پینڈورا پیپرز: وزیراعظم عمران خان کے ’نیا پاکستان‘ کے عزم پر اپوزیشن کے سوال اور سوشل میڈیا پر بحث

پنڈورا باکس

انٹرنیشل کنسورشیم آف انویسٹیگیٹو جرنلزم (آئی سی آئی جے) کی طرف سے جاری کردہ پینڈورا پیپرز میں بعض وفاقی وزرا کے نام سامنے آنے کے بعد پاکستان میں سیاسی سطح پر بیانات اور عام عوام میں بحث کا سلسلہ جاری ہے۔

کہیں وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ’نیا پاکستان‘ پر طنز و تنقید ہو رہی ہے، کوئی ان سے سخت اقدامات کی توقع کر رہا ہے تو کوئی اپنے بدعنوانی کے خلاف سخت موقف پر ڈٹے رہنے کی امید۔

یاد رہے کہ اب سے کچھ دیر پہلے وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’پینڈورا لیکس کی تحقیقات کے لیے وزیر اعظم پاکستان نے وزیراعظم انسپکشن کمیشن کے تحت ایک اعلیٰ سطحی سیل قائم کیا ہے۔ یہ سیل پینڈورا لیکس میں شامل تمام افراد سے جواب طلبی کرے گا اور حقائق قوم کے سامنے رکھیں جائیں گے۔‘

یاد رہے کہ اس سے پہلے پینڈورا پیپرز کے سامنے آنے کے بعد وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا تھا کہ تحقیقات کے نتیجے میں اگر کچھ غلط ثابت ہوتا ہے تو ان افراد کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔

صحافیوں کی تحقیقاتی تنظیم انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹیگیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) اور ان کے ساتھی میڈیا اداروں کی طرف سے کی جانے والی اس تحقیق کے مطابق ان افراد میں پاکستان تحریک انصاف کے ایک اہم اتحادی سمیت کابینہ کے تین ارکان اور ان کے اہل خانہ، پاکستان کی فضائیہ کے سابق سربراہ کے اہل خانہ سمیت پاکستانی بری فوج کے اہم عہدوں سے ریٹائر ہونے والے افراد اور ان کے اہل خانہ شامل ہیں۔

آئی سی آئی جے کی تحقیق میں ابتدائی طور پر سامنے آنے والے ناموں میں وفاقی کابینہ کے ارکان شوکت ترین اور مونس الٰہی سمیت حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے اہم ارکان کے علاوہ مسلم لیگ ن کے سابق وزیر اسحاق ڈار کے بیٹے کا نام بھی ہے۔

پینڈورا پیپرز دراصل چودہ آف شور کمپنیوں کی آئی سی آئی جے کو لیک ہونے والی تقریباً بارہ ملین خفیہ فائلوں پر مشتمل ہے جو دنیا بھر میں میڈیا کے ان کے ساتھی اداروں سے بھی شیئر کی گئیں۔

پینڈورا پیپرز میں پاکستانیوں کے نام سامنے آنے کے بعد کرپشن سے متعلق الزامات سامنے آ رہے ہیں لیکن یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ آف شور کمپنیوں میں دولت رکھنا غیر قانونی نہیں ہے اور محض نام سامنے آنے کا مطلب یہ نہیں کہ ان افراد پر کسی قسم کی کرپشن ثابت ہوگئی ہے یا یہ اثاثے ڈکلئیرڈ نہیں تھے بلکہ ان میں سے بعض نے اپنے ان اکاؤنٹس یا کمپنیوں سے متعلق ابتدائی طور پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے اثاثے ڈکلیئرڈ ہیں۔ اب یہ پاکستان کے حکام پر ہے کہ وہ مزید کیا اقدامات کرتے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف

وزیر داخلہ شیخ رشید کے مطابق ’یہ نام تو پہلے بھی چل رہے تھے۔ عمران خان کے بیان نے سب کا منھ بند کر دیا ہے‘۔ انھوں نے کہا کہ ’کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔‘

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ 700 کے 700 لوگوں سے تحقیقات کی جائیں گی۔

ادھر گورنر سندھ عمران اسماعیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پینڈورا پیپرز کی پوری تحقیقات کی جائیں گی اور جو ملوث ہوگا کارروائی ہوگی۔ ان کے مطابق عمران خان کسی کی کرپشن برداشت نہیں کریں گے چاہے کوئی ان کے کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو۔

پاکستان مسلم لیگ ن

پاکستان مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے وزیر اعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ نام سامنے آنے پر عمران خان کو سپریم کورٹ کو درخواست دینے، نیب کو تحقیقات اور گرفتاری کا حکم اور جے آئی ٹی بنانے جیسے اعلانات کرنے چاہیے تھے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

جماعت کے ایک اور رہنما اور رکن قومی اسمبلی احسن اقبال نے آئی سی آئی جے کی رپورٹ کا سکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے کچھ یوں تبصرہ کیا ’مگر پھر بھی کپتان ایماندار، صادق اور آمین ہے، کیا کہنے!‘

پیپلز پارٹی

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے اپنے ٹوئٹر پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ ’پینڈورا پیپرز میں وزیراعظم کے قریبی لوگوں کے نام آنا ہمارے لیے کوئی تعجب کی بات نہیں۔

’ہم جانتے ہیں کرپشن فری پاکستان/احتساب کے نعرے کھوکھلے اور اپوزیشن کو نشانہ بنانے کا ایک طریقہ ہے‘۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/SherryRehman

انھوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ’کیا وزیراعظم اپنے لوگوں کے خلاف سپریم کورٹ جائیں گے یا دیگر سکینڈلز کے طرح رپورٹ طلب کی جائے گی؟‘

سوشل میڈیا پر ردعمل

پاکستان میں پینڈورا پیپرز سے متعلق خبریں سامنے آنے کے بعد لوگ یہ سوال پوچھتے نظر آ رہے ہیں کہ آخر یہ 700 پاکستانی کون ہیں۔

صارف حیدر سید نے کہا کہ ’اب وقت آگیا ہے کہ ان سول اور عسکری فورسز کے خاندانوں کا احتساب ہو جن کے اثاثے ڈکلیئر نہیں ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

میاں نامی صارف نے لکھا کہ ’عمران خان کی جانب سے پینڈورا پیپرز میں سامنے آنے والے ناموں کے خلاف کارروائی کا عندیہ ان کا کرپشن سے پاک پاکستان کی جانب اپنے عزم کا اظہار ہے جو کہ خوش آئند ہے اور ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی کرے گا جو کہ ملک کی اقتصادی مسائل کی وجہ ہیں۔‘

فاطمہ خان نامی صارف نے پینڈورا پیپرز میں عمران خان کی کابینہ کے وزرا اور جرنیلوں کے نام سامنے آنے پر پوچھا کہ ’کیا یہ ہے نیا پاکستان؟‘

کئی افراد نے یہ تنقید بھی کی کہ پاکستان کے وزیراعظم نے اپنے گرد ایسے لوگ رکھے ہوئے ہیں جن کے اثاثے آف شور ہیں۔

صحافی ایلیا زہرا نے پاکستان میں مختلف صحافیوں، تنظیموں اور تحریکوں کو غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے فنڈنگ ملنے کے الزامات کے تناظر میں طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’تو کسی اختلاف رائے رکھنے والے صحافی، پی ٹی ایم یا عورت مارچ کے منتظمین کا نام پنڈورا پیپرز میں نہیں آیا۔ تو وہ اس ساری رقم کا کیا کرتے ہیں جو انھیں سی آئی اے، را یا موساد کی جانب سے ملتی ہے۔‘

صدف حیات خان نے عمران خان کی کابینہ کے لوگوں کے نام سامنے آنے کے بعد اس حوالے سے اپوزیشن کی جانب سے ہونے والی تنقید کے تناظر میں ایک میم شیئر کیا:

سوشل میڈیا پر میم

،تصویر کا ذریعہTWITTER