امریکی صدارتی الیکشن 2020: صدر ٹرمپ، جو بائیڈن کے پہلے مباحثے پر پاکستانی اور انڈین سوشل میڈیا صارفین کا دلچسپ ردِعمل

ٹرمپ اور مودی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

امریکہ میں تین نومبر کو ہونے والے صدارتی الیکشن کے سلسلے میں امیدواروں کے مابین دستور کے مطابق ہونے والے مباحثوں کا آغاز ہو چکا ہے اور منگل کے روز ریاست اوہائیو میں ہونے والا پہلا صدراتی مباحثہ امریکہ سمیت پوری دنیا میں زیر بحث ہے۔

دنیا کی دیگر اقوام کی طرح پاکستانیوں اور انڈینز کی ایک بڑی تعداد امریکہ میں مقیم ہے جبکہ بہت سے پاکستانیوں کے امریکہ میں کاروباری یا ذاتی روابط ہیں۔ لہذا جونہی صدارتی مباحثہ ختم ہوا تو سوشل میڈیا صارفین نے اس پر اپنی رائے دینی شروع کر دی۔

خاص کر جب صدر ٹرمپ کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں ایک ارب درخت لگانے کے منصوبے کا ذکر ہوا تو کئی پاکستانی صارفین، بالخصوص تحریک انصاف کے کارکن اور حامیوں نے یہ یاد کروانا مناسب سمجھا کہ دنیا میں ایک لیڈر ایسے بھی ہیں جنھوں نے کئی برس پہلے ہی یہ کام کر دکھایا۔

دوسری جانب مباحثے کے دوران انڈیا کے بارے میں بولے جانے الفاظ پر انڈیا کے سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سوشل

،تصویر کا ذریعہTwitter/ChicoJahangir

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما صاحبزادہ جہانگیر نے ٹویٹ کی کہ ’آج رات کی صدارتی بحث میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جب موسمیاتی تبدیلی سے متعلق سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ وہ اربوں درخت لگائیں گے۔ خواتین و حضرات کیا آپ پاکستان میں ایک ایسے شخص کو یاد کر سکتے ہیں جس نے چھ سال قبل اربوں درختوں کا منصوبہ کامیابی کے ساتھ شروع کیا تھا؟ اُس کا نام کیا ہے؟‘

محمد تقی نے لکھا ’ٹرمپ کے پاس بھی اب ایک بلین ٹری پراجیکٹ ہے۔۔۔ اُسی خیال کے ساتھ ایک اور دغاباز۔‘

سوشل

،تصویر کا ذریعہTwitter/mazdaki

ایک صارف نے لکھا کہ ’کیا صدر ٹرمپ پاکستانی وزیر اعظم سے نوٹس لے رہے ہیں جن کے بلین ٹری پراجیکٹ کی دنیا میں تعریف کی گئی ہے۔‘

تاہم عمران خان اور صدر ٹرمپ میں موازنے کے علاوہ چند صارفین اس معاملے پر سنجیدہ گفتگو بھی کر رہے ہیں۔

امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد اداکار کمیل ننجیانی اور لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز کی پروفیسر ندا کرمانی نے صدر ٹرمپ کی جانب سے سفید فام نسل پرست گروہوں کی مذمت نہ کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں تھی۔

سوشل

،تصویر کا ذریعہTwitter/kumailn

کمیل کے نزدیک اس کا مطلب یہی ہے کہ ٹرمپ ’ان کے لیڈر ہیں‘ تاہم ندا کرمانی کے مطابق زیادہ تر امریکیوں کا خیال ہے کہ ٹرمپ ہی یہ مباحثہ جیتے ہیں۔

کچھ پاکستانی صارفین مباحثے کے طرز سے متاثر نظر آئے اور پاکستان میں بھی ’ٹاک شو سرکس‘ کی جگہ اس طرح کے مباحثوں کو فروغ دینے کی تجاویز پیش کیں۔

امریکہ میں مقیم پاکستانی صحافی سرل المیڈا نے کہا کہ ’زرداری، عمران اور نواز کو مدمقابل دیکھ کر مزہ آئے گا‘ تاہم انایا خان کے خیال میں اگر اس طرز کا مباحثہ پاکستان میں ہو تو وزیراعظم عمران خان اسے برداشت نہیں کر پائیں گے۔

سوشل

،تصویر کا ذریعہTwitter/nidakirmani

صرف ٹرمپ ہی نہیں، جو بائیڈن کی جانب سے عربی فقرے ’انشا اللہ‘ کے استعمال پر بھی کئی صارفین حیران نظر آئے۔ امریکہ میں مقیم لکھاری وجاہت علی کے مطابق سابق امریکی نائب صدر نے یہ فقرہ طنزیہ انداز میں ادا کیا ہو گا۔

انڈیا میں ردِعمل:

مباحثے کے دوران انڈیا کے بارے میں بولے جانے الفاظ پر ہمسائیہ ملک سے شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

یاد رہے مباحثے کے دوران صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آپ کو کیا پتہ کورونا وائرس سے چین، روس اور انڈیا میں کتنے افراد ہلاک ہو گئے کیونکہ یہ ممالک آپ کو صحیح تعداد نہیں بتاتے۔

شیکھر گپتا نے لکھا 'ٹرمپ انڈیا میں اپنے مداحوں کے لشکر کو آئینہ دکھا رہے ہیں۔ چین اور روس کے ساتھ انڈیا کا ذکر کرنے پر شیکھر کہتے ہیں ’ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ٹرمپ کے دل میں انڈیا کے لیے کوئی عزت نہیں، محبت کو تو بھول ہی جائیے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

سدانند دھومے نے ٹویٹ کیا: 'ٹرمپ نے صدارتی مباحثے میں دو بار انڈیا کا ذکر کیا۔ پہلی بار ایک ایسے ملک کے طور پر جو کووڈ سے مرنے والوں کی اصل تعداد کے بارے میں جھوٹ بول رہا ہے۔ دوسری بار عالمی طور پر سب سے زيادہ آلودگی پھیلانے والے کے طور پر۔‘

ساتھ ہی وہ کہتے ہیں بائیڈن نے انڈیا کا کوئی ذکر ہی نہیں کیا۔

صحافی نیہا مسیح بھی اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں ’ٹرمپ نے انڈیا کا ذکر روس اور چین جیسی مطلق العنان حکومتوں کی صف میں کیا۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

پرشانت پرتاپ سنگھ نے ٹویٹ کیا: 'نریندر مودی کے بہترین دوست نے انھیں سرِعام شرمسار کیا‘۔

صحافی گیتا موہن نے لکھا: 'انڈیا کا دو بار ذکر ۔۔۔ دونوں بار منفی انداز میں۔‘’چین فضا کو آلودہ کر رہا ہے۔ روس بھی ایسا ہی کر رہا ہے۔ اور انڈیا بھی۔‘