پنجاب میں نو بچوں کی ماں کو ’کاری‘ قرار دے کر قتل کا فیصلہ سنانے والے جرگہ کے تین رکن گرفتار

    • مصنف, عزیزالله خان
    • عہدہ, بی بی سی، پشاور

پاکستان میں ایک قبائلی جرگے نے تقریباً ایک ماہ قبل خانہ بدوش قبیلے سے تعلق رکھنے والی نو بچوں کی ماں کو ’کاری‘ قرار دے کر قتل کرنے کا فیصلہ دیا تھا۔ حکام نے مقدمہ درج کرنے کے بعد تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

متاثرہ خاتون، جنھیں ان کے بھائیوں نے دوسرے شہر میں ایک پیر کے آستانے پر بھیج دیا تھا، اپنی جان کے تحفظ کے لیے تگ و دو کر رہی ہیں۔ وہ پہلے صوبہ پنجاب کے شہر تونسہ سے بھائیوں کی طرف راجن پور گئیں اور پھر وہاں سے ضلع جھنگ میں ایک پیر کے آستانے پر پہنچ گئی تھیں۔

پولیس کے مطابق جرگے نے یہ فیصلہ ایک ماہ پہلے اس وقت دیا تھا جب خاتون حمل سے تھیں اور ان کا بچہ پیدا ہونے والا تھا۔ جرگے نے فیصلہ دیا تھا کہ بچہ پیدا ہونے کے بعد اس خاتون کو جرگے کے حوالے کیا جائے جس کے بعد انھیں قتل کر دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

پویس کے مطابق ڈیرہ غازی خان کے آر پی او فیصل رانا کے حکم پر غیر قانونی جرگہ منعقد کرنے والے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے بعد تین ملزمان گرفتار کر لیے گئے ہیں۔

یہ مقدمہ ضلع مظفر گڑھ کے تھانے کرم داد قریشی میں درج کیا گیا۔

اس مقدمے میں جرگہ منعقد کرنے والے نزر محمد کے علاوہ جرگے میں شامل کالے خان ،آدم خان، مخان خان ، روزی خان، عیسی خان اور نیامت خان کو نامزد کیا گیا ہے۔

ڈیرہ غازی خان کے آر پی او نے جرگہ منعقد کر کے غیر قانونی فیصلہ کرنے والے قبائلی وڈیروں کو فوری گرفتار کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

پولیس کے مطابق کاری قرار دی جانے والی خاتون ماڑنہ بی بی کے دو بھائیوں عیسیٰ خان اور نیامت خان کو بھی شامل تفتیش کیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ کاری قرار دی جانے والی خاتون نے اپنی مرضی سے جھنگ میں رہنے کا بیان دیا ہے۔

پولیس کے مطابق جرگے میں شامل تمام افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے گئے جبکہ خاتون اور ان کے خاندان کو تحفظ فراہم کر دیا گیا ہے۔

خاتون کے بھائی عیسی خان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنی بہن کا تحفظ کریں گے اور ان کا موقف ہے کہ جب تک وہ زندہ ہیں اپنی بہن پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔

پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل، یا کسی بھی الزام کے تحت خاتون کو کاری یا بد چلن قرار دینے کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں اور مختلف علاقوں میں اس طرح کے جرگے طلب کرکے متوازی عدالت قائم کردی جاتی ہے جس میں اکثر من مانے فیصلے سنا دیے جاتے ہیں۔

ڈیرہ غازی خان پولیس کے مطابق صوبہ بلوچستان کے علاقے لورلائی سے تعلق رکھنے والی جاڑنہ بی بی کی شادی 18 سال پہلے مقام خان نامی شخص سے ہوئی تھی جس سے 6 بیٹے اور3 بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ مقام خان اور ماڑنہ بی بی کا خاندان سلمان خیل قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ خانہ بدوش ہیں۔

پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ ماڑنہ بی بی کے دیور کلہ خان نے خاتون پر نور شاہ نامی شخص کے ساتھ ناجائز تعلقات کا الزام لگایا تھا۔ جن دنوں یہ الزام عائد کیا گیا ان دنوں یہ قبیلہ ڈیرہ غازی خان کے علاقے تونسہ میں رہائش پزیر تھا۔

جاڑنہ بی بی کی جانب سے پولیس کو دی گئی درخواست میں بتایا گیا ہے ان کا شوہر شروع دن سے انھیں مارتا پیٹتا تھا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس سال 23 جون کو مجھ پر نور شاہ کے ساتھ کاروکاری کا جھوٹا الزام عائد کیا اوراسی روز نور شاہ کو قتل کر دیا گیا۔

پولیس رپورٹ کے مطابق اس قتل کا الزام خاتون کے شوہر مقام خان کے بھائی کلہ خان پر عائد کیا گیا۔ نور شاہ کے بھائی گلاب خان کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ کلہ خان موٹر سائیکل پر آیا اور نور شاہ پر فائرنگ کر دی۔

ماڑنہ بی بی نے اپنی درخواست میں مزید بتایا کہ اس واقعے کے بعد ان کی جان کو خطرہ لاحق ہوا جس پر وہ اپنے بھائیوں عیسی خان اور نعمت خان کے پاس ضلع راجن پور کے علاقے داجل چلی گئی تھیں۔

پولیس کے مطابق چند روز پہلے 9 نومبر کو خاتون صوبہ پنجاب کے شہر جھنگ میں پیر قاسم بابا کے ہاں چلی گئیں جہاں انھوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنی مرضی سے یہاں آئی ہیں اور وہ خود کو یہاں محفوظ سمجھتی ہیں۔

اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان کی جان کو ان کے شوہر سے خطرہ ہے اس لیے وہ اپنی مرضی سے پیر قاسم آغا کے پاس یہاں پہنچی ہیں۔

خاتون کی مختصر ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں خاتون سے سوال کیے جا رہے ہیں اور خاتون کو سوالات کی سمجھ نہیں آتی تو ان کی مدد کے لیے جواب ان کے ساتھ موجود شخص دے رہے ہوتے ہیں۔

یہ جرگہ کوئی دو ماہ پہلے یعنی 20 ستمبر کو صوبہ پنجاب کے شہر مظفر گڑھ میں منعقد ہوا اور یہ جرگہ اسی قبیلے یعنی سلمان خیل سے تعلق رکھنے والے نذر محمد نامی شخص کی سربراہی میں منعقد ہوا تھا۔

ڈیرہ غازی خان پولیس کے ترجمان حمیداللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کو اپنے ذرائع سے معلوم ہوا تھا کہ یہ غیر قانونی جرگہ چوک قریشی مظفر گڑھ میں منعقد ہوا تھا جس میں خاتون کو کاری قرار دیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ چونکہ خاتون اس وقت حمل سے ہیں اور ان کا بچہ پیدا ہونے والا ہے، اس لیے ابھی انھیں کچھ نہیں کہا جائے گا اور جب بچہ پیدا ہو جائے گا اس کے بعد خاتون کو جرگے کے حوالے کیا جائے گا اور پھر خاتون کو قتل کر دیا جائے گا۔

اس جرگے میں کالے خان، مخان، روزی خان، اور آدم خان شریک ہوئے تھے۔ پولیس کو یہ اطلاع بھی موصول ہوئی تھی کہ اس جرگے کے لیے خاتون کے بھائیوں کو بھی بلایا گیا تھا۔

دوسری جانب خاتون کے بھائی عیسی خان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس جرگے میں نہ شریک ہوئے ہیں اور نہ ہی وہ اس جرگے کو تسلیم کرتے ہیں۔