کووڈ: پاکستان میں آکسیجن سیلنڈرز کتنے اور کیوں مہنگے ہوئے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عماد خالق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں کورونا وبا کی تیسری لہر میں شدت آنے کے بعد ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ بڑھتے مریضوں کے پیش نظر صحت کا نظام دباؤ کا شکار ہے اور حکومت کسی بھی بدترین صورتحال سے نمٹنے کے لیے وینٹیلیٹرز اور آکسیجن کی دستیابی کو یقینی بنانے کے اقدامات کر رہی ہے۔
چند روز قبل ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ ملک میں مریضوں کے لیے آکسیجن کا استعمال 90 فیصد تک جا پہنچا ہے۔
وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے سامنے آنے والے خدشات کے پس منظر میں پاکستان میں آکسیجن گیس اور آکسیجن سیلنڈروں کی قیمتوں میں اضافے اور ان کی قلت کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آکسیجن سیلنڈرز کیوں اور کیسے مہنگے ہو رہے ہیں؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملک میں آکسیجن گیس اور سیلنڈر کی قیمت میں اضافے کی کیا وجوہات ہے اس پر بات کرتے ہوئے پاکستان میں آکسیجن بنانے والی کمپنی ’غنی گیس‘ کے کنٹری ہیڈ بلال بٹ کا کہنا تھا کہ اس کی ایک اہم وجہ تو عالمی سطح پر کورونا کی وبا کے باعث آکسیجن کی کھپت میں بے پناہ اضافہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر بھی آکسیجن تیار کرنے سے متعلقہ خام مال کی قیمتوں میں نہ صرف اضافہ ہوا ہے بلکہ اس کی قلت بھی دیکھی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ درحقیقت پاکستان میں آکسیجن گیس کی قیمت میں تو معمولی اضافہ ہوا ہے مگر اصل قلت اور قیمت میں اضافہ آکسیجن سیلنڈرز کی قیمتوں میں ہوا ہے۔‘
ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری
بلال بٹ کہتے ہیں کہ ملک میں آکسیجن سلنڈرز کی قلت اور اس کے مہنگے ہونے کی ایک اور وجہ سرکاری اور نجی ہسپتالوں کی جانب سے آکسیجن سلنڈرز کی اضافی مانگ اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال کے باعث انھیں ذخیرہ کرنا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اس کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر آکسیجن بنانے والی کسی کمپنی نے پاس 100 سلنڈرز موجود تھے اور اس نے اپنے کسی کلائنٹ کے لیے 30 سلنڈرز مختص کر رکھے تھے، لیکن اب ملک میں وبا کی شدت میں اضافے کے بعد ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور پریشانی سے بچنے کے لیے کلائنٹ 70 آکسیجن سلنڈرز کی ڈیمانڈ کرتا ہے، اگرچہ فی الحال شاید ان کو اس کی ضرورت بھی نہ ہو، اور کمپنیوں کو اس ڈیمانڈ کو پورا کرنا پڑتا ہے۔‘
’لیکن ایسے میں اگر کوئی اور ہسپتال بھی اس سے پچاس سیلنڈرز طلب کرے گا تو کمپنی کو عالمی منڈی سے یہ مال خرید کر اسے فراہم کرے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت عالمی منڈی میں آکسیجن سیلنڈر کی قیمت پاکستانی روپے میں 40 سے 45 ہزار تک ہے جو کچھ عرصہ پہلے تک 30 ہزار تھی۔ ایسے میں کوئی بھی درآمد کرے گا تو اپنا کاروبار چلانے کے لیے منافع رکھ کر ہی آگے بیچے گا۔‘
وہ کہتے ہیں ایک اور اہم بات یہ ہے کہ عام حالات میں سیلنڈرز نہیں خریدے جاتے بلکہ گیس خریدی جاتی ہے لیکن اب انڈیا میں کورونا کی صورتحال اور وہاں آکسیجن کی قلت کے بعد پاکستان میں بھی سیلنڈرز خریدے جا رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے بتایا کہ آکسیجن سیلنڈرز پاکستان میں تیار نہیں ہوتے بلکہ انھیں باہر سے درآمد کیا جاتا ہے۔ اس وقت عالمی سطح پر بھی ان کی قیمت میں اضافہ ہو چکا ہے جس کے باعث ملک میں ان کی قیمت بڑھی ہے۔
’جس کو ضرورت نہیں ہے وہ بھی دو، تین سیلنڈر خرید رہا ہے‘
بلال بٹ کا کہنا ہے کہ انڈیا کے حالات کے پیش نظر عام صارفین اور پاکستانی عوام کی جانب سے بھی آکسیجن سیلنڈرز خرید کر گھروں میں رکھنے کے باعث مارکیٹ میں اِن کی قلت پیدا ہوئی ہے۔
’اب عام آدمی بھی خوف کے مارے ممکنہ صورتحال کے پیش نظر گھر میں دو، تین سیلنڈر خرید کر رکھ رہا ہے۔ پہلے سیلنڈرز نہیں، گیس بکتی تھی اب گیس کے سیلنڈرز بھی بک رہے ہیں۔‘
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہسپتالوں، فارمیسیز اور چھوٹی صنعتوں کو آکسیجن سیلنڈرز فراہم کرنے والی ایک نجی کمپنی کے مالک نوید بن شمس، جو گذشتہ 41 برس سے اس کاروبار سے منسلک ہیں، کا کہنا ہے کہ انڈیا کی صورتحال دیکھ دیکھ عوام بھی خوف و ہراس کا شکار ہیں اور آکسیجن سیلنڈرز خرید کر گھروں میں رکھ رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں ’جس کو آکسیجن کی ضرورت نہیں بھی تھی وہ دو، دو تین، تین سیلنڈرز خرید کر گھر میں رکھ رہا ہے۔ جس کے باعث اس کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’چھوٹے ڈسٹربیوٹرز صورتحال کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں‘
نوید بن شمس کا دعویٰ ہے کہ موجودہ صورتحال میں چھوٹے ڈسٹریبیوٹرز سلنڈرز کی ذخیرہ اندوزی کر کے ناجائز منافع خوری کے ذریعے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ اس وقت مارکیٹ میں آکسیجن سیلنڈرز کی مصنوعی قلت پیدا کرنے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
غنی گیس کمپنی نے بلال بٹ کا کہنا ہے کہ آکسیجن سیلنڈرز کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ مقامی شہروں میں نجی سپلائرز اور ڈسٹریبیوٹرز کی جانب سے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری ہے۔
آکسیجن سیلنڈرز کی قیمتوں میں کتنا اضافہ ہوا؟
نوید بن شمس نے بتایا کہ دو ماہ قبل مریضوں کے استعمال میں آنے والا چھ لیٹر کا سیلنڈر ساڑھے پانچ ہزار روپے تک بازار میں دستیاب تھا جو اب مہنگا ہو کر سات ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے۔
جبکہ دس سے گیارہ لیٹر آکسیجن کا سیلنڈر پہلے دس ہزار روپے میں فروخت ہو رہا تھا جس کی قیمت اب بڑھ کر 14 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔
ان کا کہنا ہے بازار میں آکسیجن سیلنڈرز اس وقت لاہور اور کراچی سے آ رہے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ جہاں تک آکسیجن گیس کی سیلینڈرز میں بھروائی کی قیمت کی بات ہے تو پہلے چھ لیٹر آکسیجن سلنڈر میں گیس کی بھروائی چار سو روپے کی تھی جو اب بڑھ کر ساڑھے چار سو روپے ہو گئی ہے جبکہ دس سے گیارہ لیٹر والے سیلنڈر میں گیس بھروائی جو پہلے پانچ سو روپے تھی وہ اب بڑھ کر چھ سو روپے ہو گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نوید شمس کا کہنا ہے کہ آکسیجن گیس کی قیمت میں اضافہ حکومت کی جانب سے آکسیجن بنانے والی کمپنیوں سے 90 فیصد آکسیجن ہسپتالوں کو فراہم کرنے کے باعث ہے کیونکہ باقی ماندہ دس فیصد وہ کمرشل بنیادوں پر نجی مارکیٹ میں مہنگی بیچ رہے ہیں۔
حکومت کیا اقدامات کر رہی ہے؟
اس ضمن میں حکومت نے آکسیجن گیس اور آکسیجن سیلنڈرز کی سپلائی چین اور قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں؟
اس کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں حکومت نے ایک جامع پلان تشکیل دیا ہے تاکہ ملک میں آکسیجن کی ضرورت کو پورا کیا جا سکے۔
اس کے تحت ملک میں آکسیجن بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ مل کر پیداوار کو بڑھایا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑنے پر بیرون ممالک سے گیس اور آکسیجن سیلنڈرز کو بھی درآمد کیا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے آکسیجن کی مناسب استعمال کی ہدایت جاری کرتے ہوئے ہسپتالوں میں معمولی نوعیت کے ایسے آپریشن اور سرجریز کو ملتوی کیا گیا ہے جس کو نہ کرنے سے مریض کی جان کو خطرہ لاحق نہ ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے طبی شعبے میں آکسیجن کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ضرورت پڑنے پر صنعتی شعبے کو فراہم کی جانی والی آکسیجن کو روکنا بھی ایک دستیاب آپشن ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ ملک میں کورونا کی صورتحال کا نگراں ادارہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ وبا کی حالیہ لہر میں دیگر پارٹنرز کے تعاون سے کیے گئے حکومتی اقدامات طبی شعبے کو درکار آکسیجن فراہم کرنے میں کامیاب رہے گے۔
حکومت کا تخمینہ کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں ملک میں آکسیجن اور آکسیجن سیلنڈرز کی کتنی ضرورت پڑے گی؟
اس پر ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں حکومت مختلف صورتحال میں طلب اور رسد کے مختلف تخمینے لگا رہی ہے جس کی تفصیلات آنے والے چند دنوں میں فراہم کی جائیں گی۔
البتہ جمعرات کے روز این سی او سی کے اجلاس میں آکسیجن کی پیداوار اور دستیابی سے متعلق بھی غور کیا گیا اور چھ ہزار میٹرک ٹن آکسیجن اور پانچ ہزار آکسیجن سیلنڈرز درآمد کرنے کی اجازت دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا تاکہ ملک میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنایا جاسکے۔
اجلاس میں 20 کرائیوجینک ٹینکس درآمد کرنے کی اجازت بھی دے دی گئی۔
سماجی تنظیموں اور کارکنوں کے اقدامات
اس صورتحال کے پیش نظر ایسے میں پاکستان میں مختلف سماجی تنظیموں کی جانب سے مریضوں کو آکسیجن سیلنڈرز کی کنٹرول قیمت پر دستیابی یقینی بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ@SalmanSufi7
ایسا ایک اقدام گذشتہ دور حکومت میں وزیر اعلیٰ کے مشیر اور سماجی کارکن سلمان صوفی نے اپنی سماجی تنظیم صوفی فاؤنڈیشن کی جانب سے او ٹو بینک نامی اقدام اٹھا کر کیا ہے۔
سوشل میڈیا کی مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر انھوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا کہ ملک میں آکسیجن سیلنڈرز کی ذحیرہ اندوزی اور بڑھتی قیمت کے پیش نظر ان کی تنظیم بہت جلد او ٹو بینک کے نام سے ایک منصوبہ شروع کر رہی جس کے تحت عام افراد کو آکسیجن سلینڈرز کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
اپنی ٹویٹ میں انھوں نے عوام سے بھی اس کام میں ان کی مدد کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے شہریوں کی مشکل میں تکلیف کو کم کرنے کے لیے آگے بڑھیں۔
سلمان صوفی کے اس اقدام کا انڈیا اور پاکستان کے سوشل میڈیا صارفین نے خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک انسانیت دوست منصوبہ قرار دیا۔
ان میں بالی وڈ کی اداکارہ و ہدایتکارہ پوجا بھٹ میں شامل ہیں جنھوں نے سلمان صوفی کو ان کے اس پراجیکٹ پر نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہمیں انڈیا میں اس کی اشد ضرورت ہے۔‘
جس کے جواب میں سلمان صوفی کا ان سے کہنا تھا کہ ’آپ کے ساتھ انڈیا میں اس منصوبے کو شروع کرنا اعزاز کی بات ہو گی۔‘

،تصویر کا ذریعہ@PoojaB1972
اس منصوبے کے حوالے جب ہم نے سلمان صوفی سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ انھیں یہ پراجیکٹ شروع کرنے کا خیال کیسے آیا تو انھوں نے بتایا کہ اس وقت انڈیا اور پاکستان میں کووڈ کی جو صورتحال ہے اور پاکستان جس طرف بڑھ رہا ہے ایسے میں ملک میں آکسیجن کی کمی ہو سکتی ہے،اس لیے خیال آیا کہ کوئی ایسا منصوبہ شروع کیا جائے جس میں ان لوگوں کی مدد کی جا سکے جنھیں آکسیجن کی اشد ضرورت ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے آکسیجن لوگوں کی پہنچ سے دور ہو رہی ہے اور ملک میں اس کی فراہمی کا ایک مضبوط نظام نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو پتا نہیں ہوتا کہ انھیں آکسیجن کہاں سے ملے گی۔
’زیادہ تر لوگ ٹوئٹر اور واٹس ایپ پر اس حوالے سے مدد مانگ رہے ہوتے ہیں۔ بحیثیت قوم یہ ہمارے لیے شرمندگی کی بات ہے کہ ہمارے پاس ابھی بھی اس حوالے سے کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ ہم ایسا مربوط سسٹم لائیں گے کہ آپ ہمیں ایک فون کال کریں گے اور آکسیجن ہم آپ کے گھر پہنچا دیں گے یا آپ ہم سے لے جا سکتے ہیں۔‘
اُنھوں نے کہا کہ سیلنڈر دوبارہ بھرنا بھی ان کی تنظیم فاؤنڈیشن کی ذمہ داری ہو گی جبکہ اس کی قیمت میں بھی ردو بدل نہیں کیا جائے گا اور اسے صرف اخراجات کی قیمت پر ہی آگے فراہم کیا جائے گا۔
جب اُن سے پوچھا گیا کہ سیلنڈروں اور گیس کی قیمت میں اضافہ ہونے کی صورت میں فاؤنڈیشن اپنے نرخوں کو کیسے ایک سطح پر رکھے گی تو سلمان صوفی کا کہنا تھا کہ اُن کی فاؤنڈیشن کسی بھی عطیے کو اشتہاری مہم پر خرچ نہیں کرتی۔ اُنھوں نے کہا کہ جہاں پر بھی ضرورت پڑی، وہاں وہ اپنی تنظیم کے وسائل انتظام کرتے ہوئے اس آکسیجن پر سبسڈی دیں گے۔
اُنھوں نے کہا کہ کووڈ وہ واحد مرض نہیں جس میں آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ 'ہماری کوشش ایک ایسا سسٹم بنانے کی ہے کہ جب کووڈ ختم بھی ہو جائے تب بھی ضرورت مند لوگوں کو آسانی سے آکسیجن مل سکے۔'
اُنھوں نے بتایا کہ آزمائشی بنیادوں پر یہ منصوبہ کراچی اور لاہور سے شروع کیا جا رہا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس نظام کو ہر اس شہر میں پھیلایا جائے گا جہاں ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ ایک طویل مدتی منصوبہ یہ ہے کہ آکسیجن کنسنٹریٹرز بھی خریدے جائیں تاکہ سپلائی کا انتظار کرنے کے بجائے آکسیجن خود بھری جا سکے۔ سلمان صوفی کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کی جانب سے اجازت کے یا دیگر کوئی مسائل سامنے نہیں آتے تو عید تک یہ پروگرام شروع کر دیا جائے گا۔
اپنے اس منصوبے کی طرز میں انڈیا میں بھی ایسا ایک پراجیکٹ لانے کے حوالے سے پوجا بھٹ کی ٹویٹ پر اُن کا کہنا تھا کہ اس پر کام شروع ہو چکا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ پوجا بھٹ کو پراجیکٹ ماڈل بھجوا دیا گیا ہے اور وہ وہاں پر کارپوریشنز کے ساتھ مل کر اس پر کام کر رہی ہیں اور وہاں سے کوئی مثبت پیش رفت ہونے پر اُن کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔













