گوجرانوالہ میں بیوی کا چیلنج قبول کر کے اداکاری کرنے والا شخص اغوا کے مقدمے میں گرفتار

پولیس
،تصویر کا کیپشنثمینہ اور رضیہ پولیس کی حراست میں ہیں
    • مصنف, احتشام احمد شامی
    • عہدہ, صحافی، گوجرانوالہ

’تم اچھی اداکاری نہیں کر سکتے‘۔ بیوی کا یہ چیلنج قبول کر کے اداکاری کی ویڈیو بنوانے والے ندیم بھٹی اغوا کے مقدمے میں گرفتار تو ہوگئے لیکن اس کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے؟

پولیس کے مطابق رضیہ نامی خاتون نے اپنی دوست ثمینہ کے ہمراہ اس کے بھائی کے مبینہ اغوا کی داستان سناتے ہوئے ایک ویڈیو کلپ پولیس کو پیش کیا تو انھوں نے اس درخواست پر رضیہ کے سابق شوہر اور بیٹے کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کر لیا۔

تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس کیس کو جس زاویے سے دیکھ رہے تھے معاملہ اس کے بالکل برعکس نکلا اور اب دونوں خواتین کو جوڈیشل ریمانڈ پر سینٹرل جیل بھجوا دیا گیا ہے جبکہ ویڈیو کلپ میں نظر آنے والے شخص عامر شہزاد کا بھی مقامی عدالت سے جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے۔

وقوعہ کا پس منظر کیا ہے؟

رضیہ کی شادی اٹھارہ سال قبل نوشہرہ سانسی گوجرانوالہ کے ندیم بھٹی سے ہوئی تھی اور دونوں کے ہاں تین بچے بھی پیدا ہوئے۔

ندیم بھٹی نے پولیس کے روبرو بیان قلمبند کرواتے ہوئے بتایا کہ ایک روز ان کی بیوی نے انھیں چیلنج دیا کہ وہ اچھی ایکٹنگ نہیں کر سکتے۔

’میں نے اس کا دل جیتنے اور اس کے سامنے خود کو اچھا ایکٹر ثابت کرنے کے لیے ایک ویڈیو کلپ بنانے کا فیصلہ کیا۔‘

اداکاری کے دوران رضیہ کی سہیلی ثمینہ کوثر کے بھائی عامر شہزاد کو رسیوں سے باندھا گیا، اُنھیں زخمی دکھانے کے لیے ان کے سر اور چہرے پر کیچپ لگایا گیا۔

ندیم بھٹی اس کلپ میں جعلی پستول دکھا کر مغوی دکھائے جانے والے عامر شہزاد کو جان سے مار دینے کی دھمکی دے کر اُن سے ایک سٹامپ پیپر پر دستخط کرواتے ہیں جبکہ یہ ویڈیو کلپ رضیہ نے خود بنایا۔

کلپ میں کیا ہے؟

کلپ میں دکھایا گیا کہ ایک نوجوان جو کہ اغوا ہو چکا ہے اس کی جائیداد ہتھیانے کے لیے اغوا کار اس سے سٹامپ پیپر پر دستخط لے لیتے ہیں۔

بظاہر یہ کلپ ان سب نے آپس میں بانٹا اور موقع پر ندیم اور مبینہ مغوی عامر شہزاد کی اداکاری کی داد و تحسین کی گئی اور معاملہ ختم ہو گیا۔

اداکاری کرتے ہوئے ندیم بھٹی اس بات سے لاعلم تھے کہ کچھ عرصہ بعد یہی ویڈیو کلپ اُن کے خلاف استعمال کیا جائے گا اور پھر ایسا ہی ہوا۔

دونوں میاں بیوی میں لگ بھگ آٹھ ماہ پہلے علیحدگی ہوگئی، رضیہ نے عدالت میں کیس کر کے خلع حاصل کر لیا اور دوسری شادی کر لی۔

ایس پی صدر عبدالوہاب نے بتایا کہ ملزمہ رضیہ نے مبینہ طور پر سابقہ شوہر کو بلیک میل کر کے اس کا مکان ہتھیانے کا منصوبہ تیار کیا جس میں اس نے اپنی سہیلی ثمینہ کوثر اور اس کے بھائی عامر شہزاد کو شامل کیا۔

ثمینہ کوثر نے کامونکی پولیس کو بتایا کہ اُن کے بھائی عامر شہزاد کو اغوا کر لیا گیا ہے اور اگلے ہی روز اُنھوں نے پولیس کو ایک یو ایس بی میں موجود ویڈیو کلپ دکھایا اور یہ دعویٰ کیا کہ کوئی نامعلوم شخص اُن کے گھر کے دروازے پر آ کر یہ یو ایس بی رکھ گیا ہے۔

سپرانٹینڈنٹ پولیس کے بقول اس یو ایس بی میں وہی کلپ تھا جوکہ دو سال پہلے تیار کیا گیا تھا لیکن خاتون کی طرف سے پولیس کو یہ بتایا گیا کہ یہ کلپ اغوا کاروں نے بھیجا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

خاتون نے پولیس کے روبرو الزام لگایا کہ اُن کے بھائی کو ندیم بھٹی اور اُن کے بیٹے علی رضا نے اغوا کیا ہے۔ ندیم بھٹی خاتون کی سہیلی رضیہ کے سابقہ شوہر ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق خاتون رضیہ بی بی طے شدہ منصوبے کے مطابق جعلی ویڈیو کو استعمال کر کے اپنے سابق شوہر ندیم بھٹی اور اپنے بیٹے علی رضا کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کروانے میں کامیاب ہو گئیں۔

ملزم عامر شہزاد
،تصویر کا کیپشنملزم عامر شہزاد

پولیس کی تفتیش میں انکشاف کیا ہوا؟

پولیس حکام کے بقول پولیس اس کیس کو جس زاویے سے دیکھ رہی تھی معاملہ اس کے بالکل برعکس نکلا۔

پولیس نے خاتون کے سابق شوہر ندیم بھٹی کو جب حراست میں لیا گیا تو وہ زار و قطار رونے لگے۔ پولیس کے مطابق اُن کا موقف تھا کہ وہ اس ایک ویڈیو کلپ کی بنیاد پر بلیک میل ہو رہے ہیں اور دعویٰ کیا کہ وہ چار بار اپنی سابقہ بیوی کو 50 پچاس ہزار روپے کی رقم دے چکے ہیں۔

پولیس کے مطابق اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ اب خاتون مکان اپنے نام کروانا چاہتی ہیں جس کے لیے اُنھوں نے یہ اقدام اٹھایا اور اغوا کا ’ڈرامہ رچا‘ کر اپنے ہی سابق شوہر کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا۔

سپرانٹینڈنٹ پولیس عبدالوہاب نے بتایا کہ پولیس نے اس ویڈیو کلپ کو فارینزک لیب سے چیک کروایا تو یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ تازہ کلپ نہیں بلکہ دو سال پرانا ہے جس سے ندیم بھٹی کی بے گناہی ثابت ہو گئی۔

پولیس نے اس واقعے کی ماسٹر مائنڈ رضیہ، اُن کی سہیلی ثمینہ اور ثمینہ کے بھائی عامر شہزاد کو گرفتار کر کے ان تینوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

گوجرانوالہ پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دورانِ تفتیش یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ رضیہ اپنے سابق شوہر کو اغوا کے مقدمے میں پھنسا کر اُن کا مکان ہتھیانا چاہتی تھی اور یہ بات بھی ثابت ہو گئی ہے کہ ویڈیو بنانے کے دوران ملزمہ نے مصنوعی پستول اور چہرے پر خون دکھانے کے لیے کیچپ کا استعمال کروایا تھا۔

عامر شہزاد
،تصویر کا کیپشنوہ ویڈیو جس میں عامر شہزاد کو مغوی دکھایا گیا تھا

’ایسا کیس کبھی نہیں دیکھا‘

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کیس سنگین نوعیت کا ہے اور اگر خاتون اپنے سابقہ شوہر کو مقدمے میں پھنسانے میں کامیاب ہو جاتیں تو یقینی طور پر اُن کا کئی مہینوں تک جیل سے باہر آنا ناممکن ہوتا۔

ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق نائب صدر شاہد اسلام ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ان کے 22 سالہ دورِ وکالت میں کئی عجیب و غریب کیس گزرے ہیں لیکن دو سال پرانی ویڈیو کو استعمال کر کے سابقہ شوہر کو پھنسانا اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے۔

اس واقعے کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ شوہر سے طلاق کے بعد رضیہ نے اپنے خاوند ندیم بھٹی کا گھر نہیں چھوڑا بلکہ اپنے دوسرے شوہر کاشف اقبال کاشی کے ساتھ مبینہ طور پر اس مکان پر قابض ہوگئیں اور پہلے شوہر ندیم بھٹی کی آمد و رفت کو گھر کے ایک بیرونی کمرے یعنی بیٹھک تک محدود کر دیا۔

ندیم بھٹی کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے ہی گھر کے اندر نہیں جا سکتے اور بچوں نے بھی ملنا ہو تو اُن کے کمرے میں آ جاتے ہیں اور یہ کہ اُن کی سابقہ بیوی اور اُن کے دوسرے شوہر نے دھمکی دی تھی کہ ’اگر کوئی قانونی کارروائی کرنے کی کوشش کی تو جان سے ہاتھ دھو بیٹھو گے۔‘

ایس پی صدر عبدالوہاب نے بتایا کہ فرضی وقوعہ بنا کر جعلی مقدمہ درج کروانے کی پاداش میں درج ہونے والے مقدمے میں ملزمہ رضیہ کے دوسرے شوہر اور ملزمہ ثمینہ کے شوہر کو بھی نامزد کیا گیا ہے کیونکہ ’شوہروں کی ملی بھگت کے بغیر دونوں خواتین اتنا بڑا قدم نہیں اٹھا سکتیں۔‘