خواتین کے خلاف جرائم: بنوں سے اغوا ہو کر افغانستان میں فروخت ہونے والی خاتون اور ان کی دو بیٹیوں کی کہانی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
’تین برس قبل چاند رات پر سب ہی خوش تھے، چھوٹی عید کی تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں کہ اتنے میں پڑوسی میاں بیوی آئے اور کہا چلو خریداری کے لیے بازار جاتے ہیں۔‘
یہ کہانی ایسی خاتون کی ہے جو خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کی رہائشی ہیں۔
اُس رات اُنھوں نے اپنی دونوں بیٹیوں کو ہمراہ لیا اور پڑوسیوں کی گاڑی میں بازار کی جانب چل پڑیں۔ اُنھیں کیا معلوم تھا کہ راستے میں انھیں کچھ پلا کر بے ہوش کر دیا جائے گا اور ان کی آنکھ افغانستان میں کھلے گی۔
جب میں نے ان خاتون سے ان گزرے برسوں کے بارے میں پوچھا تو ان کا دل تو جیسے بھرا پڑا تھا۔ اس گھرانے کی شناخت ان کے تحفظ کی غرض سے ظاہر نہیں کی جا رہی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ بتاتی ہیں کہ اس وقت کے دوران انھوں نے عید تو کیا خوشی کا کوئی لمحہ نہیں دیکھا بس آنسو تھے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لیتے تھے۔
خاتون اور ان کی دونوں بیٹیاں اغواکاروں سے بازیاب ہو کر پاکستان پہنچ چکی ہیں لیکن اس عرصے کو وہ ’انتہائی کٹھن‘ وقت کہہ کر بیان کرتی ہیں۔
پولیس کے مطابق خاتون اور ان کی ایک بیٹی تو اغوا ہونے کے چند ماہ بعد ہی واپس لوٹ آئی تھیں تاہم ان کی دوسری بیٹی دو روز قبل ہی بازیاب ہو کر پاکستان لوٹی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ہم تو نہ زمین کے اوپر تھے اور نہ زمین کے نیچے، بس ہر لمحہ انتہائی کرب میں گزرتا تھا، ہر وقت رونا آتا تھا مر جاتے تو صبر آجاتا لیکن یہاں تو معاملہ ہی کچھ اور تھا۔‘
'کیا معلوم تھا کہ ظالم کیا سوچے بیٹھے تھے‘
انھوں نے بتایا کہ چاند رات کو وہ بہت خوش تھے کہ صبح نئے کپڑے پہنیں گے، بچیاں چوڑیاں اور جیولری لینے کے لیے بیتاب تھیں لیکن کیا معلوم تھا کہ ظالم ان کے لیے کیا سوچے بیٹھے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ اغوا کاروں نے انھیں اور ان کی ایک بیٹی کو کابل میں ایک شخص کے ہاتھ لگ بھگ ڈھائی لاکھ پاکستانی روپے میں فروخت کیا لیکن ان دونوں کو الگ الگ رکھا گیا تھا۔ دوسری بیٹی کو خوست میں 80 ہزار پاکستانی روپے میں فروخت کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خاتون نے بتایا کہ جس شخص کے ہاتھ انھیں فروخت کیا گیا وہ اُن سے نکاح کرنا چاہتا تھا۔ ’میں نے اس کی منت سماجت کی اور کہا کہ میں شادی شدہ ہوں لیکن اسے یقین نہیں آ رہا تھا۔‘
خاتون بتانے لگیں کہ انھوں نے اس شخص سے کہا کہ ان کا شوہر ہے اور بچے ہیں اور اپنے شوہر کا موبائل فون نمبر دینے پر اس شخص نے ان سے رابطہ کیا اور جب اُن کے شوہر نے یقین دہانی کروائی کہ یہ خاتون ان کی بیوی ہے اور ان کے ساتھ ان کی دو بیٹیاں بھی اغوا ہوئی ہیں، تب اسے یقین آیا۔
انھوں نے بتایا کہ اس شخص نے اُن کے شوہر کو زبان دی کہ یہ تمہاری بیوی میرے لیے امانت ہے اور وہ اس کی ایسی رکھوالی کریں گے جیسے ماں، بہن یا بیٹی کی جاتی ہے۔
خاتون کے مطابق اس شخص نے پھر ان کے شوہر کو بتایا کہ وہ پاکستان کے قبائلی علاقے پاڑہ چنار میں افغان سرحد کے قریب پہنچ جائے تو وہ دونوں کو پاکستان بھیج دے گا۔
خاتون نے بتایا کہ اس شخص نے اپنا وعدہ پورا تو کیا لیکن اس عرصے میں ان پر ظلم بہت ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ ’پینے کے لیے گرم پانی دیا جاتا تھا اور ایک وقت کا کھانا دیا جاتا تھا۔ حالات بہت مشکل تھے۔‘
پولیس کی تفتیش کیا کہتی ہے؟
بنوں پولیس کے تفتیشی افسر میر دراز خان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ مقدمہ سنہ 2018 میں درج ہوا تھا اور اس کے بارے میں مکمل تفتیش کی گئی۔
انھوں نے بتایا کہ اغوا کے چند ماہ بعد خاتون اور ان کی ایک بیٹی واپس آگئے تھے لیکن ایک بچی کا علم نہیں تھا۔ پولیس نے بتایا کہ اغوا کرنے والے پڑوسی جوڑے میں مرد دراصل افغان ہے جبکہ ان کی اہلیہ خانہ بدوش ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ یہ جوڑا افغانستان سے بھی دو لڑکیوں کو اغوا کر کے پاکستان کے شہر کراچی لایا تاہم اس دوران میاں بیوی کسی مقدمے میں گرفتار ہوئے اور کراچی جیل منتقل کر دیے گئے۔
میر دراز خان کے مطابق بنوں پولیس پہلے ہی ان اغوا کاروں کے تعاقب میں تھی اور جب دونوں میاں بیوی کراچی جیل سے رہا ہوئے تو کراچی پولیس کی مدد سے دونوں کو گرفتار کر لیا گیا اور انھیں بنوں پہنچا دیا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ یہاں انھوں نے اعتراف جرم کیا اور سب کچھ اگل دیا۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزمان سے دستیاب معلومات اور ان کی تفتیش سے حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق خوست میں موجود بچی کو تلاش کیا گیا اور بالآخر اسے ڈھونڈ نکالا گیا۔ اس کی بنیاد پر افغان حکام کے ساتھ رابطہ کر کے بچی کو بازیاب کروا لیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خاتون کے شوہر اور بچیوں کے والد پر کیا گزری
خاتون کے شوہر اور بچیوں کے والد نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ عرصہ ان کے لیے انتہائی مشکل تھا اور وہ سوچتے تھے کہ اپنی کُل کائنات کو کیسے تلاش کر سکتے ہیں۔
وہ کرائے پر لیا گیا ایک چنگچی رکشہ چلاتے ہیں جس سے ان کا گزارہ پہلے ہی انتہائی مشکل سے ہو رہا تھا کہ اس دوران ان کی اہلیہ اور دونوں بچیاں لاپتہ ہو گئیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’پہلے تو معلوم ہی نہیں ہو رہا تھا کہ وہ کہاں چلی گئیں۔ یہ واقعہ چاند رات کو پیش آیا تھا اور صبح عید تھی لیکن یہ عید کہاں تھی، وہ دن تو قیامت کی طرح گزرا۔‘
’میں اس روز کہاں کہاں نہیں گیا، لیکن کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔‘
انھوں نے بتایا کہ اس دوران انھیں فون کال موصول ہوئی جس میں ان کے پڑوسی نے بتایا کہ اہلیہ اور دو بچیوں کے بدلے اگر وہ انھیں رقم دے سکتا ہے تو وہ انھیں بازیاب کروا لیں گے۔ لیکن اتنی رقم وہ کہاں سے لاتے تاہم انھیں یہ ضرور معلوم ہوگیا کہ اس کہانی کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ’یہ سارا وقت بھاگ دوڑ میں گزرا، بہت مشکل وقت تھا، میں کہاں کہاں نہیں گیا، لیکن آخر کار آج میرا خاندان پھر سے مکمل ہو گیا۔‘
واضح رہے کہ مذکورہ شخص کی صرف یہی دو بیٹیاں ہیں اور اغوا کے وقت ان کی عمریں چار سے پانچ سال کے درمیان تھیں۔
گذشتہ روز بازیاب ہو کر واپس آنے والی بچی خوست میں رہ رہی تھی اور لگ بھگ تین سال سے زیادہ وقت وہاں گزارا، اس لیے پولیس کے مطابق بچی کی زبان کا لہجہ بھی افغانستان کی پشتو زبان جیسا ہی ہو گیا ہے۔
اس بچی کو خریدنے والوں نے اسے اپنی بیٹی ظاہر کیا تھا لیکن مقامی لوگوں کو معلوم نہیں تھا کہ بچی کو اغوا کر کے لایا گیا ہے۔










