آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کورونا وائرس ویکسین: کیا انڈیا پاکستان کو اپنے خرچے پر مفت ویکسین فراہم کرے گا؟
- مصنف, بینظیر شاہ
- عہدہ, صحافی
چند روز قبل 10 مارچ کو انڈین اخبار انڈین ایکسپریس کی ایک شہ سرخی کچھ یوں تھی کہ ’انڈیا پاکستان کو کورونا ویکسین فراہم کرے گا جبکہ ایک اور انڈین اخبار ’ٹائمز ناؤ‘ میں شائع ہونے والی خبر کی سرخی ’#بریکنگ: پاکستان کو جی اے وی آئی (گاوی) میثاق کے تحت انڈین ساختہ کورونا ویکسین کی 45 ملین خوراکیں فراہم کی جائیں گی۔‘
لیکن کیا اس خبر کا حقیقت سے کوئی تعلق بھی ہے؟ کیا انڈیا اپنے بل بوتے پر خود سے اپنے ہمسایہ ملک اور دیرینہ حریف پاکستان کی مدد کرتے ہوئے کورونا ویکسین کی کروڑوں خوراکیں دے گا؟
اس سوال کا جواب تو نفی میں ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو انڈیا میں بنائی ہوئی ویکسین بہت جلد موصول ہو جائے گی۔
آنے والے چند ہفتوں میں انڈیا پاکستان کو کورونا ویکسین کی 14 ملین خوراکیں مفت فراہم کرے گا لیکن یہ ترسیل بذریعہ عالمی ادارہ صحت اور گاوی کوویکس ویکسین الائنس پروگرام کے تحت کی جائے گی جبکہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کا کوئی معاہدہ موجود نہیں۔
اسی حوالے سے مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گاوی کی جانب سے کوویکس پروگرام کے حوالے سے اس رپورٹ کے لیے جن تفصیلات کا تبادلہ کیا گیا ہے اس کے مطابق پاکستان کو ایسٹرازینیکا کی تیار کردہ ایک کروڑ 46 لاکھ 40 ہزار آکسفورڈ ویکسین کی خوراکیں فراہم کی جائیں گی۔
پاکستان کو ملنے والا لائسنسڈ بیچ دنیا کے سب سے بڑے ویکسین ساز ادارے سیرم انسٹیٹیوٹ آف انڈیا کا تیار کردہ ہو گا اور عالمی طور پر پاکستان کو ملنے والی ویکسین کی تعداد کسی بھی ایک ملک کو دی گئی سب سے بڑی تعداد ہو گی۔
اس ویکسین کی دوسری سب سے بڑی کھیپ یعنی ایک کروڑ 36 لاکھ 56 ہزار خوراکیں نائجیریا کو دی جائیں گی۔
گاوی کے مطابق ان خوراکوں کی ترسیل فروری سے مئی کے درمیان متوقع ہے۔
کوویکس ویکسین پروگرام کیا ہے؟
کوویکس کورونا وائرس ویکسین کی دو ارب خوراکوں کی پوری دنیا کے درمیانے اور کم آمدنی والے ممالک میں منصفانہ اور مساوی طور پر تقسیم یقینی بنانے کے لیے شروع کیا گیا ایک پروگرام ہے جس کی سربراہی گاوی اور عالمی ادارہ صحت سمیت دیگر ادارے کر رہے ہیں۔
جرمنی، ہالینڈ، برطانیہ اور انڈیا سمیت دیگر ممالک کی ادویات ساز کمپنیاں ویکسین تیار کریں گی جو کہ پھر پوری دنیا میں تقسیم کی جائیں گی۔
اس رپورٹ کے لیے بذریعہ ای میل گاوی کے ایک ترجمان نے بتایا کہ پاکستان ان 92 کم آمدنی والے ممالک میں شامل ہے جو گاوی کے کوویکس ایڈوانس مارکیٹ کمٹمنٹ کے تحت مدد کا اہل ہے۔
اس خبر کی تصدیق پاکستان کے وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر نے بھی کی۔
اسد عمر نے بتایا کہ ’ویکسین کے لیے گاوی ہی ہمارا مرکزی سپلائر ہے۔‘
اسد عمر کا مزید کہنا تھا کہ ’گاوی کے پاس تیاری کے کافی مراکز ہیں لیکن سب سے بڑے اور اس خطے یعنی ایشیا اور افریقہ کے لیے ویکسین کی تیاری سیرم انسٹیٹیوٹ آف انڈیا میں کی جا رہی ہے۔‘
وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ کوویکس کے تحت ویکسین کا پہلا بیچ مارچ میں ہی متوقع ہے۔
یاد رہے کہ 18 جنوری کو پاکستان کی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے ایسٹرازینیکا ویکسین کی جانچ کے بعد ملک میں استعمال کی ہنگامی اجازت دی تھی۔
ایسٹرازینیکا مہلک کورونا وائرس کے خلاف 63 فیصد فعالیت رکھنے والی ویکسین ہے اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ ویکسین لگوانے والوں کو اس کی دو خوراکیں آٹھ سے 12 ہفتے کے فرق سے لینا ہوں گی۔
گاوی نے جن دستاویزات کا تبادلہ کیا ہے اس کے مطابق ایسٹرازینیکا کے علاوہ گاوی امریکی ساختہ ویکسین فائزر بھی حاصل کرے گی جو دیگر ممالک میں تقسیم کی جائے گی لیکن پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل نہیں ہے جنھیں امریکی ویکسین فائزر کے پہلے مرحلے کے لیے مختص کیا گیا ہے۔
اس سال کی پہلی سہ ماہی میں فائزر کی ویکسین کوویکس پروگرام کے تحت جن ممالک کو دی جائے گی ان میں سے چند ممالک میں بھوٹان، بولیویا، قطر، مقبوضہ غُربِ اُردن (مغربی کنارہ) اور غزہ سمیت جنوبی افریقہ شامل ہیں۔
پاکستان میں اس وقت کورونا وائرس کی صورتحال کیا ہے؟
یہ کہنا کچھ حد تک تو مناسب ہے کہ پاکستان میں دنیا کے بہت سے ممالک کے مقابلے میں صورتحال قدرے بہتر ہے لیکن حالیہ کچھ عرصے میں متاثرین اور اموات کی تعداد میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
وفاقی وزیر برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے جمعے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں کورونا وائرس کی تیسری لہر آ چکی ہے اور عوام کو اس سے بچاؤ کے لیے سخت احتیاط کی ضرورت ہے۔
اس سے قبل وفاقی وزیر اسد عمر نے بھی ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں اب کورونا وائرس کی تیسری لہر ہے اور اس کا مرکزی سبب برطانیہ سے کورونا وائرس کی دریافت ہونے والی نئی قسم ہے۔
پاکستان میں جنوری کے مہینے میں کُل 64 ہزار سے زیادہ نئے متاثرین کی تشخیص ہوئی تھی مگر بتدریج ان کی تعداد میں کمی آتی گئی اور 20 جنوری کے بعد سے کسی بھی دن دو ہزار سے زیادہ متاثرین کی شناخت نہیں ہوئی تھی۔
اس کمی کو دیکھتے ہوئے حکومت نے فروری کے آخر سے سکولوں اور دفاتر کو کھولنے اور روز مرّہ کے معمول کو دوبارہ بحال کرنے کا حکم دیا۔ فروری کے 28 دنوں میں کُل 34 ہزار سے زیادہ نئے متاثرین سامنے آئے۔
تاہم مارچ شروع ہونے کے بعد مریضوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور گذشتہ تین روز سے روزانہ مسلسل دو ہزار سے زیادہ متاثرین کی تشخیص ہو رہی ہے۔
14 مارچ تک کے اعداد و شمار کے تحت پاکستان میں کل متاثرین کی تعداد چھ لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے اور کل اموات 13 ہزار 508 تک پہنچ گئی ہیں۔ اس وقت پاکستان میں 21 ہزار سے زیادہ فعال متاثرین موجود ہیں۔
13 مارچ کو بھی 2664 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔
پاکستان میں ویکسینیشن کا سلسلہ کہاں تک پہنچا ہے؟
پاکستان میں ویکسینیشن کا آغاز فروری کے اوائل میں ہوا جب چین سے بطور عطیہ بھیجی گئی سائنوفارم ویکسین کی پانچ لاکھ خوراکیں فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز اور معمول کے ہیلتھ ورکرز کے لیے لگانی شروع کی گئیں۔
مارچ کے مہینے میں پاکستان نے اعلان کیا کہ وہ 10 مارچ سے 60 برس سے زیادہ عمر والے افراد کے لیے بھی ویکسینیشن کا سلسلہ شروع کر رہا ہے جس کے لیے ایسٹرازینیکا اور سائنوفارم استعمال کی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر فیصل سلطان نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ اب تک پاکستان میں مجموعی طور پر تین لاکھ سے زیادہ افراد کو ویکسین کی خوراک دی جا چکی ہے۔
دوسری جانب صوبہ سندھ کے محکمہ صحت کی جانب سے اس رپورٹ کے لیے فراہم کردہ معلومات کے مطابق 12 مارچ تک صوبے میں 98 ہزار سے زیادہ افراد کو ویکسین کی ایک خوراک مل چکی ہے جبکہ 23 ہزار سے زیادہ افراد وہ ہیں جنھیں دونوں خوراکیں مل چکی ہیں۔
پاکستان کے مختلف شہروں اور وفاقی دارالحکومت کے کچھ ویکسینیشن مراکز میں عوام کا کافی ہجوم دیکھنے میں آ رہا ہے جس کے باعث لوگوں میں یہ تشویش بھی پائی جاتی ہے کہ کورونا ویکسین لگوانے کے دوران مناسب سماجی فاصلہ نہیں اختیار کیا جا رہا،تاہم اس کے باوجود متعدد افراد نے بی بی سی کے نمائندوں کو بتایا ہے کہ ان کا ویکسین لگوانے کا تجربہ اچھا رہا ہے۔
اس کے علاوہ کچھ لوگوں نے ویکسینیشن مراکز کے بارے میں ملنے والی معلومات کے غلط ہونے یا بدانتظامی کی شکایت بھی کی ہے۔