تحریک لبیک پاکستان کا دھرنا: ’جسٹس فائز عیسیٰ کے فیصلے پر عمل ہوتا تو شاید تحریک لبیک دوبارہ دھرنا نہ دیتی‘

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
’جب ریاست 12 مئی سنہ 2007 کو کراچی کی گلیوں میں پُرامن شہریوں کے قتل اور اقدام قتل کے واقعات میں ملوث اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہی تو اس سے بری روایت قائم ہوئی۔ جس سے دیگر عناصر کی حوصلہ افزائی ہوئی کہ وہ اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے تشدد کا راستہ اختیار کریں۔‘
یہ الفاظ فیض آباد دھرنے سے متعلق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے کے ہیں جو اُنھوں نے گزشتہ برس فروری میں سنایا تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر عمل درآمد کیا جاتا تو شائد آج تحریک لبیک دوبارہ فیض آباد پر دھرنا نہ دیتی۔
کہتے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دھراتی ہے لیکن جتنی جلدی تاریخ پاکستان میں دھرائی جاتی ہے شاید اس کی مثال دنیا کے کسی دوسرے ملک میں نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تین سال پہلے نومبر کا ہی مہینہ تھا، مقام بھی فیض آباد، دھرنا دینے والے بھی وہی یعنی تحریک لبیک کے کارکن اور احتجاجی مظاہرین کو اٹھانے کے لیے تگ ودو کرنے والے بھی وہی یعنی قانون نافذ کرنے والے ادارے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
لیکن فرق صرف یہ ہے کہ جو جماعت سنہ 2017 کے دھرنے کی حمایت کرتی تھی آج اسی جماعت یعنی پاکستان تحریک انصاف کے دورِ اقتدار میں یہ مظاہرین اکھٹے ہوئے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے فیصلے میں پاکستان تحریک انصاف کی مقامی قیادت کے علاوہ شیخ رشید اور اعجاز الحق کا بھی ذکر کیا تھا جو خفیہ اداروں کی رپورٹ کے مطابق اس دھرنے کی حمایت کرتے رہے۔
دھرنے کی اجازت پہلے بھی نہیں لی گئی تھی اور اب بھی نہیں۔
اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی کی انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ سنہ 2017 میں جو لانگ مارچ تحریک لیبک نے لاہور سے شروع کیا تھا اس کے اختتام یعنی دھرنے کے لیے نہ پہلے اجازت لی گئی تھی اور نہ ہی موجودہ دھرنے کے بارے میں کوئی تحریری درخواست کی گئی۔
ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام کے ساتھ احتجاجی ریلی سے پہلے تحریک لبیک کی مقامی قیادت نے مذاکرت تو ضرور کیے تھے لیکن اس بات کی یقین دہانی نہیں کروائی گئی تھی کہ وہ فیض آباد پہنچ کر پیغمبر اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے خلاف اپنی ریلی کو ختم کر دیں گے۔
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اگر راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ تحریک لبیک کی مقامی قیادت کے ساتھ اس وقت مذاکرات کرتی جب وہ اس احتجاجی ریلی کے لیے لیاقت باغ میں اکٹھے ہو رہے تھے تو اس بات کے امکانات تھے کہ وہ لیاقت باغ میں ہی جلسہ کر کے اپنا احتجاج ختم کر دیتے۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں کیا گیا اور پھر یہ لوگ فیض آباد پہنچ گئے جہاں پر وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ اور پولیس کو ان مظاہرین کا سامنا کرنا پڑا۔
تین سال پہلے جب چھ نومبر کو تحریک لبیک نے ارکان پارلیمنٹ کے حلف میں مبینہ ترمیم کے خلاف لاہور سے احتجاج شروع کیا تھا تو اس وقت کی حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کی طرف سے فیض آباد پہنچنے تک کسی بھی قسم کی مزاحمت نہیں کی گئی تھی۔ تاہم اس مرتبہ تھوڑا سا مختلف یہ ہوا کہ ان مظاہرین پر اس وقت ہی شیلنگ شروع کر دی گئی جب وہ لیاقت باغ میں اکٹھے ہو رہے تھے۔
عینی شاہد محمد اکرم کے مطابق تحریک لبیک کے کارکن جب لیاقت باغ میں اکٹھے ہوئے تھے تو ان کے ساتھ مذاکرات کے لیے کوئی بھی ضلعی افسر نہیں آیا۔ اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین نے ابھی ریلی شروع بھی نہیں کی تھی کہ ان پر آنسو گیس کی شیلنگ کردی گئی جس سے مظاہرین مشتعل ہوئے اور اُنھوں نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ شروع کر دیا۔
عینی شاہد کے مطابق مظاہرین کے پاس نہ صرف پتھر تھے بلکہ ان کے ہاتھوں میں غلیلیں بھی تھیں جن میں وہ پتھر ڈال کر پولیس اہلکاروں کو مارتے تھے۔
پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے اسلام آباد کی احتساب عدالت میں جب اس دھرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو اُنھوں نے کہا کہ کچھ بھی نہیں بدلا۔ ’دھرنا دینے والے بھی وہی ہیں اور دھرنے والوں کو لانے والے بھی وہی ہیں۔‘
سنہ 2017 میں تحریک لبیک کی طرف سے جب فیض آباد پر دھرنا دیا گیا تھا تو اس وقت شاہد خاقان عباسی ملک کے وزیر اعظم تھے اور موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اُنھیں مشورہ دیا تھا کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کرنے کی بجائے معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہSupreme court of Pakistan
مظاہرین سے مذاکرات کے نتیجے میں اس وقت کے وزیر قانون زاہد حامد کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔
صحافی اور تجزیہ نگار حامد میر کا کہنا ہے کہ ایک جماعت کی طرف سے فیص آباد پر دھرنا ’حکومت کی نہیں بلکہ ریاست کی ناکامی ہے‘۔
اُنھوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ ’یہ ان کی ناکامی ہے جو خود کو سمجھدار اور دوسروں کو غدار سمجھتے ہیں‘۔
اُنھوں نے کہا کہ فیض آباد دھرنے سے متعلق اگر جسٹس قاضی فائز عیسی کے فیصلے پر عمل درآمد کیا جاتا اور کچھ ذمہ داروں کو سزا دی جاتی تو آج تحریک لبیک کو دھرنا دینے کی جرات نہ ہوتی۔
حامد میر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کے بجائے اداروں میں چند ’بااثر افراد‘ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر کر دیا۔
اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ ’یہیں پر ہی بس نہیں ہوا بلکہ بااثر اداروں نے تحریک لبیک کو سنہ 2018 کے عام انتخابات میں استعمال کیا جس کا فائدہ پاکستان تحریک انصاف کو پہنچا کیونکہ پاکستان مسلم لیگ نواز کا ووٹ تقسیم ہوا‘۔
انھوں نے کہا کہ حکومت نے مقامی میڈیا پر اس احتجاجی ریلی کو دکھانے کے لیے غیر اعلانیہ پابندی عائد کی لیکن بین الاقوامی میڈیا اس احتجاجی ریلی کے بارے میں خبریں دے کر مقامی میڈیا کو شرمندہ کرتا رہا۔
انھوں نے کہا کہ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ اس احتجاج کو میڈیا پر نہ دکھا کر لوگوں کو سب اچھا کی رپورٹ دی جائے گی تو شاید یہ ممکن نہ ہو کیونکہ سوشل میڈیا مقامی میڈیا سے زیادہ طاقتور ہے۔
حامد میر نے سوال کیا کہ جب حساس اداروں کے سربراہان کے بارے میں نازیبا الفاظ کہنے پر علامہ خادم حسین رضوی اور تحریک لبیک کی قیادت کو سنگین جرائم کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا تو ان کو رہائی کس نے دلوائی تھی۔
انھوں نے کہا کہ گزشتہ دھرنے کے دوران علامہ خادم حسین رضوی سمیت دیگر افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی کے جو مقدمات درج ہوئے تھے وہ آج تک اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکے۔









