کورونا وائرس کی دوسری لہر: پاکستان میں مسلسل دوسرے روز دو ہزار سے زیادہ نئے مریض، تین امریکی ریاستوں میں سفری تنبیہ جاری

کورونا وائرس

،تصویر کا ذریعہEPA

دنیا بھر میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے خدشات کے پیش نظر اقدامات کا سلسلہ جاری ہے جبکہ پاکستان میں مسلسل دو روز سے دو ہزار سے زیادہ نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔

کئی ملکوں میں نئے متاثرین اور اموات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے جبکہ امریکی ریاست اوریگن میں سختیوں میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔

ادھر ریاست اوریگن کی گورنر کیٹ براؤن نے اپنی ریاست میں آئندہ دو ہفتوں کے لیے نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے جن کے مطابق ریستوران اور بارز بند رہیں گے اور وہاں صرف ٹیک آوے اور ہوم ڈیلیوری کی سہولت ہوگی۔ انھوں نے کہا ہے کہ یہ اوریگون کے شہریوں کے لیے ’ممکنہ طور پر سب سے خطرناک وقت ہے۔‘

انھوں نے اپنی ریاست کے لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میں آپ سے پوچھ نہیں رہی، بلکہ آپ کو بتا رہی ہوں کہ سماجی اجتماعات بند کریں ۔۔۔ اور اپنے گھروں میں دعوت بھی ختم کریں اور سماجی روابط کو چھ سے کم گھروں تک محدود کریں۔‘

جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں اب تک کووڈ 19 کے 53,309,069 مصدقہ متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ اموات کی تعداد 1,301,975 ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کی تازہ ترین صورتحال

پاکستان میں کووڈ 19 کی روک تھام کے لیے قائم این سی او سی کے مطابق ملک میں 13 نومبر کو دو ہزار سے زیادہ (2165) افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی جبکہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 17 افراد اس عالمی وبا سے ہلاک ہوئے ہیں۔ اب تک زیر علاج متاثرین (ایکٹیو کیسز) کی تعداد 24 ہزار 938 ہے اور گذشتہ روز 34 ہزار 535 ٹیسٹ کیے گئے۔

پاکستان میں مجموعی طور پر اب تک 354,461 متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔ ان میں سندھ میں 153873، پنجاب میں 109309، اسلام آباد میں 23533، خیبر پختونخوا میں 41723، گلگت بلتستان میں 4434، بلوچستان میں 16328 اور پاکستان میں کے زیر انتظام کشمیر میں 5261 مصدقہ متاثرین ہیں۔

اب تک پاکستان میں کووڈ 19 سے 7109 اموات ہوئی ہیں۔ ان میں سے سب سے زیادہ 2722 اموات سندھ میں ہوئی ہیں، جس کے بعد پنجاب میں یہ تعداد 2462 ہے۔

کیٹ براؤن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناوریگون کی گورنر کیٹ براؤن

تین امریکی ریاستوں میں سفری تنبیہ جاری

امریکہ میں متاثرین کی تعداد سب سے زیادہ 10,728,497 ہے جبکہ اب تک 244,304 اموات ہوئی ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکہ کے نومنتخب صدر جو بائیڈن کے کورونا سے متعلق ایک مشیر نے کہا ہے کہ تاحال نئی آنے والے انتظامیہ نے ملک گیر لاک ڈاؤن کا منصوبہ نہیں بنایا۔ امریکی ریاستوں کیلیفورنیا، اوریگون اور واشگنٹن نے سفری تنبیہ جاری کی ہے۔

بعض امریکی ریاستوں میں اب ان سختیوں کو دوبارہ نافذ کیا جا رہا ہے جنھیں گرمیوں میں ختم کر دیا گیا تھا۔

انڈیا مجموعی متاثرین کے اعتبار سے عالمی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے جہاں یہ تعداد 8,728,795 ہے اور 128,668 اموات ہوئی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ملک میں دیوالی کا تہوار منانے کی تیاریاں جاری ہیں۔

انڈیا دیوالی

،تصویر کا ذریعہEPA

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انھیں طبی ایمرجنسی کا خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے تاحال دوسرے لاک ڈاؤن کے امکانات ظاہر نہیں کیے۔

برطانیہ میں انگلینڈ کا ملک گیر لاک ڈاؤن جاری ہے اور ماہرین کے مطابق انفیکشن ریٹ یعنی نئے لوگوں میں وبا کی منتقلی کی شرح بتدریج زیادہ ہے۔

ماہرین کے مطابق موسم سرما میں چونکہ نظام تنفس کی بیماریاں پھیلنے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے، اس لیے برطانیہ سمیت دیگر ممالک میں کورونا کے مزید متاثرین کا خدشہ موجود ہے۔

برطانیہ میں صحت کے سیکریٹری میٹ ہینکاک کا کہنا ہے کہ حتمی منظوری کے بعد ادارہ صحت یکم دسمبر سے ویکسین کا اجرا شروع کر سکے گا۔

شرح اموات میں بتدریج اضافہ‘

جمعے کو پاکستان میں سندھ اسمبلی کے رکن جام مدد علی کورونا وائرس سے ہلاک ہو گئے۔ محکمہ صحت کے مطابق ان کا ٹیسٹ نیگیٹو آیا تھا لیکن وائرس نے ان کے اعضا کو شدید متاثر کیا تھا، جو ان کی موت کا سبب بن گیا۔

پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ جولائی سے رواں ماہ نومبر کے دوران شرح اموات میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔

وقافی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے بدھ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ رواں سال اکتوبر کے وسط سے اب تک پاکستان میں کووڈ کے متاثرین کی تعداد میں تین گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

پاکستان، کورونا وائرس

،تصویر کا ذریعہEPA

انھوں نے کہا کہ ملک میں کسی بڑے نقصان سے بچنے کے لیے ایس او پیز کی پابندی ضروری ہے۔

کورونا وائرس جہاں دنیا بھر میں اموات بانٹ رہا وہیں اس وائرس سے کم متاثر سمجھے جانے والے خطے جنوبی ایشیا میں بھی اس کی دوسری لہر تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔

ایک کروڑ سے زیادہ سے زیادہ متاثرین کے ساتھ امریکہ ہی دنیا میں اس وبا کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ انڈیا اسی لاکھ سے زائد متاثرین کے ساتھ دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ انڈیا میں اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ تیس ہزار سے زائد بنتی ہے۔

بنگلہ دیش نے دوسری لہر کے خطرے کے پیش نظر ملک بھر میں 19 دسمبر تک تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے ہیں۔ ماہرین کے خیال میں جنوبی ایشیا میں سردیوں کے موسم میں وائرس کی یہ لہر ذیادہ مہلک ہو سکتی ہے۔

جمعرات کو پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخوا کے ہائیکورٹ کے چیف جج جسٹس وقار احمد سیٹھ کی اس وائرس سے موت کی خبر سے ملک میں اس وائرس سے متعلق بحث زور پکڑ گئی ہے۔

جبکہ این ڈی ایم اے کے چیئرمین محمد افضل میں کورونا وائرس کی تشخیص کی خبر کے بعد صارف حسن زیدی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ اب یہ وائرس خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔ انھوں نے اس پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ اب یہ اعلیٰ حکام کو بھی متاثر کر رہا ہے جس کی وجہ شاید اس وائرس کو سنجیدگی سے نہ لینا اور احتیاط نہ کرنا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

ایسے ہی خدشات کا اظہار مشرف زیدی نے بھی کیا ہے۔

انھوں نے لکھا کہ دوسری لہر کے اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ اب یہ نئی لہر کہیں زیادہ مہلک ثابت ہو رہی ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

کورونا وائرس کی وجہ سے پاکستان میں متعدد تعلیمی ادارے بھی بند کر دیے گئے ہیں تاہم ابھی حکومت نے تمام تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔

این سی او سی نے تعلیمی اداروں میں بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کی طرف بھی اشارہ کیا ہے اور سردیوں کے چھٹیوں کو جلدی اور طویل کرنے کی تجویز دی ہے۔ اب اسی سلسلے میں 16 نومبر کو وفاقی وزیر برائے تعلیم مختلف صوبوں کے وزرا سے مشاورت کریں گے اور ملک کے تعلیمی اداروں میں درپیش صورتحال پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔

پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کو دیکھتے ہوئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر، این سی او سی، نے ملک بھر میں بڑے اجتماعات پر پابندی عائد کرنے اور سینما گھروں، تھیٹروں اور مزاروں کو مکمل طور پر بند کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔

20 نومبر سے شادی ہالوں سے باہر شادی کی تقریب منعقد کرنے کی اجازت ہو گی جس میں زیادہ سے زیادہ 500 افراد شرکت کر سکیں گے۔

این سی او سی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پچھلے چند ماہ سے مساجد میں کووڈ کی وبا کو روکنے کے لیے بنائی گئی ایس او پیز پر پابندی کی جا رہی تھی، لیکن حالیہ دنوں میں اس میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

تازہ تجاویز میں ریستوران اور کھانے پینے کے مقامات کو دس بجے تک بند کرنے کا کہا گیا ہے جبکہ سینیما، تھیٹر، مذہبی مقامات، درگاہوں کو جلد از جلد بند کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ دوسری جانب بازاروں کو جلدی بند کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

فائزر کی ویکیسن پر پاکستان کا ردعمل

ویکسین

،تصویر کا ذریعہReuters

دوسری جانب برطانیہ کی فائزر کمپنی کی ویکسین کے اعلان پر پاکستان حکومت کی کورونا وائرس ٹاسک فورس کے سربراہ ڈاکٹر عطا الرحمان نے کہا ہے کہ فی الوقت اس ویکسین سے متعلق امید لگانا قبل از وقت ہو گا۔

نجی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عطا الرحمان نے کہا کہ اس ویکسین کو ابھی تک امریکہ کے دواؤں کے نگراں ادارے نے ابھی منظور نہیں کیا ہے اور اس میں مزید دو مہینے لگیں گے۔

ڈاکٹر عطا الرحمان نے مزید کہا کہ اس ویکسین کو منفی 80 ڈگری پر رکھنا ہوگا اور پاکستان سمیت تیسری دنیا کے ممالک میں منفی 80 ڈگری پر رکھنے کی سہولیات موجود نہیں ہیں جبکہ یہ بھی اس وقت نہیں معلوم کہ اس ویکسین کا اثر کتنی دیر قائم رہے گا۔

پاکستان میں چینی ویکسین کے جاری تجربے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ اس میں کافی کامیابی ہوئی ہے۔