علی سدپارہ: کیا یہ پاکستان میں کوہ پیمائی کی تاریخ کا طویل ترین ریسکیو آپریشن تھا؟

جے پی موہر، محمد علی سدپارہ اور جان سنوری (دائیں سے بائیں)

،تصویر کا ذریعہInstagram/@14Dawa

،تصویر کا کیپشنجے پی موہر، محمد علی سدپارہ اور جان سنوری (دائیں سے بائیں)
    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو سردیوں میں سر کرنے کی کوشش کے دوران پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو موہر کے لاپتہ پونے کی خبر پانچ فروری کو سامنے آئی تھی۔

اس اطلاع کے سامنے آنے کے اگلے دن یعنی چھ فروری سے ان کی تلاش کے لیے جو سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا اس کے خاتمے کا اعلان 12 دن بعد جمعرات 18 فروری کو کر دیا گیا ہے۔

اس عرصے کے دوران جہاں موسم کی خرابی کی وجہ سے یہ کارروائی تعطل کا شکار رہی وہیں 15 فروری کے بعد سے اس میں عملی طور پر کوئی پیش رفت بھی نہیں دیکھی گئی تھی۔

اس آپریشن میں جہاں پاکستانی فوج کے ہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا وہیں ایک ورچوئل بیس کیمپ بھی قائم کیا گیا اور خود علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ بھی تلاش کے عمل میں شامل رہے لیکن کسی کو بھی ان کی تلاش میں کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔

خیال رہے کہ محمد علی سدپارہ اور ان کے ساتھی کے ٹو پر آٹھ ہزار میٹر سے زیادہ بلندی پر جہاں لاپتہ ہوئے تھے ماہرین کے مطابق وہاں کسی انسان کا دس سے بارہ گھنٹے سے زیادہ زندہ رہنا ناممکنات میں سے ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا یہ پاکستان میں کوہ پیمائی کی تاریخ میں اب تک کا طویل ترین ریسکیو مشن تھا اور یہ کہ ماضی میں کامیاب ہونے والے ریسکیو آپریشنز کی اہم وجوہات کیا تھیں؟

کیا یہ کوہ پیماؤں کے ریسکیو کا طویل ترین امدادی آپریشنتھا؟

پاکستان سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما نذیر صابر کے مطابق ان کی یادداشت کے مطابق کے ٹو پر ہونے والے اس آپریشن کے علاوہ کوئی بھی کارروائی اتنے طویل عرصے تک نہیں کی گئی۔

’میری یاد میں اتنے طویل عرصے تک کے لیے کسی کی تلاش کے لیے آپریشن جاری نہیں رکھا گیا۔‘

نذیر صابر کے مطابق ’میرے تجربے کے مطابق صرف ایسے ہی ریسکیو آپریشن کامیاب ہوتے ہیں، جن میں بروقت آپریشن شروع کیا جاسکے، کوہ پیماؤں سے رابطہ نہ ٹوٹے اور جس مقام پر وہ مشکلات کا شکار ہیں اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ درست معلومات دستیاب ہوں۔‘

کے ٹو

،تصویر کا ذریعہAlex Gavan

،تصویر کا کیپشنکے ٹو کی بلندی 8611 میٹر ہے جو کہ دنیا کی بلند ترین چوٹی ایورسٹ سے صرف دو سو میٹر کم ہے لیکن موسم سرما میں یہاں پر حالات جان لیوا ہو جاتے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ کے ٹو پر ہونے والے آپریشن میں قیمتی وقت آغاز ہی میں اس وقت ضائع ہوا ’جب غلط اطلاعات کی بنیاد پر ہم لوگ کے ٹو کو سردیوں میں سر کرنے کا جشن منا رہے تھے۔‘

ان کے مطابق ’اس وقت اگر حالات کا درست اندازہ کیا جاتا تو نتائج مختلف ہو سکتے تھے۔‘

ان کے مطابق کے ٹو کو تین مرتبہ سر کرنے والے پاکستانی کوہ پیما فضل اس وقت کیمپ ٹو پر موجود تھے۔ ’اگر پتا چل جاتا تو وہ بیس کیمپ آنے کے بجائے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اوپر جاسکتے تھے، جس سے کوئی بہتر نتائج کی امید کی جاسکتی تھی۔‘

ماضی میں کیے گئے ریسکیو آپریشنز کی کامیابی کی وجہ

ایک اور پاکستانی کوہ پیما اور متعدد ریسکیو آپریشنز میں کوآرڈینیشن کے فرائض انجام دینے والے کریم شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ کے ٹو کے حالیہ طویل ریسکیو آپریشن کے علاوہ سنہ 2018 میں بھی ایک چھ روزہ طویل مگر کامیاب ریسکیو آپریشن کیا گیا تھا۔

ان کے مطابق وہ ریسکیو آپریشن بھی اس وجہ سے کامیاب ہوا کہ مشکلات کا شکار کوہ پیما کے بارے میں درست اطلاعات دستیاب تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح سال 2019 میں نانگا پربت پر لاپتہ ہونے والے کوہ پیماؤں کے لیے چھ روز تک آپریشن کیا گیا تھا۔ مگر وہ کامیاب نہیں ہوا کیونکہ ان سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ 'میری یاد میں آج تک ایسا کوئی ریسکیو آپریشن کامیاب نہیں ہوا ہے، جس میں کوہ پیماؤں سے رابطہ ٹوٹ گیا ہو۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میری رائے میں سردیوں میں کے ٹو پر جب وہاں پر درجہ حرارت منفی پچاس اور ساٹھ کے قریب ہوتا ہے اور تیز ہوائیں بھی چل رہی ہوتی ہیں، تو وہاں پر انتہائی مضبوط کوہ پیما بھی 20 گھنٹے تک ہی حالات کا مقابلہ کرسکتا ہے۔‘

تاہم ان کے مطابق گرمیوں میں وہاں پر درجہ حرارت منفی پانچ سے دس ہوتا ہے اس میں زیادہ وقت تک مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔

کریم شاہ کا کہنا تھا کہ ’ہمارے تجربے میں ہے کہ کے ٹو پر مشکلات کا شکار ہونے والے کوہ پیما اگر کسی گلیشیئر کے تودے کی زد میں آ جائیں تو پھر ان کی لاش تک بھی نہیں ملتی ہے۔ وہ کے ٹو ہی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اسی طرح تیز ہوائیں بھی تلاش میں مدد گار ثابت نہیں ہوتی ہیں۔‘

ان کے مطابق بہت کم واقعات میں لاش بھی مل جاتی ہے، جو عموماً دوسرے کوہ پیماؤں کو ملتی ہے۔

صرف حوصلہ ہی تمہاری زندگی بچا سکتا ہے

نذیر صابر نے بی بی سی کو بتایا کہ سال 2005 میں ’ایک انتہائی اور مشکل آپریشن کامیاب ہوا تھا۔ دنیا کا مایہ ناز کوہ پیما ٹوماز ہمار میری وساطت سے نانگا پربت کو سر کرنے آیا تھا۔ اس دوران وہ چھ ہزار تین سو میڑ کی بلندی پر مسائل کا شکار ہو گیا تھا۔‘

ان کے مطابق اس موقع پر ’اس نے عقلمندی یہ کی کہ اس نے اپنے بچاؤ کے لیے برف کی غار بنا لی تھی۔ وہاں سے اس نے بیس کیمپ میں رابطہ قائم کیا۔ اس کی میرے ساتھ بات ہوئی تو سب سے پہلے میں نے اس کا حوصلہ بلند کیا۔

’اس کو بتایا کہ تم قاتل پہاڑ کو اپنی زندگی داؤ پر لگا کر سر کرنے آئے ہو اور اس موقع پر صرف حوصلہ ہی تمہاری زندگی بچا سکتا ہے۔‘

نذیر صابر کا کہنا تھا کہ ٹوماز کو ریسکیو کرنے کے لیے جلد ریسکیو آپریشن شروع نہیں کیا جا سکا تھا۔

ایورسٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

نذیر صابر کے مطابق اس کی مدد کے لیے روس سے آنے والا ایک جدید طیارہ سوئٹزرلینڈ سے مختلف مسائل کی وجہ سے واپس چلا گیا تھا۔

ان کے مطابق ’سلووینیا کے صدر نے اس وقت کے پاکستان کے فوجی صدر جنرل مشرف سے بات کی تھی۔ جس کے بعد انتہائی خطرناک فضائی آپریشن ہوا تھا۔ ان کے مطابق اس آپریشن کی ویڈیو اب بھی موجود ہے، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ کتنا مشکل آپریشن تھا۔ اس آپریشن کے زریعے سے بالآخر اس کوہ پیما کو بیس کیمپ لایا گیا تھا۔‘

کریم شاہ کا کہنا تھا کہ ’میری یاد میں تین چار ریسکیو آپریشن کامیاب ہوئے ہیں، جن میں سال 2019 میں روس کے کوہ پیما الیگزینڈر گوکوف کو ریسکیو کرنے کا چھ روزہ امدادی آپریشن تھا۔ یہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک پہاڑی 'لاٹو 1‘ سر کرتے ہوئے مشکلات میں گھر گئے تھے‘۔

ان کے مطابق ان کا ’ایک ساتھی ہلاک بھی ہو گیا اور وہ ایک ایسے مقام پر پھنس گئے تھے، جہاں امدادی آپریشن بہت مشکل تھا۔ الیگزینڈر گوکوف کو بھی انتہائی مشکل فضائی آپریشن کے دوران بچا لیا گیا تھا۔ یہ بھی تب ممکن ہوا کہ ان کے مقام کا علم تھا اور وہ رابطے میں تھے۔‘

کریم شاہ کا کہنا تھا کہ ایک اور کامیاب آپریشن ٹوماز میکیوکز کا تھا۔

’وہ اپنی ساتھی الزبیتھ ریویو کے ہمراہ نانگا پربت سر کر کے واپس آرہے تھے۔ واپسی کے سفر میں ان کی طبعیت خراب ہو گئی تھی۔ جس پر ان کی ساتھی نے عقل مندی کرتے ہوئے ان کو محفوظ مقام پر چھوڑا اور خود نیچے آ کر پہلے کیمپ تھری میں اس واقعے کی اطلاع دی اور اس کے بعد وہ بیس کیمپ چلی گئیں۔‘

کریم شاہ کا کہنا تھا کہ اس موقع پر کے ٹو پر موجود کوہ پیماؤں کی ٹیم نے ان کی امداد کا آپریشن کیا تھا اور ان کو محفوظ مقام پر منتقل کیا تھا۔ ’یہ آپریشن بھی اس وجہ سے کامیاب ہوا کہ ان کی مشکلات کا مقام ہمارے علم میں تھا جبکہ وہ رابطے میں بھی تھے۔‘