے میں ناکام رہی۔

اندھڑ
،تصویر کا کیپشنواردات کے بعد پولیس اور مقامی افراد جائے وقوعہ (پیٹرول پمپ) پر کھڑے ہیں

مقامی پولیس کے مطابق مسلح افراد کا تعلق اس علاقے میں گذشتہ کئی برسوں سے متحرک 'اندھڑ گینگ' سے تھا۔ گینگ کے سربراہ جان محمد عرف جانو اندھڑ بھی ان افراد میں شامل تھے۔

پولیس نے اس واقعے کی رپورٹ دو روز بعد مجاہد امیر نامی ایک شخص کی مدعیت میں تھانہ کوٹ سبزل میں درج کی۔ مجاہد کے ایک بھائی مرنے والوں میں شامل تھے۔ تاہم چند ہی روز میں مجاہد امیر مقدمہ میں مدعی بننے سے دستبردار ہو گئے۔

انھوں نے ایک بیان حلفی کے ذریعے اس مقدمے کی مدعیت سے دستبردار ہونے کا باضابطہ اعلان کیا۔ اپنی درخواست میں انھوں نے لکھا کہ ’ہم نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے۔ میں اس مقدمے میں بالکل بھی مدعی نہیں بننا چاہتا۔ اگر باقی مقتولین کے ورثا مدعی بننا چاہیں تو بے شک بن جائیں۔‘

مقامی افراد کے مطابق یہ ڈاکوؤں کا خوف تھا جس کی وجہ سے لوگ ان کے خلاف بات کرنے سے ڈرتے ہیں۔

بی بی سی نے بھی مقامی افراد اور پولیس سے اس معاملے اور ’اندھڑ گینگ‘ پر بات کرنے کی کوشش کی تاہم زیادہ تر لوگوں نے معذرت کر لی جبکہ وہ افراد جنھوں نے کچھ معلومات فراہم کیں انھوں نے اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔

مقامی افراد کے مطابق اس وقوعے کے بعد سے علاقے میں خوف کا سماں تھا اور جو بھی ڈاکوؤں کے خلاف بات کرتا ہے وہ (ڈاکو) اس سے رابطہ کرتے ہیں اور ’جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔‘

مقامی افراد کے مطابق یہ بات صرف دھمکیوں تک محدود نہیں رہ سکتی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ڈاکو ان دھمکیوں پر عمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈاکوؤں کے 'اندھڑ گینگ' کی تاریخ کیا ہے اور اپنی حالیہ کارروائی میں اس گینگ نے ایک ہی گھر کے پانچ افراد سمیت نو افراد کو نشانہ کیوں بنایا؟

اندھڑ

پانچ برس قبل ہونے والا ’پولیس آپریشن‘ اور خانو اندھڑ کی ہلاکت

مقامی پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ کہانی سنہ 2016 سے شروع ہوتی ہے۔ اُس برس جولائی کے مہینے میں رحیم یار خان پولیس نے اندھڑ گینگ کے سات ڈاکوؤں کو ایک مبینہ آپریشن کے بعد ہلاک کرنے کا دعوٰی کیا تھا۔

یہ واقعہ اس وقت کے اخبارات میں بھی رپورٹ ہوا تھا جس میں پولیس کے آپریشن کے حوالے سے دعوؤں پر سوالات بھی اٹھائے گئے تھے۔

پولیس اہلکار نے دعویٰ کیا کہ ان سات ڈاکوؤں کو درحقیقت کشمور میں ایک پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا تھا اور اس کے بعد رحیم یار خان پولیس اُن کی لاشوں کو چوک ماہی میں لے آئی تھی۔

یاد رہے کہ چوک ماہی کا علاقہ پنجاب اور سندھ کی سرحد پر واقع ہے اور ڈاکو زیادہ تر دونوں صوبوں کے کچے کے علاقے میں چھپ کر رہتے ہیں۔

پولیس اہلکار کے مطابق ’چوک ماہی میں ان ڈاکوؤں کی لاشوں کو سرعام سڑک پر رکھا گیا تھا۔ اس وقت وہاں جمع ہونے والے عوام نے اس کارروائی پر پنجاب پولیس زندہ باد کے نعرے بھی لگائے تھے۔‘

مارے جانے والے ان ڈاکوؤں میں 'اندھڑ گینگ' کے سرغنہ خانو اندھڑ بھی شامل تھے جو گینگ کے موجودہ سربراہ جانو اندھڑ کے بھائی تھے۔

حال ہی میں مارے جانے والوں کا اس واقعے سے کیا تعلق تھا؟

پولیس

پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سنہ 2016 میں پولیس نے جن سات ڈاکوؤں کو مارا تھا ان میں جانو اندھڑ کے پانچ بھائی اور ایک بھتیجا شامل تھے۔

جانو اندھڑ نے اس وقت الزام عائد کیا تھا کہ غلام نبی اندھڑ اور ان کے خاندان والوں نے پولیس کو ان کے بھائیوں کے بارے میں مخبری کی تھی جس کے بعد پولیس نے انھیں گرفتار کر کے ایک مقابلے میں ہلاک کر دیا تھا۔

مقامی پولیس کے مطابق ’جانو اندھڑ کو شک تھا کہ غلام نبی اور ان کے خاندان نے پولیس کو پیسے دے کر اور مخبری کر کے ان کے بھائیوں کو مروایا تھا۔‘ تاہم غلام نبی اور ان کے خاندان کے افراد اس کی تردید کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

پولیس اہلکار کے مطابق انھوں نے کئی جرگوں اور مصالحتی کوششوں کے ذریعے جانو اندھڑ کو کئی بار یقین دہانی کروائی تھی کہ اُن کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی انھوں نے پولیس کو ایسی کوئی مخبری کی تھی۔

جانو اندھڑ کو مخبری کا شک کیوں تھا؟

یاد رہے کہ حال میں مرنے والے غلام نبی اندھڑ اور ان کے خاندان کے افراد اور اندھڑ گینگ کے سرغنہ جانو اندھڑ کا تعلق ایک ہی برادری اور قبیلے سے ہے۔

پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جانو اندھڑ کے شک کی بنیاد پرانی دشمنی ہو سکتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ سنہ 1995 میں جانو اندھڑ کے خاندان کی ایک خاتون پر 'کاروکاری' کا الزام لگایا گیا تھا جس میں حال میں مرنے والے افراد کے خاندان کے ایک فرد کو قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔

کاروکاری کے اس الزام میں جانو اندھڑ کے خاندان والوں نے اس شخص کو ہلاک کر دیا تھا۔ پولیس اہلکار کے مطابق اس واقعے کے بعد ان کی دشمنی کی بنیاد پڑی تھی تھی تاہم بعد میں یہ معاملہ جرگوں اور مفاہمت سے حل ہو گیا تھا۔

’لیکن جانو اندھڑ کو لگتا تھا کہ غلام نبی اندھڑ اور اُن کے خاندان والوں نے اس واقعے کا بدلہ لینے کے لیے پولیس کے ذریعے اُن کے پانچ بھائیوں کو قتل کروایا تھا۔‘

اندھڑ

’اسی پیٹرول پمپ پر جشن منایا گیا تھا‘

حالیہ کارروائی کے بعد سوشل میڈیا کی ویب سائیٹ فیس بک پر ’جانو اندھڑ چوک ماہی‘ کے نام سے بنے ایک اکاؤنٹ کے ذریعے اندھڑ گینگ کے سرغنہ جانو اندھڑ نے مبینہ طور پر نو افراد کے قتل کی ذمہ داری قبول کی۔

انھوں نے لکھا کہ 'ان نو افراد نے پولیس کو پیسے دے کر سنہ 2016 میں ہمارے سات آدمیوں کو مروایا تھا جس میں ہمارے پانچ بھائی، ایک بھتیجا اور ایک دوست شامل تھا۔' انھوں نے مزید لکھا کہ ’اس روز اسی پیٹرول پمپ پر ہمارے ساتھیوں کی موت کا جشن منایا گیا تھا۔‘

فیس بک کے اس اکاؤنٹ سے پانچ برس قبل ہلاک ہونے والے ان ڈاکوؤں کی تصاویر بھی شائع کی گئی تھیں جس کے ساتھ اس وقت کے اخبارات میں شائع ہونے والی اخبار کی خبر کا حوالہ بھی دیا گیا تھا۔

بی بی سی آزادانہ طور پر اس فیس بُک اکاؤنٹ کی تصدیق نہیں کر پایا۔

کیا گذشتہ پانچ برس کے دوران اندھڑ گینگ نے بدلہ لینے کی کوشش کی؟

حال ہی میں مرنے والے نو افراد کے ورثا میں سے ایک شخص نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کئی مرتبہ جانو اندھڑ اور ان کے خاندان کو یقین دہانی کروا چکے تھے ان کا سنہ 2016 کے واقعے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اس کے باوجود ان کے خاندان نے کئی مواقع پر جانو اندھڑ اور ان کے گینگ کو کئی لاکھ روپے بھی ادا کیے تھے۔' ان کا کہنا تھا کہ 'اندھڑ گینگ کے لوگ باقاعدگی سے ان سے بھتہ بھی وصول کرتے رہتے تھے۔‘

صادق آباد کے اس علاقے چوک ماہی سے تعلق رکھنے والے صوبہ پنجاب کی اسمبلی کے رکن ممتاز چانگ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اُن کے علم میں یہ بات آئی تھی کہ سنہ 2016 کے واقعے کے بعد جب ان کی صلح صفائی ہو گئی تھی تو دونوں اطراف کے لوگ آپس میں ملتے تھے۔

’کئی مرتبہ ان کو ایک دوسرے کی شادیوں میں شریک ہوتے اور میل ملاقاتیں کرتے دیکھا گیا تھا۔‘ ممتاز چانگ کے مطابق انھیں نہیں معلوم کہ اب اچانک کیا ہوا تھا۔ تاہم انھوں نے الزام عائد کیا کہ اندھڑ گینگ کے سربراہ جانو اندھڑ کو حال ہی میں پولیس نے خود کچے سے نکال کر آبادی میں لا کر بٹھایا تھا۔

پولیس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تو اب اچانک پانچ برس بعد کیا بدلا تھا؟

ایم پی اے ممتاز چانگ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے بارہا رحیم یار خان کے پولیس حکام سے شکایت کی تھی اندھڑ گینگ کے سرغنہ سمیت ان کے لوگ شہری علاقے میں آ کر بیٹھے ہوئے ہیں اور پولیس ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتی۔

ممتاز چانگ نے دعویٰ کیا کہ انھیں ایک اعلیٰ پولیس افسر نے جواب دیا تھا کہ ’کسی کو تنگ تو نہیں کر رہے تو آپ کو کیا مسئلہ ہے۔‘ خیال رہے کہ اس واقعے کے چند روز بعد سابق ڈی پی او رحیم یار خان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اور ان کی جگہ نئے ڈی پی او نے ذمہ داری سنبھال لی ہے۔

اس بات کی تصدیق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرنے والے پولیس اہلکار نے بھی کی تھی کہ پولیس کے چند اعلٰی افسران نے اندھڑ گینگ کے سربراہ جانو اندھڑ سے ملاقات بھی کی تھی۔

’کچھ اعلٰی افسران کچے کے علاقے میں گئے تھے اور جانو اندھڑ کو جرائم کی دنیا کو چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان سے کہا گیا تھا کہ اگر وہ خود بھی جرائم کو چھوڑ دیں اور دوسرے ڈاکوؤں کو بھی ایسا کرنے پر قائل کریں تو ان کے خلاف قائم مقدمات ختم کیے جا سکتے تھے۔‘

پولیس کے اہلکار کے مطابق اس کے بعد جانو اندھڑ لگ بھگ ایک ماہ قبل اپنے چند ساتھیوں سمیت چوک ماہی کے علاقے میں واقع اپنے قلعہ نما ڈیرے میں آ کر رہنے لگے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ جانو اندھڑ کا یہ ڈیرہ انتہائی کشادہ تھا جس کی کچی دیواریں کئی فٹ چوڑی بنائی گئیں تھیں تا کہ ان میں سے بندوق کی گولی آر پار نہ ہو سکے۔ انھوں نے بتایا کہ حال ہی میں اس ڈیرے سے پولیس کی ایک گشتی پارٹی پر فائرنگ بھی کی گئی تھی۔

اندھڑ گینگ کتنا بڑا ہے؟

صوبائی اسمبلی کے ممبر ممتاز چانگ کے مطابق اندھڑ گینگ کچے کے علاقے میں پائے جانے والے ڈاکوؤں کے گینگز میں سب سے بڑا تھا۔ ’یہ گینگ ایک فوجی آپریشن میں چند برس قبل ختم کیے جانے والے چھوٹو گینگ سے کہیں بڑا ہو چکا تھا۔‘

ممتاز چانگ نے دعوٰی کیا کہ گینگ کے افراد نے گذشتہ چند ماہ کے دوران پچاس سے زائد افراد کو تاوان کے لیے اغوا کیا تھا اور بھاری رقوم وصول کرنے کے بعد انھیں چھوڑا جاتا تھا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اندھڑ گینگ کے افراد چوک ماہی کے علاقے میں واقع 60 فیصد سے زیادہ دکانوں اور کاروباری افراد سے ماہانہ بھتہ بھی وصول کرتا تھا۔ 'انکار کرنے والوں کو اغوا کر لیا جاتا ہے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔'

ڈاکوؤں کے خلاف پولیس کی کارروائی کامیاب کیوں نہیں ہوتی تھی؟

مقامی پولیس کے ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ اندھڑ گینگ کے پاس بھاری اسلحہ اور جدید ہتھیار موجود تھے جن میں مشین گنیں، راکٹ لانچر، گرینیڈ، رائفلیں اور دیگر ہتھیار موجود ہیں۔ ان کے خیال میں موجودہ وسائل کے ساتھ پولیس کے لیے ڈاکوؤں کا مقابلہ کرنا انتہائی مشکل تھا۔

ایم پی اے ممتاز چانگ کے مطابق پولیس کے لیے وسائل کے ساتھ ساتھ دوسرا بڑا چیلنج یہ تھا کہ کچے کے جس علاقے میں ڈاکو چھپے ہوئے تھے وہ دو صوبوں یعنی پنجاب اور سندھ میں پھیلا ہوا تھا۔

مزید پڑھیے

’اگر ایک علاقے کی پولیس ان کا تعاقب کرتی تھی تو وہ دوسرے علاقے کی طرف فرار ہو جاتے تھے اس لیے پولیس کے لیے ان کے پیچھے جانا مشکل ہو جاتا تھا۔‘ ان کے خیال میں اس کا حل یہ تھا کہ پاکستانی فوج اور رینجرز پولیس کے ساتھ مل کر ان علاقوں میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کریں۔

حالیہ واقعے پر پولیس کا ردِ عمل کیا تھا؟

اندھڑ گینگ کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے نو افراد کے قتل کے واقعے کے بعد جنوبی پنجاب کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس کیپٹن (ر) ظفر اقبال علاقے میں پہنچ گئے تھے اور فوری طور پر متعلقہ تھانے اور چوکی کے انچارج پولیس اہلکاروں کو ’غفلت برتنے پر معطل کر دیا گیا تھا۔‘

ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی ظفر اقبال نے مرنے والوں کے لواحقین سے افسوس اور مقامی افراد سے ’اس غفلت‘ پر معذرت بھی کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس افسوسناک سانحہ پر محکمہ پولیس شرمسار ہے۔‘

تاہم انھوں نے مقامی افراد کو یقین دہانی کروائی تھی کہ پولیس قتل ہونے والے افراد کے ورثا کو انصاف دلوائے گی اور ڈاکوؤں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا پولیس فوج اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں سے مدد طلب کرے گی، ایڈیشنل آئی جی کا کہنا تھا کہ یہ بنیادی طور پر پولیس کا کام ہے اور پولیس ہی کرے گی۔ ’ہم کٹیں گے، مریں گے، قربانیاں دیں مگر پولیس ہی ان ڈاکوؤں کے خلاف کارروائی کرے گی۔‘