آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بلوچستان میں بچہ مبینہ زیادتی کے بعد کیمیائی مواد سے زخمی: پولیس
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں پولیس حکام کے مطابق ضلع لسبیلہ میں ایک بچے کے ساتھ مبینہ زیادتی کا واقعہ پیش آیا ہے اور اسے کیمیکل مواد سے زخمی بھی کیا گیا ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق متاثرہ بچے کے والد کی جانب سے درخواست پر اس واقعے کی ایف آئی آر کاٹ لی گئی ہے اور مرکزی ملزم کو گرفتار کرکے تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے۔
گذشتہ بدھ کو پیش آنے والے اس واقعے میں بچے کو مبینہ طور زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اس کے جسم کے ایک بڑے حصے کو کیمیائی مواد سے زخمی کیا گیا ہے۔
مقامی پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او عبد الحق موسیانی نے بی بی سی کو بتایا کہ بچے کے جسم پر کوئی کیمیائی مواد پھینکا گیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ بچے کے جسم کے جو حصے زخمی ہیں ان میں ان کے جسم کے حساس حصے بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس نے بتایا کہ یہ تعین ہونا باقی ہے کہ بچے کے جسم کو تیزاب سے جلایا گیا ہے یا کسی اور مواد سے۔
انھوں نے کہا کہ ’اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ ملزمان نے بچے کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے ثبوتوں کو مٹانے کے لیے ایسا کیا ہو لیکن اصل حقائق طبی رپورٹ آنے اور تفتیش کا عمل مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔‘
مقامی پولیس سٹیشن میں اس حوالے سے بچے کے والد کی مدعیت میں جو ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے اس کے مطابق یہ بچہ گھر کا سامان لینے کے لیے بازار گیا تھا تاہم جب یہ دوپہر کو دیر سے گھر آیا تو اس کی حالت تشویشناک تھی۔
ایف آئی آر کے مطابق والد کے استفسار پر بچے نے بتایا کہ راستے میں میر محمد نامی شخص نے دو نامعلوم ملزمان کے ساتھ پہلے انھیں بے ہوش کیا اور پھر نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔
ایف آئی آر کے مطابق بعد میں بچے کو بے ہوشی کی حالت میں دارو ہوٹل کے قریب چھوڑ دیا گیا اور والد کے استفسار پر بچے نے انھیں اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بارے میں بتایا۔
ایس ایچ او نے بتایا کہ گرفتار ہونے والا ملزم اس واقعے کا مبینہ مرکزی ملزم ہے جن سے تفتیش کا سلسلہ جاری ہے۔
ان کے مطابق ملزم اور بچے سے حاصل کیے جانے والے مطلوبہ سیمپلز ٹیسٹ کے لیے کراچی بھیجوا دیے گئے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ میڈیکل رپورٹ کے نتائج آئندہ چند دنوں میں موصول ہو جائیں گے۔
ڈاکٹروں کا کیا کہنا ہے؟
ضلع لسبیلہ کے ایک سینیئر ڈاکٹر نے بتایا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ بچے کے جسم کو تیزاب سے جلایا گیا ہے۔
ڈاکٹر نے بتایا کہ بچے کے جسم کا 25 سے 30 فیصد حصہ جل گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چونکہ حب میں کوئی برن سینٹر نہیں ہے اس لیے بچے کو علاج کے لیے کراچی منتقل کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ بچے اور ملزم دونوں کے مطلوبہ سیمپلز حاصل کر کے پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔