’صدر آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہے‘ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس پر تفصیلی فیصلہ

،تصویر کا ذریعہSupreme Court of Pakistan
- مصنف, شہزاد ملک، اعظم خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد
سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ صدر مملکت اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہے اور ریفرنس دائر کرنے کا تمام عمل قانون و آئین کے خلاف تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ محض سنی سنائی باتوں پر ریفرنس دائر نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے لیے ٹھوس شواہد چاہیں جو کہ اس ریفرنس میں موجود نہیں تھے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس خارج کیے جانے کا دو سو چوبیس صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریر کیا ہے جو کہ جمعے کی شام جاری کیا گیا۔
واضح رہے کہ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ نے اس سال 19جون کو اس ریفرنس کے بارے میں مختصر فیصلہ سنایا تھا۔
اس صدارتی ریفرنس کو مسترد کیے جانے کی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جسسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف جائیداد کی تحققیات کے لیے نہ تو صدر مملکت اور نہ ہی وزیر اعظم سے اجازت لی گئی البتہ وزیر قانون کی اجازت سے اس بارے میں تحققیات عمل میں لائی گئیں۔
اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس صدارتی ریفرنس میں یہ فرض کرلیا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اپنے بیوی بچوں کے اثاثے ظاہر کرنے کے بھی پابند ہیں اگرچہ ان کے بیوی بچے خودکفیل ہی کیوں نہ ہوں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس مسترد کرنے کی وجوہات میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج پر لندن کی جائیداد خریدنے سے متعلق منی لانڈرنگ کے جو الزامات عائد کیے گئے تھے اس بارے میں کوئی شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔
اس ریفرنس کے مسترد کرنے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ صدر مملکت نے ریفرنس دائر کرنے کے سلسلے میں وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم اور اس وقت کے اٹارنی جنرل انور منصور سے، جو کہ اس ریفرنس کے بنانے والے ہیں، رائے طلب کی لیکن اس کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ اور منصفانہ رائے لینے کے لیے کسی تیسری پارٹی سے رابطہ نہیں کیا۔
’جج اور اہلیہ کے ٹیکس ریکارڈ تک غیر قانونی رسائی حاصل کی گئی‘
تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج کے خلاف تحققیات کے لیے کوئی قانونی اجازت نہیں لی گئی اور اس صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواست گزاروں کی طرف سے بنائے گئے فریقوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ کے ٹیکس ریکارڈ تک غیر قانونی طریقے سے رسائی حاصل کی۔
اس تفصیلی فیصلے میں اطلاعات و نشریات کے بارے میں وزیر اعظم کی سابق مشیر فردوس عاشق اعوان کا بھی ذکر کیا گیا ہے جنھوں نے عوام میں اس صدارتی ریفرنس سے متعلق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی۔
اس صدارتی ریفرنس کو خارج کرنے کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جو نوٹس جاری کیا گیا تھا اس کو بھی یہ کہہ کر ختم کردیا ہے کہ ریفرنس خارج ہونے کے بعد اس نوٹس کی اہمیت ایک خالی کاغذ سے زیادہ نہیں ہے۔
جسٹس قاضی فایز عیسیٰ اور ان کے خاندان کے افراد کی جاسوسی
اس تفصیلی فیصلےمیں درخواست گزار جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے ان کے اور ان کے اہلخانہ کی جاسوسی کے الزامات کے بارے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے اس بارے میں سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے مقدمے کا حوالہ دیا ہے جوکہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے فون ٹیپ کرنے کے بارے میں تھا، لیکن اس بارے میں کوئی شواہد عدالت میں پیش نہیں کیے گئے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جاسوسی کا مطلب یہ ہے کہ کسی کی نقل و حرکت کو مانیٹر کرنا۔۔ تاہم اس بارے میں کوئی شواہد عدالت میں پیش نہیں کیے گئے۔
’ایسٹ ریکوری یونٹ غیر قانونی نہیں‘
اس فیصلے میں ایسٹ ریکوری یونٹ کی تشکیل کے بارے میں بھی کہا گیا ہے کہ اس بارے میں کوئی بڑی خامی نظر نہیں آئی اور یہ کابینہ ڈویژن کا ایک حصہ ہے اور اس ادارے کا مقصد غیر ملکی کرنسی کو غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک بھجوانے سے روکنا ہے۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس ادارے کے سربراہ بیرسٹر شہزاد اکبر کی اہلیت کے بارے میں سوال تو اٹھایا گیا لیکن اس بارے میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے اور نہ ہی درخواست گزار یعنی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شہزاد اکبر کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے کوئی الگ سے درخواست دی تھی۔
اس تفصیلی فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کی وجہ درخواست گزار کا ایک مذہبی جماعت کی طرف سے فیض آباد دھرنے سے متعلق از خود نوٹس پر لکھا گیا فیصلہ ہے، کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے میں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف اور ان کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا تاہم یہ بہتر ہوتا کہ فیصلہ لکھنے سے پہلے ان جماعتوں کو بھی سن لیا جاتا۔
اس فیصلے میں فیض آباد دھرنے کے فیصلے پر پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے نظرثانی کی پہلی اپیل میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سخت زبان استعمال کرنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے تاہم رجسٹرار آفس نے اس پر اعتراض لگا کر واپس کردیا تھا جبکہ اس فیصلے کے خلاف جو دوسری اپیل دائر کی گئی اس میں صیحح زبان استعمال کی گئی۔
خیال رہے کہ صدارتی ریفرنس پر سماعتوں کے بعد عدالت نے مختصر فیصلہ جاری کیا تھا اور اس فیصلے میں عدالت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ان کی اہلیہ سرینا عیسیٰ کی جائیداد اور ٹیکس کے معاملات دیکھنے کے بارے میں حکم دیا تھا اور اس کی رپورٹ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے پاس جمع کروانے کی ہدایت کی تھی۔
اس دس رکنی بینچ نے سپریم جوڈیشل کونسل کو بھی لکھا تھا کہ اگر بیرون ملک ان جائیدادوں کی خریداری میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کوئی کردار نظر آئے تو وہ از خود نوٹس لے کر ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی عمل میں لاسکتی ہے۔
صدر مملکت نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف وزیر اعظم کی طرف سے بھیجی گئی شکایت کو ریفرنس بنا کر سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوا دیا تھا۔
سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے، جو اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ تھے، اس صدارتی نوٹس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو نوٹس جاری کردیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہSupreme court of Pakistan
سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو روکنے کے لیے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت وفاق اور صوبائی سطح پر وکلا تنظیموں کی طرف سے درخواستیں دائر کی گئی تھیں جو کہ سماعت کے لیے منظور کر لی گئیں۔
ان درخواستوں کی سماعت کے دوران سابق اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا جب اُنھوں نے ان درخواستوں کی سماعت کرنے والے دس رکنی بینچ کے کچھ ججز پر الزام عائد کیا تھا کہ اُنھوں نے اس ریفرنس کی خلاف درخواست کی تیاری میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی معاونت کی تھی۔
عدالت کے بارہا پوچھنے کے باوجود کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور اس بار میں کوئی ثبوت پیش نہ کرسکے۔
خیال رہے کہ تفصیلی فیصلہ جاری ہونے سے ایک دن قبل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ گذشتہ تین سال کی اپنی اور اپنی اہلیہ کی آمدن اور جائیداد کی تفصیلات سامنے لے کر آئے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق اس عرصے کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسی کے مطابق گذشتہ تین سال کے دوران ان کی آمدن پانچ کروڑ 34 لاکھ روپے تھی جبکہ اس عرصے کے دوران اُنھوں نے 66 لاکھ روپے ٹیکس ادا کیا۔
دو ججز کے علیحدہ/اختلافی نوٹ
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے متعلق مقدمے میں سپریم کورٹ کے دو ججز جسٹس فیصل عرب اور جسٹس یحیٰ آفریدی نے علیحدہ علیحدہ نوٹ تحریر کیے ہیں۔ دونوں ججز نے فیصلے کے کچھ نکات سے اختلاف کیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ کسی حد تک دونوں ججز کا اختلافی نوٹ یا فیصلہ بھی کہا جا سکتا ہے۔
سب سے پہلے پڑھتے ہیں کہ جسٹس فیصل عرب نے ججز کے احتساب کے نظام پر کیا کہا اور پھر انھوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو کیا مشورہ دیا۔
’کسی مخبر کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ صدر یا سپریم جوڈیشل کونسل سے تحقیقات کا مطالبہ کرے‘
جسٹس فیصل عرب نے دو نکات کے علاوہ جسٹس عمر عطا بندیال کے لکھے گئے فیصلے سے اتفاق کیا ہے۔
انھوں نے اپنے نوٹ میں کہا کہ اس مقدمے کا آغاز عبدالوحید ڈوگر نامی شخص جو اپنے آپ کو ایک تحقیقاتی صحافی کے طور پر متعارف کراتے ہیں کے ایک خط سے ہوا، جس کے بعد وزیر قانون فروغ نسیم نے ایسٹ ریکوری یونٹ کے سربراہ شہزاد اکبر کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خاندان کے افراد کی جائیداد کی تحقیق سے متعلق کہا۔
لندن کی جائیدادوں سے متعلق جیسے ہی یہ انکوائری کا عمل مکمل ہوا تو وزیر قانون نے اس رپورٹ کی سمری کو وزیر اعظم کے سامنے صدارتی ریفرنس کے طور پیش کیا۔
وزیر اعظم کی ایڈوائس کے بعد صدر نے اس ریفرنس پر دستخط کردیا اور یوں معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج دیا گیا۔
جسٹس فیصل عرب کے مطابق مخبر کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ صدر یا سپریم جوڈیشل کونسل کو اپنی جمع کردہ معلومات کی بنیاد پر تحقیقات کرنے کا کہے۔
آئین یہ اختیار براہ راست صدر اور سپریم جوڈیشل کونسل کو دیتا ہے۔
اس وجہ سے جب سپریم جوڈیشل کونسل یا صدر میں سے کوئی بھی یہ سمجھے کہ انکوائری ہونی چاہیے تو تب ہی یہ سب ممکن ہے وگرنہ ہر گز نہیں۔
جسٹس فیصل عرب کے مطابق اگر یہ آئینی سیف گارڈ نہ ہوتے اور معلومات سے متعلق شرائط طے نہ کی جاتیں تو پھر کوئی بھی جج آزادی اور اعتماد کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام نہ دے پاتا۔
جسٹس فیصل عرب کے مطابق اگر اس طرح مخبر کی اطلاعات پر ججز کے خلاف تفتیش کا آغاز کر دیا جائے تو پھر ججز ایک کے بعد دوسری انکوائری بھگت رہے ہوتے اور سپریم جوڈیشل کونسل بھی اسی کام میں مگن رہتی جس سے ججز خود اپنا کام سر انجام ہی نہ دے پاتے۔
تاہم جسٹس فیصل عرب کے مطابق جب معلومات پر کارروائی آگے بڑھائی جائے تو پھر جج کو صفائی دینی چائیے اور دیگر امور کی طرف سپریم جوڈیشل کونسل کو نہیں الجھانا چائیے کہ مخبر کی کریڈیبلٹی کیا ہے۔ ان کے خیال میں اگر ایسا کیا جائے گا تو پھر احستاب کا یہ سارا ڈھانچہ ہی بے معنی یا مردہ بن کر رہ جائے گا۔
’احتساب کے موثر میکنزم کے بغیر عدلیہ کی آزادی ممکن نہیں‘
جسٹس فیصل عرب کے مطابق احتساب کے موثر میکنزم کے بغیر عدلیہ کی آزادی ممکن نہیں ہے۔ انھوں نے مخبر کے ذریعے انکوائری کے میکنزم کو آئینی سکیم سے متصادم قرار دیا۔ تاہم جہاں تک معاملہ ٹیکس کا ہے تو اس میں جسٹس فیصل عرب کی رائے قدرے مختلف ہے۔
انھوں نے لکھا کہ اگر ٹیکس حکام کے نوٹس میں کوئی جائیداد کسی بھی طریقے، ذریعے یا اطلاع معلومات میں آ جائے تو پھر انھیں ٹیکس حاصل کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے اور وہ کارروائی شروع کر سکتے ہیں۔
ان کے مطابق قانون میں یہ نہیں ہے کہ اگر شریک زندگی (بیوی یا شوہر) آزاد ہوں۔ ان کے مطابق بیوی کا خرچ اٹھانا شوہر کے فرائض میں شامل ہے چاہے بیوی کھاتے پیتے گھرانے سے ہی کیوں نہ ہو۔
جسٹس فیصل عرب نے لکھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا مقدمہ ماضی میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے اس مقدمے سے مختلف ہے جس میں انھیں اس وقت کے صدر نے نہ صرف معطل کر دیا بلکہ ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھی بھیج دیا۔
ان کے مطابق اس وقت یہ سب صدر کی بدنیتی کی وجہ سے ریفرنس خارج ہوا تھا مگر اس مقدمے میں صدر پر بدنیتی کا الزام عائد نہیں کیا گیا بلکہ مخبر اور ان کی بدنیتی پر بات کی گئی ہے جنھوں نے یہ سب عمل آگے بڑھایا۔
جسٹس فیصل عرب نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی معزولی اور پھر ٹرائل کو عدلیہ کی تاریخ کے سیاہ دن سے تعبیر کیا ہے۔
خیال رہے کہ جسٹس فیصل عرب سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف وفاقی حکومت کی طرف سے قائم کی گئی خصوصی عدالت کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں اور انھوں نے پرویز مشرف پر فرد جرم بھی عائد کی تھی۔
جسٹس فیصل عرب کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف وزیر اعظم نے صدر کو جو سمری بھیجی تھی، اس سے پتا چلتا ہے کہ صدر نے اس معاملے پر مزید کوئی کارروائی نہیں کی اور یہ ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج دیا، جس کی وجہ سے یہ ریفرنس قانون کی نظر میں قابل سماعت ہی نہیں رہتا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’درخواست گزار (جسٹس قاضی فائز عیسیٰ) کو لندن جائیداد کے بارے میں مکمل صفائی دینی چائیے‘
جسٹس فیصل عرب نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ آئین بنانے والوں کی منشا یہ تھی کہ ججز کا احستاب کا نظام ایسا ہو کہ جسے ججز ہی جج کریں نہ کہ پارلیمنٹ جہاں ججز کو سیاسی دباؤ سے بچایا جا سکے۔
جسٹس فیصل عرب کے مطابق کوئی بھی جج احتساب کے عمل سے بالا نہیں ہے۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں ججز کا بھی احتساب ہوتا ہے۔ ان کے خیال میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو اپنے اوپر الزامات کا جواب دینا چائیے اور لندن میں جائیدادوں کے ذرائع بتانے چائیں۔
جسٹس فیصل عرب کے خیال میں سپریم جوڈیشل کونسل کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ مخبر کے بارے میں چھان بین شروع کر دے بلکہ اس فورم کو جو معلومات دستیاب ہیں اس کی صحت کی جانچ کرنا ذیادہ مناسب ہے۔
جسٹس فیصل عرب کے مطابق جب کسی جج پر کوئی الزام عائد ہوتا ہے تو اس کے لیے اچھا ہے کہ وہ داغ کو صاف کرے اور عوام کی نظر میں صاف شفاف ہو جائے۔
انھوں نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عدالت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا معاملہ ایف بی آر کو بھیجا اور اب یہ سپریم جوڈیشل کونسل پر منحصر ہے کہ وہ یہ دیکھے کہ آیا یہ رپورٹ مکمل معلومات دے رہی ہے یا نہیں۔
جسٹس یحیٰ آفریدی کا نوٹ: ’درخواست گزار (جسٹس قاضی فائز عیسیٰ) کے تحفظات سے بھی زیادہ عدلیہ کی آزادی کا معاملہ اہم‘
جسٹس یحیٰ آفریدی کے مطابق درخواست گزار جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے تحفظات سے بھی زیادہ ان کی طرف سے اٹھایا گیا عدلیہ کی آزادی کا معاملہ اہم ہے جو کسی بھی ترقی پسند معاشرے اور سماجی خوشحالی کے لیے بھی اہم ہوتا ہے۔
جسٹس آفریدی کے مطابق درخواست گزار سپریم کورٹ کا جج ہے اور اس عدالت کا جج اپنے حلف میں یہ کہتا ہے کہ وہ سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے جاری کردہ ضابطہ اخلاق پر عمل پیرا رہے گا۔
ان کے مطابق اب نہ تو اپنے بنیادی حق کو چھوڑا جا سکتا ہے اور نہ ہی حلف کی پاسداری کو۔ ان کے مطابق ججز کو حتی الامکان قانونی مقدمات کی پیروی سے بچنا چائیے۔
جسٹس آفریدی نے سپریم کورٹ کے عوامی مفاد سے متعلق از خود نوٹس کے اختیارات والے آرٹیکل 184/3 کی وضاحت کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیا۔
جسٹس آفریدی کی رائے میں صدر پر وزیر اعظم کی ایڈوائس پر عمل کرنا لازمی ہو جاتا ہے۔
’شکایت کنندہ کی معلومات کو جج نے درست تسلیم کر لیا‘
ان کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف شکایت کنندہ عبدالوحید ڈوگر کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا کہ اس کی شکایت بد نیتی پر مبنی ہے۔ وہ سٹیبلشمنٹ کا آلہ کار ہے اور اسی طرح اس کے مشکوک کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے مگر جہاں تک اس مقدمے کا تعلق ہے تو اس کی شکایت کو خود جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درست مان لیا ہے۔
جسٹس آفریدی کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کی لندن میں جائیداد کے بارے میں جو شکایت کنندہ نے کہا وہ اب ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے چاہے شکایت کنندہ کی کریڈیبیلٹی کیسی ہی کیوں نہ ہو۔
جج کی غیر قانونی جاسوسی کا سوال
جسٹس آفریدی کے مطابق جسٹس قاضی فائز کی اہلیہ کی لندن میں جائیداد کی معلومات تک انٹرنیٹ کے ذریعے بھی رسائی ممکن تھی جو کے ماضی میں ایسا ہوا بھی کہ اس شکایت سے پہلے ہی اس بارے میں قانونی طور پر ریکارڈ حاصل کر لیا گیا تھا۔
ان کے خیال میں اس مقدمے میں جج کی جاسوسی کا پہلو نہیں نکلتا۔ تاہم ان کے مطابق آئین ہر صورت میں غیر قانونی جاسوسی کی نفی کرتا ہے چاہے وہ کسی عام شہری کی ہی کیوں نہ ہو۔ تاہم اس مقدمے میں انھوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکلا کی رائے پر وفاقی حکومت کے وکیل کی رائے کو فوقیت دیتے ہوئے کہا کہ یہاں جاسوسی کا پہلو ثابت نہیں ہوتا۔
شہزاد اکبر کی سربراہی میں قائم ایسٹ ریکورٹی یونٹ کی قانونی حیثیت
جسٹس یحیٰ آفرید کے مطابق فریقین کی جانب سے ایسٹ ریکوری یونٹ پر بھی کافی لے دے ہوئی مگر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ معاملہ اتنا اہم ہے کہ اسے یہاں اس ریفرنس میں زیر بحث لایا جائے۔ انھوں نے اس حوالے سے سابق جج فخرالدین جی ابراہیم کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ضروری امور نہیں ہیں جن کا یہاں حل ہونا لازمی ہو۔
جسٹس آفریدی نے اے آر یو کے خلاف کارروائی کو غیر ضروری قرار دیا ہے۔









