مائرہ ذوالفقار کیس: ’دونوں نامزد ملزمان کرمنل ریکارڈ رکھتے ہیں‘

Facebook\Mayra Zulfiqar

،تصویر کا ذریعہFacebook\Mayra Zulfiqar

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

لاہور کے علاقے ڈیفنس میں چند روز قبل پاکستانی نژاد بیلجیم کی شہری مائرہ ذوالفقار کے قتل کے مقدمے میں نامزد دو ملزمان نے مقامی عدالتوں سے ضمانت قبل از گرفتاری کروالی ہے۔

اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم میں شامل ایک اہلکار کے مطابق قتل کے مقدمے کا ایک ملزم مقامی عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری کروا کر اس مقدمے کی تفتیش میں شامل ہو گیا ہے اور پولیس حکام ملزم سے تفتیش کرر ہے ہیں۔

تفتیشی ٹیم کے اہلکار کے مطابق ملزم کی 22 مئی تک ضمانت قبل از گرفتاری کروائی گئی ہے۔ اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ دورانِ تفتیش اگر کوئی ایسے ثبوت سامنے آئے جس سے ثابت ہوتا ہو کہ ملزم قتل کے اس مقدمے میں ملوث ہے تو پولیس عدالت سے ضمانت کی منسوخی کی درخواست بھی دائر کرسکتی ہے۔

اس مقدمے کے دوسرے نامزد ملزم نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے 14 روز کی حفاظتی ضمانت لی ہے جس کی روشنی میں پولیس ملزم کو 20 مئی تک گرفتار نہیں کرسکتی۔

یہ بھی پڑھیے

اس مقدمے میں نامزد ایک ملزم کا تعلق لاہور سے جبکہ دوسرے کا تعلق اسلام آباد ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق اس مقدمے میں نامزد دونوں ملزمان جرائم پیشہ ہیں اور ان کے ماضی کے جرائم درج ہیں یعنی وہ کرمنل ریکارڈ یافتہ ہیں۔

مقامی پولیس کے مطابق لاہور کے علاقے ڈیفنس میں 3 مئی کو قتل ہونے والی مائرہ ذوالفقار کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ لندن میں قانون کی طالبہ تھیں۔ پولیس کے بقول وہ ملازمت کے لیے پہلے لندن سے دبئی اور پھر دو تین ماہ قبل لاہور منتقل ہوئیں جہاں ان کے کلاس فیلو (نامزد ملزمان میں سے ایک) نے مبینہ طور پر جعلی نکاح نامے پر انھیں کرائے کا مکان لے کر دیا۔

مقامی پولیس کے مطابق مقتولہ کی ملاقات ملزم سے کیسے ہوئی اس بارے میں ابھی کوئی معلومات نہیں ہیں تاہم سوشل میڈیا پر ان کے اکاؤنٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی لندن میں تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں۔مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ اس بارے میں حقائق اس وقت ہی سامنے آئیں گے جب ملزم شامل تفتیش ہو گا۔

مقامی پولیس کو جو اطلاعات ملی ہیں اس کے مطابق جس گھر میں مائرہ قتل ہوئی اس کی بالائی منزل پر رہنے والی دوسری لڑکی بینک میں کام کرتی ہیں، اور دونوں کی دوستی فیس بک پر ہوئی تھی۔ مقامی پولیس کے مطابق دونوں لڑکیاں کرایہ شیئر کرتی تھیں۔

اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم نے ان سے بھی مقتولہ کے بارے میں کچھ معلومات اکٹھی کی ہیں جس کو ابھی تک مخفی رکھا جارہا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ مائرہ کی پاکستان میں موجودگی کا علم صرف اس کی والدہ کو تھا جبکہ باپ اور تین بھائیوں کو اس بارے میں علم نہیں تھا، جو اس مغالطے میں تھے کہ مائرہ دوبئی میں ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کی تفتیش کے سلسلے میں مقتولہ کے ورثا نے ابھی تک رابطہ نہیں کیا اور فی الوقت اس مقدمے کے مدعی مقتولہ کے پھوپھا ہیں۔ بی بی سی نے ان سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔

ملزم کے وکیل نے بھی اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا کہ ان کے موکل مقتولہ کے کلاس فیلو بھی رہے ہیں۔

مائرہ ذوالفقار
،تصویر کا کیپشنمائرہ ذوالفقار عارضی طور پر پاکستان میں مقیم تھیں

پولیس کی اب تک کی تفتیش کیا رہی ہے؟

اس مقدمے کے تفتیشی افسر محمد طارق کے مطابق مقتولہ مائرہ کو انتہائی قریب سے گولی ماری گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ قتل کی اس واردات میں30 بور پستول استعمال کیا گیا ہے۔ محمد طارق کے مطابق جائے حادثہ سے ملنے والے دو گولیوں کے خول فرانزک لیبارٹری کو بھجوا دیے گیے ہیں جس کی ابھی تک رپورٹ نہیں آئی۔ انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ حتمی میڈیکل رپورٹ بھی ابھی تک موصول نہیں ہوئی۔

واضح رہے کہ مائرہ کے قتل میں نامزث ایک ملزم پر سنہ 2016 میں تھانہ مارگلہ میں جو مقدمہ درج کیا گیا تھا اس میں بھی پولیس نے ملزم کے قبضے سے 30 بور کا پستول برآمد کیا تھا۔

مائرہ ذوالفقار کے مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کا کوئی عینی گواہ موجود نہیں ہے اور پولیس کو ثبوت کے طور پر وہاں سے گولیوں کے دو خول ملے ہیں۔ تفتیشی ٹیم کے اہلکار کے بقول فی الوقت یہی ایک ثبوت پولیس کے پاس موجود ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق تفتیشی ٹیم کو جائے وقوعہ کے قریبی علاقے سے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی ملی ہیں جس سے ملنے والی معلومات کے تحت اس مقدمے میں نامزد ملزمان کے بارے میں بھی تفتیش کی جارہی ہے اور اس سی سی ٹی وی فوٹیج کو پرکھا بھی جارہا ہے۔

تفتیشی ٹیم میں شامل اہلکار کے مطابق نامزد ملزمان میں سے ایک کے خلاف پہلے بھی غیر قانونی اسلحہ رکھنے، لڑائی جھگڑا کرنے اور لوگوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے مقدمات درج ہیں جن میں وہ گرفتار بھی ہوا ہے۔

اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم کے اہلکار کے بیان کے برعکس ملزم کے وکیل نے اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات ان کے علم میں نہیں ہے کہ ان کے موکل کے خلاف اس مقدمے سے پہلے بھی کوئی اور مقدمہ بھی درج ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئی ملزم کے وکیل خواجہ وسیم نے کہا کہ ان کے علم میں یہ بات بھی نہیں ہے کہ ان کا موکل کاروبار کرتا ہے یا کسی جگہ ملازمت کرتا ہے۔

ماہرہ ذوالفقار کے قتل میں ان کے موکل کے ملوث ہونے کے بارے میں خواجہ وسیم کا کہنا ہے کہ جس وقت مائرہ ذوالفقار کو قتل کیا گیا تو اس وقت ان کے موکل اپنے گھر پر موجود تھے ۔ انھوں نے دعوی کیا کہ اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج ان کے پاس موجود ہے جس سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ ان کا موکل قتل کی واردات کے وقت اپنے گھر پر موجود تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ ان کے موکل چاہتے تو وہ شامل تفتیش نہیں ہوسکتے تھے کیونکہ مقامی عدالت نے ان کی 22 مئی تک ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کر رکھی ہے۔

خواجہ وسیم کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کے موکل کا شامل تفتیش ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے موکل کا قتل کے اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کا کہنا تھا کہ قتل کے مقدمات میں بعض اوقات نامزد ملزم بھی تفتیش کے دوران ہی بے گناہ قرار پاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ قتل کی اس وارادت سے قبل بھی مقتولہ مائرہ نے ان کے موکل کے خلاف مقامی تھانے میں درخواست دی تھی جس میں یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ ملزم انھیں اغوا کرکے لے گیا اور اسے جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔

انھوں نے کہا کہ پولیس کی تفتیش کے دوران یہ بات ثابت نہیں ہوسکی اور پولیس نے مائرہ ذوالفقار کی درخواست کو نمٹا دیا۔

خواجہ وسیم کا کہنا تھا کہ ان کا موکل اور دوسرا ملزم بظاہر مقتولہ کے دوست ضرور تھے لیکن دونوں ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ان دونوں کو ایک دوسرے کا رقیب کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔

تفتیشی ٹیم کے اہلکار کا کہنا ہے کہ مائرہ ذوالفقار کے قتل کا جو مقدمہ درج کیا گیا ہے اس میں یہ کہا گیا ہے کہ دونوں ملزمان مائرہ سے شادی کرنا چاہتے تھے لیکن مائرہ نے ایسا کرنے سے انکار کردیا تھا۔

تفتیشی ٹیم کے اہلکار کے بقول اس مقدمے میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ دونوں ملزمان نے منصوبہ بندی کرکے مائرہ ذوالفقار کو قتل کیا ہے۔

ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کو جو بتایا گیا ہے اس کے مطابق ان کا موکل اور دوسرا ملزم کبھی اکھٹے مقتولہ سے نہیں ملے۔

مائرہ ذوالفقار

،تصویر کا ذریعہFacebook\Mayra Zulfiqar

اس مقدمے میں نامزد دوسرے ملزم کے بارے میں بھی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس کے خلاف بھی اسلام آباد کے دو مختلف تھانوں میں لڑائی مارکٹائی، چھینا جھپٹی اور ناجائز اسلحہ کے چار مقدمات درج ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان مقدمات میں ملزم کے گھر کا ایڈرس کبھی سیکٹر ایف ایٹ اور کبھی سیکٹر ایف الیون ہے جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے ملزم نے جو حفاظتی ضمانت حاصل کی ہے اس میں ملزم کے گھر کا پتہ اسلام آباد کے نواحی علاقے ترنول کا درج ہے۔

دوسرے ملزم کے خلاف جو مقدمات درج ہیں ان میں سے ایک مقدمے میں ملزم نے اپنے دیگر ساتھیوں سمیت سرکاری ٹی وی میں بطور اینکر کام کرنے والے شخص کی گاڑی پر فائرنگ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا تھا۔

مائرہ ذوالفقار کے قتل کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار کے مطابق ملزم ابھی تک شامل تفتیش نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا کہ چونکہ ملزم نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے حفاطتی ضمانت حاصل کرلی ہے اس لیے اس بات کا امکان ہے کہ وہ بھی جلد شامل تفتیش ہو جائیں گے۔

دوسرے ملزم کے وکیل قیصر امام نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کے موکل جلد ہی شامل تفتیش ہو جائیں گے۔ انھوں نے دعوی کیا کہ ان کے موکل وقوعہ کے وقت جائے حادثہ پر موجود نھیں تھے۔

تفتیشی ٹیم کے اہلکار کے مطابق پولیس نے مقتولہ کے زیر استعمال موبائل فون کا ڈیٹا بھی حاصل کرلیا ہے جس کی روشنی میں تفتیش کے دائرہ کار کو مزید بڑھا دیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ مقتولہ کی پاکستان اور بیرون ملک ٹریول ہسٹری بھی حاصل کر لی گئی ہے۔

ڈی آئی جی آپریشن لاہور ساجد کیانی نے قتل کے اس مقدمے کی تفتیش مقامی پولیس سے لیکر سی آئی اے کے حوالے کردی ہے۔ ڈی ایس پی رانا زاہد قتل کے اس مقدمے کی تفتیش کی نگرانی کرر ہے ہیں۔

مائرہ ذوالفقار نے قتل سے دو ہفتے قبل پولیس سے تحفظ کی درخواست دی تھی

اس سے پہلے لاہور قتل ہونے والی بیلجیم نژاد مائرہ ذوالفقار کے مقدمے میں ہونے والی پیشررفت میں معلوم ہوا تھا کہ انھوں نے اپنے قتل سے دو ہفتے قبل پولیس کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے درخواست دی تھی۔

تفصیلات کے مطابق منگل کو صوبائی دارالحکومت لاہور میں قتل ہونے والی 26 سالہ مائرہ نے یہ درخواست شہر کے تھانہ ڈیفنس بی میں درخواست دائر کی تھی۔

لاہور پولیس نے مائرہ کی جانب سے درخواست دائر کرنے کی تصدیق کی ہے۔ اس بارے میں ایس پی انویسٹی گیشن سدرہ خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس معاملے کی تفتیش کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (سی آئی اے) کے حوالے کر دی گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کیونکہ اب معاملہ سی آئی اے کے زیر تفتیش ہے لہذا وہ اس بارے میں مزید تبصرہ نہیں کرنا چاہتیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ مائرہ ذوالفقار کی جانب سے پولیس کو چند ہفتے قبل دی جانے درخواست کے حوالے سے پولیس کا میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔ اس درخواست کے متعلق پولیس کا شعبہ تعلقات عامہ کا دفتر جلد ایک بیان جاری کرے گا۔

لاہور پولیس نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ مائرہ ذوالفقار برطانوی نہیں بلکہ بیلجیئم نژاد پاکستانی ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس کیس کے چیف انویسٹیگیشن آفیسر حافظ طارق نے بتایا ہے کہ مائرہ کے پاسپورٹ کے مطابق وہ بیلجیئم کی شہری ہیں۔

مائرہ کی پولیس دی گئی درخواست میں کیا تھا؟

مائرہ کی پولیس درخواست

،تصویر کا ذریعہLahore Poilce

چھبیس سالہ مائرہ ذوالفقار کی طرف سے 20 مارچ کو لاہور کے تھانے ڈیفنس بی میں دائر کی گئی درخواست میں انھوں نے نے موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے ایک دوست نے 17 مارچ کی صبح زبردستی ان کے گھر میں گھس کر انھیں اسلحے کے زور پر اپنی گاڑی میں بٹھایا اور اغوا کرنے کی کوشش کی تھی۔

مائرہ کی جانب سے جمع کروائی گئی درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ملزم نے گاڑی میں اس کے ساتھ ریپ کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔

مائرہ نے درخواست میں موقف اپنایا تھا کہ وہ ملزم کو دھکا دے کر گاڑی سے بھاگنے میں کامیاب ہوئیں اور ان کے شور مچانے پر لوگوں کے اکٹھے ہونے کے بعد ملزم موقع سے فرار ہو گیا جبکہ اس نے مائرہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔

مائرہ کی طرف سے جمع کروائی گئی درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ملزم پہلے بھی زبردستی ان کے گھر گھس کر ان کو زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کر چکا ہے۔

مائرہ ذوالفقار نے پولیس سے ملزم کے خلاف کارروائی کرنے کے ساتھ ساتھ تحفظ فراہم کرنے کا بھی کہا تھا۔

یاد رہے کہ 26 سالہ مائرہ ذوالفقار تقریباً دو ماہ قبل لندن سے پاکستان آئی تھیں اور لاہور میں اپنی ایک دوست کے ساتھ مقیم تھیں۔ انھیں گذشتہ منگل کو نامعلوم افراد نے قتل کر دیا گیا تھا۔

مائرہ کے پھوپھا محمد نذیر کی طرف سے درج کروائی جانے والی ایف آئی آر کے مطابق مائرہ کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔ لاہور میں پولیس نے اس قتل کے الزام میں دو نوجوانوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے لیکن ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

حافظ طارق کا کہنا تھا پولیس کی ایک ٹیم اسلام آباد جبکہ دوسری ٹیم لاہور میں ہی موجود ہے اور نامزد افراد کو گرفتار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ’امید ہے کہ جلد ہی کوئی گرفتاری عمل میں آ جائے گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ابھی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آنا باقی ہے مگر ظاہری طور پر انھیں گردن میں فائر لگا ہے جو وجہ موت ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل ایس پی انویسٹیگیشن سدرہ خان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا چکے ہیں جس کے بعد مزید تفتیش جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ مائرہ کے قتل کے پیچھے کیا محرکات ہو سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مائرہ کی ایک سہیلی کو مرکزی ملزمہ کے طور پر شاملِ تفتیش کر لیا گیا ہے۔

اس کیس کی ایف آئی آر میں مدعی کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ مائرہ کو دو لڑکوں نے دھمکی دی تھی اور یہ کہ یہ دونوں نوجوان مائرہ سے شادی کے خواہشمند تھے۔

مائرہ کے پھوپھا محمد نذیر نے پولیس کو بتایا ہے کہ مائرہ ذوالفقار قتل ان کے گھر آئی تھیں اور انھیں بتایا تھا کہ انھیں ان کے دو دوستوں سے ’جان کا خطرہ ہے جو انھیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔‘

مائرہ کے پھوپھا محمد نذیر نے ایف آئی آر میں لکھوایا کہ اس پر ’میں نے مائرہ کو تسلی دی کہ میں خود دونوں لڑکوں کو سمجھاؤں گا۔‘

تاہم تین مئی کے روز مائرہ کے گھر جانے پر انھوں نے مائرہ کی خون میں لت پت لاش دیکھی۔

محمد نذیر نے ایف آئی آر میں شبہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے خیال میں یہ قتل انھی دونوں دوستوں نے ’ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعے نامعلوم افراد کے ہاتھوں کروایا ہے۔‘

محمد نذیر کا کہنا ہے کہ ’دونوں ہی دوست مائرہ سے شادی کرنا چاہتے تھے تاہم ان کی بھتیجی کسی سے بھی شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔‘

مائرہ کرائے کے مکان میں اپنی ایک سہیلی کے ہمراہ رہتی تھیں۔

پولیس دونوں ملزمان کے خلاف دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش کر رہی ہے۔

مائرہ نے برطانیہ کی مڈل سیکس یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی اور اس سے پہلے ابتدائی تعلیم ٹوِکنہیم میں ایک سکول سے حاصل کی تھی۔