دامن کوہ ناکے پر پولیس اہلکار، فوجی افسر کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کے پیچھے کیا کہانی ہے؟

،تصویر کا ذریعہSM Viral Post
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سوشل میڈیا پر گذشتہ روز سے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے سیاحتی مقام دامن کوہ کے راستے میں پیش آنے والے ایک واقعے کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے۔
ویڈیو میں ایک شخص کو چند پولیس اہلکاروں کے ساتھ بحث کرتے اور مشتعل ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ جہاں کچھ پولیس اہلکار سادہ کپڑوں میں ملبوس اس شخص کا غصہ ٹھنڈا کروانے کی کوشش کر رہے ہیں وہیں ماسک پہنے ایک اہلکار کو مشتعل شخص کو مخاطب کرتے سنا اور دیکھا جا سکتا ہے۔
ویڈیو میں غصے سے آگ بگولا ہونے والے شخص کا گریبان بھی پھٹا نظر آتا ہے اور وہ پولیس اہلکار پر الزام لگاتا ہے کہ اس نے انھیں تھپڑ مارا اور گریبان سے پکڑا۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس اہلکاروں اور راہگیروں کے علاوہ وہاں ایک فیملی بھی موجود ہے جو یہ سب منظر اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر تو اس واقعے کو پولیس اہلکار کے ساتھ ایک شخص کی جانب سے بدتمیزی کی مثال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ پولیس والے کا قصور صرف اتنا ہے کہ اس نے مشتعل شخص کو تفریحی مقام تک جانے سے روکا۔
تاہم یہ معاملہ اب مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ویڈیو میں مشتعل ہونے والے شخص کا تعلق پاکستانی فوج سے ہے اور وزارت داخلہ کے حکام نے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو کہا ہے کہ تحققیات کرنے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
پولیس ذرائع کے مطابق پولیس اہلکاروں کے خلاف تحقیقات ان کا محکمہ ہی کرے گا جبکہ فوجی افسر کے بارے میں انکوائری فوج کی ذمہ داری ہوگی۔
بی بی سی کا اس فوجی افسر سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ افواجِ پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر سے اس حوالے سے پوچھا گیا کہ آیا ادارہ اس واقعے کی کوئی تحققیات کر رہا ہے تاہم اب تک ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اب تک ہونے والی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی ویڈیو کے واقعات پیر کی شام افطار سے قبل پیش آئے۔ عینی شاہدین کے مطابق ویڈیو میں مشتعل ہونے والے شخص نے اپنا تعارف پاکستانی فوج کے ایک میجر کے طور پر کروایا۔
دامن کوہ کے داخلی راستے پر مامور ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ کورونا کی وبا کے باعث حکومت نے ریستوران، پارک اور سیاحتی مقامات بند کر رکھے ہیں اور اسی سلسلے میں ایک چیک پوسٹ دامن کوہ کے داخلی راستے پر بھی لگائی گئی ہے۔
اہلکار کے مطابق پیر کی شام افطار سے قبل ایک گاڑی ناکے پر آئی جس میں میجر اور ان کی فیملی سوار تھی۔ انھوں نے دامن کوہ جانے کی کوشش کی تو وہاں تعینات اہلکاروں نے انھوں ایسا کرنے سے روک دیا اور بتایا کہ کورونا کی وجہ سے عوامی مقامات بند ہیں جس کی وجہ سے انھیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
پولیس اہلکار کے مطابق اس کے بعد میجر نے ناکے سے اپنی گاری موڑ لی اور واپس جانے لگے۔

،تصویر کا ذریعہSM Viral Post
وائرل ویڈیو میں جس پولیس اہلکار کے ساتھ میجر کی تلخ کلامی ہو رہی ہے وہ دامن کوہ پر لگائے گئے پولیس ناکے کے سابق انچارج اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمد شہزاد ہیں۔ واقعے کے بعد ایس پی سٹی عمر گنڈہ پور موقعے پر پہنچے اور محمد شہزاد کو معطل کر دیا۔ تو پولیس اہلکار اور میجر کے درمیان ایسا کیا ہوا تھا کہ بات یہاں تک پہنچ گئی؟
شہزاد نے بی بی سی کو بتایا کہ کچھ دور جانے کے بعد میجر نے اپنی گاڑی موڑ کر غلط راستے سے دوبارہ ناکے کی طرف لے آئے اور ایک بار پھر دامن کوہ جانے کی کوشش کی۔ اس بار ناکے پر موجود پولیس اہلکاروں اور ان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔
شہزاد کے مطابق اسی دوران ناکے پر ایک اور گاڑی آئی، جسے وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے آگے جانے کی اجازت دے دی۔ ان کے بقول یہ گاڑی وہاں کے مقامی رہائشی کی تھی جو قریب واقع گوکینہ کے رہائشی تھے۔ ان کے مطابق گاڑی میں موجود افراد کے شناختی کارڈ دیکھ کر انھیں آگے جانے کی اجازت دی گئی۔
لیکن یہ بات فوجی افسر کو گراں گزری اور شہزاد کے مطابق وہ اس بات پر سیخ پا ہوگئے اور ناکے پر موجود پولیس اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی شروع کر دی۔
اگرچہ ویڈیو میں فوجی افسر کو یہ الزام لگاتے سنا جا سکتا ہے کہ شہزاد نے انھیں تھپڑ مارا تاہم اے ایس آئی شہزاد کا کہنا ہے کہ انھوں نے فوجی افسر پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔
تاہم جب بی بی سی نے ناکے پر موجود ایک اور اہلکار سے اس بات کی تصدیق کرنا چاہی تو انھوں نے بتایا کہ فوجی افسر کا ناکے کے انچارج کے ساتھ بھی تلخ اور نامناسب جملوں کا تبادلہ ہوا اور بات ہاتھا پائی تک اس وقت پہنچی جب اے ایس آئی نے فوجی افسر کی گاڑی کی چابی نکالنے کی کوشش کی۔
اے ایس آئی شہزاد کے مطابق وہ اس واقعے کے بارے میں تھانہ کوہسار کے روزنامچے میں رپٹ درج کرنا چاہتے تھے لیکن چونکہ انھیں معطل کر دیا گیا اس لیے وہ ایسا نہ کرسکے کیونکہ پولیس ایکٹ کے مطابق اگر کسی اہلکار کو کسی واقعے کی بنا پر معطل کر دیا جائے تو وہ اس واقعہ کے بارے میں شکایت نہیں کر سکتا۔
تو اب تک تفتیش میں کیا سامنے آیا ہے؟ ایک سینیئر پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جو ویڈیو سامنے آئی ہے، اس سے قبل فوجی افسر اور ناکے کے انچارج کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جس میں پولیس اہلکار نے میجر کی گاڑی سے چابی نکالنے کی کوشش کی۔
سینیئر اہلکار نے بتایا کہ ان کو معلوم ہوا ہے کہ پولیس اہلکار نے اس دوران نہ صرف فوجی افسر کا گریبان پکڑا بلکہ ان کو گاڑی میں بیٹھے ہوئے ہی تھپڑ بھی مارا۔ ان کے مطابق اس فعل کے بعد مزکورہ افسر اپنی گاڑی سے باہر آیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق اے ایس ائی شہزاد نے جب فوجی افسر کو ان کے گریبان سے پکڑا تو ان کی قمیض کے دو بٹن بھی ٹوٹ گئے تھے جو بعد ازاں جائے وقوعہ سے ملے ہیں۔











