نئے چیئرمین نیب کی تقرری: صدرِ پاکستان وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر سے مشاورت سے کریں گے

نیب

صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے بدھ کو قومی احتساب کمیشن (نیب) کے اختیارات اور چیئرمین کی تقرری سے متعلق نیا ترمیمی آرڈیننس جاری کرتے ہوئے موجودہ چیئرمین نیب کو نئے چیئرمین کی تقرری تک کام جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے اس آرڈیننس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے آرڈیننس کے تحت نئے چیئرمین نیب کی تقرری سے متعلق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، وزیر اعظم عمران خان اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف سے مشاورت کریں گے۔

فروغ نسیم نے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں مزید کہا ہے کہ وزیر اعظم براہ راست اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے مشاورت نہیں کریں بلکہ صدر پاکستان اس مشاورت کے عمل کو ’فیسیلیٹیٹ‘ کریں گے۔ ان کے مطابق صدر کی ایک آزاد حیثیت ہوتی ہے، ان کا کسی ایک پارٹی سے تعلق نہیں ہوتا اس وجہ سے ان کے ذریعے مشاورت ہو سکتی ہے۔

فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ صدر پاکستان کے ذریعے وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان اگر مشاورت ناکام ہو جاتی ہے تو پھر سپیکر قومی اسمبلی ایک پارلیمانی کمیٹی بنائیں گے جس میں حکومت اور اپوزیشن کے چھ، چھ ارکان شامل ہوں گے جن کا تقرر ان کی پارٹی کرے گی۔

اس نئے ترمیمی آرڈیننس میں کیا ہے؟

پہلا ورژن: اٹارٹی جنرل خالد جاوید خان

نیا صدارتی آرڈیننس دو مختلف ورژن پر مشتمل ہے۔ پہلا ورژن اٹارنی جنرل خالد جاوید خان جبکہ دوسرا ورژن وزیر قانون فروغ نسیم نے تحریر کیا ہے۔ نئے صدارتی آرڈیننس کے تحت موجودہ چیئرمین جاوید اقبال کو مزید چار سال کے لیے چیئرمین بنانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

آرڈیننس میں موجود اٹارنی جنرل کے ورژن میں صدر پاکستان نئے چیئرمین نیب کی تقرری وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے کریں گے۔ اور یہ کہ موجودہ چیئرمین کی ہی مزید چار سال کے لیے تقرری کی جا سکے گی۔ فروغ نسیم کے اضافی ورژن میں یہ بھی شامل ہے کہ اس آرڈیننس کے تحت جب تک نئے چیئرمین کا تقرر نہیں ہو جاتا تو موجودہ چیئرمین، جس کی مدت پوری ہو چکی ہے، اپنا کام جاری رکھے گا اور اس کے پاس تمام اختیارات ہوں گے۔

دوسرا ورژن: وزیر قانون فروغ نسیم

فروغ نسیم کے ورژن میں نئے نیب آرڈیننس میں فیصلہ سازی کے اہم ادارے نیب کی گرفت سے نکال دیے گئے ہیں۔ آرڈیننس کے اس ورژن کے مطابق نیب قانون کا اطلاق وفاقی، صوبائی اور مقامی ٹیکسیشن کے معاملات پر نہیں ہوگا، وفاقی اور صوبائی کابینہ، کمیٹیوں اور ذیلی کمیٹیوں کے فیصلے نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں ہوں گے۔

فروغ نسیم ورژن میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل، این ای سی، این ایف سی، ایکنک، سی ڈی ڈبلیو پی، پی ڈی ڈبلیو پی کے فیصلے بھی نیب کے دائرہ اختیار سے باہر ہوں گے۔

آرڈیننس کے فروغ نسیم ورژن کے تحت قواعد کی بے ضابطگی کے حوالے سے عوامی یا حکومتی منصوبے بھی نیب کے دائرہ اختیار سے باہر ہوں گے۔

دوران انکوائری چیئرمین نیب کو کسی بھی شخص کی گرفتاری کے لیے پراسیکیوٹر جنرل کی مشاورت کا پابند کر دیا گیا ہے۔ اگر کسی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا جائے گا تو چیئرمین نیب وفاقی حکومت سے سفارش کرے گا اور پھر حکومت کی اجازت سے کوئی نام ای سی ایل سے نکالا جا سکے گا۔

پاکستان بھر کی احتساب عدالتوں میں جدید ٹیکنالوجی نصب کی جائے گی تا کہ شہادتوں کو آڈیو اور ویڈیو کی صورت بھی ریکارڈ کیا جا سکے۔ وزیر قانون فروغ نسیم کے مطابق اس اقدام سے مقدمات غیر ضروری طوالت اختیار نہیں کر سکیں گے۔ اس آرڈیننس کے تحت صدر پاکستان چیف جسٹس کی مشاورت سے کسی احتساب عدالت کا جج تین سال کی مدت کے لیے مقرر کریں گے۔ جج کی مراعات ہائی کورٹ کے جج کی مراعات کے برابر ہوں گی۔

احتاسب عدالت کے ایک جج کا صوبے میں کسی دوسری عدالت میں تبادلہ بھی صدر پاکستان چیف جسٹس کی مشاورت سے کریں گے۔

اگر چیئرمین نیب مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوں گے تو ایسے میں آرڈیننس کے تحت ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی ممکن ہو سکے گی۔ جب تک نئے چیئرمین منتخب نہیں ہوتے تو پرانے چیئرمین اپنا کام جاری رکھیں گے۔ فروغ نسیم ورژن کے مطابق پرانے چیئرمین کے پاس تمام اختیارات ہوں گے تا کہ کام میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو سکے۔

آرڈیننس کے مطابق نئے چیئرمین نیب کی مدت ملازمت چار برس ہو گی۔

فروغ نسیم کے مطابق پراسیکوٹر جنرل کے رول کو بھرپور طریقے سے بڑھا رہے ہیں۔ چیئرمین نیب ان سے آزادانہ مشورہ لیں گے۔ ان کے مطابق شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔ اور پراسیکیوٹر جنرل مشورہ دے گا کہ کون سا مقدمہ جاری رکھنا چائیے اور کس کو واپس لے لینا چائیے۔

جاوید اقبال

،تصویر کا ذریعہAFP

کیا حکومت جاوید اقبال کو دوبارہ چیئرمین نیب دیکھنا چاہتی ہے؟

نئے صدارتی آرڈیننس میں جسٹس جاوید اقبال کو ان کی چار برس کی مدت ملازمت پوری ہونے کے باوجود مکمل اختیارات کے ساتھ کام جاری رکھنے کی اجازت مل گئی ہے۔ اس آرڈیننس کے تحت حکومت جسٹس جاوید اقبال کو مزید چار سال کے لیے چیئرمین نیب مقرر کر سکتی ہے۔

تاہم وزیر قانون فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ ابھی یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ موجودہ چیئرمین کو ہی پھر سے چیئرمین نیب تعینات کیا جائے گا۔

ان کے مطابق موجودہ چیئرمین کی کارکردگی کو اگر دیکھا جائے تو وہ آپ کے سامنے ہے۔ ان کے مطابق موجود چیئرمین کے علاوہ اور نام بھی زیر غور ہیں۔ ان کے مطابق نیب کے سابق سربراہوں کے نام بھی زیر غور ہیں۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور کی وضاحت

وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے بھی مقامی نیوز چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس ترمیمی آرڈینینس میں نیب کیسز میں کرپشن کی تعریف میں کچھ تبدیلیاں لائی گئیں ہیں اور ایسے معاملات جہاں بیورکریسی کو گڈ گورنینس کے لیے مشکلات کا سامنا تھا، جہاں نیب قوانین میں ہراساں کرنے کے لیے راستے کھلتے تھے اس میں تجاویز دی گئیں ہیں اور چند تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

سنہ 1999 کے نیب آرڈینینس میں ضمانت حاصل کرنے کا قانون موجود نہیں تھا، اس ترمیمی مسودے کے تحت نیب کے ٹرائل کورٹ کو ضمانت دینے کے اختیارات دیے جا رہے ہیں۔

نیب احتساب عدالتوں کے ججوں کو ہائی کورٹ کے ججوں کے برابر مراعات دی جائیں گی۔

بابر اعوان نے بتایا کہ اس نئے ترمیمی آرڈیننس میں اگر چیئرمین نیب کسی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں تو ان کو ہٹانے کا وہی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا جو سپریم کورٹ کے جج کو ہٹانے کا ہے اور اس کا فورم بھی سپریم جوڈیشل کونسل ہی ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس صدارتی آرڈینینس کے جاری ہونے کے بعد قومی اسمبلی کے اگلے اجلاس میں اس آرڈینینس کو بل کے طور پر پارلیمنٹ کے سامنے رکھا جائے گا جہاں سے معاملہ کمیٹی میں جائے گا اور اس پر تمام جماعتوں کی تجاویز آ جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیے

وزیراعظم شہباز شریف سے مشاورت نہیں کریں گے: فواد چوہدری

فروغ نسیم کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ چیئرمین نیب کی تقرری کے لیے وزیراعظم عمران خان شہباز شریف سے بالکل مشاورت نہیں کریں گے ۔انھوں نے کہا ابھی تک میں نے ایوان صدر سے نہیں پوچھا کہ ان کا کیا مؤقف ہے تاہم حکومت کا یہ واضح مؤقف ہے کہ اپوزیشن سے مشاورت یس، شہباز شریف سے مشاورت نو۔

انھوں نے تجویز دی ہے کہ وزیراعظم سے مشاورت کے لیے اپوزیشن کوئی اور اپوزیشن لیڈر لے آئے۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اس سے بے ہودہ بات اور کوئی نہیں ہو سکتی ہے کہ چور سے پوچھ کر تقرری کریں کہ اس کا تفتیشی کون ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ آرڈیننس کے ساتھ نیب قانون میں ترمیم ایکٹ کے ذریعے بھی کررہے ہیں۔ اپوزیشن سے بھی اس متعلق تجاویز مانگیں گے۔ ان کے مطابق نیب ’ڈرٹی ورک‘ میں پڑنے کے بجائے اہم اور اصل کام کرے گا۔

خیال رہے کہ فواد چوہدری نے گذشتہ روز اسلام آباد میں کابینہ اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ حکومت نیب کے چیئرپرسن کے تقرر کے لیے ایک آرڈیننس بدھ کو متعارف کرائے گی تاکہ اس قانون میں موجود مبینہ پیچیدگیوں کو ختم کیا جا سکے جس نے اس معاملے پر قائد حزب اختلاف سے مشاورت کو لازمی قرار دیا ہے۔

انھوں نے اس موقع پر یہ بھی کہا تھا کہ چیئرمین نیب کی تقرری کے معاملے پر قائد حزب اختلاف شہباز شریف سے مشاورت نہیں کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ اگر شہباز شریف میں تھوڑی سی بھی شرم ہو تو وہ خود ہی مستعفی ہو جائیں۔

اپوزیشن کا مؤقف کیا ہے؟

دوسری جانب ملک کی بڑی اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کے عہدے کی مدت میں توسیع کو مسترد کرتے ہوئے اسے 'غیر قانونی اور غیر آئینی' قرار دیا۔

اپوزیشن جماعتوں نے جاری اپنے بیانات میں الزام عائد کیا کہ پاکستان تحریک انصاف موجودہ چیئرمین نیب کو وزیراعظم اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کرپشن کیسز پر کوئی کارروائی نہ کرنے اور حکمراں جماعت کے مخالفین کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے ایجنڈے کو پورا کرنے پر نوازنا چاہتی ہے۔