بھنڈار اور ڈنگی: بحیرہ عرب کے جزائر پر انحصار کرنے والے ماہی گیر اور ان کی رکھوالی کرنے والے بزرگ یوسف شاہ کی کہانی

کراچی کے جزائر

،تصویر کا ذریعہFatima Majeed

    • مصنف, شبینہ فراز
    • عہدہ, صحافی

سندھ کے جزائر بھنڈار اور ڈنگی کے حوالے سے وفاق اور صوبے کی جنگ اب اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ بظاہر صوبہ سندھ کا پلڑا بھاری دکھائی دے رہا ہے مگر غیر یقینی کی صورت حال بدستور برقرار ہے۔

ویسے تو وفاق یا سندھ کے سیاست دانوں میں سے شاید ہی کسی نے کراچی کے ان متنازعہ جزائر پر پاﺅں دھرے ہوں گے لیکن ان پر بڑھ چڑھ کر سیاست جاری ہے اور جہاں ایک جانب فریقین ایک دوسرے کے خلاف دھواں دار بیانات داغ رہے ہیں، تو کہیں کسی فورم پر آئین کی مختلف شقیں اور قانونی نکات پر گرما گرم بحث جاری ہے۔

ماہی گیر تنظیمیں اور ان کے رہنما بھی احتجاجی ریلیاں نکال رہے ہیں اور معاملہ اب اسمبلی تک پہنچ چکا ہے۔

لیکن ایک عام ماہی گیر ان جزائر پر ترقیاتی کاموں کے حوالے سے کیا سوچتا اور کیا چاہتا ہے، یہ جاننا زیادہ اہم ہے کیونکہ ان جزائر سے براہ راست عام ماہی گیروں ہی کا تعلق ہے۔ سیاست دانوں نے تو شاید یہ جزائر تصاویر ہی میں دیکھے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے

آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر مائیکل سینڈل کے مطابق ’ہم دراصل مارکیٹ سوسائٹی ہیں اور مارکیٹ میں ہر شے یا تو خریدی جاتی ہے یا فروخت کی جاتی ہے۔ گویا بازار میں ایسی کوئی شے اہمیت نہیں رکھتی جو کرنسی کی کسوٹی پر پرکھی نہ جاسکے۔‘

لیکن یہ فارمولا شاید ہمارے معاشرے پر پورا نہیں اترتا۔ ہمارے لیے ہماری ثقافت، روایات، عقائد اور جذبات کسی بھی خرید و فروخت کی جانے والی شے سے زیادہ قیمتی سمجھے جاتے ہیں اور عموماً ان پر سمجھوتے کی روایات بہت کم دیکھنے میں آتی ہیں۔

ایسا ہی کچھ ہمیں سندھ کے ماہی گیروں اور ان کے ’یوسف شاہ‘ کے حوالے سے دیکھنے میں آیا۔ یہ سب جاننے کے لیے ہم نے بھنڈار جزیرے تک کا سفر کیا اور بہت سے ماہی گیروں سے تفصیلی گفتگو کی۔

کراچی کے جزائر

،تصویر کا ذریعہFatima Majeed

وہ اکتوبر کی ایک خوش گوار صبح تھی۔ ہلکی نرم دھوپ، دھیمی دھیمی پروائی اور پرسکون سمندر کے نیلگوں پانی میں سبک خرامی سے رواں دواں ہماری کشتی۔

یہ منفرد منظر بلاشبہ کسی پینٹنگ جیسا خوبصورت ضرور تھا لیکن بھنڈار جزیرے پر اترنا اتنا خوشگوار بالکل نہ تھا۔ ابراہیم حیدری کی کچی مٹی سے بنی شکستہ جیٹی سے کشتی تک پہنچنا اور مٹی بھی ایسی کہ ذرا زور سے پیر پڑتا تو اپنی جگہ چھوڑ دیتی، جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا۔

اسی شکستہ مٹی کے باعث ہماری ایک ساتھی سمندر برد ہوتے ہوتے بچیں۔ جزیروں پر ہمارے اس دورے کے لیے سہولت کاری ڈبلیو ڈبلیو ایف نے کی تھی۔ ہماری کشتی بھنڈار جزیرے کی طرف محو سفر تھی جس کا دورانیہ 40 منٹ تھا۔ جیسے جیسے کراچی کا ساحل دور ہو رہا تھا، سمندری آلودگی کم اور پانی کا رنگ نکھرتا جا رہا تھا۔

کھلے سمندر میں ہوا کے تھپیڑے بھی خوش گوار محسوس ہو رہے تھے۔ اس کشتی سے جزیرے پر پہنچنا ہمارے اندازے سے کہیں زیادہ مشکل کام ثابت ہوا۔ کشتی گہرے پانی میں رک گئی اور کمر کمر بلکہ سینے تک گہرے پانی میں چھلانگ لگا کر اترنا پڑا۔

بحیرہ عرب کے نیلگوں اور سبزی مائل پانی کے درمیان بھنڈار اور ڈنگی جزائر تقریباً 18,000 ہیکٹرز کے وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں جس میں صرف بھنڈار جزیرہ 12,000 ہیکٹرز کے وسیع رقبے پر مشتمل ہے۔

اگرچہ ان جزائر پر اب کوئی مستقل آبادی موجود نہیں ہے مگر بھنڈار پر موجود جھونپڑیاں بتا رہی تھیں کہ ماہی گیر اس جزیرے کو استعمال ضرور کرتے ہیں۔

کراچی کے جزائر

،تصویر کا ذریعہShabina Faraz

جزیرے کے درمیان ایک مزار موجود ہے۔ یہ قبر ایک بزرگ ’یوسف شاہ‘ کی بتائی جاتی ہے جس پر لگی رنگین جھنڈیاں اور پیروں کے نشانات بتا رہے تھے کہ ماہی گیروں کا یہاں آنا جانا لگا رہتا ہے۔

ماہی گیروں کے حقوق پر کام کرنے والے ایک سرگرم سماجی کارکن سامی میمن کے مطابق، یہ جزائر صدیوں سے ماہی گیروں کے استعمال میں ہیں۔ جزیرے کے گرد موجود یہ کریکس (کھاڑی) بتاتی ہیں کہ ان کے ذریعے یہاں دریائے سندھ کا میٹھا پانی پہنچتا تھا جس کے باعث یہاں تیمر کے گھنے جنگلات موجود تھے کیونکہ ان جنگلات کو سمندری پانی کے ساتھ میٹھا پانی بھی درکار ہوتا ہے۔

ان جنگلات کے باعث یہاں مچھلی جھینگوں کا شکار آسانی سے ملتا تھا۔ آج یہ جزائر مچھلی سُکھانے، جال اور کشتی دھونے یا مچھلی پکڑتے ہوئے دیر ہو جانے پر ماہی گیروں کی شب بسری کے کام آتے ہیں۔

ابراہیم حیدری کے ایک ماہی گیر عبدالمجید موٹانی کے مطابق یہ جزائر صدیوں سے ماہی گیروں کے استعمال میں ہیں۔ ان پر باقاعدہ ماہی گیروں کے گاﺅں آباد تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اتنی پرانی بات ہے، سمجھ لیجیے کہ برف کی ایجاد سے بھی پہلے کی۔‘

انھوں نے بتایا کہ قدیم زمانے میں جھینگے اور مچھلی کو محفوظ کرنے کے طریقے آج کے طریقوں سے جدا تھے۔ ماہی گیر خواتین جھینگے بڑے بڑے برتنوں میں ابال کر چٹائیوں پر سُکھاتیں، پھر لکڑی سے کوٹتیں، جس سے جھینگوں کا چھلکا پاﺅڈر کی صورت الگ ہو جاتا۔ پھر یہ ثابت جھینگے صاف کر کے بوریوں میں پیک کر دیے جاتے تھے۔

مچھلی کو محفوظ کرنے کا طریقہ اس سے مختلف ہوتا تھا۔ جزیرے کی زمین میں کھڈے بنے ہوتے تھے جن میں سمندر کا کھارا پانی بھرا ہوتا ۔مچھلی صاف کرنے کے بعد ان کھڈوں میں مزید نمک ڈال کر مچھلی ڈال دی جاتی۔ جب گوشت اچھی طرح نمک جذب کر لیتا تو پھر بانس کے بنائے ہوئے مچانوں پر ان مچھلیوں کو سکھایا جاتا اور پھر سکھانے کے بعد انھیں کاٹ کر ستلی سے باندھ کر پٹ سن کی بوریوں میں پیک کر دیا جاتا۔

پھر جب سمندر کا چڑھاﺅ ختم ہو جاتا تو اس مال کو کشتیوں میں مارکیٹ لے جاتے۔ یہ مارکیٹ کراچی کی قدیم جگہ کلری میں واقع تھی، جہاں بڑے بڑے گودام موجود تھے اور وہاں بیوپاری بیٹھتے تھے اور یہاں مھلی کی نیلامی ہوتی۔

اس وقت نوٹوں کا رواج نہیں تھا صرف بارٹر سسٹم چلتا تھا۔ مچھلی جھینگوں کے بدلے گھر کی ضرورت کا سامان خریدتے پھر ماہی گیر واپس جزیروں پر چلے جاتے۔ جزیروں پر اور قومیں بھی آباد تھیں مثلا چرواہے اور کھیتی باڑی کرنے والے بھی۔

کھانے پینے کا سامان بارٹر سسٹم کے تحت مل جاتا۔ مچھلی کے بدلے چرواہوں سے دودھ اور کاشت کاروں سے چاول وغیرہ لے لیے جاتے۔ مجید موٹانی کا کہنا ہے کہ اصل ماہی گیر ’دبلو‘ قوم ہے۔ دیبل بندر، راجا داہر اور دبو کریک، دبلو قوم ہی کی وجہ سے یہ نام پڑے ہیں۔

موٹانی صاحب نے ان جزائر کے ناموں کے حوالے سے کہا کہ جزیرہ بھنڈار کا مطلب ہے بہت سے سوکھے ہوئے درخت، وقت کے ساتھ ساتھ جب دریائے سندھ کا پانی یہاں پہنچنا بند ہو گیا تو پھر یہاں موجود تیمر کے جنگلات زیادہ تر سوکھ گئے ۔ یہی اس جزیرے کی وجہ تسمیہ بن گئی۔

کراچی کے جزائر

،تصویر کا ذریعہFatima Majeed

ڈنگی کے بارے میں موٹانی صاحب کا کہنا ہے کہ اس کا سندھی زبان میں مطلب ’شرارتی یا شریر‘ ہے۔ اس جزیرے کے قریب اکثر ماہی گیروں کی کشتیاں پھنس جاتی تھیں اس لیے وہ اس جزیرے کو شریر یا ڈنگی کہنے لگے۔

ان کا کہنا ہے کہ ماہی گیر تعلیم یافتہ نہیں ہوتے مگر انھیں زندگی کا ہنر آتا ہے۔ شاید ہی لوگ جانتے ہوں گے کہ ماہی گیر علم فلکیات بھی جانتے ہیں، جس کی مدد سے وہ رات کو سمندروں میں سفر کرتے ہیں اور راستہ نہیں بھٹکتے، ’مثلا ہم جانتے ہیں کہ قطب ستارہ جنوب کی سمت میں ہمیشہ ایک ہی جگہ پر ہوتا ہے جسے ہم مقناطیسی ستارہ بھی کہتے ہیں۔‘

’اسی ستارے کی مدد سے ہم لوگ سمت معلوم کرتے ہیں مثلا اگر ہمارا سیدھا کاندھا جنوب میں ہے تو ہماری ناک مغرب میں، الٹا کاندھا شمال اور پیٹھ مشرق میں تو اسی طرح سمتوں کا حساب لگا کر سمندروں کا سفر کرتے تھے پھر بعد میں سائنس نے ایک سمت بتانے والا آلہ کمپاس ایجاد کر لیا جسے مقامی ماہی گیر دیرو کے نام سے جانتے ہیں۔‘

جزیروں پر حالیہ ترقیاتی کاموں کے حوالے سے عبدالمجید موٹانی کا کہنا ہے کہ ’ہم یہاں کے قدیم باشندے ہیں، ہمیں کیسے کوئی بے دخل کر سکتا ہے۔ ہم اگر اب ابراہیم حیدری میں رہتے ہیں اور مچھلی کہیں اور سے پکڑنا شروع کر بھی دیں تو یوسف شاہ کے مزار پر تو جانا نہیں چھوڑ سکتے نا۔ یہ مزار، اس پر لگنے والا میلہ ہماری زندگی کا حصہ ہے۔‘

حلیمہ بھی ابراہیم حیدری کی رہنے والی اور ماہی گیر برادری سے ہیں۔ جزیروں پر ترقی کے نام پر وہ بپھر اٹھیں۔ ’ہم اب بھنڈار پر نہیں رہتے تو کیا ہوا؟ ہمارے یوسف شاہ کا وہاں مزار ہے، جو لوگ جزیرہ لینا چاہتے ہیں وہ اصل میں ہم سے یوسف شاہ کو چھیننا چاہ رہے ہیں اور ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔‘

ان کے ساتھ بیٹھی ایک اور خاتون رشیداں کا کہنا تھا ’ہماری روزی روٹی چلی جائے، ہم کو منظور ہے مگر ہم یوسف سائیں کے مزار پر جانا نہیں چھوڑ سکتے۔‘

جزیرہ بھنڈار پر ’یوسف شاہ‘ نامی ایک بزرگ کا مزار ہے جہاں ہر سال میلہ لگتا ہے جس میں ہزاروں ماہی گیر جوق در جوق پہنچتے ہیں۔ قوالی، روایتی رقص اور روایتی پکوان بنائے جاتے ہیں۔ ایک بہت بڑا جھنڈا لا کر مزار پر لگایا جاتا ہے۔ ماہی گیروں کے مطابق اس مزار کی قدامت صدیوں پر محیط ہے۔

بوڑھے ماہی گیروں کے مطابق یہ کوئی چار سو سال پرانی بات ہے۔ اس وقت اس بھنڈار جزیرے پر بہت سی ماہی گیر بستیاں آباد تھیں۔ ایک صبح انھوں نے دیکھا کہ جزیرے کے اردگرد بہت سی لاشیں تیر رہی تھیں۔ شاید رات میں عربوں کی کوئی کشتی ڈوب گئی تھی۔ ماہی گیروں نے ان لاشوں کو جزیرے پر لا کر دفن کر دیا۔ پھر ایک قبر سے کچھ غیر معمولی کرامات ظاہر ہونے لگیں۔

کراچی کے جزائر

،تصویر کا ذریعہShabina Faraz

اکثر سمندری طوفان میں جب پانی جزیرے پر چڑھ آتا اور پورا جزیرہ پانی میں ڈوب جاتا تب بھی یہ قبر پانی سے باہر رہتی۔ قبر کے گرد دھیرے دھیرے خود ریت جمع ہونے لگی اور یوں یہاں ایک ٹیلہ سا بن گیا۔ اب بھی دور سے یہ ریت کا ٹیلہ اور مزار نظر آتا ہے۔ اس مزار پر کوئی چھت یا روایتی گنبد وغیرہ نہیں ہے۔

محمد حسن دبلو، دبلو قوم کے سربراہ ہیں۔ ان کا خاندان مزار کی دیکھ بھال اور ہر سال میلے کا اہتمام کرتا ہے۔ انھوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ’پہلے ہم ماہی گیروں کو گزری کے علاقے سے بے دخل کیا گیا، ڈنگی پر تو شاید تعمیراتی کام شروع ہو چکا ہے کیونکہ اس طرف جانے پر ماہی گیروں کو مارا پیٹا جاتا ہے۔ لیکن اب ہم بھنڈار اور مزار سے کسی طور بے دخل نہیں ہوں گے چاہے ہماری جان چلی جائے۔‘

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ریجنل ڈائریکٹر طاہر رشید کا کہنا ہے کہ ’ان جزائر کی اہمیت تین مختلف حوالوں سے بنتی ہے۔ اول یہ کہ یہ ماہی گیروں کے ذرائع روزگار کا وسیلہ ہیں جسے کسی طور ختم نہیں ہونا چاہیے، دوم یہ کہ بھنڈار پر مزار اور میلے کے باعث یہ ان کے کلچر کا اہم حصہ ہے، جس پر ماہی گیر کسی طور سمجھوتا نہیں کریں گے اور سوم یہ کہ ان جزائر کا ماحولیاتی نظام ( ایکو سسٹم) ہماری معیشت کے لیے بھی بہت اہم ہے۔‘

بھنڈار جزیرے پر موجود 3,349 ہیکٹر پر تیمر کے گھنے جنگلات ہیں جو بے شمار اقسام کی مچھلیوں، جھینگوں اور کیکڑوں کے علاوہ بے شمار سمندری حیات کے لیے مسکن اور نرسری کا کام انجام دیتے ہیں۔ تعمیرات کے لیے ان جنگلات کو کاٹنے کا مطلب یہ ہو گا کہ یہ سمندری حیات یہاں سے رخصت ہو جائے گی۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق پاکستان سمندری خوراک کی ایکسپورٹ سے 390 ملین امریکن ڈالرز سالانہ حاصل کرتا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستانی سمندر سے 1800 اقسام کی مچھلیاں پکڑی جاتی ہیں جن میں سے 350 اقسام کی مچھلیوں کی انتہائی کمرشل ویلیو ہے۔ اس کے علاوہ جھینگوں کی 25اقسام ، لابسٹر کی چار اقسام، کیکڑوں کی چھ اقسام اور 12 اقسام شیل کی پائی جاتی ہیں۔

پاکستان کے زرعی شعبے کا حصہ جی ڈی پی میں 22 فیصد کے قریب ہے جس میں ایک فیصد حصہ ماہی گیری کے شعبے کا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی سمندر سے پکڑی جانے والی مچھلی کی مقدار ساڑھے چھ لاکھ ٹن سالانہ ہے جبکہ ہماری ماہی گیری کی صنعت سے اندازاً 40 لاکھ لوگ وابستہ ہیں۔ صرف ان جزائر کے ارد گرد 90 اقسام کی مچھلیاں پائی جاتی ہیں۔

کراچی کے جزائر

،تصویر کا ذریعہShabina Faraz

طاہر رشید کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ جزائر حیاتیاتی تنوع سے مالا مال ہیں، یہاں سمندری سانپ، پودوں کی 29 اور پرندوں کی 50 انواع پائی جاتی ہیں۔ 2008 کے سروے میں ان جزائر پر موسم سرما میں نقل مکانی کر کے آئے ہوئے 160,000 پرندے دیکھے گئے۔ اس کے علاوہ یہ جزائر دنیا کے نایاب ترین سبز کچھووں کی گزرگاہ ہیں جو لاکھوں میل کا سفر کر کے ہمارے ساحلوں پر انڈے دینے آتے ہیں۔ اگر یہ راستہ بند ہو گیا تو اس معصوم جان داروں کی بقا مزید خطرے میں پڑ جائے گی۔‘

ان کے مطابق یہ جزیرے انڈس ڈیلٹا کا حصہ ہیں جو عالمی تحفظ یافتہ رامسر سائٹ ہے اور توثیق کنندہ کی حیثیت سے پاکستان پر لازم ہے کہ انڈس ڈیلٹا کی حفاظت کرے۔ اس کے علاوہ پاکستان نے حیاتیاتی تحفظ کا عالمی قانون پر دستخط کیے ہوئے ہیں جس کے تحت سمندری وسائل کے پائیدار انتظام اور نایاب جان داروں کے ان مساکن کی حفاظت لازم ہے۔ پاکستان کو اس حوالے سے عالمی برادری کو مطمئن کرنا آسان نہ ہو گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’ان جزائر کے حوالے سے ایکو سسٹم سروسز(ماحولیاتی خدمات) کا تجزیہ ضروری ہے جس کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جانا چاہیے۔‘

ایک اور ماہر ماحولیات رفیع الحق کا کہنا ہے کہ ’ایک تحقیق کے دوران ہم نے بھنڈار پر کچھووں کے نشانات اور خول بھی دیکھے، کچھوے اپنے طویل سفر کے دوران یہاں رکتے ہیں۔ یہ جزیرہ ان کے لیے خوراک کا وسیلہ بھی ہے۔‘

’سندھ کے سمندری جزائر‘ نامی کتاب کے مصنف گل حسن کلمتی کا کہنا ہے کہ ’سمندر پر جانے کے لیے اب ماہی گیروں کے پاس یہی ایک راستہ بچا ہے۔ کورنگی کریک والا راستہ بند کر دیا گیا ہے جب سے ڈنگی پر تعمیرات کا کام شروع ہوا ہے۔ پورٹ قاسم والے راستے سے ماہی گیر گزر نہیں سکتے کیونکہ چیکنگ کے بہانے انھیں بہت تنگ کیا جاتا ہے۔اب اگر بھنڈار پر بھی شہر بن گیا ،تعمیرات ہو گئیں تو ماحول کی تباہی تو ہو گی ہی مگر ماہی گیروں کی گزرگاہ بند ہو جائے گی۔ ان کا ذریعہ معاش ختم ہو جائے گا۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’مقامی ماہی گیروں کو کوئی اور کام نہیں آتا لہذا بڑے پیمانے پر ہجرت کا عمل شروع ہو جائے گا جو مزید بہت سے مسائل کا سبب بنے گا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ہر دور میں ماہی گیروں کے ساتھ ناانصافیاں کی گئی ہیں مثلا گزری والے معاملے کو ہی دیکھ لیں۔‘

گسری بندر(گزری) ماضی کی ایک بڑی بندرگاہ تھی،انگریزوں اور تالپوروں کے دورمیں یہاں سے بڑے جہاز سندھو دریا سے ملتان تک جاتے تھے۔ یہاں ماہی گیروں کی بستی تھی جنھیں اٹھا دیا گیا تھا۔

’ڈی ایچ اے سٹی بن رہا تھا تب بھی ماہی گیروں نے احتجاج کیا تھا، ان سے کہا گیا تھا کہ آپ کو کچھ نہیں کہیں گے ،گزری سے لے کر مرینا کلب تک ماہی گیروں کا علاقہ تھا لیکن وہاں اب کوئی ماہی گیر اپنی کشتی کھڑی نہیں کرسکتا۔ کیونکہ اب یہ غریب لوگ سکیورٹی رسک ہیں۔‘

کراچی کے جزائر

،تصویر کا ذریعہShahbina Faraz

ان کے مطابق گزری کے پہاڑوں کا پتھر کراچی کی قدیم عمارتوں میں استعمال کیا گیا بعد میں یہ علاقہ ڈیفنس ہاﺅسنگ اتھارٹی میں آ گیا اور میرین ڈرائیو کی وجہ سے ماہی گیروں پر مچھلی کا شکار کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔

گل حسن کلمتی کا کہنا ہے کہ پورٹ قاسم کو یہ زمین کب دی گئی تھی یہ واضح نہیں ہے، 16 ہزار ایکڑ 1974 یا 1975میں دی گئی تھی اور یہ سمندر کے کنارے کی زمین تھی، اب پورٹ قاسم تمام جزائر پر دعویٰ کر رہا ہے اس حوالے سے حکومت سندھ کی جانب سے وضاحت آنا بہت ضروری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان جزائر کے استعمال سے پہلے ماہی گیروں کو اعتماد میں لینا ضروری ہے جو صدیوں سے یہاں رہتے چلے آ رہے ہیں۔ اب اگرچہ ماہی گیر باقاعدہ بھنڈار پر نہیں رہتے مگر بھنڈار پر موجود مزار اور اس پر لگنے والا میلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ جزائر ان کی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت ماہی گیروں کا بھلا چاہتی ہے تو بنیادی سہولیات ان کی بستیوں تک پہنچائے۔ ماہی گیری کو صنعت کا درجہ دیا جائے تاکہ ماہی گیروں کو بھی قوانین کے تحت مراعات مل سکیں۔ ان کی بستیوں میں قبرستان نہیں ہیں جس کے باعث میت کو مورڑو قبرستان، شیر شاہ اور میوہ شاہ قبرستان لیاری لے کر جانا پڑتا ہے۔

’ایک ایسا اقدام جس سے 25 لاکھ لوگ براہ راست اور بالواسطہ دربدر ہو جائیں کیا اسے’ترقی‘ کہا جا سکتا ہے۔‘