مشیر برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان سے سوال: روس، امریکہ، چین، برطانیہ میں سے پاکستان کہاں سے ویکسین حاصل کرے گا؟

ویکسین
    • مصنف, حمیرا کنول
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، آسلام آباد

کورونا وائرس کی دوسری لہر پہلی کی نسبت زیادہ جان لیوا ثابت ہو رہی ہے اور ایک مرتبہ پھر روزانہ کی بنیاد پر ملک میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر دنیا بھر کے مختلف ممالک کے لیے تصدیق شدہ ویکسین کا جلد ازجلد حصول اہم ترین ضرورت دکھائی دے رہی ہے۔

خیال رہے کہ اس وقت پاکستان میں چین میں تیار کردہ ویکسین اے ڈی فائیو نوول کورونا وائرس ویکسین کے ٹرائل جاری ہیں۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں اگلے برس کی پہلی سہ ماہی میں کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین دستیاب ہو جائے گی تاہم کس ملک کی ویکسین کا چناؤ کرنا ہے یہ فیصلہ ویکسین کی افادیت کو دیکھ کر کیا جائے گا۔

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے بی بی سی کو بتایا یہ غلط تاثر ہے کہ ہم کسی ایک یا دوسری ویکسین کو فوقیت دے رہے ہیں بلکہ ہم سائنس کو فوقیت دیں گے اور جو بہترین ویکسین ہمیں میسر ہو گی، جس کے سائنسی اعتبار سے بھی فائدے سامنے ہوں گے، وہی استعال کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے کہا: ’پاکستان کسی بھی ویکسین کو فوقیت نہیں دے رہا۔ سب سے اہم فیصلہ جو ہمارے لیے ہو گا جس کی بنیاد پر ہم نے کسی بھی ویکسین کو فوقیت دینی ہے وہ ویکسین کی افادیت اور اس کا محفوظ ہونا ہے۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ کیا روس اور چین کی ویکسین اس لیے لی جا رہی ہے کیونکہ وہ نسبتاً سستی ہو گی، ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ پاکستان 20 کروڑ سے زیادہ آبادی کا ملک ہے، جسکی وجہ سے ہماری ضرورت کافی زیادہ ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں ایک سے زیادہ ذریعے کی ضرورت ہو گی۔

ویکسین

پاکستان کس ویکسین کو ترجیح دے گا؟

ڈاکٹر فیصل کے مطابق پاکستان میں چین کی تیار کردہ دونوں ویکسین کو دیکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ویکسین چاہے امریکہ سے آئے چین سے، روس سے یا برطانیہ سے، سوال یہ ہے کہ ویکسین کی افادیت کیا ہے؟ تو جب تک یہ معلومات ہاتھ میں نہیں ہوں گی اس پر فیصلہ کرنا ممکن نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ متعلقہ کمپنی ویکسین کے بارے میں معلومات فراہم کرے گی اور ہمارے ریسرچر اسے دیکھیں گے تاہم ابھی معلوم نہیں کہ کتنی مقدار میں کون سی ویکسین لی جائے گا۔

انھوں نے وضاحت کی کہ پاکستان جلد یہ بتانے کے قابل ہو گا کہ وہ کہاں سے اور کس سے کتنی ویکسین لے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2012 کی پہلی سہ ماہی میں ابتدائی ویکسین ملے گی تاہم پوری آبادی کو تو ویکسین نہیں مل پائے گی لیکن دوسری سہ ماہی میں چانس ہے کہ عام آبادی تک ویکسن کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے گا۔

متعدی امراض کے سربراہ اور کووڈ 19 سے بچاؤ کے لیے چین کی ویکسین کے لیے شفا ہسپتال میں اعلیٰ تحقیق کار ڈاکٹر اعجاز خان کہتے ہیں کہ پورے ملک کو ویکسین لگانا ایک بہت بڑا کام ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی معلوم نہیں کہ خریدنے کے لیے کونسی ویکسن دستیاب ہو گی۔

’ہمیں تمام تفصیلات تو معلوم نہیں لیکن بہت سی کمپنیاں حکومت سے ویکسین کے حوالے سے رابطہ کر رہی ہیں اور تجربات کے لیے وہ ہسپتالوں سے بھی رابطہ کر رہی ہیں۔‘

ان کی نظر میں یہ اچھا ہے پاکستان اور پوری دنیا کے لیے کیونکہ زیادہ ویکسینز ہوں گی تو اس وبا کو کنٹرول کرنے میں زیادہ آسانی بھی ہو گی۔ وہ کہتے ہیں کہ ممکنہ طور پر ویکسین کی دستیابی میں تین سے چھ ماہ لگ جائیں گے۔

پاکستان میں جاری ٹرائلز کے بعد کامیاب ہونے والی ویکسین کی ممکنہ طور پر بڑی کھیپ پاکستان کو مل سکے گی اور دوسری جانب پاکستان ایک بڑی رقم ویکسین کو خریدنے میں بھی لگائے گا۔ لیکن ویکسین کی سٹوریج یعنی اسے محفوظ رکھنے کے لیے کس قدر تیاری ہے؟

اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر اعجاز کا کہنا تھا کہ اس پر بھی کام کرنا ہو گا۔ وہ کہتے ہیں لاجسٹک اور معاشی لحاظ سے اس پر بھی وقت اور خرچ آئے گا تاہم اس کے بارے میں تفصیلی طور پر حکومت ہی بتا سکتی ہے۔

دنیا میں اس وقت کووڈ 19 کے خلاف ویکسین تیار کرنے کی دوڑ جاری ہے اور بظاہر چین نے اس حوالے سے کافی کام کیا ہے۔ چین میں تیار کردہ ممکنہ ویکسینز میں سے ایک سینو ویک پہلے ہی دنیا کے دیگر ممالک میں برآمد کی جانے لگی ہے۔

سینو ویک ویکسین کی کھیپ انڈونشیا میں بھیج دی گئی ہے جہاں جنوری تک اس کے 18 لاکھ ٹیکے پہنچائے جائیں گے۔

مگر اس سے سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایک ایسی دوا جس کے ابھی حتمی ٹرائل ہونا باقی ہیں، اس کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

سینو ویک اور دیگر ویکسینز میں کیا فرق ہے؟

سینو ویک ایک ایسی ویکسین ہے جو مریض کے نظامِ مداقعت میں وائرس کے مردہ نمونے شامل کرتا ہے تاکہ مریض کے نظامِ مداقعت کو پتا چلے کہ اس وائرس کا مقابلہ کرنا ہے اور مریض پر کوئی برا اثر بھی نہ پڑے۔

ویکسین

اس کے مقابلے میں موڈرنا اور فائزر کی ایم آر این اے ویکسینز ہیں جس میں کورونا وائرس کا جزوی جینیاتی کوڈ مریض میں انجیکش کے ذریعے شامل کیا جاتا ہے جس سے مریض وائرل پروٹینز بنانا شروع کر دیتا ہے مگر پورا وائرس نہیں۔ ان وائرل پروٹیز کے ذریعے نظامِ مداقعت کو یہ پتا چل جاتا ہے کہ اس کا مقابلہ کیسے کرنا ہے۔

نانیانگ ٹیکنولوجیکل یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر لو داہی نے بی بی سی کو بتایا کہ سینو ویک کا طریقہ ویکسینز کا ایک روایتی طریقہ ہے اور ایم آر این اے نئے طرز کی ویکسینز ہیں اور ان کی ماضی میں کوئی بڑے پیمانے پر آبادی میں کامیاب مثال نہیں ملتی۔

اس کے علاوہ سیو ویک کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ یہ 2 سے 8 ڈگری سینٹی گریڈ میں بھی رکھی جا سکتی ہے۔ موڈرنا کی ویکسین کو منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ اور فائزر کی ویکسین کو منفی 70 ڈگری پر رکھنا ضروری ہے۔ آکسفورڈ کی ویکسین کو بھی اس قدر سرد ماحول میں رکھنا ضروری نہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ ترقی پزیر ممالک جہاں پر توانائی کی کمی کی وجہ سے اس قدر سرد ماحول برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے، ان ممالک کے لیے سینو ویک اور آکسفورڈ کی ویکسین زیادہ مفید ہو سکتی ہے۔

سینو ویک کتنی مؤثر ہے؟

سینو ویک کتنی مؤثر ہے، یہ کہنا ابھی مشکل ہے۔ اب تک اس کے فیز 1 اور فیز 2 ٹرائلز کے نتائج سامنے آئے ہیں۔

پہلے مرحلے میں 144 رضاکاروں نے جبکہ دوسرے میں 600 نے حصہ لیا اور اس تحقیق کے بعد ماہرین کا کہنا تھا کہ ویکسین کم از کم ایمرجنسی صورتحال کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔

سینو ویک کا دعویٰ ہے کہ ستمبر میں ایک ہزار سے زیادہ رضاکاروں کے ساتھ تجربہ شروع کیا گیا تھا جن میں سے پانچ فیصد سے بھی کم میں تھکاوٹ اور بے آرامی کے اثرات نظر آئے تھے۔ سینو ویک برازیل میں فیز 3 کے ٹرائل کر رہا ہے۔

سینو ویک کا کہنا ہے کہ وہ ایک سال میں 30 کروڑ ٹیکے تیار کر سکتے ہیں۔ دیگر ویکسینز کی طری اس کے بھی دو ٹیکے فی مریض درکار ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ فی الحال یہ صرف ہر سال 15 کروڑ چینی شہریوں کے لیے ویکسین تیار کر سکتے ہیں جو کہ ملک کی کل آبادی کا دس فیصد کے قریب ہے۔

تاہم سینو ویک نے پہلے ہی انڈونیشیا میں کھیپ بھیج دی ہے اور اس کے ترکی، برازیل اور چلی کے ساتھ فروخت کے معاہدے ہیں۔

چین کی دیگر ویکسینز کون سی ہیں؟

چین میں کورونا وائرس کے خلاف چار ویکسینز تیاری کے مختلف مراحل میں ہیں۔ ان میں سے ایک سینو فارم کی ہے جسے دس لاکھ چینی افراد میں ہنگامی بنیادوں پر بانٹا گیا تھا۔ سینو فارم نے بھی اپنے فیز 3 ٹرائلز کا ڈیٹا شائع نہیں کیا ہے۔

مگر متحدہ عرب امارات وہ پہلا ملک بن گیا ہے جس نے سینو فارم کے فیز ٹرائل مکمل کر کے اسے 86 فیصد کارآمد قرار دیا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں سرکاری نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ سینو فارم کی ویکسین کو ملک میں سرکاری طور پر رجسٹر کر لیا گیا ہے اور وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ ان کے تجزیے کے مطابق اس کے کوئی حفاظتی خدشات نہیں ہیں۔