پاکستان میں گرمیوں میں گیس کی لوڈ شیڈنگ: گیس تنصیبات کی بحالی کا کام یا حکومتی بد انتظامی کا نتیجہ؟

گیس لوڈ شیڈنگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, تنویر ملک
    • عہدہ, صحافی، کراچی

کراچی سے متصل بلوچستان کے صنعتی علاقے حب میں موٹرسائیکل اور اس کے پارٹس بنانے والے ایک کارخانے میں گذشتہ دس روز سے سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کی جانب سے فراہم کی جانے والی گیس کی سپلائی میں کمی نوٹ کی جا رہی ہے۔

کارخانے کے مالک نوید میمن کے مطابق گیس کا پریشر انتہائی کم ہے جس کی وجہ سے کارخانے کی پیداواری صلاحیت بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اُن کی فیکٹری میں ڈرائی کاسٹنگ کے لیے گیس کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ سکریپ ایلومینیم کو پگھلا کر نئے سپیئر پارٹس بنانے کے کام میں بھی گیس کی ضرورت پڑتی ہے۔

نوید میمن کے مطابق اُن کے صنعتی یونٹ میں 1200 افراد کام کرتے ہیں، تاہم گیس کے پریشر میں کمی اور کچھ دنوں سے اس کی بندش کی وجہ سے یہ افرادی قوت اپنی پوری استعداد پر کام نہیں کر پا رہی۔

انھوں نے بتایا کہ اگرچہ فرنس آئل اور بجلی کے استعمال سے بھی وہ یہ کام کر سکتے ہیں لیکن ایسا کرنے سے گیس کے مقابلے میں اُن کی کاروباری لاگت بڑھ جائے گی جو نقصان کا باعث ہو سکتی ہے۔

گیس کی سپلائی میں کمی اس وقت پاکستان میں ایک بحران کی سی صورت اختیار کر چکی ہے۔

اس شعبے سے منسلک افسران کے مطابق ملک میں گیس کی پیداوار کے سب سے بڑے صوبے سندھ کے بعد پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بھی گیس کی سپلائی کم کر دی گئی ہے۔

ملک میں گیس کی سپلائی کم ہونے کے وجہ سے جہاں گھریلو صارفین کو گیس کے کم پریشر کا سامنا ہے وہیں صنعتی صارفین بھی اس صورتحال سے متاثر نظر آ رہے ہیں۔

پاکستان میں عموماً موسم سرما میں گیس کی لوڈ شیڈنگ دیکھنے میں آتی ہے اور اس کی طلب کو پورا کرنے کے لیے لوڈ مینیجمنٹ کی تیکنیک اپنائی جاتی ہے۔ تاہم موسم گرما میں گیس کی کمی شاذ و نادر ہی دیکھی جاتی ہے۔

گیس کی سپلائی میں کمی کی وجہ سے ان بجلی گھروں کی پروڈکشن بھی متاثر ہوئی ہے جو گیس سے بجلی بناتے ہیں۔ اگرچہ صورتحال کے پیش نظر حکومت کا فرنس آئل کے ذریعے بجلی پیدا کر کے اس کمی کو پورا کرنے کا منصوبہ ہے مگر فرنس آئل سے مہنگی بجلی پیدا ہوتی ہے۔

چولہا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گیس کی سپلائی کب سے منقطع ہے؟

پاکستان کے صوبہ سندھ اور بلوچستان میں گیس کی سپلائی گذشتہ کئی روز سے متاثر ہے۔ یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا تھا جب سندھ اور بلوچستان میں گیس سپلائی کے ذمے دار ادارے سوئی سدرن گیس کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ میر پور خاص گیس فیلڈ کی سالانہ بحالی کے کام کے باعث بندش کی وجہ سے گیس کی سپلائی کم ہو گئی ہے۔

اس گیس فیلڈ سے 170 سے 200 ایم ایم سی ایف گیس سپلائی کی جاتی ہے۔

گیس سپلائی میں کمی کی وجہ سے سندھ اور بلوچستان میں سی این جی کے شعبے اور غیر برآمدی شعبے کو گیس کی سپلائی بند کر دی گئی تھی جو 29 جون کو بحال ہونی تھی تاہم گیس کی سپلائی میں بہتری نہ ہونے کی وجہ سے ایس ایس جی سی نے ایک بار پھر ان شعبوں کو گیس کی سپلائی مزید ایک ہفتے کے لیے بند کر دی ہے۔

دوسری جانب سوئی نادرن گیس کمپنی لمٹیڈ (ایس این جی پی ایل) نے بھی 29 جون سے اپنے زیر انتظام پنجاب اور خیبر پختونخوا میں گیس کی سپلائی کی بندش کا اعلامیہ جاری کیا جس میں سی این جی اور غیر برآمدی شعبے کو گیس کی سپلائی پانچ جولائی تک منقطع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

یہ دونوں صوبے جو گیس کی سپلائی میں کمی سے محفوظ تھے اب موجودہ صورتحال کے باعث گیس کی کمی کا شکار ہو چکے ہیں۔

گیس

،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency

،تصویر کا کیپشندرآمدی گیس کے یہ ٹرمینل بحری جہاز پر ہی بنے ہوتے ہیں جنہیں فلوٹنگ سٹوریج اینڈ رجسٹریشن یونٹ (ایف ایس آر یو) کہا جاتا ہے

گیس کا بحران پیدا کیوں ہوا؟

ایس ایس جی سی کے زیر انتظام صوبوں میں گیس کے بحران کی وجہ میر پور خاص گیس فیلڈ کی بندش ہے جس نے گیس کی سپلائی کو متاثر کیا ہے تو دوسری جانب پنجاب اور خیبرپختونخوا میں اس کی کمی وجہ اینگرو کمپنی کے ایل این جی ٹرمینل کی 'ڈرائی ڈاکنگ' ہے۔

ایس این جی پی ایل نے اپنے اعلامیے میں پنجاب اور خیبر پختوا میں گیس کی کمی کی وجہ بھی ایل این جی ٹرمینل کی ڈرائی ڈاکنگ کو قرار دیا ہے۔

سرکاری ادارے کی جانب سے جاری کردہ میمورنڈم کے مطابق 29 جون سے پانج جولائی تک اینگرو ٹرمینل کی ڈرائی ڈاکنگ کی وجہ سے گیس سپلائی میں تعطل آئے گا جس کے باعث پنجاب اور خیبر پختونخوا میں سی این جی اور غیر برآمدی صنعتی شعبوں کو گیس کی سپلائی معطل رہے گی۔

سرکاری ادارے کے مطابق یہ اقدام ناگزیر تھا اور اگر یہ قدم نہ اٹھایا جاتا تو گیس کی کمی کا بحران زیادہ شدت سے محسوس ہو سکتا تھا۔

جب ایس ایس جی سی نے 29 جون کو سی این جی شعبے کو گیس کی سپلائی بحال کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے اس شعبے کو گیس کی سپلائی پانج جولائی تک منقطع کرنے کا اعلان کیا تو اس صورتحال نے مزید شدت اختیار کر لی۔

ایس ایس جی سی کے اعلان کے مطابق یہ اقدام گھریلو اور تجارتی شعبے کو گیس کی سپلائی میں دشواری کی وجہ سے اٹھایا گیا ہے۔

گیس کے ذخائر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گیس بحران سے کون سے شعبے متاثر ہیں؟

گیس سپلائی کرنے والے حکومتی اداروں کے بیانات کے مطابق گیس کی موجودہ کمی سے گھریلو اور برآمدی شعبے کے صارفین کو محفوظ رکھنے کے لیے تمام تر اقدامات بروئے کار لائے گئے ہیں۔

گیس سپلائی سے سی این جی اور غیر برآمدی صنعتی شعبہ اس وقت سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں گیس کی سپلائی مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ سیمنٹ اور فرٹیلائزز کے شعبوں کو بھی گیس کی سپلائی منقطع کر دی گئی ہے۔

پاکستان کے صنعتی و تجارتی شعبے کی وفاقی تنظیم فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ناصر حیات مگوں نے گیس بحران کی وجہ سے صنعتی شعبے کے متاثر ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اُن کے مطابق گیس کی کمی عام افراد اور صنعتی شعبے کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔

دوسری جانب کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شارق وہرہ نے حکومت کی اس پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ برآمدی شعبے کو گیس کی سپلائی جاری رہے گی۔

شارق وہرہ نے کہا ہے کہ برآمدی اور غیر برآمدی صنعتی شعبوں میں تخصیص نہیں ہو سکتی کیونکہ ہر شعبہ ایک دوسرے سے جُڑا ہوا ہے۔ اگر ایک برآمدی یونٹ کو غیر برآمدی یونٹ سے خام مال ہی نہیں ملے گا تو وہ کیسے اپنی مصنوعات تیار کرے گا؟

انھوں نے کہا کہ گیس سپلائی پورے صنعتی شعبے کو متاثر کر رہی ہے جس کی وجہ سے برآمدی مصنوعات کے آرڈرز کے مکمل ہونے کا مسئلہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

پانی سے بننے والی بجلی سب سے سستی پڑتی ہے۔

گیس کے بحران کا ذمہ دار کون ہے؟

ایس ایس جی سی کی جانب سے گیس فیلڈ کی بندش کو سالانہ بحالی کے کام کے لیے ایک روٹین قرار دیا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب ایس این جی پی ایل کی جانب سے اینگرو کے ایل این جی ٹرمینل کی بحالی کے کام کو گیس کی کمی کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔

ایف پی سی سی آئی کے صدر ناصر حیات مگوں نے گیس پروڈیوس کرنے والے ٹرمینلز کے 'غلط وقت' پر بند ہونے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے ملک میں گیس بحران کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

شارق وہرہ نے اس سلسلے میں بتایا کہ یہ سب گورننس کا ایشو ہے۔ پاور اور انرجی کے شعبوں میں بہترین انتظامی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے جو بدقسمتی سے پاکستان کے ان سرکاری اداروں میں نہیں ہے جو پاور اور انرجی سے متعلق معاملات دیکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

دوسری جانب حکومتی ذرائع کےمطابق گیس کا بحران اتنا شدید نہیں ہے کہ جس پر اتنا زیادہ شور مچایا جائے۔ ان کے مطابق ایل این جی گیس کی پیداوار کا صرف 13 فیصد ہے اور اس میں سے بھی اینگرو کے پلانٹ کی بحالی کے کام کی وجہ سے صرف چھ اعشاریہ پانچ فیصد گیس سسٹم میں چند روز کے لیے نہیں آئے گی۔

گیس کے شعبے کے وفاقی وزیر اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم رابطہ نہیں ہو پایا۔

تاہم اس شعبے کے افسران کا کہنا ہے کہ گیس میں کمی کے باوجود حکومت بجلی کی طلب کو پورا کر رہی ہے اور گیس کے بحران پر بھی چند دنوں میں قابو پا لیا جائے گا۔

تاہم وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے ایک ٹی وی شو میں گیس کی کمی پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ گیس فیلڈ کی بندش اور اینگرو ایل این جی ٹرمینل سے گیس کی فراہمی منقطع ہونے سے گیس کی کمی نوٹس کی جا رہی ہے۔