پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی بل پر تحفظات: ’میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا بل حکومت نہیں بلکہ طاقتور حلقے لانے کے لیے بضد ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے نام سے حکومت کی جانب سے جو قانون لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس پر نہ صرف صحافی تنظیمیں ابھی سے سراپا احتجاج ہیں بلکہ پارلیمان میں موجود حزب مخالف کی جماعتوں کے علاوہ انسانی حقوق اور وکلا تنظیمیں بھی اس بل کے آنے سے قبل ہی اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔
اور تو اور حکمراں اتحاد میں شامل پاکستان مسلم لیگ (ق) نے بھی اس بل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اس بل کو آزادی صحافت پر قدغن لگانے کے مترادف قرار دیا ہے۔
حکومت کی طرف سے ابھی تک اس بل کا مسودہ بھی سامنے نہیں آیا بلکہ اس حوالے سے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اطلاعات و نشریات کے بارے میں قائمہ کمیٹیوں کے ارکان نے بھی حکومت سے اس بل کو پیش کرنے سے متعلق متعدد بار مطالبہ کیا ہے لیکن ابھی تک وزارت اطلاعات و نشریات کے حکام یہ کہہ کر بات ٹال دیتے ہیں کہ ابھی اس بل پر مشاورت جاری ہے۔
سینیٹ میں اطلاعات و نشریات کے بارے میں قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر فیصل جاوید جن کا تعلق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف سے ہے، خود اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں کہ اگر وزارت اطلاعات کے حکام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کر رہے ہیں، تو پھر صحافی تنظیمیں اس بل کی مخالفت اور احتجاج کی دھمکی کیوں دے رہی ہیں؟
اس کے علاوہ اس کمیٹی میں شامل پاکستان تحریک انصاف کے متعدد سنیٹرز نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک اس بل کا مسودہ پیش نہ کرنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ سٹیک ہولڈرز سے بامقصد مشاورت نہیں کی جا رہی۔
پارلیمان میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والے رکنِ اسمبلی اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین میاں جاوید لطیف نے دعویٰ کیا ہے کہ ’قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وفاقی وزرا حزب مخالف کی جماعتوں کے ارکان کے ساتھ گفتگو میں قسمیں اٹھا کر کہتے ہیں کہ میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا بل حکومت نہیں لا رہی بلکہ طاقتور حلقے اس بل کو لانے میں بضد ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
صحافیوں سے گفتگو کے دوران میاں جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ ففتھ جنریشن وار اور فیک نیوز کی آڑ میں اس بل کے ذریعے آزادی صحافت پر پابندی عائد کی جارہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ابھی تو یہ بل بھی نہیں آیا لیکن اس کے باوجود صحافیوں کے اغوا، ان پر حملوں اور ان کے خلاف مقدمات کا سلسلہ شروع ہو گیا اور اگر یہ بل منظور کروایا لیا گیا تو پھر ذرا تصور کریں کہ صحافیوں پر کس قسم کی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ ’میاں جاوید لطیف ریاستی اداروں کے خلاف تقریر کرنے کے الزام میں دو ماہ سے زیادہ عرصہ جیل میں گزار کر آئے ہیں اور مقامی عدالت نے انھیں ضمانت پر رہا کیا ہوا ہے جس کے خلاف پنجاب حکومت نے اعلیٰ عدلیہ میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔
دوسری طرف وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپنے ٹوئٹر پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے چھ ستمبر کو جی ایچ کیو میں کی جانے والی تقریر کا حوالہ دیا ہے جس میں انھوں نے فیک نیوز کو پاکستان کے خلاف جنگ قرار دیا ہے۔
قومی اسمبلی کی اطلاعات و نشریات سے متعلق قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ ملک کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کہ میڈیا پر جب بھی پابندیاں لگیں نتائج ملک کو بھگتنا پڑے۔
انھوں نے کسی ادارے کا نام لیے بغیر کہا کہ ’جمہوریت، احتساب، انتخابات اور نتائج کنٹرول چاہو گے تو پھر ماضی کے حالات بھی ذہن میں رکھنا ہوں گے ۔۔۔ کیا ہم مشرقی پاکستان سے کوئی سبق نہیں سیکھنا چاہتے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
میاں جاوید لطیف کے مطابق ’آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنے والے اداروں کو میڈیا سے کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ان کی لڑائی کسی ادارے سے نہیں بلکہ یہ لڑائی آئین و قانون کی بالادستی کی ہے۔‘
انھوں نے کسی ادارے کا نام لیے بغیر کہا کہ ’مانا کہ تم بٹن دبانے سے حکومتیں بناتے اور توڑتے ہو لیکن بٹن دبانے سے پابندیاں نہیں لگ سکتیں۔‘
میاں جاوید لطیف نے کہا کہ ’بانی پاکستان قائد اعظم کے فرمودات کا ذکر تو کیا جاتا ہے تو پھر ان کے آزادیِ اظہار کے فرمان کو بھی من و عن تسلیم کرو۔ طاقتور حلقوں سے سوال کیا کہ اگر قانون بنانا ہے تو مسودہ چھپانے سے کیا حاصل؟‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا بل کسی طور پر بھی قائمہ کمیٹی سے منظور نہیں ہونے دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے
جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے جس ادارے پر میڈیا کنٹرول بل کا الزام لگایا ہے اس ادارے کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ادارے نے نوٹس نہ لیا تو پھر قائمہ کمیٹی اس کا نوٹس لے گی اور ان سے جواب طلبی کرے گی۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری سے اس حوالے سے جب سوال کیا گیا تو انھوں نے صرف اسی پر ہی اکتفا کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے میاں جاوید لطیف جیسے لوگ اسمبلیوں میں آجاتے ہیں۔
حکمراں اتحاد میں شامل پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما اور پنجاب اسمبلی کے سپیکر چوہدری پرویز الہی نے بھی اس بل پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت اس پر نظرثانی کا کہا ہے۔ اس کے علاوہ سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی بھی یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ اس بل کے بارے میں حکومت سے بات کریں گے۔

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اطلاعات و نشریات کے وزیر مملکت فرخ حبیب نے بتایا کہ ’حکومت فیک نیوز کی روک تھام اور میڈیا کارکنان کے حقوق سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور اس ضمن میں تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری ہے۔‘
انھوں نے فیک نیوز کے مختلف واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’ای یو ڈس انفولیب نے ظاہر کیا کہ کیسے ایک تنظیم نے ساڑھے سات سو ویب سائٹس بنا کر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا۔‘ انھوں نے کہا کہ اس سے بڑی فیک نیوز اور کیا ہو سکتی ہے کہ افغانستان کے علاقے وادی پنجشیر پر پاکستانی طیارے کی بمباری کی جعلی فوٹیج چلائی گئی، طیارہ تباہ ہو جانے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ حال میں کراچی میں ایک جلوس کو فسادات بنا کر پیش کیا گیا اور اس کے علاوہ یورپی یونین کی طرف سے پاکستان کا جی ایس پی پلس ختم کرنے کی فیک نیوز چلائی گئی۔ انھوں نے کہا کہ ایسی صورت حال میں فیک نیوز روکنا ہر صورت ضروری ہے۔
فرخ حبیب نے کہا کہ مشاورت مکمل کیے بغیر قانون سازی کی کوئی جلدی نہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت اس حوالے سے کوئی آرڈیننس نہیں لا رہی۔
اس اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے اطلاعات نے کہا کہ ان کی چند صحافی تنظیموں اور پانچ پریس کلب کے عہدیداران سے اس حوالے سے مشاورت ہوئی ہے تاہم انھوں نے ان صحافی تنظیمیوں اور پریس کلب کے عہدیداروں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
صحافیوں کی سب سے بڑی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومتی وزرا نام نہاد صحافی تنظیموں سے ملاقات کر کے عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ صحافی تنظمیں پاکستان میڈیا اٹھارٹی کے بل کی حمایت کر رہی ہے۔
اگرچہ اس بل کا مسودہ سرکاری طور پر منظرِ عام پر نہیں آیا لیکن سوشل میڈیا پر یہ مبینہ بل وائرل ہوا ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ غلط خبر دینے پر اتھارٹی ڈھائی کروڑ روپے تک کا جرمانہ اس شخص پر عائد کرے گی جس نے یہ غلط خبر دی ہو۔
اطلاعات و نشریات کے وزیر مملکت فرخ حبیب کے مطابق غلط خبر دینے کے جرم میں جیل کی سزا نہیں ہو گی البتہ جرمانے کیے جائیں گے تاہم انھوں نے جرمانوں کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ میڈیا مالکان کی تنظیم سی پی این ای کہتی ہے ڈیجیٹل میڈیا کو ریگولیٹ کریں اور اخبارات اور چینلز کے لیے کسی لائسنس کی ضرورت نہیں ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ دنیا میں پاکستان ہی ہے جہاں انٹرٹینمنٹ لائسنس لے کر نیوز چلائی جاتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ طے کر لیں میڈیا کو سوشل میڈیا کو شتر بے مہار چھوڑنا ہے یا ریگولیٹ بھی کرنا ہے۔
پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے قیام کے بارے میں جو معلومات سامنے آئی ہیں اس میں اس کمیٹی کے بارہ ارکان ہوں گے جس کا تقرر صدر مملکت وفاقی حکومت کی سفارش پر کریں گے اور اس اتھارٹی نے اگر فیک نیوز پر کسی کو جرمانے کی سزا سنائی تو اس فیصلے کو چیلنج صرف سپریم کورٹ میں ہی کیا جائے گا۔
ملک بھر کی صحافی تنظیموں نے 13 ستمبر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر مملکت کے خطاب کے دوران پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔











