کورونا وائرس: کیا پاکستان میں کووڈ 19 کی ’تیسری لہر‘ بچوں کو زیادہ متاثر کر رہی ہے؟

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

یہ چند ہفتے پہلے کی بات ہے جب عصمت یوسف اپنے شوہر کے ہمراہ اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ کے باہر انتہائی پریشانی میں کھڑی تھیں، جہاں اندر وارڈ میں ان کی پونے دو سال کی بیٹی جنت فاطمہ وینٹیلیٹر پر موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھی۔

عصمت کے مطابق اس وقت ڈاکٹرز کو کچھ پتا نہیں چل رہا تھا کہ ان کی بیٹی کو کیا بیماری ہے۔

پہلے جب ڈاکٹرز نے جنت فاطمہ کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ کیا تو رپورٹ منفی آئی اور یہ بتایا گیا کہ جنت فاطمہ کو ڈبل نمونیہ ہوا ہے، جس سے اس کا ایک پھیپھڑا شدید متاثر ہوا ہے۔

تاہم عصمت یوسف کے مطابق بعد میں ڈاکٹرز نے انھیں بتایا کہ اُن کی بیٹی میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے اور اس کی کم عمری کے باعث وائرس کی تشخیص میں کچھ وقت لگ گیا۔

تاہم عصمت یوسف اور ان کے خاوند ایسے اکیلے والدین نہیں ہیں بلکہ پاکستان میں اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق 20 ہزار سے زائد بچے اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں اور ملک میں وائرس کی تیسری لہر کے دوران میڈیا میں ایسی کئی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ اس بار کم عمر بچے اس بیماری سے کافی متاثر ہو رہے ہیں۔

کیا بچوں میں وائرس پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے؟

اکثر والدین کے ذہنوں میں یہ سوال بھی گردش کر رہا ہے کہ بچوں میں کورونا وائرس کی تشخیص کیسے کی جاتی ہے۔

ان سوالات پر اسلام آباد کے ہیلتھ افسر ڈاکٹر زعیم ضیا نے کہا کہ جب سے یہ وائرس پاکستان میں آیا ہے تب سے اب تک سینکڑوں بچے اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں لیکن کیونکہ تیسری لہر میں وائرس کا پھیلاؤ زیادہ نظر آ رہا ہے تو اسی تناسب سے بچے بھی بڑی تعداد میں متاثر ہو رہے ہیں۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ڈاکٹر وسیم نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت ان کے ہسپتال میں دو نو مولود بچے ایسے ہیں جن میں وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے۔

انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ بچوں میں کورونا وائرس کا ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ بچوں میں شروع سے ہی اس وائرس کی موجودگی کی اطلاعات تھیں اور بچے بھی اسی طرح اس وائرس سے متاثر ہوتے ہیں جیسا کہ بڑی عمر کے افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بچوں میں اس وائرس کی اتنی شدت نہیں ہوتی اور علامات بھی اتنی سنگین نہیں ہوتیں لیکن بچوں کی وجہ سے دیگر افراد کے وائرس سے متاثر ہونے کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں، یعنی بچے وائرس کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔

اس وقت اگر دیکھا جائے تو صوبہ پنجاب میں بچوں پر اس وائرس کے حملے زیادہ نظر آ رہے ہیں۔

پنجاب میں محمکہ صحت کے حکام کے مطابق گذشتہ سال مارچ میں 75 بچے اس وائرس سے متاثر ہوئے تھے اور چند ماہ میں یعنی جون 2020 میں یہ تعداد 2875 ہو گئی تھی مگر اس کے بعد اس تعداد میں کمی واقع ہوئی۔

لیکن رواں برس مارچ میں کورونا وائرس کے متاثرہ بچوں کی تعداد 4830 تک پہنچ گئی ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بچوں پر اس وائرس کے اثرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر یاسر یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ جیسے بڑوں میں وائرس کی علامات ہوتی ہیں ویسے ہی بچوں میں بھی یہ علامات سامنے آتی ہیں جیسے کھانسی، بخار، فلو، اور جسم میں درد محسوس ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مگر بچوں میں اس وائرس کی شدت کم نظر آتی ہے۔

لیکن ایک جانب اگر ان ڈاکٹروں کی بات کو مان لیا جائے، تو دوسری طرف اسلام آباد میں عصمت یوسف کی بیٹی سمیت ایسے کئی متاثرہ بچے بھی سامنے آئے ہیں جن میں اس وائرس کی شدت کہیں زیادہ تھی اور انھیں زندگی بچانے کے لیے وینٹیلیٹر پر جانا پڑا تھا۔

اس حوالے سے ڈاکٹر یاسر نے بتایا کہ ان کے سامنے ایسے دو کیسز آئے ہیں جن میں بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہو گئی تھی۔ بعد میں انھیں معلوم ہوا کہ ایک بچے کو پھیپھڑوں کا مرض لاحق تھا اور دوسرے کو کینسر تھا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ اب جو بچوں میں وائرس پھیلا ہے تو اس کی دیگر وجوہات ہو سکتی ہیں جیسے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس میں برطانیہ سے آنے والے وائرس کی ہیئت ہو سکتی ہے لیکن اس بارے میں وہ وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔

بچوں کی بیماری میں والدین پر کیا گزرتی ہے؟

عصمت یوسف اپنی بیٹی کے حوالے سے کہتی ہیں کہ انھیں پہلے سے کوئی عارضہ لاحق نہیں تھا اور ڈاکٹروں کا موقف تھا کہ یہ نمونیا ہو سکتا ہے۔

اپنی بیٹی جنت فاطمہ کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ اسے آٹھ دن تک وینٹیلیٹر پر ہی رکھا گیا۔

اس عرصے میں عصمت یوسف ہر وقت وارڈ کے باہر کھڑے ہو کر صرف وارڈ کے دروازے پر نظریں جمائے رکھتی تھیں کہ انھیں اپنی بچی سے متعلق کوئی اچھی خبر مل سکے، مگر ڈاکٹرز ہر بار آ کر انھیں یہی کہتے کہ صورتحال بہت پیچیدہ ہے۔

عصمت کے مطابق یہ ان کی زندگی کے مشکل ترین دن تھے۔

'میں ایک سرکاری سکول میں پڑھاتی ہوں اور جب میں سکول سے واپس آتی تو مجھے خوش آمدید کہنے کے لیے سب سے پہلے میری بیٹی ہی شور مچا کر دروازے پر دوڑ کر آتی تھی، مگر اب وہ وینٹیلیٹر سے اتر رہی تھی اور ایسے حالات میں میں ہسپتال کا گیٹ چھوڑ کر کہیں اور جانے کو تیار نہیں تھی۔‘

اس عرصے میں ڈاکٹرز نے بھی عصمت یوسف سے کہا کہ بہتر ہے کہ وہ گھر چلی جائیں کیونکہ کورونا وارڈ میں تو انھیں بچی کے پاس جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

مگر انھوں نے نہ ڈاکٹرز کی بات مانی اور نہ رشتہ داروں کی اور جنت فاطمہ کو وارڈ میں تنہا چھوڑ کر جانے سے صاف انکار کر دیا۔

عصمت یوسف کے مطابق انھیں یہ محسوس ہوتا تھا کہ ان کی بیٹی کسی بھی وقت انھیں بلا سکتی ہے اور اگر وہ وہاں نہ ہوئیں تو پھر وہ بہت ناراض ہوں گی۔

عصمت کے مطابق ان کی بیٹی کی طبیعت اس وجہ سے بھی زیادہ بگڑی کہ ڈاکٹرز نے اس کے علاج میں بھی تاخیر کی اور بار بار یہی کہا کہ سمجھ نہیں آ رہی کہ علاج کس بیماری کا کریں۔

خوش قسمتی سے طبیعت میں کچھ بہتری آنے پر آٹھ دن کے بعد ڈاکٹرز نے جنت فاطمہ کو ان کے والدین کے حوالے ضرور کر دیا مگر اس کے بعد بھی کئی دن تک انھیں آکسیجن سلینڈر پر رکھنا پڑا۔

جنت فاطمہ کو کورونا وائرس کیسے ہوا؟

عصمت یوسف کے مطابق جنت فاطمہ کے سو سالہ دادا کی حال ہی میں کورونا وائرس سے موت ہوئی تھی۔

ان کے مطابق جنت فاطمہ اپنے دادا سے بہت مانوس تھیں اور ہر وقت ان کے قریب رہتی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اکثر ان ہی کے ساتھ کھانا کھاتی تھیں اور ان کے گلاس سے پانی بھی پی لیتی تھیں۔

عصمت کے مطابق چند دن قبل جنت فاطمہ کی طبیعت بہت بگڑ گئی تھی جس سے انھیں یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ اس وائرس سے متاثر ہوئی ہیں، مگر ڈاکٹرز کو اس نتیجے پر پہنچنے میں خاصا وقت لگا۔

’ہم تمام تر احتیاط کرتے تھے کہ جنت فاطمہ اس کمرے میں نہ جائے جہاں ان کے دادا موجود ہیں مگر وہ پھر بھی ہم سے چھپ کر اس کمرے تک پہنچ جاتی تھی۔‘

’حقیقت تو معلوم نہیں مگر بظاہر وائرس ادھر ہی سے لگا۔‘

بچوں پر وائرس کے حملے کی تحقیق

خیبر یونیورسٹی پشاور کے ڈاکٹروں نے بچوں پر وائرس کے حملے کے اثرات پر ایک تحقیق کی ہے جس میں 23 فیصد بچے ایسے پائے گئے ہیں جنھیں یہ وائرس لاحق ہوا ہے لیکن نہ تو انھوں نے اس کے لیے کوئی ٹیسٹ کرائے اور نہ ہی انھیں کوئی شدید عارضہ لاحق ہوا۔

یہ تحقیق ڈاکٹر عارف اور ڈاکٹر یاسر محمود نے مل کر کی اور اس تحقیق کے لیے انھوں نے ضلع صوابی کی 54 یونین کونسلز میں سے 250 بچوں کے نمونے حاصل کیے تھے۔

ڈاکٹر یاسر محمود کا کہنا ہے کہ بچوں میں یہ علامات زیادہ شدت سے سامنے نہیں آتیں اس لیے اکثر بچوں پر اس وائرس کا حملہ ہوتا بھی ہے تو انھیں اس کا زیادہ احساس نہیں ہوتا۔

انھوں نے کہا کہ کچھ بچے ایسے ہوتے ہیں جن میں اگر دیگر کسی بیماری کی علامات ہوں تو ان بچوں پر اس وائرس کا حملہ پھر شدید ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر یاسر نے بتایا کہ ان کی تحقیق کے مطابق بچے یہ وائرس لے جا سکتے ہیں اور ان بچوں سے دیگر افراد خاص طور پر بڑی عمر کے لوگ زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔