مینار پاکستان کے گراؤنڈ میں پی ڈی ایم کے جلسے کی تیاریاں عروج پر

- مصنف, عمر دراز ننگیانہ
- عہدہ, بی بی سی اردو لاہور
حکومت کی طرف سے تو اجازت نہیں دی گئی تھی تاہم پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے کارکنان نے سنیچر کی شام ہی سے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے مرکز میں واقع مینار پاکستان کے گرد جمع ہو کر جلسے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
گریٹر اقبال پارک میں کرسیاں لگائی گئیں، روشنیوں کا بندوبست کیا گیا اور پاکسان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے رہنماؤں کی تصاویر پنڈال کے ساتھ لگائی گئیں۔ تاہم اتوار کو یہاں ہونے والے جلسے کے لیے سٹیج بنانے میں انھیں دقت کا سامنا دکھائی دیا۔
سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے مطابق سٹیج کو اونچا کرنے کے لیے درکار کنٹینرز کو جلسہ گاہ میں لانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔
جلسہ کے منتظمین کو متبادل انتظامات کرنا پڑے تھے جن کے ذریعے سٹیج کو مطلوبہ اونچائی تک پہنچانے کی کوششیں جاری تھیں۔
یہ بھی پڑھیے
ساؤنڈ سسٹم بھی لگایا جا رہا تھا لیکن اس مرتبہ ڈی جے بٹ یہاں موجود نہیں تھے۔ بڑے بڑے سپیکروں کو کرینوں کی مدد سے اونچائی پر نصب کرنے میں مصروف لڑکوں میں سے ایک نے بتایا کہ اس مرتبہ پی ڈی ایم کے اس جلسہ میں ڈی جے بٹ ساؤنڈ کے انتظامات نہیں کر رہے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
'یہ ڈی جے بٹ سے بھی بڑا کام ہے۔'
پاکستان تحریکِ انصاف کے جلسوں میں میوزک اور ساؤنڈ سسٹم فراہم کرنے سے شہرت پانے والے ڈی جے بٹ کو لاہور پولیس نے دو روز قبل گرفتار کر لیا تھا۔ ان پر بغیر لائسنس کے اسلحہ رکھنے جیسے الزامات لگائے گئے تھے۔
ایک رات حوالات میں گزارنے کے بعد عدالت نے ڈی جے بٹ کو ضمانت پر رہا کر دیا تھا تاہم رہائی پانے پر مقامی ذرائع ابلاغ پر بات چیت کرتے ہوئے ڈی جے بٹ نے الزام عائد کیا تھا کہ پولیس حراست کے دوران انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
یہ وجہ تھی یا کچھ اور معلوم نہیں لیکن اس بار ڈی جے بٹ پی ڈی ایم کے لاہور جلسے میں ساؤنڈ سسٹم فراہم کرتے دکھائی نہیں دیے۔
انتظامیہ کی طرف سے اسی قسم کی کارروائیاں گذشتہ چند روز سے جاری تھیں جہاں حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے قائدین اور کارکنان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے اور پکڑ دھکڑ کی گئی تھی۔
ان میں لاہور کی مشہور لکشمی چوک میں واقع بٹ کڑاہی کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس ریستوران میں پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے اس وقت کھانا کھایا تھا جب وہ حال ہی میں ایک ریلی کی قیادت کرتی ہوئی اس علاقے میں پہنچی تھیں۔
یہی وجہ تھی کہ لاہور کے اس علاقے میں بھی اتوار کے جلسے کے حوالے سے زیادہ جوش و خروش دیکھنے میں نہیں آیا، جیسے عمومی طور پر ن لیگ کا گڑھ مانا جاتا ہے یعنی قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120۔
مینارِ پاکستان سے قریب واقع داتا دربار اور اس کے ملحقہ ان علاقوں میں جلسے کے حوالے سے گہما گہمی نظر نہیں آئی۔
معمولاتِ زندگی جاری تھے، مارکیٹوں میں لوگوں کا ہجوم بدستور نظر آ رہا تھا تاہم جلسے کے حوالے سے محلے کی سطح پر کوئی کارنر میٹنگ یا ریلیاں دکھائی نہیں دیں۔
ن لیگ کے ایک سیاسی کارکن ہارون بھٹہ نے بی بی سی کو بتایا کہ کہ جماعت کے کارکنان اپنے طور ہر جلسے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ 'کئی کارکنوں کو جلسہ گاہ میں تیاریوں کی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی تھیں اس لیے وہ وہاں مصروف تھے۔'

ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کی طرف سے ریلیاں اور کارنر میٹنگز پہلے ہی کی جا چکی ہیں۔
تاہم انھوں نے بتایا کہ سنیچر کی شام تک ان کی جماعت کے کسی رہنما کو نظر بند یا گرفتار نہیں کیا گیا۔
پی ڈی ایم میں شامل جمیعتِ علما اسلام ف کے لاہور کے عہدیدار غضنفر عزیز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی جماعت کے کارکنان ملک کے تمام حصوں سے جلسے میں شرکت کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ 'ان علاقوں میں بھی انتظامیہ نے ان کے کارکنان اور رہنماؤں کو پولیس کے ذریعے ہراساں کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن کسی کو تاحال گرفتار نہیں کیا گیا تھا۔'
مینارِ پاکستان کے دامن میں واقع وسیع و عریض اقبال پارک لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو سمیٹنے کی گنجائش رکھتا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق جلسے کے لیے پنڈال تقریباً آٹھ سے دس ایکڑ رقبے پر لگایا جا رہا تھا اور اس جگہ 30 ہزار کے قریب افراد کے لیے گنجائش موجود تھی۔
اس مقام پر تیار کیے جانے والے سٹیج کا رخ آزادی انٹرچینج کی طرف رکھا گیا ہے۔
پارک کے باہر اس فلائی اوور پل پر بھی ن لیگ کے کارکنان جماعت کے جھنڈے آویزاں کرنے میں مصروف تھے۔ پارک کے ارد گرد ن لیگ کے چند کارکنان رکشے والوں کو بھی سٹیکر اور جھنڈے تقسیم کرتے ہوئے نظر آئے۔
سنیچر کی شام تک لاہور انتظامیہ نے پی ڈی ایم کے جلسہ کے منتظمین اور کارکنان کو اقبال پارک میں تیاریوں سے نہیں روکا گیا تھا۔ تاہم پولیس کی کچھ نفری پارک کے باہر اور ارد گرد گشت کرتی ضرور نظر آئی تھی۔
ن لیگ کے پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ دیگر لیگی رہنماؤں کے ہمراہ اقبال پارک میں کافی وقت کے لیے موجود رہے۔
انتظامیہ کی طرف سے جلسے کی اجازت نہ دینے کے حوالے سے مقامی ذرائع ابلاغ کےنمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے انتظامیہ کے افراد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'وہ حکومت کے غیر قانونی اقدامات کی پاسداری کرنے سے اجتناب کریں۔'
تاہم رانا ثنا اللہ جب اقبال پارک آئے تو لوگوں کے ایک ہجوم نے انھیں گھیرے میں لیے رکھا اور رانا ثنا اللہ سمیت کئی دیگر رہنماؤں نے ماسک نہیں پہن رکھے تھے۔
پنڈال میں اس وقت بھی کارکنان کی ایک بڑی تعداد موجود تھی تاہم ان میں بھی زیادہ تر نے ماسک نہیں پہنے ہوئے تھے۔

حکومت پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر خطرناک ہو سکتی تھی۔ انتظامیہ کی جانب سے پی ڈی ایم کو جلسے سے روکنے اور اس کی اجازت نہ دینے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ایسے بڑے اجتماعات میں کورونا کے پھیلنے کی خدشات زیادہ ہوتے ہیں۔
تاہم پی ڈی ایم کے مطابق جلسے کے شرکا کورونا کے حوالے سے حکومتی احکامات پر عمل کریں گے۔
پی ڈی ایم کی قیادت میں شامل دیگر رہنما بھی اقبال پارک میں جلسہ گاہ کو دیکھنے کے لیے آتے رہے جن میں جمیعتِ علما اسلام فضل کے مولانا غفور حیدری بھی شامل تھے۔ انھوں نے بھی ماسک نہیں پہنا تھا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی لاہور میں موجود ہیں۔
بلاول بھٹو ریلی کی صورت میں اتوار کے روز پی ڈی ایم کے جلسے میں شریک ہوں گے۔ اس کے لیے ان کا خصوصی کنٹینر تیار کیا جا چکا ہے، جس پر پیپلز پارٹی کے جھنڈے لگائے گئے ہیں۔
تاہم دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومت اتوار کے روز لوگوں کو جلسے میں جانے سے رونے کی کوشش کرتی ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا ردِ عمل کیا ہو گا۔












