چینی کمیشن: برطرف ہونے والے ایف آئی اے افسر سجاد باجوہ کا وزیر اعظم اور اعلی حکومتی عہدیداروں پر ’شوگر مافیا کو فائدہ پہنچانے‘ کا الزام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شاہد اسلم
- عہدہ, صحافی، لاہور
چینی کمیشن کی تحقیقات کے دوران معطل اور بعد میں انکوائری کے نتیجے میں نوکری سے برطرف ہونے والے ایک افسر نے وزیر اعظم سمیت چند اعلیٰ حکومتی شخصیات پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے شوگر مِل مالکان کو 400 ارب روپے سے زیادہ کا فائدہ پہنچایا۔
وزارت داخلہ نے حال ہی میں انٹیلیجنس بیورو (آئی بی) کی ایک خفیہ رپورٹ کی بنیاد پر ہونے والی انکوائری کے نتیجے میں چینی کمیشن کی تحقیقات کے دوران شوگر مِل مالکان سے حساس معلومات کے تبادلے کے لیے مشکوک روابط رکھنے اور غیر معیاری اور غیر تسلی بخش کارکردگی جیسے الزامات ثابت ہونے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈپٹی ڈائریکٹر سجاد مصطفیٰ باجوہ کو نوکری سے برطرف کیا تھا۔
تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سجاد مصطفیٰ باجوہ کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف الزامات میں ذرا بھی صداقت نہیں ہے۔ ان کے بقول انھیں نوکری سے ہٹانے کا فیصلہ بہت پہلے ہو چکا تھا اور ان کے خلاف انکوائری تو محض کارروائی کا حصہ تھی۔
’چینی کمیشن کی انکوائری کے دوران جیسے ہی میں نے چینی کی افغانستان سمگلنگ، چینی کے کاروبار میں سٹیٹ بینک، ایس ای سی پی اور ایف بی آر جیسے اداروں کے کردار کے متعلق سوالات اٹھائے، اسی وقت حکومت میں شامل کچھ طاقتور لوگ میرے خلاف ہو گئے جو نہیں چاہتے تھے کہ میں ان پہلوؤں پر تحقیقات کروں جن سے اس مافیا کو قابو کیا جا سکتا تھا۔‘
وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب و داخلہ امور مرزا شہزاد اکبر نے سجاد باجوہ کی طرف سے لگائے جانے والے تمام الزامات کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ ان کا یا وزیر اعظم کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں اور وہ تو سجاد باجوہ کو جانتے بھی نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ روال سال کے اوائل میں وزیر اعظم عمران خان نے چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی تحقیقات کرنے کے لیے ایف آئی اے سمیت مختلف ایجنسیوں اور محکموں پر مشتمل ایک کمیشن تشکیل دیا تھا۔ کمیشن نے بعد میں نو مختلف ٹیمیں تشکیل دیں تھیں جن میں سے اول نمبر ٹیم کی قیادت سجاد باجوہ کر رہے تھے اور انھیں وفاقی وزیر خسرو بختیار کی شوگر مل کی تحقیقات کا کام سونپا گیا تھا۔
پھر 22 اپریل کو سجاد باجوہ کو چینی کمیشن کی تحقیقات کے دوران ہی معطل کر دیا گیا اور مئی میں انھیں چارج شیٹ جاری کی گئی۔
اس میں کُل آٹھ الزامات عائد کیے گئے تھے جن میں سے پہلے تین ان کی کارکردگی کے حوالے سے تھے کہ ان کا کام ’غیر معیاری اور غیر تسلی بخش‘ تھا۔ اگلے تین الزامات آئی بی کی ایک خفیہ رپورٹ پر مبنی تھے جن میں سجاد باجوہ کے مِل انتظامیہ سے مبینہ روابط، حساس معلومات کا تبادلہ اور مِل انتظامیہ کو کمیشن کے ریکارڈ تک رسائی دینے کے الزامات شامل تھے۔
ساتواں الزام غیر متعلقہ لوگوں سے رپورٹ لکھوانے اور آٹھواں الزام بغیر اجازت میڈیا پر بیان دینے سے متعلق تھا۔
وفاقی سیکریٹری داخلہ نے سجاد باجوہ کو ذاتی حیثیت میں شنوائی کے لیے طلب کر کے اور ان کا مؤقف جاننے کے بعد انھیں نوکری سے نکالنے کی سفارش پر عملدرآمد کرتے ہوئے ان کی برطرفی کے احکامات جاری کیے تھے۔

’شوگر کمیشن سب ڈرامہ تھا‘
سجاد باجوہ نے وزیر اعظم عمران خان، وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان اور مشیر مرزا شہزاد اکبر پر براہ راست الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ شوگر مافیا میں چند طاقتور عناصر کو بچانا اور مالی فائدہ دینا چاہتے تھے اور اُن کے خلاف ہونے والی ’جعلی کارروائی‘ کے پیچھے بھی ان ہی کا ہاتھ تھا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ تحقیقات شروع ہونے کے بعد سے شوگر مافیا کو اب تک کم و بیش 400 ارب کا براہ راست فائدہ دیا جا چکا ہے کیونکہ اس عرصے کے دوران چینی کی قیمت 70 روپے فی کلو سے بڑھ کر 115 روپے تک پہنچی گئی ہے۔
سجاد باجوہ نے الزام لگایا کہ ان کے خلاف یہ تمام کارروائی کابینہ میں بیٹھے کچھ مخصوص لوگوں کی خواہش پر ہوئی کیونکہ وہ چینی کمیشن سے پہلے بھی آئی پی پیز کے خلاف بنی جی آئی ٹی میں ایف آئی اے کی نمائندگی کر چکے ہیں جس کے بہت سے ایسے متاثرین ہیں جو وفاقی کابینہ میں موجود ہیں۔
انھوں نے چینی کمیشن کی تحقیقات کے دوران سٹیٹ بینک، ایف بی آر اور ایس ای سی پی سمیت دیگر سرکاری محکموں کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے تھے جو، بقول ان کے، بہت سے لوگوں کو بُرے لگے۔
’چینی کی افغانستان مشکوک ایکسپورٹ کا نقطہ بھی میں نے اٹھایا تھا۔ سب سے پہلے میں نے ہی تحریری طور پر بتایا کہ جو 70 فیصد چینی افغانستان بھیجی گئی جو وہاں استعمال ہو ہی نہیں سکتی تھی اوریہ نقطہ بھی میں نے ہی اٹھا یا تھا کہ چینی فیزیکلی افغانستان جا ہی نہیں رہی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر، ایس ای سی پی، سٹیٹ بنک کے خلاف خطوط ان کے سوائے کسی اور نے نہیں لکھے کہ یہ ادارے چینی ایکسپورٹ کے متعلق اپنا کردار صحیح طور پر نہیں نبھا رہے۔ انھوں نے کہا کہ نو ٹیموں میں سے کسی میں اتنی جرات نہیں تھی کہ وہ ان محکموں کے خلاف لکھیں اور ان کا کردار سامنے لائے کیونکہ چینی کمیشن میں شامل ہر ٹیم میں تین ممبرز تو ان محکموں میں سے ہی تھے۔
ان کے بقول شوگر کمیشن کا سارا ڈرامہ ہوا تھا جس کا مقصد چینی کی قیمت کو نیچے لانے کے بجائے کچھ اور تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے مزید کہا کہ چینی کمیشن کی تحقیقات کے دوران شوگر مل ایسوسی ایشن کیسے تبدیل ہوئی ہے، کون سا عہدیدار تبدیل ہوا ہے، ایسوسی ایشن پہلے کیا تھی بعد میں کیا تبدیلیاں آئیں، ایسوسی ایشن کو کون سا بندہ کس کس آفس میں اور کب کب آتا رہا ہے، کس کس سے ملتا رہا ہے، ان کی سی ڈی آرز بس نکال لیں سب واضح ہو جائے گا۔
سجاد باجوہ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس وقت ان (مل مالکان اور حکومت کے لوگوں) کی روزی روٹی بند کر دی تھی جب چیف جسٹس اطہر من اﷲ نے ان کے خلاف حکم دے دیا کہ شوگر ملیں 70 روپے میں چینی فروخت کریں گی۔ ’لیکن حکومت نے انکار کر دیا اور یہ ساری ملی بھگت تھی کہ آپ (مل مالکان) 70 میں پیشکش کر دیں، ہم (حکومت) 63 روپے میں خرید لیں گے جبکہ حقیقت میں یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن پہلے ہی چینی 80 سے 82 روپے فی کلو خرید رہا تھا۔‘
’انھیں کیا تکلیف تھی؟ عدالت نے کہا 70 پر خریدیں، انھوں نے کہا نہیں ہم 63 پر خریدیں گے لیکن اب 115 اور اس سے زیادہ میں خرید ہو رہی ہے۔ یہ سارا ڈرامہ تھا اور ساتھ ہی ساتھ عدالتوں کو بھی گندا کیا گیا کہ یہ ہمیں کام نہیں کرنے دیتیں۔‘
اس سوال پر کہ اپنے خلاف کی جانے والی انکوائری کے خلاف وہ عدالت کیوں نہیں گئے سجاد باجوہ کا کہنا تھا کہ وہ جان بوجھ کو عدالت نہیں گئے۔
'میں نہ صرف انھیں بلکہ پورے سسٹم کو ایکسپوز کرنا چاہتا تھا اس لیے عدالت نہیں گیا لیکن اب نہ صرف اپنے ساتھ ہوئی نا انصافی کے خلاف عدالت جاؤں گا بلکہ ان تمام لوگوں کے خلاف بھی عدالت جاؤں گا جنھوں نے گذشتہ چند ماہ کے دوران عوام کی جیبوں پر 400 ارب روپے سے زائد کا ڈاکہ ڈالا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ اب وہ تمام کرداروں کو بے نقاب کیے بغیر نہیں بیٹھیں گے۔‘
شہزاد اکبر: ’میرا یا وزیر اعظم کا کوئی لینا دینا نہیں‘
مشیر داخلہ مرزا شہزاد اکبر نے بی بی سی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک انھیں معلوم ہے سجاد باجوہ پر مل انتظامیہ کے ساتھ ساز باز کا الزام تھا اور اسی بنیاد پر وزارت داخلہ اور اس کے ذیلی ادارے ایف آئی اے نے کوئی ایکشن لیا ہے جس سے ان کا یا وزیر اعظم کا کوئی لینا دینا نہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہر ادارے اور محکمے کی ایک چین آف کمانڈ ہوتی ہے (سجاد باجوہ) ان پہ اعتراضات کرے، اپنے محکمے پر اعتراضات کرے۔ اگر الزامات غلط ہیں تو عدالت جائے، اگر اس کے مؤقف میں جان ہوئی تو عدالت ضرور سنے گی۔

،تصویر کا ذریعہPID
'اب اگر کوئی اے ایس آئی بھی نوکری سے نکالا جائے گا تو اس کے ذمہ دار بھی کیا وزیر اعظم یا کوئی مشیر ہوں گے۔'
شہزاد اکبر کے مطابق یہ بڑی مضخکہ خیز بات ہے اور سجاد باجوہ یہ باتیں ایسے کہہ رہے ہیں جیسے سارے ہی ان کے خلاف ہیں اور بس وہ اکیلے پارسا رہ گئے ہیں؟
شہزاد اکبر کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے سُنا ہے سجاد باجوہ کی ایف آئی اے میں بھرتی بھی سیاسی بنیادوں پر ہوئی تھی۔
مِل مالکان سے روابط، معلومات فراہم کرنے کا الزام
سجاد باجوہ نے بتایا کہ ان پر آئی بی کی رپورٹ میں الزام لگایا گیا تھا کہ وہ (خسرو بختیار کے خاندان کی) الائنس شوگر مل انتظامیہ سے مشکوک رابطے میں تھے، ان سے معلومات شیئر کر رہے تھے اور انھیں حساس ڈیٹا تک رسائی فراہم کر رہے تھے۔
الزامات کی تردید کرتے ہوئے انھوں نے بتایا ’مجھے ڈی جی ایف آئی اے کے ایک تحریری حکم نامہ کے تحت وہاں بھیجا گیا اور (مجھ پر) الائنس شوگر مل کے جن لوگوں سے مشکوک رابطوں کا الزام ہے، میں نے خود ان کے نام لکھ کر ڈی جی ایف آئی اے کو میسیج کیا تھا کہ میں ان لوگوں سے مل رہا ہوں اور معلومات لے رہا ہوں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے انکوائری سے پہلے اور انکوائری کے دوران انکوائری افسر، مجاز افسر اور بعد میں پرسنل ہیئرنگ کے دوران وفاقی سیکریٹری داخلہ کو بھی یہ بات بتائی کہ ان کے خلاف کوئی دستاویزی، زبانی، ویڈیو یا آڈیو ثبوت ہے اور نہ ہی کال ڈیٹا ریکارڈ (سی ڈی آر)، بینکنگ ٹرانزیکشن یا ملاقاتوں میں کوئی ایسی چیز ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ وہ مل انتظامیہ سے کسی مشکوک رابطے میں تھے۔
انھوں نے کہا کہ ان کی ٹیم میں آئی بی، ایس ای سی پی، ایف بی آر، سٹیٹ بینک سمیت دیگر اداروں کے لوگ بھی شامل تھے اور سوال اٹھایا کہ آیا ان افراد میں سے کسی نے بھی ان کے خلاف کوئی گواہی دی کہ وہ کوئی غلط کام کر رہے تھے۔
ایف آئی اے ڈپٹی ڈائریکٹر کی برطرفی پر وزارت داخلہ کی وضاحت
وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے سجاد باجوہ کو باقاعدہ انکوائری کے بعد برطرف کیا گیا، انکوائری کے دوران موقف دیا جا سکتا تھا تاہم سجاد باجوہ بارہا بلانے، نوٹسز اور وارننگ کے باوجود انکوائری میں پیش نہیں ہوئے۔
وزارت کا کہنا ہے کہ اس انکوائری کے لیے مجاز افسر اور باقاعدہ انکوائری افسر مقرر کیے گئے تھے اور انکوائری میں پیش نہ ہونے پر انکوائری افسر نے باقاعدہ شواہد کا جائزہ لے کر اور دوسرے متعلقہ افسران کا بیان ریکارڈ کر کے الزامات کی تصدیق کی تھی۔
انکوائری افسر کے سامنے سجاد باجوہ نے اپنا کوئی موقف نہیں رکھا اور نہ ہی اپنے خلاف الزامات کا جواب دیا جبکہ مجاز افسر نے بھی اپنی رپورٹ میں ان کو قصوروار ٹھہرایا۔
وزارت داخلہ نے کہا کہ ڈپٹی ڈائریکٹر ایف اے کو انکوائری سے متعلق معلومات افشا اور میڈیا سے بات کرنے کے الزامات تھے۔
وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ اتھارٹی نے بھی اپنے فیصلے میں صاف لکھا ہے کہ سجاد باجوہ کو بار بار موقع دیا گیا جس سے استفادہ کیا جا سکتا تھا۔












