جانی خیل، بنوں: شکار کے لیے جانے والے چار لڑکوں کی لاشیں برآمد، مقامی افراد کا دھرنا اور پولیس کی تفتیش جاری

،تصویر کا ذریعہCourtesy Rufhan Khan
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
’یہ چار کم عمر لڑکے تو شکار کے لیے گئے تھے پھر ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ کہاں چلے گئے۔ اب لگ بھگ بیس روز بعد ان چاروں کی قتل شدہ لاشیں ملی ہیں۔‘
یہ الفاظ ہلاک ہونے والے ایک لڑکے احمد اللہ کے چچا کے ہیں جو لاشوں کے ہمراہ دھرنا دیے بیٹھے تھے۔
یہ واقعہ ضلع بنوں میں جانی خیل کے علاقے میں پیش آیا ہے اور احتجاجی دھرنا پیر کے روز بھی جانی خیل کے روڈ پر قلعے کے قریب جاری ہے۔
پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا ہے مگر احتجاجی دھرنے میں بڑی تعداد میں لوگ بیٹھے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت ان لڑکوں کو ’ہلاک کرنے والے افراد کی نشاندہی کرے۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دھرنے میں شریک ہلاک ہونے والے لڑکے احمد کے چچا ڈاکٹر سبحان ولی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔
دھرنا گذشتہ رات (اتوار) سے جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ’قاتلوں کی نشاندہی کرے، انھیں گرفتار کر کے سزا دے اور سکیورٹی کے ذمہ دار افراد سے پوچھا جائے، کیونکہ جہاں سے یہ لاشیں ملی ہیں اس کے قریب چوکیاں موجود ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ واقعے پر علاقے کے تمام لوگ غمزدہ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سب لوگ اس دھرنے میں شریک ہیں۔
’چار قتل شدہ لاشیں زمین میں دفن ہوئی ملیں‘
پولیس کے مطابق چاروں لڑکوں کی عمریں تیرہ سال اور سترہ سال کے درمیان بتائی گئی ہیں اور ان کی لاشیں جانی خیل کے علاقے میں ایک ندی کے قریب قبرستان سے ملی ہیں۔
ان لڑکوں کی شناخت احمد اللہ خان، محمد رحیم، رفعام اللہ اور عاطف اللہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہSocial Media
احمد اللہ کے چچا سبحان ولی نے بی بی سی کو بتایا کہ چاروں لڑکے شکار کے لیے گئے تھے، ان کے ساتھ کتے بھی تھے۔ لیکن لڑکے واپس گھروں کو نہیں آئے۔ ان لڑکوں کے رشتہ داروں اور علاقے کے لوگوں نے ان کی تلاش کی لیکن کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز ایک چرواہا اس علاقے میں مویشی لے کر گیا تو وہاں آوراہ کتوں نے زمین میں لاشوں کی نشاندہی کی جس پر اس بارے میں علاقے کے لوگوں کو بتایا گیا۔ اس اطلاع پر ان افراد کے اہل خانہ اور دیگر مقامی لوگ موقع پر پہنچے اور لاشوں کی شناخت کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی ’کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے اور نہ ہی انھیں معلوم ہے کہ ان لڑکوں کو کس نے مارا ہے‘، اس لیے وہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان قاتلوں کو منظر عام پر لایا جائے۔
ان لڑکوں کے بارے میں مقامی لوگوں نے بتایا کہ ان لڑکوں کو شکار کرنے اور مقامی کھیل کھیلنے کا شوق تھا۔
لوگوں نے بتایا کہ یہ لڑکے اکثر چڑیا اور خرگوش کے شکار کے لیے چلے جاتے تھے۔
ان لڑکوں کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ ان میں سے ایک کے والد کراچی میں اور دو کے والد مقامی سطح پر مزدوری کرتے ہیں۔ جبکہ ایک کے والد کی وفات ہوچکی ہے اور ان کے ایک بھائی روزگار کے لیے بیرون ملک کام کرتے ہیں۔
مقامی پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ انھیں ایسی اطلاع موصول ہوئی کہ مقامی لوگوں کو علاقے میں ایک قبرستان میں چار قتل شدہ لاشیں زمین میں دفن ہوئی ملی ہیں۔
پولیس کے مطابق ’ایک لاش کا سر نہیں ہے‘ اور ’باقی کی شناخت نہیں ہو پا رہی۔‘
پولیس میں احمد اللہ کے چچا کی طرف سے ایف آئی آر درج کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے اور اب تک انھیں پتا نہیں چل سکا کہ لڑکوں کو کس نے قتل کیا ہے۔
’ہمارے علاقے میں اب یہ خون کا کھیل بند ہو جانا چاہیے‘

،تصویر کا ذریعہLATIF
ضلع بنوں صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی علاقوں کی سرحد پر واقع ہے۔ جانی خیل بنوں شہر سے کوئی 25 کلومیٹر دور واقع ہے اور اس کی سرحد شمالی وزیرستان سے ملتی ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں ’اچھے اور برے شدت پسندوں کی اصطلاح کا استعمال عام ہے۔‘
ان کے مطابق اچھے شدت پسند وہ ہیں جو ’حکومت کے ساتھ‘ ہیں جبکہ برے شدت پسند ’حکومت کے خلاف‘ بتائے جاتے ہیں، یہ ایسا ہی ہے جیسے ’گُڈ طالبان اینڈ بیڈ طالبان‘۔
جانی خیل کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں تشدد کے واقعات ایک عرصے سے پیش آ رہے ہیں اور انھیں شکایت ہے کہ حکام اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہے۔
ہلاک ہونے والے لڑکے احمد کے چچا ڈاکٹر سبحان ولی کا کہنا ہے کہ ’اب یہ خون کا کھیل بند ہو جانا چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ دس سال کے عرصے سے آئے روز کسی نہ کسی کے قتل کی اطلاع ملتی رہتی ہے لیکن اب ان ’چار معصوم بچوں کے قتل نے پورے علاقے میں کہرام برپا کر دیا ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ جانی خیل میں ہر فرد غمزدہ ہے اور ہر انسان کی آنکھ میں آنسو ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس احتجاج میں ’پورے علاقے کے لوگ پہنچ گئے ہیں۔‘
خیال رہے کہ رواں سال فروری میں شمالی وزیرستان میں ان چار خواتین کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا جو ایک غیر سرکاری تنظیم کے لیے کام کر رہی تھیں اور مقامی خواتین کو مختلف ہنر سکھاتی تھیں۔













