شناخت کی چوری: پنجاب کے ’پڑھے لکھے چور‘ فنگر پرنٹس کیوں چرا رہے تھے؟

police

،تصویر کا ذریعہOkara Police

،تصویر کا کیپشنپولیس اہلکار اس کیس کی تفصیلات بتا رہے ہیں
    • مصنف, شاہد اسلم
    • عہدہ, صحافی، لاہور

پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں پولیس نے ’انگوٹھا چور‘ ملزمان کا ایک ایسا گروہ گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس نے سینکڑوں لوگوں کے انگوٹھوں کے نشانات چوری کر کے اُن کے نام پر سرکاری خزانے سے لاکھوں روپے بٹور لیے ہیں۔

اوکاڑہ پولیس کے دعوے کے مطابق گرفتار ہونے والے افراد نے لوگوں کے فنگر پرنٹس یعنی نشانِ انگوٹھا کو چوری کرنے کا ایک بہت ہی سائنسی اور دلچسپ طریقہ اختیار کر رکھا تھا۔ اس طریقے کی تفصیل میں جانے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ ان فنگر پرنٹس کا کرتے کیا تھے۔

اوکاڑہ پولیس کے مطابق ملزمان مختلف لوگوں کے فنگر پرنٹس کے ذریعے موبائل فون سمیں نکلوا کر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (احساس پروگرام) اور سٹوڈنٹس سپورٹ پروگرام جیسے سرکاری فلاحی اداروں کے ساتھ رجسٹرڈ ہو کر اداروں سے ماہانہ امدادی رقوم نکلوا رہے تھے۔

پولیس حکام کے مطابق ملزمان نے یہ اعتراف کیا ہے کہ وہ گذشتہ ایک سال سے مختلف لوگوں کے نام پر لاکھوں روپے کی رقم نکلوا چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

police

،تصویر کا ذریعہOkara Police

،تصویر کا کیپشناوکاڑہ پولیس کے مطابق ملزمان تعلیم یافتہ ہیں مگر ان کا کوئی کریمینل ریکارڈ نہیں ہے

تعلیم یافتہ ملزمان کاطریقہ واردات

ملزمان کے طریقہ واردات کے متعلق بات کرتے ہوئے ایس پی انویسٹیگیشن اوکاڑہ محمد عبد اﷲ لک نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزمان زیادہ تر لاہور اور گوجرانوالہ کے دور دراز علاقوں میں جا کر لوگوں کو قائل کرتے تھے کہ وہ انھیں سرکاری فلاحی اداروں سے امداد دلوائیں گے اور اس مقصد کے لیے سفید کاغذ پر ان کے انگوٹھوں اور انگلیوں کے نشانات لے لیتے تھے۔

پولیس کے مطابق ملزمان سفید کاغذ سے ان فنگر پرنٹس کو اٹھاتے، جس سے تھمب امپریشن یعنی انگوٹھے کا نشان حاصل ہو جاتا تھا۔ وہ ان نشانات کو سلیکون یا پلاسٹک مٹیریل پر منتقل کرتے اور پھر سکیننگ ڈیوائس پر لگا کر موبائل پر نئی سم ایکٹیویٹ کرتے۔

اس سارے منصوبے کا مقصد احساس پروگرام سمیت دیگر سرکاری فلاحی پروگرامز کے ساتھ رجسٹریشن کو یقینی بنانا ہوتا تھا۔ ان کے مطابق یہ ملزمان وہاں سے ہر ماہ سرکاری امداد کی مد میں لاکھوں روپے بٹور رہے تھے۔

پولیس کے مطابق جیسے دستخط کی مہر سکین ہو جاتی ہے اسی طرح سے یہ انگوٹھے کے نشان سکین کر لیتے تھے اور تقریباً 50 فیصد وہ صحیح میچ کر جاتے تھے جس کے بعد یہ سرکاری اداروں کے ساتھ رجسٹرڈ ہو جاتے تھے۔

پولیس افسر محمد عبد اﷲ لک کے مطابق پولیس نے اوکاڑہ کے صنم سینما کے پاس ایک جگہ پر چھاپہ مار کر اس گروہ سے وابسطہ تین ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔

ان تینوں ملزمان کا تعلق اوکاڑہ شہر سے ہے۔

پولیس کے مطابق ان ملزمان پر اب تک چار ایف آئی آرز کا اندراج ہو چکا ہے۔ ایس پی کے مطابق گرفتار ملزمان ایف ایس سی اور بی ایس سی تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔

ملزمان سے جدید آلات کی برآمدگی

پولیس

،تصویر کا ذریعہOkara Police

،تصویر کا کیپشنپولیس کے مطابق ملزمان سفید کاغذ سے ان فنگر پرنٹس کو اٹھاتے، جس سے تھمب امپریشن یعنی انگوٹھے کا نشان حاصل ہو جاتا تھا۔ وہ ان نشانات کو سلیکون یا پلاسٹک مٹیریل پر منتقل کرتے اور پھر سکیننگ ڈیوائس پر لگا کر موبائل پر نئی سم ایکٹیویٹ کرتے

ایس پی انویسٹیگیشن نے مزید بتایا کہ گرفتار ملزمان کے قبضے سے جو اشیا برآمد ہوئی ہیں، ان میں لیپ ٹاپ، موبائل سمیں، بائیو میٹرک مشینیں، انگوٹھوں کے نشانات اور نقدی سمیت دیگر اشیا شامل ہیں۔ محمد عبد اﷲ لک نے مزید بتایا کہ ملزمان کے قبضے سے 350 سے زائد مختلف کمپنیوں کے سم کارڈز، 350 سے زائد اے ٹی ایم کارڈز اور سینکڑوں انگوٹھوں کے پلاسٹک کے سانچے بھی برآمد کیے ہیں۔

کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (سی آئی اے) اوکاڑہ کے انچارج انسپکٹر مہر محمد اسماعیل کے مطابق پولیس کچھ ہفتوں سے ان ملزمان کے تعاقب میں تھی کیونکہ انھیں یہ اطلاع مل چکی تھی کہ ایک منظم گروہ لوگوں کی معلومات لے کر جعلی سموں کے ذریعے مختلف لوگوں کے نام پر جھانسہ دے کر ان کے جعلی فنگر پرنٹس بنا کر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ( احساس پروگرام)، سٹوڈنٹس سپورٹ پروگرام وغیرہ جیسے سرکاری فلاحی اداروں سے رقوم نکلوا رہے ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ یہ ملزمان اپنے دیگر ساتھیوں کی مدد سے اس غیر قانونی کام میں گذشتہ ایک سال سے ملوث تھے۔

انسپکٹر مہر محمد اسماعیل کے مطابق یہ ایک مشکل کیس تھا جس کی تفتیش کے لیے پولیس نے آرگنائیزڈ کرائم ایجنسی سے مدد لی تھی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ان ملزمان کو پکڑنے میں جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ پولیس کے مخبری نظام کی مدد حاصل کی گئی تھی، جس کی وجہ سے اس کیس کو حل کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔

محمد اسماعیل کے مطابق جیسے جیسے متاثرہ لوگ سامنے آتے جائیں گے مقدمات کی تعداد بڑھتی جائے گی۔ انھوں نے مزید بتایا کہ اس گروپ کے دیگر لوگوں کا سراغ بھی لگا لیا گیا ہے، جس کے مطابق وہ لاہور اور گوجرانوالہ میں کام کر رہے ہیں اور انھیں بھی جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

احساس پروگرام

ملزمان کا نشانہ نادار اور مستحق لوگ

محمد اسماعیل کے مطابق ملزمان ان سموں کے ذریعے سرکاری دفاتر میں فون کر کے بتاتے کہ وہ غریب اور نادار لوگ ہیں اورسرکاری امداد کے مستحق ہیں جس کے بعد ان سموں کے عوض ہر ماہ انھیں مخصوص رقم منتقل کر دی جاتی تھی جسے یہ اے ٹی ایم کے ذریعے نکلوا لیتے تھے۔

انسپکٹر محمد اسماعیل کے مطابق وہ غریب اور مستحق لوگ جن کی معلومات یہ استعمال کر کے قوم نکلوا رہے تھے ان میں سے کسی کو بھی اس غیر قانونی کام کا پتا نہیں تھا کہ ان کے نام پر ہر ماہ ہزاروں روپے نکلوائے جا رہے ہیں۔

انسپکٹر مہر محمد اسماعیل کے مطابق جتنی بھی سمیں قبضے میں لی گئی ہیں وہ سب کی سب ایکٹیو تھیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ پولیس نے ان تمام لوگوں سے رابطہ کر لیا ہے جن کے نام پر سمیں نکلوائی گئیں ہیں۔

یاد رہے کہ کچھ ہفتے قبل کراچی میں بھی پولیس نے ایک ایسی ہی کاروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا تھا جو لوگوں کے جعلی فنگر پرنٹس کے ذریعے سمیں نکلوا کر سرکاری فلاحی اداروں سے رقوم نکلوا رہے تھے۔

معاملہ ایف آئی اے کے سپرد

ایس پی انویسٹیگیشن محمد عبداﷲ لک کے مطابق گرفتار ملزمان کا کوئی کریمینل ریکارڈ ابھی تک سامنے نہیں آیا لیکن دوران تفتیش یہ ضرور پتا چلا ہے کہ یہ ملزمان اوکاڑہ سے باہر بھی ایسی وارداتوں میں ملوث رہے ہیں۔ ’ہم معاملہ ایف آئی اے کو بھی بھیج رہے ہیں تاکہ وہ بھی دیکھیں کہ ان میں سے کون سا جرم ان کے دائرہ کار میں آتا ہے تاکہ ان ملزمان کو سخت سے سخت سزا دلوا سکیں۔‘

پولیس حکام کا مزید کہنا تھا کہ اس معاملے کو متعلقہ سرکاری اداروں کے علم میں لایا گیا ہے تاکہ وہ ایسی تمام مشکوک ادائیگیاں فوری طور پر روک سکیں۔

انگوٹھا چوروں سے آئی ٹی اور بینکنگ سیکٹر کتنا محفوظ

ایس پی انویسٹیگیشن کا مزید کہنا تھا کہ اس فراڈ کے سامنے آنے کے بعد ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمارا آئی ٹی، بینکنگ اور دیگر سسٹمز بھی ایسے خطرات میں ہیں کیونکہ ان اداروں میں ویریفیکیشن یعنی جانچ پڑتال کا ایک منظم نظام موجود ہے، جس سے کسی بھی شخص کی مکمل چھان بین باآسانی ہو جاتی ہے۔

عبد اﷲ لک کے مطابق ہمیں سوچ سمجھ کر اور چھان بین کر کے مختلف کاغذات پر اپنے دستخط کرنے چاہیں تاکہ ایسے فراڈ سے بچ سکیں۔