پاکستان پر پابندیوں سے متعلق ٹرینڈ افغانستان میں 20 سال کی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش ہے: معید یوسف

فواد اور معید

،تصویر کا ذریعہAPP

پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف ٹرینڈز سے متعلق رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف دانستہ طور پر جھوٹی خبروں پر مبنی مہم چلائی جا رہی ہے جس میں سرِفہرست انڈیا ہے اور اب افغان حکام بھی اس میں ملوث ہیں۔

بدھ کے روز اسلام آباد میں ہونے والی پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کا کہنا تھا کہ ’پاکستان پر پابندیاں لگانے سے متعلق ٹرینڈ جعلی ہے اور اسے افغانستان کے چند ریاستی اہلکاروں کی جانب سے بھی ٹویٹ کیا گیا، جو افسوس ناک ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ 'افغانستان میں 20 سال کی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوششیں ہو رہی ہیں اور پاکستان پر پابندیوں سے متعلق ٹرینڈز چلائے جا رہے ہیں۔ یہ وہی ای یو ڈس انفو لیب کی کڑیاں ہیں جو ہمیں یہاں نظر آ رہی ہیں۔'

خیال رہے کہ گذشتہ برس یورپی یونین میں فیک نیوز کے حوالے سے کام کرنے والے تحقیقی ادارے 'ای یو ڈس انفو لیب' کی رپورٹ میں گذشتہ 15 سال سے قائم انڈیا نواز نیٹ ورک پر کی جانے والی تحقیق میں یہ معلومات سامنے آئی تھیں کہ کس طرح 'ڈس انفارمیشن' اور 'انفلوئنس' آپریشن نے اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں اپنے جال بچھائے جس کی مدد سے 'انڈین بیانیے کو فروغ' اور 'پاکستان کو عالمی طور پر بدنام' کرنے کی کوشش کی گئی۔

دوسری جانب وفاقی وزیرِ برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے دعویٰ کیا کہ ’پاکستان کے خلاف بڑے سوشل میڈیا ٹرینڈز کی معاونت انڈیا کی جانب سے کی گئی ہے اور پاکستان کے اندر جو سب سے بڑا پلیئر ہے جس نے انڈیا کی مدد کی ہے وہ پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) ہے۔‘

انھوں نے پاکستان پر پابندیوں سے متعلق حالیہ ٹرینڈ کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 'گذشتہ کچھ دنوں سے ’سینکشن پاکستان‘ نامی ٹرینڈ میں ’20 ہزار ٹویٹس پی ٹی ایم نے کی ہیں اور کل آٹھ لاکھ ٹویٹس کی گئی ہیں‘۔

انھوں نے مزید کہا ’جس میں افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح، قومی سلامتی کے مشیر محب اللہ اور وزیرِ دفاع جنرل بسمہ اللہ محمدی نے بھی ٹویٹ کی ہیں۔‘

رپورٹ

،تصویر کا ذریعہCourtesy GoP

پاکستان کے حکومتی عہدیداروں کی جانب سے یہ پریس کانفرنس ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب افغانستان میں بگڑتی صورتحال کے تناظر میں الزام تراشی کا ماحول بن رہا ہے۔ ایسے میں سوشل میڈیا پر 'سینکشن پاکستان' یعنی پاکستانی پر پابندی کا ہیش ٹیگ بھی وقتاً فوقتاً ٹرینڈ کر رہا ہے۔

جب بی بی سی کی جانب سے ایک حالیہ تحریر میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی تھی کہ اس ہیش ٹیگ کو افغانستان کے پس منظر میں پاکستان کے خلاف کس نے سب سے پہلے استعمال کیا تو معلوم ہوا تھا کہ یہ کسی انڈین یا افغان شہری کا شروع کردہ نہیں بلکہ کینیڈا میں بیٹھے ایک سابق کینیڈین وزیر کرس الیگزینڈر نے شروع کیا تھا۔

تاہم معید یوسف کا کہنا تھا کہ 'بوٹس کی مدد سے اس طرح کے ٹرینڈز چلائے جاتے ہیں اور ہمارے دونوں ہمسایہ ریاستوں کے اہلکار اور ان سے منسلک اکاؤنٹس کی مدد سے یہ ٹرینڈز چلائے جاتے ہیں۔'

معید یوسف کا مزید کہنا تھا کہ وہ ابھی امریکہ کے دورے پر تھے اور وہاں سرکاری سطح پر پاکستان پر پابندیوں سے متعلق کوئی بات نہیں کی گئی۔

انھوں نے وہ پانچ موضوعات بھی بتائے جن کے حوالے سے سب سے زیادہ جھوٹی خبریں چلائی جا رہی ہیں۔ ’ان میں پاکستان فوج مخالف، بلوچ اور پشتون علیحدگی پسندوں کی حمایت میں، سی پیک پر براہ راست نشانہ، پاکستان کو فیٹف کی بلیک لسٹ میں ڈالنے سے متعلق اور افغانستان میں تمام افراتفری کی وجہ پاکستان ہے، شامل ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ 'اب ہم تجزیے اور اعداد و شمار کی بنیاد پر بات کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے کہ کیسے پاکستان کے خلاف جھوٹی خبروں پر مبنی مہم چلائی جاتی ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ایک تاثر بھی دیا جا رہا ہے کہ پاکستان افعانستان میں طالبان کی حمایت کر رہا ہے لیکن اگر آپ نقشہ اٹھا کر دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ اس میں پاکستان کا کردار ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ جہاں طالبان کے قبضے جاری ہیں وہاں تک رسائی کے لیے پاکستان سے کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں۔'

فواد چودھری

’پی ٹی ایم کی جانب سے ریاست پاکستان کے خلاف 150 ٹرینڈز چلائے گئے‘

فواد چوہدری اس پریس کانفرنس کے دوران پشتون تحفظ ممومنٹ پر سب سے زیادہ ریاست مخالف ٹرینڈز چلانے کا الزام لگاتے دکھائی دیے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’پی ٹی ایم کی جانب سے 150 ٹرینڈ ریاست پاکستان کے خلاف چلائے گئے، جن میں 37 لاکھ ٹویٹس کی گئیں۔

'دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی ایم نے بلوچ علیحدگی پسندوں کی متحرک انداز میں معاونت کی اور 14 اگست 2020 کو ان کی جانب سے بلوچستان یکجہتی دن کا ٹرینڈ چلایا گیا جس پر انڈیا سے ڈیڑھ لاکھ ٹویٹس کی گئیں۔'

انھوں نے دعویٰ کیا کہ 'فوج مخالف اکثر ٹرینڈز کو شروع پی ٹی ایم نے کیا اور پھر اس کی معاونت انڈیا کی جانب سے کی گئی۔‘

فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ ’یورپی یونین ڈِس انفو لیب کی جانب سے جاری کردہ انڈین کرونیکلز نامی رپورٹ میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ کیسے 845 ویب سائٹس جو صرف پاکستان کے خلاف جھوٹی خبریں پھیلاتی ہیں اور ان کا براہ راست تعلق انڈیا کی سرکاری ایجنسی اے این آئی سے تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایک دلچسپ ٹرینڈ دکھائی دے رہا ہے اور وہ یہ کہ انڈیا سے پی ٹی ایم کے رہنماؤں کے مہم بھی ڈیزائن کی جا رہی ہے اور ساتھ ہی ان کے وکی پیڈیا پیجز بھی چلا رہے ہیں۔‘

فواد چوہدری نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 'کریمہ بلوچ جو کینیڈین شہری تھیں اور دسمبر 2020 میں ان کی ہلاکت سے متعلق اونٹاریو پولیس نے تحقیقات کے بعد بتایا کہ ان کی موت ڈوبنے کے باعث ہوئی تھی۔ اس وقت بھی پی ٹی ایم کی جانب سے 20 ہزار ٹویٹس کی گئی تھیں اور یہ ٹرینڈ چلایا گیا تھا کہ ریاست نے کریمہ بلوچ کو ہلاک کیا۔‘

انھوں نے الزام لگایا کہ ’ایک اور دلچسپ بات جو سامنے آئی وہ یہ ہے کہ اسرائیل کی جانب سے چلائے جانے والے ٹرینڈ میں جے یو آئی ایف اور پاکستان مسلم لیگ ن کے سوشل میڈیا ٹیمز نے بھی حصہ لیا۔’

ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کی جانب سے کی گئی ٹویٹس کو انڈیا سے حمایت ملی، جب ٹی ایل پی نے اپنی مہم شروع کی تو 15 گھنٹوں میں چار لاکھ ٹویٹس ہوئیں، جن میں سے ان کے طابق ایک بڑا حصہ انڈیا سے کی جانے والی ٹویٹس کا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’نور مقدم کیس میں کارروائی جاری ہے اور تمام مجرمان کو پکڑا جا چکا ہے لیکن سوشل میڈیا پر پوری مہم چلائی گئی کہ پاکستان خواتین کے لیے محفوظ ملک نہیں ہے۔‘