پاکستان کی جی ڈی پی: معاشی ترقی کے چار فیصد تک بڑھنے کا حکومتی دعویٰ، حقیقت یا اعداد و شمار کا ہیر پھیر؟

معیشت، جی ڈی پی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, تنویر ملک
    • عہدہ, صحافی، کراچی

پاکستان کی وفاقی حکومت کی جانب سے موجودہ مالی سال میں ملکی معیشت کے تقریباً چار فیصد کی شرح سے بڑھنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ موجودہ مالی سال کے اختتام سے تقریباً ایک مہینہ پہلے وفاقی حکومت نے ملکی معیشت کی شرح نمو کے عبوری اعداد و شمار جاری کیے ہیں جو وفاقی سطح پر کام کرنے والی نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے جاری کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ ملکی معاشی ترقی کے موجودہ مالی سال میں تقریباً چار فیصد کی رفتار سے بڑھنے کا دعویٰ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب تحریک انصاف کی حکومت کو اپنے سیاسی مخالفین کی جانب سے ملکی معیشت تباہ کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔

حزب اختلاف کی سب سے بڑی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور حکومت کے اختتام پر جی ڈی پی کی شرح پانچ فیصد سے زیادہ تھی تاہم موجودہ حکومت کے پہلے دو مالی برسوں میں جی ڈی پی کی شرح میں کمی دیکھی گئی اور گذشتہ سال یہ شرح منفی چار فیصد رہی جس کی ایک وجہ کورونا وائرس سے معاشی سرگرمیوں میں تعطل اور سست روی بتائی گئی۔

تاہم اس مالی سال میں معاشی ترقی میں تقریباً چار فیصد ترقی کا دعویٰ نہ صرف حکومت اور اس کے اپنے اداروں کے مقررہ کردہ اہداف سے زیادہ ہے بلکہ اس نے عالمی مالیاتی اداروں کے تخمینوں کو بھی مات دے دی ہے۔

پاکستان میں معیشت کے ماہرین بھی اس ملکی معاشی ترقی میں تقریباً چار فیصد ترقی کو حیران کن قرار دیتے ہیں اور اسے ملکی معیشت کی اصل صورتحال سے متضاد بتاتے ہیں۔

ان ماہرین کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے ’کیونکہ گذشتہ تین سالوں میں معاشی ترقی بہت نیچے چلی گئی تھی اس لیے ملکی معیشت میں ہونے والی کم ترقی کا بیس ایفکٹ بہت بڑا نظر آرہا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

ملکی معاشی، جی ڈی پی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جی ڈی پی کی شرح نمو اور ملکی و غیر ملکی تخمینے: ’یہ حیران کن ہے‘

نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے رواں مالی سال میں جی ڈی پی کے تقریباً چار فیصد تک بڑھنے کے اعداد و شمار حکومت کی جانب سے مقرر کردہ جی ڈی پی کے ہدف سے تقریباً دوگنا ہے۔

حکومت نے مالی سال کے شروع میں جی ڈی پی کا ہدف 2.1 فیصد مقرر کیا تھا جب ملکی معیشت گذشتہ سال منفی ہو گئی تھی۔

تاہم تازہ ترین اعداد و شمار ملک کے مرکزی بینک کے اقتصادی ترقی کے تخمینے سے بھی زیادہ ہیں جس کے مطابق ملکی معیشت تین فیصد کی شرح سے اس سال ترقی کرے گی۔

حکومت کے عبوری اعداد و شمار نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف کے تخمینے کو بھی پیچھے چھوڑ دیا جس کے مطابق شرح نمو دو فیصد رہے گی جب کہ دوسری جانب عالمی بینک کے 1.5 فیصد شرح نمو کے تخمینے سے بھی حکومتی جی ڈی پی کا نمبر بہت اوپر ہے۔

ماہر معیشت ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے جی ڈی پی کے نمبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے لیے حیران کن ہے۔

انھوں نے کہا ان کے نزدیک آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے بہت کم شرح نمو کے تخمینے بھی غلط تھے کیونکہ وہ ملکی ترقی کی شرح نمو کو تین فیصد تک دیکھ رہے تھے تاہم چار فیصد کا نمبر بہت حیران کن ہے جس کی وجہ شاید بیس ایفیکٹ بھی ہے کیونکہ پچھلے برسوں میں شرح نمو کم اور منفی ہو گئی تھی اس لیے نمبر بہت بڑا نظر آ رہا ہے۔

جی ڈی پی میں تقریباً چار فیصد شرح نمو کا دعویٰ کیا صحیح ہے؟

حکومت کی جانب سے موجودہ مالی سال میں جی ڈی پی کے چار فیصد تک بڑھنے کے دعویٰ پر بات کرتے ہوئے پاکستان کے سابقہ وزیر خزانہ اور ماہر اقتصادیات ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے صحیح یا غلط ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت کے بقول لوگوں کی جانب سے زیادہ خرچ کیا گیا جو رواں سال سات فیصد سے زیادہ رہا۔

ان کے مطابق اس کی وجہ سے چیزوں کی طلب بڑھی اور اسے پورا کرنے کے لیے پیداوار زیادہ ہوئی۔

معیشت، جی ڈی پی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ڈاکٹر پاشا نے کہا کہ ایک جانب کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں سولہ فیصد اضافہ ہوا تو کیسے زیادہ خرچ کیا گیا۔

انھوں نے ایک اور پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کی جانب سے زیادہ خرچ کرنے کا نمبر دس برسوں میں بلند ترین سطح پر ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب نواز لیگ دور میں جی ڈی پی پانچ فیصد سے زیادہ کی شرح نمو پر بڑھی تھی تو اس وقت بھی لوگوں کی جانب سے خرچ کا نمبر پانچ فیصد سے کچھ زیادہ تھا جبکہ اب حکومتی اسے سات فیصد سے اوپر دکھا رہی ہے۔

یہ نمبر ایک ایسے وقت میں اوپر دکھایا گیا ہے جب لوگ کورونا وائرس کی وجہ سے مالی مشکلات کا شکار ہیں اور ان کی قوت خرید بظاہر کم ہوئی ہے۔

حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر اپنی مرضی کے اعداد و شمار جاری کر کے ملکی معیشت میں شرح ترقی کو اوپر دکھانے پر تبصرہ کرتے ہوئے حفیظ پاشا نے کہا کہ انھوں نے بتا دیا ہے کہ کس طرح لوگوں کی جانب سے کیے جانے والے اخراجات کو اوپر کی سطح پر دکھایا گیا ہے۔

انھوں نے کہا ’اس اشارے کو کافی سمجھیں۔‘

معیشت، جی ڈی پی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ماہر معیشت ڈاکٹر قیصر بنگالی نے اعداد و شمار کے صحیح یا غلط ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے کہ ’اعداد و شمار کو اپنی مرضی سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے۔‘

ان کے مطابق پاکستان میں سوائے کچھ شعبوں کے دوسروں کے اعداد و شمار کو اوسط پر لے کر اسے جی ڈی پی میں ظاہر کر دیا جاتا ہے۔ مثلاً لائیو سٹاک کے شعبے کا سروے دس سال پہلے ہوا تھا اور اس کا ہر سال کا اوسط نکال کر جی ڈی پی میں ظاہر کر دیا جاتا ہے۔

اسی طرح خدمات کے شعبے میں بینکنگ کے علاوہ دوسرے شعبوں کا شمار نہیں ہوتا ہے۔ چھوٹی صنعتوں کو اس میں شامل نہیں کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر بنگالی نے کہا ٹیکس وصولی کے اعداد وشمار کے علاوہ حکومتیں معاشی اہداف میں اپنی مرضی کرتی رہتی ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ معاشی حالات اور جی ڈی پی کا نمبر ان کے نزدیک مطابقت نہیں رکھتے۔

اشفاق حسن خان نے کہا کہ لارج سکیل مینوفیکچرنگ نے بہت زیادہ اثر ڈالا ہے، جو گذشتہ برس کورونا وائرس کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے منفی ہو گئی تھی اور اب جب اس میں اضافہ ہوا تو اس کا اثر زیادہ نظر آرہا ہے۔

حکومتی کے مطابق جی ڈی پی بڑھنے کی کیا وجہ ہے؟

ملک کی جی ڈی پی یعنی مجموعی قومی پیداوار صنعتی، زراعت اور خدمات کے شعبوں میں کارکردگی پر معلوم کی جاتی ہے۔

معیشت، جی ڈی پی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وزیر اعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں کہا کہ جی ڈی پی میں 3.94 فیصد ترقی ’ہماری کامیاب معاشی پالیسی کا نتیجہ ہے۔‘

حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق موجودہ مالی سال میں اہم فصلوں کی شرح نمو 4.65 فیصد رہی اور گندم، چاول، مکئی کی تاریخی پیداوار ہوئی۔

جبکہ گنے کی فصل کی پیداوار دوسری سب سے زیادہ پیداوار رہی۔ گندم کی پیداوار کی شرح نمو 8.1 فیصد، چاول 13.6 فیصد، گنے کی شرح نمو 22 فیصد اور مکئی کی فصل کی شرح نمو 7.38 فیصد رہی۔

عمران خان

،تصویر کا ذریعہTWITER

کپاس کی فصل کی پیداوار میں کمی ہوئی اور اس کی شرح نمو منفی 22.8 فیصد رہی۔ اور کاٹن جننگ کی پیداوار کی شرح کم ہو کر 15.6فیصد رہی۔

دوسری اجناس میں سبزیوں، پھلوں اور چارے کی پیداوار زیادہ ہوئی، اور ان کی پیداوار کی شرح 1.41 فیصد رہی۔ مویشیوں (لائیو سٹاک) کی پیداوار کی گروتھ 3.1 فیصد رہی اور جنگلات کی گروتھ 1.4 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ صنعتی شعبے کی گروتھ 3.57 فیصد متوقع ہے۔

لارج سکیل منیوفیکچرنگ کے شعبے میں جولائی سے مارچ 2021 کے اعداد و شمار کے مطابق زبردست گروتھ ہوئی اور یہ 9.29 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

اس شعبے میں ٹیکسٹائل کی گروتھ 5.9 فیصد، فوڈ بیوریجز اور تمباکو کی گروتھ کی شرح 11.73 فیصد، پیٹرولیم مصنوعات 12.71 فیصد، نان میٹالک مصنوعات 24.31 فیصد، فارماسیوٹیکلز 12.57 فیصد، کیمیکلز 11.65 فیصد، آٹو موبائلز (گاڑیوں کی صنعت) کی شرح نمو 23.38 فیصد اور کھاد کی شرح نمو 5.69 فیصد رہی۔

بجلی اور گیس کے شعبے کی گروتھ میں کمی ہوئی اور ان کی شرح نمو 22.96 فیصد ریکارڈ کی گئی ، تعمیراتی شعبے کی گروتھ میں اضافہ ہوا اور یہ 8.34 فیصد رہی۔

رواں مالی سال خدمات کے شعبے کی گروتھ 4.43 فیصد متوقع ہے۔ ہول سیل اور ریٹیل کے شعبے میں گروتھ کی شرح 8.37 فیصد رہی، ٹرانسپورٹ، سٹوریج اور مواصلاحات کے شعبے کی گروتھ میں کمی رہی اور ان کی گروتھ 0.61 فیصد ہوئی، فنانس اور انشورنس کے شعبے میں 7.84 فیصد کے ساتھ گروتھ میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ہاؤسنگ، جنرل گورنمنٹ خدمات اور دیگر نجی خدمات کے شعبوں کی گروتھ میں اضافہ ہوا، ہاؤسنگ کے شعبے میں 4.01 فیصد، جنرل گورنمنٹ خدمات 2.20 فیصد اور نجی خدمات کے شعبے میں گروتھ 4.64 فیصد رہی۔

رواں مالی سال جی ڈی پی کا کرنٹ مارکیٹ کے لحاظ سے حجم 47709 ارب روپے رہا اور اس میں گذشتہ سال کے مقابلے میں 14.8فیصد اضافہ ہوا۔

گذشتہ برس جی ڈی پی کا حجم 41556 ارب روپے تھا۔ اسی طرح ملک کی فی کس آمدنی میں بھی اضافے کا دعویٰ کیا گیا ہے جو حکومت کے مطابق ڈالر ٹرم میں اس سال 1543 ڈالر ہو گئی جبکہ وہ گذشتہ سال 1369 ڈالر تھی۔