خیبر ٹیچنگ ہسپتال: طبی ساز و سامان کی کمی کے باوجود جانیں بچانے والے ’ہیرو‘ ڈاکٹر

کورونا، آکسیجن، پشاور، خیبر ٹیچنگ ہسپتال

،تصویر کا ذریعہDr Shazia Shams

،تصویر کا کیپشنڈاکٹر شازیہ شمس کہتی ہیں کہ ان کی اس ہسپتال میں ڈیوٹی نہیں تھی لیکن انھوں نے مریضوں کی مدد کرنا اپنا فرض سمجھا
    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

’میں اپنی ماں کے بستر کے پاس اونچی آواز میں کلمہ پڑھ رہا تھا کہ اچانک مجھے ایک خاتون کی ہمدردانہ آواز آئی کہ بھائی ذرا پیچھے ہٹیں، میں ڈاکٹر ہوں مجھے دیکھنے دیں۔‘

اُن خاتون نے میری والدہ کو دیکھا اور اچانک کہا کہ ’جلدی کریں، ان کو نیچے ایمرجنسی میں لے کر جائیں۔ میں اپنی والدہ کو اٹھانے کے لیے دوڑا تو ایک اور نوجوان میری طرف لپکا اور میرے ساتھ میری والدہ کو اٹھا کر ایمرجنسی میں پہچانے کے لیے ایمبولینس میں ڈالا۔ ساتھ ہی وہ نوجوان ایمبو بیگ کے ذریعے ہاتھوں سے میری والدہ کو آکسیجن فراہم کرتا رہا۔‘

یہ کہنا تھا چارسدہ کے رہائشی ممتاز خان کا جن کی والدہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور کے کورونا وارڈ میں زیر علاج تھیں۔

ممتاز خان کی والدہ کی صحت خوش قسمتی سے ہسپتال میں آکسیجن ختم ہونے کے باوجود بروقت مدد ملنے کے باعث بہتر ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

یاد رہے کہ پانچ اور چھ دسمبر کی درمیانی شب ہسپتال کے کورونا وارڈ میں آکسیجن کی قلت کے باعث چھ افراد ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد حکومت نے ہسپتال کے بورڈ آف گورنرز کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ سانحہ ’نظام کی ناکامی کی وجہ سے پیش آیا، ٹینک میں آکسیجن کی شدید کمی تھی جو کسی کے نوٹس میں نہیں آئی، کسی نے اس پر توجہ نہیں دی اور کسی نے اسے چیک نہیں کیا‘۔

اس واقعے کے بعد ہسپتال کے سات اہلکاروں کو معطل کیا جا چکا ہے۔

کورونا، آکسیجن، پشاور، خیبر ٹیچنگ ہسپتال

،تصویر کا ذریعہEPA

جب ینگ ڈاکٹرز مدد کو آگے بڑھے

ممتاز خان نے بتایا کہ مدد کو پہنچنے والی خاتون کو وہ پہلے سے جانتے تھے کیونکہ وہ اُن کے ساتھ ہی تین دن پہلے اپنی والدہ کو لے کر آئی تھیں، اور ہر وقت اپنی والدہ ہی کے پاس رہتی تھیں۔

’وہ خود ہی اپنی والدہ کا ہر وہ خیال رکھتیں جو طبی عملہ رکھتا تھا۔ مجھے پہلے پتا نہیں تھا کہ وہ ایک ڈاکٹر ہیں۔ مجھے واقعے کے بعد پتا چلا کہ ان کا نام ڈاکٹر شازیہ شمس ہے۔‘

’جس نوجوان نے میری والدہ کو ایمرجنسی تک پہنچانے میں مدد کی تھی، مجھے بعد میں پتا چلا کہ وہ خیبر ٹیچنگ ہسپتال ہی میں رجسٹرار ڈاکٹر محمد ساجد ہیں۔‘

ممتاز خان کا کہنا تھا کہ ’میری والدہ پائپ آکسیجن پر تھیں۔ ان کا آکسیجن لیول گر کر 80 پر جا چکا تھا اور ان کو سانس لینے میں تکلیف ہو رہی تھی۔ میں نے بہت شور مچایا مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس موقع پر اپنے گھر فون کیا۔ اور تو کچھ سمجھ نہیں آیا بس ماں کے پاس کھڑے ہو کر اونچی اونچی آواز میں کلمہ پڑھنا شروع کردیا تھا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ دونوں ڈاکٹر اُن کی مدد کو نہ آتے اور چند منٹوں کی مزید تاخیر ہوجاتی تو بہت بڑآ ناقابلِ تلافی نقصان ہوجاتا۔

صرف ممتاز خان ہی نہیں بلکہ کورونا وارڈ میں موجود کئی مریضوں کے رشتے داروں نے خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے نوجوان ڈاکٹروں کی بھرپور مدد کا اعتراف کیا اور انھیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔

زاہد گل پشاور کے رہائشی ہیں اور واقعے کے روز اپنے چھوٹے بھائی کے پاس موجود تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب شور مچا کہ سب ایمرجنسی پہنچیں تو ’میں نے اپنے بھائی کو اپنے کاندھے پر اٹھایا اور دوڑ پڑا۔ ابھی میں وارڈ سے باہر ہی نکلا تھا کہ دو نوجوان میرے پاس آئے‘۔

وہ بتاتے ہیں ’انھوں نے میرے بھائی کو سٹریچر پر ڈالا اور ساتھ ہی اس کو ایمبو بیگ کے ذریعے سے آکسیجن دینی شروع کردی۔ بھائی کو ایمرجنسی میں پہنچانے کے بعد انھوں نے مجھے کہا کہ ہمارے ساتھ آؤ سلنڈر لانا ہے۔ جب سلنڈر پہنچایا تو سلنڈر کے ساتھ لگانے کے لیے ضروری اشیاء نہیں تھیں۔ مگر انھوں نے مختلف اوزاروں سے بھائی کو آکسیجن پہنچائی اور مجھے کہا کہ میں اس کو ہاتھ سے پکڑ کر رکھوں۔‘

زاہد گل کا کہنا تھا کہ اس کے بعد وہ دونوں کسی اور کی مدد کرنے لگ گئے تھے۔

’یہ دونوں ایک دوسرے کو ڈاکٹر صاحب کہہ کر مخاطب کر رہے تھے جس سے مجھے پتا چلا کہ یہ دونوں تو ڈاکٹر ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ اُنھوں نے طبی عملے کے کئی لوگوں کو دیکھا جنھوں نے ’دوڑ دوڑ کر لوگوں کی مدد کی۔‘

کورونا، آکسیجن، پشاور، خیبر ٹیچنگ ہسپتال

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنواقعے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آکسیجن کی کمی کی وجہ انسانی غفلت تھی (فائل فوٹو)

والدہ کو بھول گئی تھی

ڈاکٹر شازیہ شمس کرک میں میڈیکل آفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کی والدہ کورونا سے متاثر ہوئیں تو انھیں خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں داخل کروایا گیا اور اس موقع پر ڈاکٹر شازیہ شمس نے فیصلہ کیا کہ ہسپتال میں رہ کر وہ خود والدہ کا خیال رکھیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اُن کے خاندان میں تقریباً سب ہی کورونا سے متاثر ہو کر صحت یاب ہوچکے ہیں۔

’والدہ کا علاج ہم گھر پر بھی کر سکتے تھے، مگر جب یہ محسوس ہوا کہ ان کو آکسیجن کی ضرورت ہے تو ان کو ہسپتال میں داخل کروا کر خود ہی خیال رکھنے کا فیصلہ کیا کیونکہ مجھے پتا تھا کہ طبی عملے پر بہت زیادہ بوجھ ہے۔‘

ڈاکٹر شازیہ شمس کا کہنا تھا کہ مذکورہ رات اُن کی والدہ کی طبیعت باقی مریضوں کے مقابلے میں قدرے بہتر تھی اور ان کو آکسیجن ماسک لگایا تھا۔

’اس روز میں تھوڑا آرام کر کے 11 بجے اپنی والدہ کے پاس پہنچی تھی۔ کوئی بارہ بجے کا وقت ہوگا کہ وارڈ میں افراتفری پیدا ہوگئی۔ مریضوں کے رشتے دار شور شرابہ کرنے لگے۔ مجھے فوری طور پر سمجھ نہیں آیا کہ کیا بات ہے کیونکہ میری والدہ کی طبعیت قدرے بہتر تھی اور ان کو سانس لینے میں زیادہ مسائل کا سامنا نہیں تھا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ جب اُنھیں پتا چلا کہ مریضوں کو آکسیجن نہیں مل رہی تو ’میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی‘۔

’میں کیا بتاؤں کہ وہاں پر کیا مناظر تھے۔ قیامت کے مناظر تھے۔ مریضوس کے رشتے دار بھاگ دوڑ کر رہے تھے۔ میں نے ایک نظر اپنی والدہ پر ڈالی اور دیکھا کہ ان کی طبیعت ٹھیک ہے۔

’بھلے ہی میری ڈیوٹی اس ہسپتال اور وارڈ میں نہیں تھی مگر میں تو ڈاکٹر تھی اور اس موقع پر مریضوں کے کام آنا میرا فرض تھا۔ یہ نازک ترین صورتحال تھی۔ اس موقع پر میں نے وارڈ میں موجود ڈاکٹر سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ سلنڈر اور ایمبو بیگ دستیاب ہیں۔ میں نے ایمبو بیگ لیا اور جس مریض کی حالت زیادہ خراب ہورہی تھی ان کو ایمبو بیگ کے ذریعے آکسیجن فراہم کرنی شروع کر دی۔‘

ڈاکٹر محمد ساجد

،تصویر کا ذریعہDR Sajid

،تصویر کا کیپشنڈاکٹر ساجد نے دیگر نوجوان ڈاکٹرز کے ساتھ مل کر کئی مریضوں کی جانیں بچائیں

ڈاکٹر شازیہ کہتی ہیں کہ اس موقع پر مریضوں کے رشتے دار انتہائی مشتعل ہو گئے تھے۔

’مجھے وہ وارڈ میں ایک مریضہ کے عزیز کی حیثیت سے جانتے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ ہسپتال اور ڈاکٹر ادھر ہی ہیں، مگر وقت ضائع نہ کرو اور اپنے مریضوں کو ایمرجنسی میں پہنچاؤ، سلنڈر لا کر دو۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ اُنھوں نے خود کئی خواتین مریضوں کو اٹھا کر ایمولینس اور ایمرجنسی تک پہنچایا۔

ان کے مطابق اس موقعے پر اُنھوں نے دیکھا کہ خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے رجسٹرار ڈاکٹر محمد ساجد جو کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنما بھی ہیں، کچھ ڈاکٹرز کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے تھے۔

کورونا، آکسیجن، پشاور، خیبر ٹیچنگ ہسپتال

،تصویر کا ذریعہDr Mohammad Sajid

،تصویر کا کیپشنڈاکٹر محمد ساجد کا کہنا ہے کہ اگر وہ سب لوگ مل کر آگے نہ بڑھتے اور بروقت مریضوں کو ایمبو بیگ اور سلنڈر تک نہ پہنچاتے تو نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا

بروقت نہ پہنچتے تو نقصان زیادہ ہوتا

ڈاکٹر محمد ساجد میڈیکل سی وارڈ میں بحیثیت رجسڑار خدمات انجام دیتے ہیں۔ انھیں کوئی ساڑھے بارہ بجے اطلاع ملی کہ ہسپتال میں آکسیجن ختم ہے اور مریضوں کی حالت خراب ہو رہی ہے۔ اس وقت وہ ہاسٹل کے اپنے کمرے میں تھے۔

اس وقت کورونا وارڈ میں 90 مریض تھے جن کو مختلف سطح کی آکسیجن لگی ہوئی تھی۔

ڈاکٹر محمد ساجد کا کہنا تھا کہ اُنھیں وارڈ کے ڈاکٹر نے بتایا کہ اُن کے پاس صرف ایک ہی صورت بچی ہے کہ مریضوں کو سلنڈر کے علاوہ ایمو بیگ لگائے جائیں اور ایمرجنسی میں پہنچایا جائے کیونکہ وقت بہت کم ہے۔

’مجھے نہیں پتا کہ میں نے کون سا جوتا پہنا اور کون سا نہیں۔ اسی دوران اپنے ساتھیوں کو فون کرتے کرتے وارڈ پہنچ گیا۔ وہاں پر پہلے جن مریضوں کی حالت زیادہ خراب ہو رہی تھی، ان کو ایمبو بیگ کے ذریعے سے آکسیجن پہنچائی۔ اس کے بعد سلنڈر لگائے اور مریضوں کو ایمرجنسی میں پہنچایا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بہت بڑا کام تھا اور صرف چند ڈاکٹر اکیلے صورتحال کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔

’مریضوں کے رشتے داروں کی اکثریت غصے اور اشتعال کی کیفیت میں تھی۔ اس موقع پر ہمارے ساتھ طبی عملے اور ہسپتال کے دیگر عملے نے بھی بھرپور مدد کی۔‘

ڈاکٹر محمد ساجد کا کہنا ہے کہ اگر یہ سب لوگ مل کر آگے نہ بڑھتے اور بروقت مریضوں کو ایمبو بیگ اور سلنڈر تک نہ پہنچاتے تو نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔