رانی خان: اسلام آباد میں خواجہ سراؤں کا دینی مدرسہ جہاں تعلیم کے ساتھ راشن اور میک اپ کا سامان بھی دیا جاتا ہے

خواجہ سرا
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

لگ بھگ ایک سال پہلے تک رانی خان اپنے جیسے دیگر خواجہ سراؤں کی طرح مختلف نجی تقاریب میں ڈانس کر کے گزر بسر کرتی تھیں اور بقول اُن کے مذہب کی جانب ان کی رغبت بچپن ہی سے نہیں تھی۔

مگر پھر ان کی زندگی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے ان کا طرز زندگی اور شخصیت بدل کر رکھ دی۔

رانی بتاتی ہیں کہ ان کی ایک خواجہ سرا سہیلی بھی ان ہی کی طرح ڈانسر تھی اور ناچ گانے کی ایک ایسی ہی تقریب سے واپسی پر ان (سہیلی) کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا جس میں وہ ہلاک ہو گئیں۔

’اس کی ہلاکت کے چند روز بعد میں نے ایک خواب دیکھا۔ خواب میں میری سہیلی کا حلیہ کچھ بگڑا ہوا تھا اور وہ مجھ سے کہہ رہی تھی کہ ڈانس وغیرہ چھوڑ دو۔‘

رانی کے بقول اس خواب نے ان کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے اور دین کی جانب ان کا رجحان بڑھنے لگا۔

یہ بھی پڑھیے

رانی نے سوچا کہ کیوں نا وہ قرآن کی تعلیم حاصل کریں اور اسی سلسلے میں انھوں نے ایک دینی مدرسے میں جانا شروع کر دیا۔

خواجہ سرا
،تصویر کا کیپشنرانی خان کے بقول ان کی بچپن ہی سے مذہب کی جانب رغبت نہیں تھی مگر پھر ایک خواب نے دین کی جانب رخ موڑا

’وہاں پر موجود دیگر طالب علم مجھے معنی خیز نظروں سے دیکھتے تھے۔ اسی وجہ سے میں اس جگہ خود کو محفوظ تصور نہیں کرتی تھی۔‘

’کچھ عرصہ تو میں مدرسے جاتی رہی لیکن مدرسے میں روا رکھے جانے والے رویے کی وجہ سے میں نے اپنی والدہ سے ناظرہ قرآن پڑھنا شروع کر دیا۔‘

رانی بتاتی ہیں کہ اس عرصے کے دوران جب وہ محلے کی مسجد میں نماز کی ادائیگی کے لیے مردانہ کپڑے پہن کر جاتیں تو محلے کے لوگ، جو اُنھیں جانتے تھے، اس کے ساتھ ایک صف میں کھڑا ہونا پسند نہیں کرتے تھے۔

’اکثر اوقات ایسا بھی ہوتا کہ جب باجماعت نماز کی ادائیگی کے لیے صف بندی کی جاتی تو لوگ مجھ سے دس قدم تک کا فاصلہ رکھ لیتے۔‘

رانی کہتی ہیں کہ مسجد میں لوگوں کے اس رویے نے ان میں عدم تحفظ کے احساس کو مذید بڑھاوا دیا جس کے بعد انھوں نے فیصلہ کیا کہ اب وہ پیسے اکھٹے کریں گی اور ایک دینی مدرسہ قائم کریں گی جہاں پر خواجہ سراؤں کو دین کی تعلیم دی جائے گی۔

اور آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک مدرسہ ایسا بھی ہے جسے نہ تو کوئی روایتی عالمِ دین اور نہ ہی کوئی معلمہ چلا رہی ہیں بلکہ اس دینی مدرسے کا انتظام و انصرام رانی کے ہاتھ میں ہے۔

خواجہ سرا

اس مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے والے بھی نہ تو مرد ہیں اور نہ ہی عورتیں بلکہ وہ خواجہ سرا ہیں جو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے ساتھ ساتھ دین کو بھی وقت دینا چاہتے ہیں۔

مگر مدرسے کا قیام اور اس کے لیے جگہ ملنا اتنا آسان نہیں تھا۔

رانی بتاتی ہیں کہ مدرسہ قائم کرنے کے لیے انھیں ایک گھر کی ضرورت تھی جس کی تلاش وہ پہلے ہی شروع کر چکی تھیں۔

’مختلف علاقوں میں کوئی بھی مجھے گھر کرائے پر دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔ طویل جدوجہد کے بعد اسلام آباد کے ایک نواحی علاقے میں ایک گھر کرائے پر حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔‘

رانی بتاتی ہیں کہ انھیں خواجہ سراؤں کو مدرسے میں دینی تعلیم کے حصول کے لیے لانے میں بہت جدوجہد کرنا پڑی۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ اسلام آباد کی سڑکوں اور چوراہوں پر گئیں جہاں پر خواجہ سرا بھیک مانگتے ہیں۔ ’میں نے انھیں مدرسے میں دینی تعلیم حاصل کرنے کی دعوت دی، لیکن شروع میں کوئی بھی مدرسے میں آنے کے لیے تیار نہیں تھا۔‘

رانی کے مطابق خواجہ سرا پاکستان میں ناچ گانے یا پھر بطور سیکس ورکر جانے جاتے ہیں اور اس کمیونٹی کا مذہب کی طرف رجحان نہ ہونے کے برابر ہے۔

خواجہ سرا

اُنھوں نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں اکثر افراد کی سوچ یہ ہے کہ شاید خواجہ سرا مسلمان نہیں ہوتے اور ان کا دین مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ’ایسا بالکل بھی نہیں ہے جس طرح لوگ خیال کرتے ہیں۔‘

رانی بتاتی ہیں کہ خواجہ سراؤں کو اس جانب راغب کرنے کے لیے انھوں نے پیشکش کی کہ جو خواجہ سرا مدرسے آئیں گے انھیں ماہانہ بنیادوں پر راشن دیا جائے گا۔

اس پیشکش کے بعد، انھوں نے بتایا، 40 کے قریب خواجہ سرا مدرسے میں آنا شروع ہوئے مگر دو ماہ بعد ہی اس میں آدھے دوبارہ بھاگ گئے اور چوراہوں پر بھیک مانگنے کا پرانا کام شروع کر دیا۔

رانی کا کہنا ہے کہ اب جتنے بھی خواجہ سرا اُن کے مدرسے میں آتے ہیں اُن کو ماہانہ راشن دیا جاتا ہے اور اس کی اخراجات وہ خود برداشت کرتی ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ خواجہ سراؤں کے شوق کو مدِنظر رکھتے ہوئے انھیں ماہانہ بنیادوں پر میک اپ کا سامان بھی دیا جاتا ہے۔

دینی مدرسے کے ساتھ ساتھ پناہ گاہ بھی

اس مدرسے میں بوبی (فرضی نام) بھی زیر تعلیم ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ جب ان کے گھر والوں کو اُن کے خواجہ سرا ہونے کا پتا چلا اور معاشرے میں ’رسوائی‘ کے ڈر سے انھوں نے انھیں گھر سے نکال دیا۔

’گھر سے نکالے جانے کے بعد میرے پاس سر چھپانے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔‘

’میری رنگت سانولی ہے جبکہ چہرے پر چیچک کے داغ بھی۔ ان وجوہات کی بنا پر مجھے نا تو کوئی فنکشن میں مدعو کرتا جبکہ بطور سیکس ورکر بھی کام نا ہونے کے برابر تھا۔‘

خواجہ سرا

بوبی نے بتایا کہ تھوڑا عرصہ اِدھر اُدھر کی ٹھوکریں کھانے کے بعد ایک دن وہ راولپنڈی میں حکومت کی جانب سے قائم ہونے والی پناہ گاہ میں رات گزارنے کے لیے گئیں۔ ’وہاں پر موجود لوگ مجھے انتہائی عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے، جس کی وجہ سے میں خوفزدہ ہو گئی اور اسی خوف کی وجہ سے میں نے ساری رات جاگ کر گزاری۔‘

بوبی بتاتی ہیں کہ اگلے روز اس واقعے کے بارے میں انھوں نے ایک اور خواجہ سرا سے بات کی تو اُنھوں نے بوبی کو اس مدرسے کا ایڈریس دیا جہاں پر دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ راشن بھی ملتا ہے۔

’جب میں اس مدرسے میں پہنچی تو وہاں پر موجود کسی بھی خواجہ سرا نے میری رنگت اور چہرے کو دیکھ کر بیزاری کا اظہار نہیں کیا بلکہ سب نے بڑے اچھے انداز میں ویکم کیا۔‘ اس مدرسے میں آ کر انھوں نے پہلی مرتبہ دین اور پیغمبر اسلام کے بارے میں تفصیلاً سُنا ہے۔‘

اسی دینی مدرسے میں ثریا (فرضی نام) بھی موجود ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’پولیس نے مجھے بھیک مانگنے کے الزام میں گرفتار کیا تو پورے شہر میں کوئی میری شخصی ضمانت دینے والا نہیں تھا۔‘

’پھر کسی نے رانی کو اطلاع دی کہ مجھے گرفتار کر لیا گیا ہے مگر ضمانت نا ہونے کے سبب پولیس مجھے رہا نہیں کر رہی ہے۔‘

ثریا کا کہنا تھا کہ رانی یہ اطلاع ملنے کے بعد تھانے پہنچیں اور انھیں اپنی شخصی ضمانت پر تھانے سے رہائی دلوائی۔

’جس چوک میں میں بھیک مانگتی تھی وہاں رانی پہلے بھی آ چکی تھیں۔ انھوں نے مجھے بھیک مانگنے کو ترک کرنے اور دینی مدرسے میں آنے کو کہا تھا مگر میں نے اُس وقت ان کی بات نہیں مانی۔‘

ثریا کہتی ہیں کہ اب اس مدرسے میں آ کر وہ بہت خوش ہیں اور خود کو محفوظ تصور کرتی ہیں۔ ’اب میں سارا دن مدرسے میں رہتی ہے، میں یہاں کی صفائی کرنے کے علاوہ دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنے والے خواجہ سراؤں کی بھی خدمت کرتی ہوں۔‘

خواجہ سرا
،تصویر کا کیپشن’مدرسے کے سامنے سے گزرنے والے راہگیر مدرسے کو اور وہاں تعلیم کرنے والوں کو 'بڑی عجیب نظروں' سے دیکھتے ہیں‘

اس مدرسے کی نگران رانی کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ مدرسہ صرف خواجہ سراؤں کے لیے نہیں بنایا اور یہاں کسی کے آنے کی ممانعت نہیں ہے۔

رانی کہتی ہیں کہ ’اس مدرسے میں کسی لڑکے یا لڑکی کے دینی تعلیم حاصل کرنے میں ممانعت نہیں ہے لیکن جس علاقے میں یہ مدرسہ واقع ہے وہاں کے مکین خواجہ سراؤں کے اس مدرسے میں اپنے بچوں کو بھیجنے کے بارے میں سوچتے بھی نہیں ہیں۔‘

ایک سوال کے جواب میں رانی کا کہنا تھا کہ اُنھیں کسی شدت پسند تنظیم کی طرف سے اس مدرسے کو بند کرنے کے بارے میں کوئی دھمکی نہیں ملی تاہم انھیں یہ شکایت ضرور ہے کہ مدرسے کے سامنے سے گزرنے والے راہگیر مدرسے کو اور وہاں تعلیم کرنے والوں کو ’بڑی عجیب نظروں‘ سے دیکھتے ہیں۔

رانی نے صرف پرائمری تک تعلیم حاصل کی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ ان خواجہ سراؤں کو دینی تعلیم دینے کے بعد دنیاوی تعلیم بھی دلوانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ خوجہ سرا جو ابھی جوان ہیں، دنیاوی تعلیم بھی حاصل کریں تاکہ مستقبل میں اُنھیں ان کی طرح پچھتانا نہ پڑے۔

اُنھوں نے حکومت سے درخواست کی کہ خواجہ سراؤں کو بھی احساس پروگرام میں شامل کیا جائے جس طرح دوسرے غریب اور کم مراعات یافتہ پاکستانیوں کو اس ہروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔

اُنھوں نے حکام سے یہ بھی درخواست کی کہ ان عمر رسیدہ خواجہ سراؤں کی سرپرستی کریں جو نہ اب ڈانس کر کے روزگار کمانے کی پوزیشن میں ہیں اور نہ ہی کوئی اور کام کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کا کہنا ہے کہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مقامی پولیس حکام کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ اس مدرسے کی حفاظت کے لیے سکیورٹی بڑھائیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر اس مدرسے کے مہتمم اس مدرسے کی رجسٹریشن کے لیے درخواست دیں گے تو ضلعی انتظامیہ اس معاملے میں ان کی ہر ممکن مدد کرے گی۔

ضلعی انتظامیہ کے ریکارڈ کے مطابق اسلام آباد میں مدارس کی تعداد گیارہ سو سے زائد ہے جن میں سے ساڑھے چار سو کے قریب مدارس رجسٹرڈ ہیں جبکہ باقیوں کی رجسٹریشن ابھی نہیں ہوئی ہے۔