مریم نواز شریف: ’کسی طرح کے مِنی یا گرینڈ ڈائیلاگ کی باتیں بے معنی ہیں‘

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کے ڈائیلاگ کے امکانات کو مسترد کر دیا ہے۔
ان کا یہ بیان ن لیگ کے قائد نواز شریف کی اس ٹویٹ کے بعد سامنے آیا جس میں انھوں نے بھی ’ڈائیلاگ‘ کو یہ کہہ کر مسترد کیا کہ اس کا مقصد ’حکومت کو پی ڈی ایم سے این آر او دلوانا ہے‘۔
انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’پی ڈی ایم کا فیصلہ ہے کہ کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد پوری طرح اس موقف کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس لیے کسی طرح کے مِنی یا گرینڈ ڈائیلاگ کی باتیں بے معنی ہیں۔‘
خیال رہے کہ حکومتی اتحادی جماعت مسلم لیگ فنکشنل کے رہنما محمد علی درانی اپنی پارٹی کے سربراہ پیر پگارا کا پیغام لے کر جمعرات کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف سے ملاقات کی تھی اور انھیں مذاکرات کی پیشکش کی تھی۔
مریم نواز شریف اور اس سے پہلے نواز شریف کے مذاکرات سے متعلق ٹویٹس کو اس ملاقات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے اور ایک مرتبہ پھر گذشتہ انتخابات سے متعلق اپنے الزمات دہرائے۔
انھوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ 'ووٹ چوری کر کے عمران خان کو لانے والے اب گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا شوشہ چھوڑ رہے ہیں۔ جس کا مقصد اس نا اہل کرپٹ حکومت اور سلیکٹرز کو پی ڈی ایم سے این آر او دلوانا ہے۔
’ہماری جدوجہد عوامی مشکلات کے حل اور ووٹ کو عزت دو کے لیے ہے۔ ایسے کسی ڈائیلاگ کا حصہ بننا اپنے مقدس مقصد سے پیچھے ہٹنے کے مترادف ہو گا۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے

محمد علی درانیکی شہباز شریف سے ملاقات
نجی ٹی وی چینل اے آر وائی سے بات کرتے ہوئے محمد علی درانی نے کہا ہے کہ وہ اپنی پارٹی لیڈر کے ’پیامبر‘ کے طور پر گئے تھے۔
پروگرام کے میزبان کے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس ملاقات کے نتیجے میں کی گئی پیشکش کے نتیجے میں فریقین میں ٹکراؤ میں کمی آ سکتی ہے۔
انھوں نے کہا ’اس کے نتیجے میں ٹکراؤ کے رویے تھوڑے پسپا ہوں گے اور برداشت کے رویے آگے کی طرف جائیں گے‘۔
کیا شہباز شریف بات چیت کے قائل ہیں، اس سوال کے جواب میں ان کے مطابق شہباز شریف سے بات میں ’ان کی ذات کم اور ملکی مفاد زیادہ نظر آیا‘ اور وہ ’انتہائی ٹکراؤ کی طرف جانا پسند نہیں کریں گے‘۔
یاد رہے کہ پی ڈی ایم نے 31 جنوری تک وزیر اعظم عمران خان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے اپنے ارکان سے 31 دسمبر تک استعفے جمع کرانے کا کہہ رکھا ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت نے حزب اختلاف کے اتحاد پی ڈی ایم کو مذاکرات کی دعوت بھی دی مگر پی ڈی ایم کی قیادت نے مذاکرات کا حصہ بننے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ پہلے وزیر اعظم عمران خان استعفیٰ دیں۔













