موٹروے ریپ کیس: مرکزی ملزم گرفتار، پنجاب حکومت کی تصدیق

،تصویر کا ذریعہPunjab Govt
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ ماہ لاہور کے قریب موٹروے پر پیش آنے والے ریپ کے مبینہ واقعے کے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ نو ستمبر کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب پیش آنے والے ایک واقعے کے دوران دو افراد نے مبینہ طور پر مدد کے انتظار میں سڑک کنارے کھڑی گاڑی میں سوار خاتون کو پکڑ کر قریبی کھیتوں میں اُن کے بچوں کے سامنے ریپ کیا تھا۔
اس سے پہلے پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا تھا جو اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے، تاہم دوسرا ملزم متعدد چھاپوں کے باوجود پولیس کی پہنچ سے نکلنے میں کامیاب رہا تھا۔
تاہم آج پنجاب پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صوبہ پنجاب کے وزیرِ اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے اس گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے۔
مقامی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے فیاض چوہان نے مزید کہا کہ حکام کی یہ حکمتِ عملی تھی کہ ملزم ’ریلیکس‘ محسوس کرے تاکہ اسے گرفتار کرنے میں آسانی ہو جائے، اور جیسے ہی یہ ہوا، اسے گرفتار کر لیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@ShabazGil
موٹروے ریپ کیس کا پس منظر
لاہور کے تھانہ گجرپورہ میں درج کروائی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ گوجرانوالہ کے رہائشی درخواست دہندہ کی رشتے دار خاتون کی گاڑی کا جنگل کے قریب پیٹرول ختم ہو گیا تھا اور وہ مدد کے انتظار میں کھڑی تھیں۔
ایف آئی آر کے مطابق درخواست دہندہ کی عزیزہ نے بتایا کہ جب وہ پیٹرول کے انتظار میں کھڑی تھیں تو 30 سے 35 سال کی عمر کے دو مسلح اشخاص آئے، انھیں اور ان کے بچوں کو گاڑی سے نکال کر ان کا ریپ کیا اور ان سے نقدی اور زیور چھین کر فرار ہو گئے۔
ایف آئی آر کے مطابق خاتون سے ریپ کا واقعہ رات تین بجے کے قریب پیش آیا اور متاثرہ خاتون کے رشتے دار نے بدھ کی صبح 10 بجے پولیس اسٹیشن گجر پورہ میں مقدمہ درج کروایا۔
مدعی نے پولیس کو بتایا کہ جب وہ اس جگہ پہنچے جہاں پر پیٹرول ختم ہونے کی وجہ سے روک گئی تو انھوں نے دیکھا کہ گاڑی کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا اور اس پر خون کے دھبے تھے، جس کے بعد انھوں نے رشتے دار خاتون کو کرول کے جنگل کی جانب سے بچوں کے ساتھ آتے دیکھا۔
موٹروے پولیس نے کہا تھا کہ جس جگہ خاتون کو ریپ کا نشانہ بنایا گیا وہ موٹروے پولیس کی حدود میں شامل نہیں ہے۔ ترجمان کے بقول رنگ روڈ موٹروے پولیس کی حدود میں نہیں ہے۔
سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے موٹروے پر پیش آنے والے ریپ کے واقعے کے بعد متعدد ٹی وی چینلز پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ: 'تین بچوں کی ماں اکیلی رات گئے اپنے گھر سے اپنی گاڑی میں نکلے تو اسے سیدھا راستہ لینا چاہیے ناں؟ اور یہ بھی چیک کرنا چاہیے کہ گاڑی میں پیٹرول پورا ہے بھی یا نہیں۔۔۔'
اس کے بعد سی سی پی او لاہور کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد انھوں نے معافی مانگ لی تھی تاہم ان کے بیان کا معاملہ پاکستانی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق تک بھی جا پہنچا جہاں انھیں قانون سازوں کی برہمی کا سامنا کرنا پڑا۔
ملزم کی گرفتاریوں کی کوشش اور پہلی گرفتاری
پیر 14 ستمبر کی شام سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر تفصیل بتاتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا تھا 'سیالکوٹ موٹروے کے دلخراش واقعہ میں خاتون سے زیادتی میں ملوث شخص گرفتار ہو چکا ہے۔'
ان کے بقول گرفتار شخص کا 'ڈی این اے بھی میچ کر چکا ہے اور اس نے اعتراف جرم بھی کر لیا ہے۔'
عثمان بزدار کا یہ بھی کہنا تھا کہ مقدمے میں مطلوب دوسرے ملزم کی گرفتاری کے لیے بھی 'ہماری ساری ٹیم مسلسل کوشاں ہے جس کی گرفتاری انشا اللہ جلد متوقع ہے۔'
پنجاب پولیس کے سربراہ انعام غنی نے بھی ٹوئٹر پر ایک پیغام میں بتایا کہ گرفتار کیے جانے والے ملزم کا تعلق بہاولنگر سے ہے۔

،تصویر کا ذریعہMunir Bajwa
خیال رہے کہ اس سے قبل سنیچر 12 ستمبر کو وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی سربراہی میں اعلیٰ حکام کی پریس کانفرنس میں جن دو ملزمان کی تفصیلات اور تصاویر جاری کی گئی تھیں، گرفتار ملزم ان میں شامل نہیں تھا۔
حکام نے جن دو افراد کی تصاویر اور معلومات جاری کی تھیں ان میں سے ایک نے اتوار 13 ستمبر کی صبح لاہور میں خود کو حکام کے حوالے کر دیا تھا اور خود پر عائد تمام الزامات کی تردید کی تھی۔
اس حوالے سے مزید پڑھیے
اُس ملزم کا کہنا تھا کہ اس کے جس موبائل نمبر کی بنیاد پر اسے واقعے میں ملوث قرار دیا گیا وہ اس کے زیرِ استعمال نہیں بلکہ اسے اس کے برادرِ نسبتی استعمال کرتے ہیں۔ پیر 14 ستمبر کی صبح مذکورہ برادرِ نسبتی نے بھی شیخوپورہ میں پولیس کو گرفتاری دے دی تھی اور واقعے سے کسی قسم کا تعلق نہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔
اس کے بعد لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سیالکوٹ موٹر وے پر دوران ڈکیتی خاتون سے زیادتی کے ملزم کا 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ دیتے ہوئے انھیں جیل منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔
عدالت نے استغاثہ کی جانب سے ملزم کی شناخت پریڈ کروانے کی استدعا بھی منظور کر لی تھی۔
یہ ایک ابتدائی خبر ہے اور اسے مزید معلومات موصول ہونے پر اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔











