ریکوڈک: مبینہ بدعنوانی کے کیس میں غیر ملکیوں سمیت 25 ملزمان کو نوٹس جاری

- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی ایک احتساب عدالت نے ضلع چاغی میں تانبے اور سونے کے سب سے بڑے منصوبے ریکوڈک میں ’بڑے پیمانے‘ پر بدعنوانی کے ریفرینسز پر 25 ملزمان کو نوٹسز جاری کیے ہیں جن میں غیر ملکی کمپنیوں کے اہلکار بھی شامل ہیں۔
احتساب عدالت کوئٹہ ون کے جج جناب منور احمد شاہوانی نے تمام ملزمان کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
جن پاکستانی شہریوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں ان میں زیادہ تر ریٹائرڈ سرکاری ملازمین ہیں جن میں سے بیشتر کا تعلق بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور محکمہ ریونیو سے تھا۔
نیب کا موقف
نیب کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق اس مبینہ بدعنوانی کے ذریعے سرکاری خزانے کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ریکوڈیک منصوبے میں 30 سال کے ریکارڈ کی چھان بین کے بعد ان ملزمان کے خلاف ’ناقابل تردید ثبوت‘ اکٹھے کیے گئے ہیں جنہوں نے ’ذاتی مفادات کے حصول کے لیے قومی مفادات کی دھجیاں اڑا دیں اور قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا‘۔
ریکوڈک سے متعلق پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

ترجمان کے مطابق سنہ 1993 میں بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور ایک آسٹریلیوی کمپنی کے مابین چاغی ہلز ایکسپلوریشن جوائنٹ وینچر کا معاہدہ طے پایا جس میں مبینہ طور پر حکومت بلوچستان بالخصوص بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے افسران کی جانب سے آسٹریلوی کمپنی کو غیر قانونی فائدہ پہنچایا گیا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ’قومی مفادات سے متصادم‘ اس معاہدے کی شرائط کو مزید مستحکم کرنے کے لیے نہ صرف ’غیر قانونی طریقہ سے بلوچستان مائننگ کنسیشن رولز میں ترامیم کی گئیں بلکہ بار بار غیر قانونی طور پر ذیلی معاہدے کر کے ایک دوسری غیر ملکی کمپنی کو متعارف کر کے اربوں روپے کے مزید مالی فائدے حاصل کیے گئے‘۔
نیب نے الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ مال کے افسران کی جانب سے زمین کی الاٹمنٹ اور دیگر امور میں بھی ’شدید بے قائدگیاں سامنے آئیں اور ملزمان نے اس مد میں مالی فوائد لینے کا اعتراف بھی کیا ہے‘۔
نیب نے الزام عائد کیا ہے کہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال اور گواہان کے بیانات سے جو حقائق سامنے آئے ان کے مطابق غیر ملکی کمپنی کے کارندے سرکاری ملازمین کو رشوت دینے اور ناجائز طور پر مفادات حاصل کرنے میں ملوث پائے گئے ہیں۔
نیب کے ترجمان نے اسے نیب کی تاریخ کا سب سے پیچیدہ اور کرپشن کے حجم کے حساب سے سب سے ’بڑا کیس‘ قرار دیا ہے۔
ریکوڈک پر ورلڈ بینک کے ثالثی ٹریبونل سے 6 ارب ڈالر کا جرمانہ اور حکم امتناع
نیب بلوچستان کی جانب سے ریفرینس دائر ہونے سے پہلے ریکوڈک کے حوالے سے دو مقدمات ورلڈ بینک کے ثالثی ٹریبونل انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (ایکسڈ) سمیت ثالثی کے دو بین الاقوامی فورمز میں زیر سماعت ہیں۔
ان فورمز پر یہ معاملہ ماضی میں ریکوڈک پر کام کرنے والی ایک غیر ملکی کمپنی لے گئی تھیں۔
گذشتہ سال جولائی میں بین الاقوامی ثالثی ٹریبونل نے پاکستان کی جانب سے آسٹریلیا اور چلی کی ایک مشترکہ کان کنی کی کمپنی کی مائننگ لیز منسوخ کرنے پر پاکستان پر چھ ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تھا۔
پاکستان کو کہا گیا تھا کہ وہ مائننگ کمپنی کو چار ارب ڈالر ہرجانے کی ادائیگی کے علاوہ 1.7 ارب ڈالر کی اضافی رقم بھی ادا کرے۔
صوبہ بلوچستان میں سونے اور تانبے کے اربوں ڈالر مالیت کے ریکوڈک پراجیکٹ میں ورلڈ بینک کے ثالثی ٹریبونل کی جانب سے عائد کردہ چھ ارب ڈالر کے جرمانے کے فیصلے کے خلاف رواں سال ستمبر میں پاکستان نے حکم امتناعی حاصل کر لیا تھا جس سے پاکستان کو جرمانے کی ادائیگی کے سلسلے میں مئی 2021 تک کا ریلیف حاصل ہو گیا تھا۔
ریکوڈک کہاں واقع ہے؟
ریکوڈک ایران اور افغانستان سے طویل سرحد رکھنے والے بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق ریکوڈک کا شمار پاکستان میں تانبے اور سونے کے سب سے بڑے جبکہ دنیا کے چند بڑے ذخائر میں ہوتا ہے۔
ریکوڈک کے قریب ہی سیندک واقع ہے جہاں ایک چینی کمپنی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے تانبے اور سونے کے ذخائر پر کام کر رہی ہے۔ تانبے اور سونے کے دیگر ذخائر کے ساتھ ساتھ چاغی میں بڑی تعداد میں دیگر معدنیات کی دریافت کے باعث ماہرین ارضیات چاغی کو معدنیات کا 'شو کیس' کہتے ہیں۔
ریکوڈک پر کام کب شروع ہوا اور یہ کب ایک کمپنی سے دوسری کو منتقل ہوا؟
بلوچستان کے سابق سیکریٹری خزانہ محفوظ علی خان کے ایک مضمون کے مطابق حکومت بلوچستان نے یہاں کے معدنی وسائل سے استفادہ کرنے کے لیے ریکوڈک کے حوالے سے 1993 میں ایک امریکی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔
یہ معاہدہ بلوچستان ڈویلپمنٹ کے ذریعے امریکی کمپنی کے ساتھ جوائنٹ وینچر کے طور پر کیا گیا تھا۔









