پاکستان میں چینی کی قیمت پر سٹہ کیسے اور کہاں کھیلا جاتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی، کراچی
پاکستان میں حالیہ مہینوں میں چینی کی قیمت میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور اس کی قیمت فی کلو سو روپے سے تجاوز کر گئی تھی۔ اس وقت بھی چینی کی قیمت ملک کے مختلف حصوں میں 95 سے 100 روپے فی کلو کے درمیان ہے جو گذشتہ برس نومبر اور دسمبر میں 80 روپے فی کلو تھی۔
وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے ایک پریس کانفرنس میں چینی کی کی قیمتوں میں اضافے کو 'سٹے بازوں کی کارستانی' قرار دیتے ہوئے کہا کہ سٹے باز مصنوعی طور پر چینی کی قیمت میں اضافہ کر تے ہیں۔
انھوں نے کہا ایف آئی اے کی جانب سے ان سٹے بازوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے اور ایسا ریکارڈ بھی برآمد کیا گیا ہے جس کے ذریعے سٹے بازوں کی جانب سے مصنوعی طور پر چینی کی قیمتوں میں اضافے کا انکشاف ہوا ہے۔
اجناس کی تجارت کے شعبے سے جڑے افراد اور ماہرین کے چینی کے کاروبار میں سٹے بازوں کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ چینی کی قیمت میں رد و بدل طلب و رسد سے سٹے بازی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ دو قسموں کی مارکیٹ فورسز اس میں کردار ادا کرتی ہیں۔ ایک مارکیٹ فورس رسد و طلب کی بنیاد پر کام کرتی ہیں تو دوسری قسم کے افراد مصنوعی بحران پیدا کرتے ہیں اور قیاس آرائیوں اور افواہوں کی بنیاد پر قیمتوں کو مصنوعی طور پر بڑھا کر ناجائز منافع خوری حاصل کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چینی کے کاروبار میں سٹہ کیسے کھیلے جاتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مشیر داخلہ و احتساب کے مطابق سٹے باز چینی کی قیمتوں کو قیاس آرائیوں پر مصنوعی طور پر بڑھاتے ہیں۔ ان سٹہ بازوں نے طے کیا ہوتا ہے کہ آج اگر چینی کی قیمت 80 روپے فی کلو ہے تو اسے اگلے مہینے نوے روپے تک لے جانا ہے، جس کے لیے وہ مصنوعی بحران پیدا کرتے ہیں۔
چینی کی تجارت سے منسلک تاجر وحید میمن نے بتایا کہ یہ سٹہ دو طرح سے کھیلا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا ایک تو شوگر مل سے سٹے باز طے کرتے ہیں کہ وہ مل کو ایک بیعانہ ادا کر کے آنے والے دنوں یا مہینوں میں ڈیلیوری اٹھانے کا کہتے ہیں۔
دوسرے طریقے میں چینی کے تاجر آپس میں طے کر کے چینی کا سودا کر لیتے ہیں جس میں نہ بیعانہ شامل ہوتا ہے اور نہ ہی چینی کی فزیکل ڈیلیوری دی جاتی ہے۔
وحید نے بتایا کہ اگر مارکیٹ میں چینی کا موجودہ نرخ نوے روپے فی کلو چل رہا ہے تو سٹےباز مستقبل کے سودے زیادہ قیمت پر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ شوگر ملز بھی زیادہ قیمت پر یہ سودا کرتی ہیں تاہم اس میں چینی کی فزیکل ڈیلیوری نہیں ہوتی۔
اجناس کے شعبے کے ماہر شمس السلام نے اس سلسلے میں بتایا کہ سٹے کے کاروبار میں چینی خریدی جاتی ہے اور اس کا ڈیلیوری آرڈر بھی لیا جاتا ہے تاہم اس کی فزیکل ڈیلیوری نہیں دی جاتی۔ یہ ڈیلیوری آرڈر ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں بکتا ہے جو چینی کی قیمت میں اضافہ کرتا چلا جاتا ہے۔
انھوں نے کہا اسی طرح سٹے باز ایک دوسرے طریقے سے بھی یہ کام کرتے ہیں جس میں ڈیلیوری آرڈر بھی نہیں ہوتا اور ادائیگی بھی نہیں کی جاتی۔ صرف قیاس آرائی کر کے فرضی طور پر چینی کی خرید و فروخت کی جاتی ہے۔
مثال کے طور پر اگر چینی کی قیمت اسی روپے فی کلو ہے لیکن قیاس آرائی کر کے یہ کہا جاتا ہے کہ اگلے مہینے اس کی قیمت نوے روپے تک جا سکتی ہے جو مارکیٹ میں ایک بحرانی کیفیت کو جنم دیتی ہے اور مصنوعی طور پر قیمت میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔
وحید میمن نے کہا کیونکہ چینی کی فزیکل ڈیلیوری نہیں ہوتی اس لیے جب سودے لکھوائے جاتے ہیں تو مصنوعی خریداری شروع ہو جاتی ہے جو مارکیٹ میں قیمتوں کو بڑھانے کا سبب بنتی ہے۔
چینی میں سٹہ بازی کہاں ہوتی ہے؟

پاکستان میں چینی کے کاروبار میں سٹہ بازی پر بات کرتے ہوئے وحید میمن نے کہا اس کے دو بڑے مرکز ہیں۔ ایک مرکز پنجاب اور دوسرا کراچی ہے۔ انھوں نے کہا زیادہ بڑا مرکز لاہور ہے کیونکہ پنجاب میں چینی کی پیداوار زیادہ ہے اور زیادہ تر سٹے باز وہاں فعال ہیں۔
شمس السلام نے بتایا لاہور کی اکبری منڈی اناج کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے اور وہاں چینی کا کاروبار بھی ہوتا ہے۔ اس مارکیٹ میں چینی کے سٹے باز کام کرتے ہیں۔ اسی طرح کراچی کا جوڑیا بازار بھی سٹے بازوں کا مرکز ہے۔
وحید میمن نے کہا کہ لاہور کی اکبری منڈی کے بابر سینٹر میں اس قسم کا کاروبار زیادہ ہوتا ہے جو پنجاب میں چینی کی ڈیلروں کا مرکز ہے۔ اسی طرح کراچی کے جوڑیا بازار کی کچھی گلی میں بڑے بڑے شوگر ڈیلروں کا ڈیرا ہے۔
شمس السلام نے کہا کہ سٹے کا زیادہ کام کرشنگ سیزن کے دوران ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا شوگر کی کرشنگ کا سیزن مارچ میں ختم ہوتا ہے اس وقت سپلائی زیادہ ہوتی ہے جب قیمتیں گرنے کا امکان ہوتا ہے تاہم سٹے بازی کے ذریعے قیمت کم نہیں ہونے دی جاتی بلکہ اس کی قیمت کو اوپر کی سطح پر لے جایا جاتا ہے۔
وحید میمن نے کہا کہ سٹے بازی کا کام تو کئی سالوں سے جاری ہے تاہم گذشتہ چند برسوں سے اس میں کافی تیزی آئی ہے۔ انھوں نے کہا بنیادی طور پر اس میں 40 سے 50 بڑے گروپ شامل ہیں جو مصنوعی طریقے سے قیمتیں بڑھاتے ہیں۔
سٹے بازی سے کون فائدے اور کون نقصان میں رہتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں چینی کی کھپت کا جائزہ لیا جائے تو تیس فیصد تک چینی گھریلو طور پر استعمال ہوتی ہے جب کہ ستر فیصد تجارتی طور پر استعمال ہوتی ہے جو مشروبات، مٹھائیوں، دواؤں وغیرہ میں استعمال ہوتی ہے۔
چینی کے درآمد کنندہ ہارون اگر نے کہا کہ سٹے کے کاروبار میں چینی کی قیمت قیاس آرائیوں کی بنیاد پر بڑھائی جاتی ہے اوریہ بڑھی ہوئی قیمت صارف سے وصول کی جاتی ہے اس لیے سب سے زیادہ نقصان تو صارف کا ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا شوگر ملیں اور سٹے باز فائدے میں رہتے ہیں کہ زیادہ قیمت انھیں مالی طور پر فائدہ پہنچاتی ہے۔
وحید میمن نے بتایا کہ سٹے کے کاروبار میں سٹہ کھیلنے والے ہی فائدہ اٹھاتے ہیں کیونکہ وہ فرضی سودوں میں فائدہ اٹھاتے ہیں جن کا کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ہوتا۔ اس میں کوئی کوئی بڑا سرمایہ نہیں لگتا بلکہ چینی کے فرضی سودے ہوتے ہیں کیونکہ اس سودے میں صرف دس فیصد بیعانہ دے کر سودا کر لیا جاتا ہے اور پھر اسے آگے بیچ دیا جاتا ہے۔ کوئی ٹیکس بھی ادا نہیں کیا جاتا۔
وحید نے کہا چینی کے کاروبار میں سٹہ بازی ایک خلاف قانون کام ہے کیونکہ رسد و طلب کی حقیقی وجوہات کی بجائے مصنوعی ذریعے سے قیمتوں کو بڑھایا جاتا ہے۔
شمس السلام نے کہا کہ پاکستان میں کموڈٹیز ایکسچینج کا کوئی موثر نظام نہیں ہے جس کی وجہ سے چینی کے کاروبار میں سٹے کھیلا جاتا ہے۔ انھوں نے چینی پاکستان میں ایک 'سیاسی فصل' ہے کیونکہ اس میں سیاستدان شامل ہیں اور زیادہ تر ملیں ان کی ملکیت ہیں۔ اس لیے شوگر مافیا اور سٹے باز کھل کر اس شعبے میں کھیل رہے ہوتے ہیں۔
سندھ اسمبلی کے رکن اسمبلی حسنین مرزا جن کا شوگر مل کے کاروبار سے تعلق رہا نے اس سلسلے
میں کہا کہ چینی کی قیمتوں میں مارکیٹ کے رسد و طلب کو بہت دخل ہے۔ سٹے بازی سے متعلق انھوں نے کوئی تبصرہ کرنے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سلسلے میں کچھ نہیں کہنا چاہتے۔ انھوں نے کہا مستقبل کے سودے دنیا بھرمیں ہوتے ہیں تاہم انھوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ وہ خاص ریگولیٹری فریم ورک کے تحت ہوتے ہیں۔
چینی کی قیمت کے زیادہ بڑھنے میں سٹے بازوں کے کردار کے سوال کو جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا وہ یہ بات جانتے ہیں کہ اس بار چینی کی پیداواری لاگت بھی زیادہ تھی کیونکہ شوگر ملوں نے حکومتی قیمت سے زیادہ کاشت کاروں سے گنا خریدا۔ حکومت سندھ کی گنے کی امدادی قیمت 200 روپے فی من تھی تاہم شوگر ملوں نے 400 روپے فی من اسے زائد پر یہ گنا خریدا جس کی وجہ ملوں کو گنے کی کم رسد تھی۔












