آئی جی پنجاب کا لاہور دھماکے میں ملوث خواتین سمیت 10 ملزمان کی گرفتاری کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہ@GovtofPunjabPK
وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ لاہور میں گذشتہ بدھ جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کے مکان کے نزدیک ہونے والے بم دھماکے میں 'ملوث بین الاقوامی اور مقامی کرداروں کی شناخت کر لی گئی ہے۔‘
پیر کو آئی جی پنجاب کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ لاہور کے جوہر ٹاؤن علاقے میں دھماکے کے ’صرف چار دن کے اندر اندر ملک کے مختلف علاقوں سے دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑی کے خریدار، بارودی مواد نصب کرنے والا شخص، ریکی کرنے والا شخص اور دھماکے میں ملوث تمام دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے جس میں ’ملک دشمن ایجنسی براہ راست ملوث ہے۔‘
آئی جی پنجاب انعام غنی کا کہنا تھا کہ ’مرکزی ملزم ہماری حراست میں ہے، جس کی مدد سے گاڑی خریدی گئی وہ ہمارے پاس ہے، جس نے گاڑی کی مرمت کی وہ بھی ہمارے پاس ہے۔ جس نے گاڑی میں بارودی مواد بھرا اور جس نے گاڑی کھڑی کی وہ بھی زیر حراست ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’ہمارے پاس 10 ایسے پاکستانی شہری ہیں جو دھماکے میں ملوث ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
انعام غنی کا کہنا تھا کہ خفیہ اداروں کی مدد سے جے آئی ٹی کیس کی مزید تفتیش کرے گی۔ انھوں نے واضح کیا کہ 'ملزم فورتھ شیڈول میں نہیں تھا' اور یہ کہ گاڑی چوری شدہ نہیں تھی۔
انھوں نے بتایا کہ ایک ملزم کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے اور اس کی پیدائش انڈیا میں پنجاب کی ہے۔ 'گاڑی پر لاہور کا نمبر تھا، اور بندہ پنجابی بول رہا تھا۔‘
'ایک ملزم کا تعلق ٹی ٹی پی سے'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعے میں ملوث ایک اہم ملزم کو راولپنڈی سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا۔

،تصویر کا ذریعہPSCA-CTD
دھماکے کی ایف آئی آر کے مطابق نامعلوم ملزمان نے 'بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد ایک کار میں رکھ کر دھماکہ کیا' تھا اور اب پولیس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے اس واقعے میں ملوث ایک ملزم کو راولپنڈی کے نواحی علاقے روات سے گرفتار کر لیا ہے۔
گرفتار ملزم کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے یہ وہی شخص ہے جس نے مبینہ طور پر دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی اس مقام پر کھڑی کی تھی جہاں دھماکہ ہوا۔
ایک پولیس افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا ہے کہ یہ گاڑی دھماکے سے کچھ روز قبل گوجرانوالہ سے خریدی گئی تھی۔
پولیس افسر کے مطابق ’ملزم کو سی ٹی ڈی اور فوج کے خفیہ اداروں نے موبائل لوکیشن ٹریس کر کے گرفتار کیا۔‘
حکام کے مطابق اب تک اس مقدمے میں ایک خاتون سمیت آٹھ ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ 'اب تک کی ابتدائی تفتیش اور معلومات کے مطابق ملزم کا تعلق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے گیدڑ گروپ سے بھی رہا ہے۔'
'اس کے علاوہ وہ اسی تنظیم کے محتلف گروہوں کے ساتھ بھی مختلف اوقات میں کام کرتا رہا اور متعدد بار افغانستان بھی جا چکا ہے۔'
ولیس افسر کے مطابق ملزم کی گرفتاری اس مقدمے میں پہلے سے ہی گرفتار 'مرکزی ملزم' سے کی جانے والی تفتیش کے دوران عمل میں لائی گئی ہے۔ ان کے مطابق جوہر ٹاؤن دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی مرکزی ملزم نے انھیں فراہم کی تھی اور روات سے گرفتار ہونے والا شخص یہ گاڑی جائے وقوعہ پر کھڑی کر کے آیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس حکام اس دھماکے میں 'ملک دشمن خفیہ ایجنسیوں' کے کردار کو خارج از امکان قرار نہیں دے رہے۔
'دھماکے کا ہدف قانون نافذ کرنے والے اہلکار تھے'
گذشتہ ہفتے تفتیشی اداروں کا دعویٰ تھا کہ انھوں نے دھماکے کے مرکزی ملزم کو گرفتار کیا تھا۔
تفتیشی ذرائع نے صحافی شاہد اسلم کو بتایا تھا کہ حملہ آور کا شہر میں لگے سیف سٹی کیمروں کی مدد سے پتا لگایا گیا اور ان کی گاڑی موٹروے سے لاہور داخل ہونے سے لے کر جائے وقوعہ پر کھڑی کرنے تک کی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
تفتیشی ٹیموں کو بدھ کے روز ہونے والے دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی اور ان افراد کا سراغ ملا ہے جن کے استعمال میں یہ گاڑی ماضی میں رہی ہے۔ حکام کے مطابق یہ گاڑی چھ سے سات مختلف افراد نے 'اوپن لیٹر' پر حاصل کی اس لیے سرکاری طور پر اس کی ملکیت اب بھی پہلے مالک کے نام ہے کیونکہ جن لوگوں کے زیر استعمال یہ گاڑی رہی انھوں نے اس کو باقاعدہ اپنے نام ٹرانسفر نہیں کروایا۔
یہ بھی پڑھیے
سی ٹی ڈی کے تفتیشی ذرائع کے مطابق گاڑی کے پہلے مالک کا تعلق حافظ آباد سے ہے جبکہ یہ 2009 سے اب تک جن لوگوں کی ملکیت میں رہی ہے ان میں پولیس کے ایک سب انسپکٹر اور ایک وکیل بھی شامل ہیں۔
اس واقعے میں درج مقدمے میں دہشتگردی ایکٹ کی دفعات شامل ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ اس حملے میں پولیس اہلکار سمیت تین افراد ہلاک اور کم از کم 24 افراد زخمی ہوئے تھے۔
جوہر ٹاؤن میں ہونے والا دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی گونج سے قریبی علاقے میں واقع گھروں اور گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے تھے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ 'دھماکہ کے نتیجے میں جائے وقوعہ پر گہرا گڑھا پڑ گیا ہے۔۔۔ گھروں کے اندر اور باہر گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔'
دھماکے کے بعد جائے وقوعہ پر موجود پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) انعام غنی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی تھی کہ یہ کار بم دھماکہ تھا جس کا 'ہدف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تھے۔'
جس جگہ دھماکہ ہوا وہ جگہ کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی رہائش گاہ سے قریب تھی۔
بورڈ آف ریونیو سوسائٹی، جہاں یہ واقعہ پیش آیا، کے ایک رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا تھا کہ حافظ محمد سعید کا یہ گھر تقریبا 15 سال قبل تعمیر ہوا تھا اور وہاں تک جانے کے لیے تین مختلف راستے یا گلیاں ہیں جہاں پر پولیس اور ان کے اپنے سکیورٹی اہلکار مسلسل تعینات رہتے ہیں۔
ان کے مطابق حافظ سعید کے گھر تک جانے والی مرکزی گلی میں دو پولیس چیک پوسٹیں ہیں جن میں سے ایک بالکل حافظ سعید کے گھر کے سامنے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکہ ان کے گھر کی طرف جانے والے راستے پر لگی پہلی چیک پوسٹ کے قریب ہوا کیونکہ ڈرائیور گاڑی اس سے آگے لے جا ہی نہیں سکتا تھا۔
ان کے مطابق 'جہاں دھماکہ ہوا وہاں اور حافظ سعید کے گھر کے درمیان محض 100 سے 150 میٹر کا فاصلہ ہو گا۔'











