جیز کے اشتہار پر تنقید: پاکستان میں خواتین کی موبائل فون تک رسائی کم، مسئلہ ’بھائی‘ ہیں یا غربت؟

اشتہار کا ایک منظر

،تصویر کا ذریعہBIG GUNS Productions

،تصویر کا کیپشنجیز نے اس اشتہار کو اب اپنے سوشل میڈیا پیجیز سے ہٹا دیا ہے
    • مصنف, سارہ عتیق
    • عہدہ, بی بی سی اردر ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان میں موبائل فون نیٹ ورک فراہم کرنے والی سب سے بڑی کمپنی ’جیز‘ کو اپنا اشتہار اس وقت اپنے سوشل میڈیا پیجیز سے ہٹانا پڑا جب پاکستان کے وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گِل سمیت چند سوشل میڈیا صارفین نے اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

جبکہ اشتہا بنانے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ تنقید کرنے والوں کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اشتہار میں دکھایا گیا کہ بھائی نے بہن کو فون رکھنے پر قتل کر دیا جبکہ ’اشتہار میں یہ کہیں نہیں کہا گیا‘۔

جیز کی جانب سے یہ اشتہار خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے دو روز قبل جاری کیا گیا تھا اور کمپنی کے مطابق اس کا مقصد پاکستان میں خواتین کی موبائل فون تک رسائی سے متعلق مسائل کو اجاگر کرنا تھا۔

اشتہار میں کیا ہے

اس اشتہار میں دکھایا گیا ہے کہ ایک شخص سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ تفتیش کرنے والا اہلکار پوچھتا ہے کہ ’(تمہاری بہن نے) چوری کی تھی؟ چوری نہیں کی تھی تو پھر چھورا (لڑکا) پھنسایا تھا؟ جھوٹ بولا تھا؟ بدتمیزی کی تھی؟ آوارہ تھی؟‘

جس کا جواب وہ شخص 'نہیں' میں دیتا ہے تو پھر تفتیش کرنے والا شخص پوچھتا ہے کہ ’تو اتنا کیوں مارا بہن کو؟‘

جس کے جواب میں وہ شخص کہتا ہے کہ 'فون تھا اس کے پاس'

اس اشتہار میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’50 فیصد پاکستانی خواتین موبائل فون سے محروم ہیں‘۔

پاکستان کو 'سائکو پیتھ' مت دکھائیے

اس اشتہار پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان کے ترجمان اور معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گِل نے ٹوئٹر پر لکھا 'JAZZ کا اشتہار کہ بھائی نے اپنی بہن کو اس لیے قتل کر دیا کیونکہ اس کے پاس موبائل فون ہے۔ میرے خیال میں یہ انتہائی منفی اشتہار ہے۔ یہ کسی صورت ہمارے معاشرے کی عکاسی نہیں کرتا۔ پاکستان میں ساری عورتوں کے پاس موبائل نہ ہونے کی وجہ ان کے بھائی نہیں، غربت ہے۔ پاکستان کو psychopath (نفسیاتی مریض ) مت دکھائیے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

انھوں نے جیز انتظامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'آپ بتائیے کہ آپ مفت میں کتنے فون دینے کو تیار ہیں۔ میں آپ کو آپ کی مرضی کے گاؤں لے جاؤں گا اور آپ کے سامنے بھائی اپنی بہنوں کو خود وہ فون دیں گے۔ کیا یہ اشتہار ایک ایجنڈے کے تحت پاکستانی سوسائٹی کو ایک شدت پسند معاشرہ ثابت کرنے کی کوشش تو نہیں۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

ان کی اس تنقید کے بعد بہت سے سوشل میڈیا صارفین نے بھی اس اشتہار کو تنقید کا نشانہ بنایا اور چند نے کمپنی سے ہیش ٹیگ ’جیز معافی مانگو‘ کے ذریعے معذرت کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

حسن نامی ایک صارف کا کہنا تھا کہ 'جیز ٹیلی کام کمپنی‘ کے اشتہار میں پاکستانی مرد کو انتہائی برا دکھایا گیا ہے جو اپنی بہن کو اس لیے قتل کر دیتا ہے کیونکہ اس کے پاس موبائل فون ہے۔ اس ملک میں مسئلہ موبائل نہیں غربت ہے۔ اپنی سِم بیچنے کے لالچ میں کمپنی کو اتنا نہیں گرنا چاہیے کہ معاشرے کا چہرہ بگاڑ کے پیش کیا جائے۔'

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

تاہم چند ایسے بھی سوشل میڈیا صارفین تھے جنہوں نے اسے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت قرار دیا۔

ابن منصور نے لکھا کہ 'بہت سی خواتین اپنے بھائی یا باپ کے ڈر سے فون نہیں رکھتیں یا ان کے بھائی باپ انہیں فون لا کر ہی نہیں دیتے کہ آوارہ ہو جائیں گی۔ آپ کے آس پاس ایسا نہ ہو لیکن چھوٹے شہروں اور گاؤں میں یہی صورت حال ہوتی ہے۔'

X پوسٹ نظرانداز کریں, 4
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 4

اشتہار میں بہن کے 'قتل' کی نہیں 'پٹائی' کی بات ہو رہی تھی

اشتہار کا ایک منظر

،تصویر کا ذریعہBIG GUNS Productions

اس اشتہار کو بنانے والی اشتہاری کمپنی 'بِگ گنز پروڈکشنز‘ کے ڈائریکٹر انیق ارنسٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی کمپنی نے متعدد اشتہار بنائے ہیں لیکن انھیں اس قسم کی تنقید کا سامنا کبھی نہیں کرنا پڑا۔

انیق کا کہنا تھا کہ اس اشتہار پر تنقید کرنے والوں کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اشتہار میں دیکھایا گیا کہ بھائی نے بہن کو فون رکھنے پر قتل کر دیا جبکہ ’اشتہار میں یہ کہیں نہیں کہا گیا‘۔ اشتہار میں تفتیش کرنے والا شخص پوچھتا ہے کہ 'تو نے بہن کو اتنا کیوں مارا' جس سے مراد ’قتل نہیں بلکہ پٹائی یا مار تھی‘۔

انیق ارنسٹ کا کہنا تھا کہ اس اشتہار کا آئیڈیا جیز کی جانب سے ہی دیا گیا تھا اور اس سے متعلق رپورٹ بھی فراہم کی گئی تھی جس کے مطابق پاکستان میں 50 فیصد خواتین کے پاس موبائل نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

انیق کا کہنا ہے کہ شاید بہت سے لوگوں کو یہ بات پسند نہ آئے لیکن ’ابھی بھی بہت سے ایسے لوگ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ جس خاتون یا لڑکی کے پاس فون ہے وہ بہت تیز ترار ہے یا خراب لڑکی ہے‘ اور بہت سے لوگ صرف اس لیے اپنے خاندان کی لڑکیوں کو فون نہیں رکھنے دیتے کہ وہ ’خراب‘ ہو جائیں گی۔

انیق کا کہنا تھا کہ ان کے اس اشتہار سے کم سے کم لوگوں نے اس اہم مسئلے پر بات کرنا تو شروع کی۔

کیا پاکستان میں خواتین کی موبائل فون سے محرومی کی بڑی وجہ 'اجازت نہ ملنا' ہے؟

بین الاقوامی ادارے جی ایس ایم اے کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں موبائل فون رکھنے میں مردوں اور خواتین میں فرق (جینڈر گیپ) سب سے زیادہ پاکستان میں ہے جو 38 فیصد ہے۔ جبکہ پاکستان کی مردوں کی آبادی میں 81 فیصد مردوں کے پاس موبائل فون ہے جبکہ اپنی آبادی کے تناسب سے صرف 50 فیصد خواتین کے پاس موبائل فون ہے۔

مارچ 2020 میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں خواتین کی موبائل فون تک رسائی میں دشواریوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان میں کیے جانے والے سروے میں 38 فیصد خواتین نے کہا کہ وہ موبائل فون اس لیے نہیں لیتیں کیونکہ ان کے ’گھر والے انھیں اجازت نہیں دیتے‘۔ یہ شرح خطے میں سب سے زیادہ ہے۔

جیز نے اشتہار کیوں ہٹایا؟

اس سلسلے میں جب بی بی سی نے جیز سے رابطہ کیا تو کمپنی کی ترجمان عائشہ سروری کا کہنا تھا کہ 'جیز اکثر (معاشرے کے) اہم مسائل کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں خواتین اور مردوں کی موبائل فون تک رسائی میں فرق ایک اہم مسئلہ ہے جس پر بات ہونی چاہیے۔‘

عائشہ کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ’ہم صارفین کے ردعمل سے یہ دیکھیں کہ آیا لوگوں کو ہمارا پیغام سمجھ میں آیا ہے یا نہیں۔ اس اشتہار میں جہاں ہم نے جی ایس ایم اے کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے خواتین کی موبائل تک رسائی کی بات کی تھی بہت سے لوگوں کی جانب سے اسے غلط سمجھا گیا۔‘

عائشہ سروری کا کہنا تھا کہ جیز اس بات کو ہمیشہ اجاگر کرتا رہے گا کہ موجودہ نظام خواتین کو کیسے نقصان پہنچاتا ہے۔