طارق بشیر چیمہ کے خاندان کو ویکسین لگانے کا معاملہ: کیا وفاقی وزیر نے اپنے خاندان کو ویکسین لگوانے کے لیے سیاسی اثر و رسوخ استعمال کیا؟

ویکسین

،تصویر کا ذریعہSM Viral Post

    • مصنف, منزہ انوار، اعظم خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

گذشتہ روز سے پاکستان میں سوشل میڈیا پر وفاقی وزیر بشیر طارق چیمہ کی صاحبزادی نوال طارق چیمہ کی انسٹاگرام سٹویرز پر مشتمل ایک ویڈیو وائرل ہے۔ مذکورہ ویڈیو میں وفاقی وزیر اور ماسک پہنے ایک اور شخص کے علاوہ مختلف عمروں کی بہت سی خواتین جن میں نوجوان لڑکیاں بھی شامل ہیں، ایک ڈرائنگ روم میں بیٹھی ہیں جہاں دو نرسیں باری باری انھیں ٹیکے لگا رہی ہیں۔

ویڈیو میں ایک جگہ واضح طور پر لکھا ہوا دیکھا جا سکتا ہے کہ ’میں نے کووڈ -19 کی ویکسین لگوا لی ہے۔‘

اگرچہ اس ویڈیو میں مختلف عمروں کی خواتین موجود ہیں تاہم زیادہ تعداد ایسی خواتین اور نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں پر مشتمل ہے جن کی عمریں 50 سال سے کم نظر آتی ہیں۔

مذکورہ وائرل ویڈیو میں اداکارہ عفت عمر کو بھی ویکسین لگواتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے اداکارہ نے ایک ٹویٹ بھی کی جسے شدید تنقید کے بعد اب ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے لیکن انٹرنیٹ پر سکرین شاٹ تو ہمیشہ رہتے ہیں۔

ڈیلیٹ کی گئی ٹویٹ میں عفت عمر نے لکھا تھا: ’میں یہ وضاحت کرنا چاہوں گی کہ یہ کینسائنو ویکسین (ٹرائل) کا بوسٹر شاٹ (قوتِ مدافعت بڑھانے والی خوراک) تھا۔

اداکارہ نے دعویٰ کیا کہ یہ خوراک یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی جانب سے فراہم کی گئی جنھوں نے اس سے قبل پہلے والی خوراک بھی مہیا کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

عفت

،تصویر کا ذریعہ@OmarIffat

طارق بشیر چیمہ کا دعویٰ: ’کینسائنو ویکسین لگائی گئی جو ابھی ٹرائل میں ہے‘

دوسری جانب وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی میڈیا نے یہ ویڈیو ان کی سکول میں پڑھنے والی بچی کے انسٹا گرام سے حاصل کر کے تحقیقاتی رپورٹنگ کا رنگ دیا ہے۔

ان کے مطابق ان کی ساس کی صحت خاصی تشویشناک ہے، وہ چل پھر نہیں سکتیں اور ان کے لیے گھر کے ایک کمرے کو ہی ہسپتال بنا رکھا ہے، جہاں انھیں کورونا وائرس کی ویکسین لگائی گئی ہے۔

طارق بشیر چیمہ کا دعوٰی ہے کہ ان کے خاندان کے دوسرے دو افراد کو بھی کورونا ویکسین لگائی گئی ہے مگر جو ویکسین لگائی گئی ہے وہ ابھی ٹرائل میں ہے۔

ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انھوں نے ڈھائی تین ماہ قبل یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ساتھ اپنے آپ کو رجسٹر کیا تھا۔ طارق بشیر چیمہ کا دعویٰ ہے کہ یہ کینسائنو ویکسین تھی جو ابھی ٹرائل کے مرحلے میں ہے۔

’یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور نے ٹرائلز کے دوران کسی کے گھر جا کر ویکسین نہیں لگائی‘

یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے ڈائریکٹر میڈیا محمد عاطف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور میں کینسائنو ویکسین کے تمام تر ٹرائلز ختم ہو چکے ہیں اور اب فالو اپ ہو رہا ہے جو کئی مہینوں تک چلے گا۔

انھوں نے بتایا کہ تمام تر ٹرائلز کنٹرولڈ سیٹ اپ میں کیے گئے ہیں جن میں شریک سب افراد نے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور میں خود آکر خوارک لگوائی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھیں نہیں معلوم کہ وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے یہ دعویٰ کیوں کیا کہ انھیں اور ان کے خاندان کے افراد کو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی جانب سے گھر جا کر کینسائنو ویکسین لگائی گئی۔

یہاں یہ یاد رہے کہ یہ ٹرائلز بلائنڈ ٹرائلز ہوتے ہیں جو ایک انتہائی کنٹرولڈ سیٹ اپ کے اندر کیے جاتے ہیں (یعنی کسی کے گھر جا کر اسے ویکسین نہیں لگائی جاتی) جن میں کچھ لوگوں کو اصلی دوائی دی جاتی ہے اور باقیوں کو دوا کا پلیسیبو دیا جاتا ہے۔ مریض کو بالکل معلوم نہیں ہوتا کہ اسے اصل دوا دی گئی یا دوا کا پلیسبو۔

دوسری جانب اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں بھی کینسائنو ویکسین کے ’فیز تھری‘ یا تیسرے مرحلے کے ٹرائلز ختم ہو چکے ہیں۔

طارق

،تصویر کا ذریعہ@ChTariqBashirC1

پاکستان میں کووڈ 19 کی ویکسین کہاں اور کیسے لگوائی جا رہی ہے؟

پاکستان میں کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگانے کے پہلے مرحلے میں صحت عامہ سے منسلک افراد (جیسے ڈاکٹرز، نرسز اور ہسپتال کے عملے) کو ویکسین لگائی گئی تھی اور دوسرے مرحلے میں صرف ان افراد کو ویکسین لگانے کا عمل جاری ہے جن کی عمریں 60 سال یا اس سے زیادہ ہیں جبکہ 30 مارچ سے 50 سال سے زیادہ عمر والے افراد کی رجسٹریشن کا عمل شروع کیا گیا ہے۔

پاکستان میں ویکسین لگانے کے لیے ملک کے کئی اضلاع اور تحصیلوں کی سطح پر متعدد ویکسین مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں جا کر کووڈ 19 سے بچاؤ کی ویکسین لگوائی جا سکتی ہے۔

واضح رہے کہ اگرچہ پاکستان میں کچھ نجی کمپنیاں پرائیوٹ ویکسین کو مارکیٹ میں متعارف کروانے کے مراحل میں ہیں تاہم ابھی تک اس سلسلے میں کوئی بھی ویکسین مارکیٹ میں دستیاب نہیں۔

اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر زعیم ضیا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ابھی تک ان کے پاس کسی ضعیف العمر یا معذور شخص کو اس کے گھر جا کر ویکسین لگانے کے متعلق کوئی ہدایات نہیں ہیں اور اسلام آباد کی حد تک ابھی تک کسی کے گھر جا کر اسے ویکسین نہیں لگائی گئی۔

پنجاب حکومت کا ردِعمل

اگرچہ اس حوالے سے ابھی تک پنجاب حکومت کی جانب سے کوئی وضاحت تو سامنے نہیں آئی تاہم وزیرِاعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی شہباز گل نے اداکارہ عفت عمر کے ویکسین لگوانے پر شدید تنقید کی ہے۔

جس پر سوشل میڈیا پر موجود کئی افراد معاونِ خصوصی پر تنقید کرتے ہوئے یہ کہتے نظر آئے کہ ’گل صاحب کچھ جملے اپنے وزیر کے بارے میں بھی بول دیجئیے۔ یا اخلاقیات کا درس صرف اوروں کے لیے ہے؟‘

بی بی سی نے اس حوالے سے پنجاب حکومت کا مؤقف لینے کے لیے صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر یاسمین راشد سے رابطہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پنجاب حکومت نے وفاقی وزیر کے اہلخانہ کو ویکسین لگانے سے متعلق کوئی منظوری نہیں دی تھی۔‘

یاسمین

،تصویر کا ذریعہFacebook/DrYasmeenRashidOfficial

ان کے مطابق ’صوبائی حکومت کی یہ پالیسی ضرور ہے کہ اگر کوئی 80 سال سے زائد عمر کا فرد ہے یا کوئی کسی معذوری کی وجہ سے ہسپتال نہیں آ سکتا تو ہماری ٹیمیں گھر جا کر ایسے افراد کو ویکیسن لگاتی ہیں اور اس مقصد کے لیے 20 ہزار خوراکیں رکھی گئی ہیں۔‘

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سننے میں آیا ہے کہ طارق بشیر چیمہ کے اہلخانہ کو ٹرائل ویکسین لگائی گئی ہے تاہم انھوں نے واضح کیا کہ پنجاب حکومت کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ایسی کوئی پالیسی ہے کہ کسی کو اس طرح ویکسین لگائی جائے۔

طارق بشیر چیمہ نے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد کے جواب میں کہا کہ 'جس نے جو کہنا ہے، کہے اور جو کرنا ہے کر لے، اب مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا'

سوشل میڈیا پر تنقید: ’ایسے لوگ ہی حقداروں کا حق مارتے ہیں‘

یہ ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد سے پاکستان میں سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ سیاستدانوں سے لے کر صحافی اور عام عوام تک سبھی یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ اگر ابھی تک صرف 60 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کو صرف حکومتی مراکز میں جا کر ویکسین لگوانے کی اجازت ہے تو پھر کس بنیاد پر وفاقی وزیر کے خاندان کے افراد کو ان کے گھر جا کر کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگائی گئی ہے۔

اقرار

،تصویر کا ذریعہ@iqrarulhassan

صحافی اقرار الحسن نے اس ویڈیو کو شئیر کرتے ہوئے لکھا: ’وفاقی وزیر طارق چیمہ صاحب کی پوری فیملی کو اُن کے گھر پر مکمل پروٹوکول کے ساتھ کرونا ویکسین لگوائی گئی۔ یہ ہے پاکستان کی اشرافیہ کا اصل چہرہ۔ ان کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے ہو، یہ کسی بھی اہم ادارے سے ہوں، پاکستان کے عام آدمی کو یہ پاؤں کی جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں، انھیں اپنی شان و شوکت، پروٹوکول اور مقاصد عزیز ہیں۔ عام پاکستانی اور اُس کے بچوں کی زندگیاں اِن کے لیے مذاق ہیں۔‘

اویس سلیم نے شہباز گل کے اداکارہ عفت عمر پر تنقید کرنے پر لکھا: ’جس اتحادی وزیر کی موجودگی میں اس کے گھر پر ویکسین لگی اور جس کی حکومت میں لگائی گئی، ان کے بارے میں بھی کوئی ارشاد؟‘

نوید نامی صارف لکھتے ہیں: ’طارق بشیر چیمہ کو اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے سنیں تو لگتا ہے کہ پاکستان کا دکھ درد انھیں کھائے جا رہا ہے لیکن پوری فیملی سمیت ویکسین لگوا لی ہے۔‘

مانی

،تصویر کا ذریعہ@ManiQureshi

ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’اگر تو یہ ویکسین پرائیوٹ ہے تو کوئی ایشو نہیں لیکن اگر اثرو رسوخ کا استمعال کر کے لگوائی گئی ہے تو شرم آنی چاہیے اور پنجاب حکومت کو تحقیقات کرنی چاہییں۔‘

وقاص امجد لکھتے ہیں کہ ’اس کی پوری تحقیقات ہونی چاہیے پرائیویٹ ویکسین ابھی مارکیٹ میں نہیں آئی۔ ایسے لوگ ہی حقداروں کا حق مارتے ہیں۔‘

مدثر اکبر نے بھی کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ’ہمارے ملک پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہی یہی ہے کہ ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ ان جیسے سرمایا کار اپنی دولت اور رتبے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے سفید پوشوں اور غریبوں کا حق کھاتے ہیں ۔ان کے خلاف ایکشن لیا جانا چاہیے۔‘

بیشتر صارفین اس معاملہ کی انکواٸری کروانے اور متعلقہ افراد اور ذمہ داروں کو کڑی سزا دی نے کا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں۔