آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
عبدالغفور حیدری کے انٹرویو کے بعد پاکستانی سیاست میں فوج کے کردار پر بحث تیز: ’جنرل باجوہ نے اصرار کیا تھا کہ ہم آزادی مارچ نہ کریں‘
پاکستان میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے حزبِ اختلاف کی کُل جماعتی کانفرنس کے دوران اسٹیبلشمنٹ سے ملکی سیاست میں مداخلت بند کرنے کے مطالبے اور پھر فوج کے ترجمان کی جانب سے اُن کی ہی جماعت کے رکن محمد زبیر کی فوج کے سربراہ سے ملاقات کی تفصیلات افشا کیے جانے کا معاملہ ابھی گرم ہی تھا کہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے رہنما عبدالغفور حیدری کے ایک انٹرویو نے سیاست میں فوج کے کردار پر جاری بحث کو مزید ایندھن فراہم کر دیا ہے۔
مولانا عبدالغفور حیدری نے نجی ٹی وی چینل سما کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اسلام آباد میں ان کی جماعت کے ’آزادی مارچ‘ کے موقع پر خود ان کی جماعت کے رہنماؤں کو دعوت دے کر بلایا تھا۔
ان کے مطابق: ’جب ہم وہاں گئے تو انھوں (جنرل قمر جاوید باجوہ) نے اصرار کیا کہ مولانا صاحب، آپ آزادی مارچ نہ کریں۔‘
عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے مولانا فضل الرحمان سے یہ بھی کہا کہ ’مولانا صاحب، ہم نوازشریف کے خلاف جو کر رہے ہیں آپ اس میں مداخلت نہ کریں۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جمیعت علمائے اسلام کے رہنما کی جانب سے فوج کے سربراہ پر سیاسی معاملات میں مداخلت کا الزام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں منعقد ہونے والی پاکستانی حزبِ اختلاف کی کل جماعتی کانفرنس کے اعلامیے اور اس میں پیش کی گئی قرارداد میں اسٹیبلشمنٹ سے سیاست میں مداخلت کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اسی کانفرنس میں مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ان کی جدوجہد پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم عمران خان کے خلاف نہیں بلکہ انھیں اقتدار میں لانے والوں کے خلاف ہے اور یہ کہ ’پاکستان میں معاملہ اب ریاست سے بالاتر ریاست تک پہنچ گیا ہے۔‘
نواز شریف نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان میں ’جمہوریت کو کمزور کرنے کے لیے 'لڑاؤ اور حکومت کرو' کی پالیسی نافذ کر دی گئی ہے۔ سیاستدانوں کو بلایا، ڈرایا اور دھمکایا جاتا تھا۔ یہ طریقہ آج بھی استعمال ہوتا ہے۔‘
اس تقریر کے بعد پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل افتخار بابر نے مسلم لیگ ن کے ہی رہنما محمد زبیر کی فوج کے سربراہ سے ملاقاتوں کی خبر دی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ وہ نواز شریف اور مریم نواز کے معاملات کے سلسلے میں جنرل قمر باجوہ سے ملے تھے۔
نجی ٹی وی اے آر وائی سے بات کرتے ہوئے فوج کے ترجمان نے یہ بھی کہا تھا کہ ’ان ملاقاتوں میں جو بھی بات چیت ہوئی، آرمی چیف نے ان پر واضح کر دیا کہ جو بھی ان کے قانونی مسائل ہیں وہ پاکستان کی عدالتوں میں حل ہوں گے اور جو سیاسی مسائل ہیں ان کا حل پارلیمنٹ میں ہو گا، ان معاملات سے فوج کو دور رکھا جائے۔‘
اسی ملاقات کے بعد نواز شریف نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ان کی جماعت کا کوئی رکن آئندہ انفرادی، جماعتی یا ذاتی سطح پر عسکری اور متعلقہ ایجنسیوں کے نمائندوں سے ملاقات نہیں کرے گا اور حالیہ واقعات سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کہ کس طرح بعض ملاقاتیں سات پردوں میں چھپی رہتی ہیں اور کس طرح بعض کی تشہیر کر کے مرضی کے معنی پہنائے جاتے ہیں۔ یہ کھیل اب بند ہو جانا چاہیے۔‘
’لگتا ہے وزیر اعظم نے سیاسی ذمہ داریاں فوج کے سپرد کر دی ہیں‘
نواز شریف کے اس بیان اور پھر عبدالغفور حیدری کا انٹرویو سامنے آنے کے بعد پاکستانی سیاست میں فوج کے کردار پر ایک مرتبہ پھر بحث تیز ہو گئی ہے۔ تو کیا اب بھی ملک میں ایسے لوگ ہیں جنھیں اس بات پر یقین نہیں کہ ملک کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں ہے؟
صحافی اور تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کے مطابق پاکستان کے موجودہ حالات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اور ملک میں اندرونی استحکام ہو یا دہشت گردی کے خلاف جنگ ، اس حوالے سے پاکستانی فوج کے کردار کی اہمیت بھی بڑھتی چلی گئی ہے۔
’اب جس طرح سے خبریں آ رہی ہیں کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے مختلف اوقات میں آرمی چیف سے ملاقاتیں کی ہیں اور غفور حیدری کی جانب سے کیے گئے انکشاف کی ضرورت بھی اس لیے پیش آئی کہ جب یہ کہا گیا کہ مولانا فضل الرحمان نے ون آن ون ملاقات کی تو اس کی وضاحت دی گئی کہ انھوں نے اپنے وفد کے ہمراہ ملاقات کی تھی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جب بھی کوئی ایسی ملاقات ہوتی ہے تو بہت سی چیزیں زیر بحث آتی ہیں جن میں نواز شریف کے معاملات سمیت دیگر سیاسی مقدمات بھی ہیں اور فوج کی جانب سے یہ موقف بیان کیا گیا ہو گا کہ ہم اس میں مداخلت نہیں کر سکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے حالات کو دیکھتے ہوئے ان ملاقاتوں پر کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے بلکہ تعجب اس بات پر ہونا چاہیے کہ فریقین نے ان کو کھل کر بیان کرنا ضروری سمجھا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان ملاقاتوں کی ضرورت شاید اس لیے پڑی کہ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں نواز شریف کی تقریر سمیت تند وتیز تقاریر ہوئیں تو (فوج کی جانب سے) ضروری سمجھا گیا کہ یہ بتایا جائے کہ ہم اس معاملے میں اجنبی نہیں اور یہ رہنما جو آج سخت تقاریر کر رہے ہیں، ماضی میں فوج سے مشاورت کرتے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی صورتحال اور فوج کی جانب سے سیاسی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کے بیانات کے بعد رہنماؤں کی جانب سے ایسے دعوؤں کے سامنے آنے سے یہ تاثر ضرور آئے گا کہ فوجی قیادت سیاسی معاملات، قومی استحکام اور خارجہ امور کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اور قومی سیاست سے لاتعلق نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سب صورتحال میں اہم سوال یہ ہے کہ آیا فوج سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں یا تبادلہ خیال موجودہ حکومت کی مرضی کے خلاف کر رہی ہے یا اس سے بالا کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 'لگتا ایسا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے یہ فریضہ فوجی قیادت کے حوالے کر دیا ہے کہ وہ ملک کے سیاسی رہنماؤں سے بھی معاملات حل کریں اور ملک میں امن و امان قائم کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کریں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی رہنما کے طور پر یہ وزیر اعظم کا کام ہے لیکن وہ یہ کام نہیں کر پا رہے اور انھوں نے یہ ذمہ داری دوسروں کو سونپ دی ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں فوج کے کردار پر ان کا کہنا تھا کہ فوج نے بار بار سیاست میں مداخلت کی ہے اور مارشل لا بھی لگے ہیں۔
لیکن ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں مارشل لا نہیں اور ایک دستوری حکومت ہے لیکن لگتا ہے کہ وزیر اعظم اپنے سیاسی فرائض پورے نہیں کر پا رہے اور انھوں نے اپنے فرائض کا ایک حصہ فوجی قیادت کے سپرد کر دیا ہے اور فوج ان کی مرضی کے مطابق یہ تمام سیاسی معاملات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
’ایسی خبروں سے فوج اور اپوزیشن کی ساکھ متاثر ہوئی‘
سینیئر صحافی و تجزیہ کار مظہر عباس نے تجزیہ دیتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی کے رہنما غفور حیدری کے اس دعوے پر ابھی تک فوج یا سکیورٹی اداروں کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تو اس میں یہ اہم ہو گا کہ یہ ملاقات جے یو آئی کے رہنماؤں کی درخواست پر ہوئی تھی یا آرمی چیف کی درخواست پر ہوئی۔
ان کا کہنا تھا غفور حیدری کا یہ بیان ایک طرح سے شیخ رشید کے اس بیان کی وضاحت ہے جس میں انھوں نے مولانا فضل الرحمان کی آرمی چیف سے ون آن ون ملاقات کا ذکر کیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے اس بیان کی تردید ہے۔‘
مظہر عباس کا کہنا تھا کہ اس بیان کو اس تناظر میں بھی دیکھا جائے کہ جیسی دھرنے کے صورتحال تھی اور کوئی سیاسی و مذہبی جماعت ہزاروں لوگ لے کر اسلام آباد کے ریڈ زون پر پہنچ جائے تو ایسے میں ہمارے سکیورٹی ادارے ان رہنماؤں سے ملاقاتیں کرتے ہیں کیونکہ اس میں قومی سلامتی اور نقص امن کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ملاقات کو اس تناظر میں بھی دیکھنا چاہیے جیسا کہ سنہ 2014 میں تحریک انصاف کے دھرنے کے دوران اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے ایک موقع پر آ کر اس وقت کے آرمی چیف راحیل شریف کو کہا تھا کہ عمران خان اور طاہرالقادری کو سمجھایا جائے اور تب ان کی بھی الگ الگ ملاقاتیں ہوئیں تھی۔
مظہر عباس کا کہنا تھا کہ ’میری اطلاعات یہ بھی ہے کہ جے یو آئی کے دھرنے کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے بھی سکیورٹی اداروں سے ناراضی کا اظہار کیا تھا اور بعد میں انٹیلیجنس کے اہم حکام سے مولانا فضل الرحمان کی ملاقات بھی ہوئی جس میں دھرنا ختم کرنے کی درخواست کی گئی۔'
ان کا کہنا تھا کہ ’اے پی سی میں نواز شریف کی تقریر کے بعد ایسی ملاقاتوں کی خبریں آنے سے موجودہ ملکی صورتحال میں فوج اور حزب اختلاف دونوں کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ سوال بھی اٹھا ہے کہ اگر آرمی چیف کی درخواست پر کوئی ملاقات ہو، جس میں یہ طے کیا جائے گا کہ آف دی ریکارڈ ہے تو کیا اس کو آن دی ریکارڈ آنا چاہیے یا نہیں آنا چاہیے۔‘
ملک میں سیاسی معاملات میں فوج کی مداخلت پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہماری سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے بہت سے واقعات ہیں جب فوج نے سیاسی مداخلت کی، مارشل لا سے ہٹ کر بات کریں تو نوے کی دہائی میں فوج کی سیاسی معاملات میں مداخلت بہت زیادہ تھی، جب پرویز مشرف نے الیکشن لڑا تب فوج کا کردار بہت زیادہ رہا۔‘
ان کا کہنا تھا ’سنہ 2008 کے بعد کچھ مداخلت کم ہوئی لیکن سنہ 2013 اور سنہ 2018 کے انتخابات میں یہ ہی کہا جاتا ہے کہ ان کی نہ صرف مداخلت رہی بلکہ حکومت بنانے میں ان کا مبینہ کردار بھی رہا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا ماضی میں بھی ایسی مداخلت ہوتی رہیں ہیں اور مستقبل میں بھی ختم ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
یونیورسٹی آف اوکلاہوما میں جنوبی ایشیا کی سیاست پڑھانے والے پروفیسر عاقل شاہ نے کہا کہ غفور حیدری کے انکشاف تجزیہ کاروں اور ماہرین کے بھیس میں فوج کی حمایت کرنے والوں کے لیے شرم کا مقام ہیں۔
روزنامہ ڈان کے سابق مدیر عباس ناصر نے کہا کہ ’ڈپٹی ڈی جی آئی ایس پی آر شیخ رشید اور ڈی جی نے حکومت کون چلا رہا ہے کے حوالے سے خبروں اور اطلاعات کا بند توڑ دیا ہے۔‘
صارف علی حسنین بھٹی پوچھتے نظر آئے کہ نواز لیگ کے رہنما محمد زبیر کے بیان کی تو فوراً تردید آ گئی تھی لیکن غفور حیدری کے بیان کی تردید اب تک نہیں آئی۔
سعد فرخ نامی صارف نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ: ’مولانا غفور حیدری نے کافی وضاحت سے بتا دیا ہے کہ سیاستدان کیوں چیف سے ملتے ہیں۔ امید ہے سب کو تسلی ہو گئی ہے۔‘