پشاور: خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں آکسیجن کی قلت سے چھ اموات پر سات اہلکار معطل، لواحقین کے لیے معاوضوں کا اعلان

    • مصنف, عزیز اللہ خان اور محمد زبیر خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو

خیبر پختونخوا حکومت نے اعلان کیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت پشاور کے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں آکسیجن کی قلت سے چھ افراد کی ہلاکت پر ہونے والی ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں سات اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔

صوبائی وزیرِ صحت تیمور سلیم خان جھگڑا اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی کامران بنگش نے آج اس سلسلے میں پشاور میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ہلاک شدہ افراد کے لواحقین کو فی کس 10 لاکھ روپے معاوضہ ادا کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ پانچ اور چھ دسمبر کی درمیانی شب ہسپتال کے کورونا وارڈ میں آکسیجن کی قلت کے باعث چھ افراد ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد حکومت نے ہسپتال کے بورڈ آف گورنرز کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

تحقیقاتی رپورٹ میں کیا کہا گیا ہے؟

تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہسپتال میں ہیلتھ ٹیکنیکل میمورینڈم کی سفارشات کے برعکس آکسیجن کا بیک اپ نظام موجود نہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوشن خیبر ٹیچنگ ہسپتال کی جانب سے پاکستان آکسیجن لمیٹیڈ کو فروری 2015 میں ٹھیکہ دیا گیا تھا جو کہ سپلائی چین مینیجر کے بیان کے مطابق جون 2017 میں ختم ہو چکا ہے۔ اس حوالے سے ٹھیکے کی تجدید یا اس میں توسیع کی کوئی دستاویز موجود نہیں ہے اور اسے صرف فون کے ذریعے جون 2020 تک کے لیے بڑھایا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ سانحہ نظام کی ناکامی کی وجہ سے پیش آیا، ٹینک میں آکسیجن کی شدید کمی تھی جو کسی کے نوٹس میں نہیں آئی، کسی نے اس پر توجہ نہیں دی اور کسی نے اسے چیک نہیں کیا۔

بورڈ آف گورنرز نے سات اہلکاروں کو معطل کرنے کی سفارش کی ہے جن میں ہسپتال کے ڈائریکٹر طاہر ندیم خان، فیسلٹی مینیجر طاہر شہزاد، سپلائی چین مینیجر علی وقاص، بائیومیڈیکل انجینیئر بلال بابک، آکسیجن پلانٹ اسسٹنٹ نیامت، آکسیجن پلانٹ کے ڈیوٹی پر موجود اہلکار وحید اور شہزاد اکبر شامل ہیں۔

حکومت کا کیا مؤقف ہے؟

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی کامران بنگش نے کہا کہ اس انکوائری رپورٹ کے بارے میں بورڈ کو مزید پانچ دن کا وقت دیا گیا ہے تاکہ تفصیلی رپورٹ مرتب کریں اور اسے بھی عوام کے سامنے لایا جائے گا۔

’اس کے بعد خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ یہ فیصلہ کریں گے کہ مزید آزادانہ انکوائری کی ضرورت ہے یا نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ ’عظیم سانحہ‘ ہوا ہے جس کا ازالہ کسی طور ممکن نہیں ہے تاہم حکومت کی جانب سے لواحقین کو معاوضے کے طور پر 10 لاکھ روپے فی کس ادا کیے جائیں گے۔

صوبائی وزیرِ صحت تیمور سلیم خان جھگڑا نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ بورڈ آف گورنرز کو ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ 48 گھنٹوں میں قابلِ عمل رپورٹ دیں، یہ رپورٹ 24 گھنٹوں کے اندر آ گئی اور اس کے اندر خامیاں چھپانے کی کوشش نہیں کی گئی۔

وزیرِ صحت کا کہنا تھا کہ میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹوشنز ایکٹ (ایم ٹی آئی ایکٹ) کے تحت ہسپتالوں کو خودمختار اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ جو سست فیصلہ سازی حکومت میں ہوتی ہے وہ اس نظام کے تحت نہ ہو۔

انھوں نے کہا کہ آکسیجن کی کمی کا پتا سات یا آٹھ بجے تک چل جانا چاہیے تھا، اور جس سسٹم نے یہ چیک کرنا ہے کہ آکسیجن کا لیول ٹھیک ہے یا نہیں ہے وہ ہسپتال کے انتظامیہ کے تحت ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ رپورٹ میں ادارہ جاتی مسائل کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جن میں عملے کی تربیت اور دیگر امور شامل ہیں۔

تیمور جھگڑا نے مزید کہا کہ یہ کہا جا رہا ہے کہ لوگوں کو اب تک صرف معطل کیا گیا ہے لیکن انھوں نے کہا کہ یہ ابتدائی تحقیقات ہیں اور حکومت کو باقاعدہ تحقیقات کے مرحلے کی پیروی کرنی ہے۔

صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ ایم ٹی آئی ایکٹ کے تحت میڈیکل ٹیچنگ ادارے خود مختار ہیں اور فیصلہ سازی کے اختیارات انھیں دے دیے گئے ہیں اور وہ اپنے مالی اور انتظامی معاملات سنبھال سکتے ہیں، لیکن وہ رپورٹ حکومت کو ہی کرتے ہیں اور حکومت کسی ایم ٹی آئی کو اپنی تحویل میں بھی لے سکتی ہے۔

تیمور جھگڑا نے کہا کہ ’اگر ہمیں ملک کے طور پر ترقی کرنی ہے تو ہم اٹھارہویں صدی کا سسٹم نہیں چلا سکتے، نئے سسٹم بنانے پڑیں گے اور اس میں چیلنجز بھی آئیں گے۔‘

میرے دیکھتے دیکھتے ہی وہ زندگی کی بازی ہار گیا

’میرا بیٹا خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں آکسیجن پر تھا۔ ہسپتال والوں کی غفلت اور نااہلی کی وجہ سے ہلاک ہوا ہے۔ میں وکلا سے مشورہ کر رہا ہوں کہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کروں تاکہ کسی اور کا پیارا اس طرح سسک کے جان کی بازی نہ ہارے۔‘

یہ الفاظ پشاور کے قریب ایک گاؤں ریگی کے رہائشی سمیع اللہ کے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ ان کا دو برس کا بیٹا صارم خان ہسپتال کے ہی چلڈرن وارڈ کے آئی سی یو میں زیرعلاج تھا، یہاں وہ آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے ہلاک ہوگیا ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے ترجمان فرہاد خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ آکسیجن نہ ہونے کے سبب ہسپتال میں مجموعی طور پر چھ مریض ہلاک ہوچکے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں سے پانچ کورونا وارڈ اور ایک میڈیکل آئی سی یو وارڈ میں زیر علاج مریض تھا۔

ترجمان کے مطابق جب حالات گھمبیر ہوئے تو اس وقت کورونا وارڈ میں موجود تین مریضوں کو ان کے لواحقین اپنے ہمراہ لے کر چلے گئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ 'ان کے بارے میں اطلاعات نہیں ہیں کہ وہ کہاں گئے تھے۔'

سمیع اللہ کا کہنا تھا کہ 'میرا بیٹا کینسر کا مریض تھا۔ کافی حد تک صحت یاب ہو چکا تھا۔ اس کو کچھ سانس کی تکلیف تھی جس وجہ سے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں تین روز سے داخل کیا ہوا تھا۔'

'سنیچر اور اتوار کی درمیانی رات میری اہلیہ نے مجھے فون کیا کہ بیٹے کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ آکسیجن اتری ہوئی تھی۔ میرے دیکھتے دیکھتے ہی وہ زندگی کی بازی ہار گیا۔'

سمیع اللہ کا کہنا تھا کہ 'میری اہلیہ تین دن سے بیٹے کے پاس بیٹھی جاگتی رہی ہے۔۔۔ اہلیہ نے بتایا کہ ہفتے کی رات دس بجے سے اس کی طبیعت خراب ہونا شروع ہوئی۔'

انھوں نے مزید بتایا کہ 'عملے نے پائپ سے پھونک مار کر اس کو آکسیجن فراہم کرنا شروع کی۔' ان کے پہنچنے کے چند منٹ بعد موت کی تصدیق کر دی گئی۔

سمیع اللہ کا کہنا تھا کہ جتنا ممکن ہوسکے گا وہ قانونی کارروائی کریں گے۔

عینی شاہد نے کیا دیکھا

ضلع ہنگو کے رہائشی مرید علی کی والدہ کورونا وارڈ میں آکسیجن پر تھیں۔ مرید علی کی والدہ واقعے میں بچ جانے والوں میں سے ہیں لیکن انھوں نے اس رات ہونے والے واقعے کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

وہ بتاتے ہیں کہ 'پورے ہسپتال میں ہم لوگ اپنے مریضوں کو بچانے کے لیے بھاگ رہے تھے۔ (وہ) طبی عملے کی منتیں کررہے تھے۔ مگر وہ کہہ رہے تھے کہ جاؤ اور سلینڈر لاؤ۔'

وہ بتاتے ہیں کہ 'ہفتے کی رات آٹھ بجے تک حالات ٹھیک تھے۔ میری والدہ آکسیجن پر تھیں۔ ان کی حالت بہتر لگ رہی تھی۔ اس دوران میں کھانا کھانے چلا گیا۔

'رات دس بجے وارڈ میں گیا تو دیکھتا ہوں کہ والدہ کی حالت غیر ہورہی ہے جس پر میں نے ایک دم موقع پر عملے سے کہا کہ کیا صورتحال ہے۔ آکسیجن کیوں بند کردی ہے تو مجھے کہا گیا کہ بھائی کچھ نہیں ہے ابھی سب ٹھیک ہوجائے گا۔'

مرید کا کہنا تھا کہ 'مجھے اس پر تسلی نہیں ہوئی اور کچھ سمجھ نہیں آیا، ایک دم وارڈ سے باہر نکلا اور اپنے رشتہ داروں کو فون کیے۔ ساتھ دیگر لوگوں کو بتایا کہ یہ صورتحال ہے۔'

'جب میں دیگر مریضوں کے لواحقین کے ہمراہ کورونا وارڈ گیا تو ہم دیکھتے ہیں کہ ایک مریضہ کو وارڈ سے منتقل کیا جارہا تھا۔'

وہ کہتے ہیں کہ جب آکسیجن کی قلت کا مسئلہ بڑھا تو 'لوگوں نے شور شرابہ کردیا۔ وارڈ میں موجود عملے نے ہمیں کہا کہ اپنے مریضوں کو ایمرجنسی لے کر جائیں وہاں پر آکسیجن موجود ہے۔ ہم لوگوں نے اپنے مریضوں کو ایمرجنسی منتقل کرنا شروع کردیا۔'

'وہاں پر بھی آکسیجن تھوڑی ہی دیر چلی اور ختم ہوگئی۔ عملے نے کہا کہ سلنڈر پہنچائیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عملہ خود آکسیجن پہنچاتا۔'

مرید علی کے مطابق 'لواحقین اور مریضوں کی مدد کے لیے پہچنے والے لوگ بھاگتے بھاگتے سٹور میں پہنچے۔ سٹور دور تھا۔

میری والدہ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔

میں نے ایک ایبمولینس والے کی منت کر کے اس سے چھوٹا سلنڈر لیا۔ جب سلنڈر لے کر گیا تو ہاتھ میں ایک پرچی تھما دی گئی کہ سلینڈر کے ساتھ لگنے والی اشیا بھی لا کر دو۔'

مرید علی کا کہنا تھا کہ اس موقع پر 'میری آنکھوں کے سامنے ایمرجنسی میں چھ مریض ہلاک ہوئے ہیں۔ کئی مریضوں کی حالت انتہائی غیر تھی۔ مجھے تو لگتا ہے کہ نقصان بہت زیادہ ہوا ہے۔'

مرید علی کا کہنا تھا کہ یہ سارا سلسلہ رات دس بجے شروع ہوا تھا۔ 'کورونا وارڈ سے آکسیجن کے لیے ایمرجنسی میں منتقل کیا گیا پہلا مریض کوئی گیارہ بجے ہلاک ہوا تھا۔ ہسپتال میں آکسیجن کا انتظام کوئی چار بجے ہوا تھا۔ اس کے بعد میری والدہ اور دیگر مریضوں کو دوبارہ وارڈ میں منتقل کیا گیا۔'

وزیر اعلیٰ کا 'سنگین غفلت اور غیر ذمہ داری'پر نوٹس

صوبائی وزیر صحت کے پی آر او کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق 'وزیر خزانہ و صحت تیمور جھگڑا نے ٹیچنگ ہسپتال کے بورڈ آف گورنرز سے واقعے کی فوری انکوائری اور 48 گھنٹوں کے اندر ایکشن لینے کی ہدایت کی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ 'اگر انکوائری سے مطمئن نہ ہوئے تو حکومت اپنی آزاد انکوائری کرائے گی۔ واقعے سے متعلق تمام حقائق سے عوام کو بروقت آگاہ کیا جائے گا۔

سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ اطلاعات و خبریں نہ پھیلائی جائیں۔'

وزیر اعلیٰ ہاؤس سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے واقعے کا سخت نوٹس لے لیا ہے۔ چیف سیکرٹری اور وزیر صحت کو ہسپتال کے بورڈ آف گورنرز سے واقعے کی تحقیقات کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ واقعہ متعلقہ ذمہ داروں کی جانب سے 'سنگین غفلت اور غیر ذمہ داری' کا مظاہرہ ہے۔

فرہاد خان کے مطابق ہسپتال کے سنٹرل آکسیجن پلانٹ میں دس ہزار لیٹر آکسیجن سٹور کرنے کی گنجائش ہے۔ آکسیجن ٹینکر راولپنڈی سے لائے جاتے ہیں۔ بی او سی نامی کمپنی آکسیجن ہسپتال کو سپلائی کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا مریضوں اور سردیوں کی وجہ سے آکسیجن کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ آکسیجن راولپنڈی سے سپلائی ہوتی ہے اور سپلائی میں تاخیر ہوئی ہے۔