آمنہ مفتی کا کالم اڑیں گے پُرزے: شریک جرم

- مصنف, آمنہ مفتی
- عہدہ, مصنفہ و کالم نگار
نور مقدم کیس کی تفتیش جوں جوں آگے بڑھ رہی ہے انسانیت سے ایمان اٹھتا جارہا ہے۔ عورتوں پہ ہونے والے مظالم میں جہاں اجنبی لوگ ملوث ہوتے ہیں وہیں زیادہ تر یہ جرائم جاننے والوں کے ہاتھوں سرزد ہوتا ہے۔
ایسا کیوں ہے؟ اس پہ ٹھوس ثبوت تو ریسرچ اور سائنس ہی فراہم کر سکتی ہے لیکن میرا مشاہدہ یہ کہتا ہے کہ اس کی بہت بڑی وجہ طاقت کا بگڑا ہوا توازن ہے۔
ایک عورت کو معاشرے میں کبھی بھی وہ مضبوطی اور مقام نہیں ملتا جو مرد کو ملتا ہے۔ جسمانی طور پہ کمزور ہونے کے ساتھ اسے سماجی طور پہ بھی کمزور کر دیا گیا ہے۔
وہ عورتیں جو اپنے شوہروں، دوستوں، بھائیوں یا قریبی عزیزوں کے ہاتھوں قتل ہوئیں ان کی کیس ہسٹری دیکھیں تو ایک بڑا جذبہ عورت سے حسد کا بھی ہے۔
اکثر بھائی، جائیداد کے لالچ میں، شوہر بیوی کی خوب صورتی سے خائف ہو کر اس پہ شک کر کے اور دیگر جاننے والے بھی اسی قسم کی وجوہ سے قتل کے مرتکب ہوتے ہیں۔
اسی معاشرے میں رہتے ہوئے ہم سب اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ جب ایک مرد گھر سے نکلتا ہے تو اسے شاید اپنی حفاظت کا اتنا خوف نہیں ہوتا جتنا ایک عورت کو ہوتا ہے۔
لباس کیسا پہنا جائے، کس وقت گھر سے نکلا جائے، کن راستوں سے گزرا جائے۔ کس جگہ جانا ہے اور کہاں نہیں جانا، کن لوگوں سے ملا جائے اور کن سے نہ ملا جائے وغیرہ وغیرہ۔
یہ تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے باوجود بھی عورت محفوظ نہیں، جبکہ مرد لاپروائی اختیار کرنے کے باوجود نسبتاً کم حادثات کا شکار ہوتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وجہ یہ ہے کہ عورتوں کو مردوں ہی سے خطرہ ہے۔ خطرہ مردوں کو بھی مردوں ہی سے ہے لیکن مرد کو آسان ہدف نہیں سمجھا جاتا۔
صرف عورتیں ہی نہیں بچے بھی اسی خطرے کا شکار ہیں۔ نور مقدم کیس سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ عورت پہ ظلم کرنے، اسے تشدد کا نشانہ بنا کے قتل کرنے کے لیے کسی خاص طبقے سے تعلق رکھنا ضروری نہیں۔
عورت سے نفرت ایک ایسی بیماری ہے جو کسی کو بھی، کبھی بھی آ لیتی ہے۔ ایک بزرگ شاعر کی نظم میں ایک بچے کا ذکر ہے جو اپنی ماں کو مار پیٹ کے بھوکا سکول چلا جاتا ہے۔ ماں اس کے پیچھے کھانا لے کر جاتی ہے۔
جانے وہ اس نظم میں کیا بتانا چاہتے تھے لیکن عوام نے اسے ہمیشہ ممتا کا ایک روپ سمجھا۔ یہ ممتا کا روپ نہیں تھا۔ یہیں سے وہ عفریت پلنا شروع ہوتا ہے جو آگے چل کے کسی عورت کے قتل کا مرتکب ہوتا ہے۔
نور مقدم کیس میں ایک اہم بات اور ہے اور وہ یہ کہ سوشل میڈیا نے رائے عامہ کو ہمارے سامنے لا کے معاشرے کی اجتماعی نفسیات کی ایک تفصیلی تصویر پیش کر دی ہے۔
اس سانحے کے ہر پہلو پہ بحث کی گئی مگر یہ سوال وہیں کا وہیں ہے کہ اس بے چاری کو اتنی بےرحمی سے قتل کیوں کیا گیا؟
وہ قتل تو ہو گیا۔ اب اس قتل کو کیسے روکا جائے جو 20 جولائی سے آج تک روز کیا جارہا ہے؟
زندہ لوگوں کا احترام نہ کرنے والے ہم لوگ ایک ایسی خاتون کے بارے میں، جو اب اس دنیا میں نہیں رہی، اس قدر زہر اگل سکتے ہیں؟
یہ میرے سان و گمان میں نہ تھا۔ یہاں آ کے مجھے اپنے سوال کا جواب بھی مل جاتا ہے اور اگلے کئی سوال بھی اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔
ملزم ظاہر کو تو نور سے عدوات تھی لیکن یہ سب اجنبی لوگ جو کبھی زندگی میں ان سے ملے بھی نہیں ان کے لیے جو زبان استعمال کر رہے ہیں، صاف ظاہر کرتی ہے کہ ملزم اور ان لوگوں کی سوچ ایک ہے۔

آمنہ مفتی کے دیگر کالم پڑھیے
جس طرح ظاہر کا خاندان اور اس کے ملازمین اس جرم میں شریک تھے اسی طرح یہ سب بھی کسی نہ کسی طرح ان ہی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
مقدمے کا فیصلہ تو عدالت جو کرے گی وہ کرے گی لیکن ایک بات کھل کے سامنے آ چکی ہے کہ ہم من حیث القوم مظلوم کو مطعون کرنے کی قبیح عادت میں مبتلا ہیں۔ یہ سوچے بغیر کہ حادثہ کسی کے بھی ساتھ کبھی بھی ہو سکتا ہے۔
نور مقدم کیس نے ان نام نہاد دوستوں کی قلعی بھی کھول دی جو کسی انسان کی زندگی سے زیادہ اپنے تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں۔
اجتماعی بےحسی اور بد زبانی کا ایک اور مظاہرہ دیکھتے ہوئے میں سوچتی ہوں کہ یہ سلسلہ کہاں جا کے رکے گا؟
جانے کتنی قرت العینیں، کتنی زینبیں، کتنی نور اس سوچ کی بھینٹ چڑھیں گی۔ جانے کب تعصب کی یہ عینک اترے گی؟ جانے نفرت کی یہ دھند کب چھٹے گی اور کب ہم کسی جرم کو جرم سمجھ کر دیکھیں گے۔
یہ سوچے بغیر کہ جرم کا شکار ہونے والی کیوں، کیسے، اور کب اس جگہ موجود تھی۔













