اشتہاری ملزمان کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی، پیمرا کے ’دوہرے‘ معیار پر بحث

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا نے گذشتہ روز ملک کے تمام لائسنس یافتہ ٹی وی چینلوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اشتہاری ملزمان کی تقاریر کو نشر نہ کریں جس کے بعد ملک میں نواز شریف کی تقاریر نشر کرنے کے تناظر میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
ان نجی ٹی وی چینلز کو بھجوائے گئے نوٹس میں پیمرا نے سنہ 2019 میں سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار سے متعلق جاری کیے گئے اپنے ہی ایک آرڈر کا حوالہ دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ عدالت کی طرف سے قرار دیے گئے کسی بھی اشتہاری یا مفرور کا انٹرویو نشر نہیں کیا جا سکتا۔
تاہم پیمرا ا ماضی میں مفرور اور اشتہاری ملزمان کے انٹرویو نشر کرنے کی اجازت دیتا رہا ہے۔
یاد رہے کہ جب مختلف عدالتوں کی طرف سے اشتہاری قرار دیے جانے والے سابق فوجی صدر پرویز مشرف، پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری اور موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی تقاریر دکھانے پر پابندی عائد کرنے کے بارے میں کہا گیا تھا تو پیمرا کے حکام کی طرف سے یہ موقف سامنے آیا تھا کہ آزادی اظہار رائے پر قدغن نہیں لگائی جا سکتی کیونکہ ایسا کرنا آئین کے خلاف ہے۔
یہی نہیں موجودہ وزیراعظم عمران خان جب پاناما کیس سپریم کورٹ لے کر گئے اور وہاں پر عدالتی کارروائی کا حصہ بھی بنتے رہے تو تب بھی اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے انھیں پی ٹی وی پر حملہ کیس میں عدالت میں پیش نہ ہونے پر اشتہاری قرار دیا ہوا تھا لیکن نجی ٹی وی چینلز عمران خان کی تقاریر اور نقل و حرکت کی کوریج کرتے تھے۔
یاد رہے کہ اس قبل سنہ 2015 میں پیمرا نے لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی عائد کی تھی اور یہ پابندی ابھی تک برقرار ہے۔
سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کی ترجمان مریم اورنگ زیب کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت پیمرا کے اس فیصلے کو اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کرے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کیا پیمرا کا دوہرا معیار ہے؟
صحافی اور اینکر پرسن حامد میر کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے نہیں بلکہ موجودہ حکومت نے لگوائی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ گذشتہ ماہ جب حزب مخالف کی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس ہوئی تھی اس سے پہلے وفاقی وزیر برائے اطلاعات شبلی فراز کا بیان سامنے آیا تھا کہ چونکہ سابق وزیر اعظم کو مختلف عدالتوں نے اشتہاری قرار دیا ہے اس لیے جو ٹی وی چینل ان کی تقریر نشر کرے گا اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
'تاہم راتوں رات ہی فیصلہ تبدیل کیا گیا اور میڈیا پر یہ خبریں چلائی گئیں کہ وزیر اعظم عمران خان نے سابق وزیر اعظم کی تقریر نشر کرنے کی اجازت دے دی ہے'۔
اس فیصلے میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے کردار سے متعلق حامد میر کا کہنا تھا کہ 'اپنی تقاریر میں انھوں نے جن جرنیلوں کا ذکر کیا وہ اب ریٹائر ہو چکے ہیں، اُنھوں نے یہ ضرور کہا کہ سنہ 2018 میں ہونے والے انتخابات چرائے گئے تھے لیکن اس میں بھی انھوں نے کسی جرنیل کا ذکر نہیں کیا'۔
حامد میر کا کہنا تھا کہ پیمرا نے نجی ٹی وی چینلز کو نوٹس جاری کر کے خود اپنے ہی ایک آرڈر کی نفی کی ہے جو انھوں نے سنہ 2019 میں ایک شہری کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کی درخواست پر دیا تھا۔
اس وقت درخواست گزار نے استدعا کی تھی کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف اور طاہر القادری مختلف مقدمات میں اشتہاری ہیں اس لیے ان کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی عائد کی جائے۔ پیمرا نے اس درخواست پر یہ کہا تھا کہ اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگانا آئین میں دیے گئے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ پیمرا کے اس فیصلے کے خلاف نجی ٹی وی چینلز کو نہیں بلکہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں کو جانا چاہیے۔

کیا پیمرا کا حکم غیر قانونی ہے؟
ماہر قانون اظہر صدیق کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی کا فیصلہ پیمر ا نے سنہ 2019 میں جاری کیے گئے ارڈر کی روشنی میں کیا ہے جس میں انھوں نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی عائد کی تھی۔ اسحاق ڈار کو بھی اسلام آباد کی احتساب عدالت نے اشتہاری قرار دیا ہوا تھا۔
اظہر صدیق کا کہنا ہے کہ اگر سابق وزیر اعظم وطن واپس آجائیں اور عدالتوں میں پیش ہو جائیں تو وہ جو چاہے بیان دیں ان کی تقاریر کو نشر کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہو گی۔
پیمرا نے نجی ٹی وی چینلز کو سابق وزیر اعظم کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی کا جو نوٹس جاری کیا ہے اس میں سپریم کورٹ کے جس فیصلے کا حوالہ دیا گیا ہے وہ صحافی ارشد شریف کے مقدمے میں ہے۔ اس مقدمے میں عدالت نے کہا تھا کہ عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کو ٹاک شوز میں زیر بحث نہیں لایا جا سکتا۔
خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی تقاریر کو ٹی وی چینلز پر نہ دکھانے سے متعلق ایک درخواست اسلام اباد ہائی کورٹ میں بھی دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چونکہ عدالتوں نے سابق وزیر اعظم کو مختلف مقدمات میں اشتہاری قرار دیا ہوا ہے اس لیے ان کی تقاریر کو نشر کرنے سے روکا جائے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس کی طرف سے اس درخواست کو ابھی سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا گیا۔ ہے۔









